Skip to Content

Qalamkar | قلم کار

جہالت، ظلم اور ناانصافی کے خلاف برسرپیکار

جنت کی تلاش

by ستمبر 30, 2016 بلاگ
جنت کی تلاش
Print Friendly, PDF & Email

ahmad-khan-langahجنت وہ مقام ہے جسکے حصول کی خاطر دنیا دیوانی ہوئی پھرتی ہے۔ جنت میں جانا، ہر شخص کی اولین چاہت ہے مگر کبھی کسی نے یہ سوچنے کی زحمت ہی نہیں کی کہ جنت تو رب کریم نے اتنی حقیر چیز بنا دی کہ اسے ماں کے قدموں تلے رکھ دیا لیکن پھر بھی لوگ جنت کی تلاش میں نہ جانے کون کون سے راستوں پرچل نکلتے ہیں۔ کوئی خودکش بمباربن جاتا ہے تو کوئی تمام عمر، راہ خدا میں در در کی خاک چھانتا ہے۔ کوئی صبح وشام، وجد میں اللہ ھو کی صدائیں بلند کرتا ہے تو کوئی بڑے بڑے سیمینار منعقد کروا کر لوگوں کی اصلاح کے اہتمام کی صورت میں جنت جانے کا راستہ ڈھونڈتا ہے ۔
لیکن سوال یہ ہے کہ اگر آپ خودکش بمبار بن کر دنیا اور اس میں موجود خدا کی بےگناہ مخلوق کو قتل کر دیں تو کیا خالق کی جنت کے حقدار قرار پائیں گے؟
آپ راہ خدا میں نکل پڑیں ،کسی کو کوئی اعتراض نہیں لیکن اپنے اہل و عیال میں موجود والدین، بیوی اور بچوں کے حقوق سے بری الذمہ ہو کر بھلا کیسے جنت کے مالک بن سکتے ہیں؟
آ پ اپنے صبح و شام عبادتوں اور ریاضتوں میں صرف کریں ۔دیوانہ وار اللہ ھو کی صدائیں لگائیں مگر والدین کے نافرمان نہ بنیں۔ انہیں دھکے مار کر گھر سے نکالنے پر نہ تو عبادت کسی کام کی نہ ریاضت۔
پوری دنیا کی اصلاح کا بیڑہ آپ نے اٹھا رکھا ہے۔ ماشاء اللہ! عالم ہیں، شعلہ بیان مقرر ہیں لیکن اگر آپ کا والدین کے ساتھ سلوک احسن نہیں تو یقین کیجیئے ایسے شخص کو جنت تو دور اس کی خوشبو بھی نصیب نہ ہوگی کیونکہ اللہ تعالی کے فرمان کے مطابق حقوق اللہ کے مقابلے میں ،حقوق العباد سے غفلت کی گنجائش نہیں۔ قرآن کریم میں اسی خدائے رحمان نے صاف الفاظ میں حکم دیا ہے کہ والدین کے ساتھ نرمی سے پیش آؤ یہاں تک کہ انہیں اف تک کہنے سے بھی منع فرمایا۔ اس کے باوجود ہم اپنی جنت پر ، اپنے گھروں کے دروازے بند کر کے انھیں گلیوں گلیوں بھٹکنے کو تنہا چھوڑ دیتے ہیں۔ دوسری جانب، ہم عبادتیں ریاضتیں کرتے نہیں تھکتے کہ کسی نہ کسی طرح جنت کے ٹھیکہ دار بن جائیں …
دور کیا جانا ،اپنے شہر ملتان کی ہی بات کرتا ہوں ۔عید گاہ قبلہ کاظمی صاحب کے مزار پر انوار سے کچہری کی طرف جائیں تو پہلا سٹاپ شمس آباد چوک کا آتا ہے ۔روزانہ کم از کم دو بار اس چوک سے گزر ہوتا ہے۔ چوک پر لگے ایک بورڈ کو دیکھ کر دل ہی دل میں بہت شرمندہ ہوتا ہوں۔ اس بورڈ کے بارے میں بتاتے ہوئے بھی شرمندگی ہوتی ہے کہ اسلامی اقدار کا حامل یہ ملک بھی عافیت سنٹر اور اولڈ ایج ہوم کی وباء سے نہیں بچ سکا…
والدین جو بچوں کی خوشی کی خاطر دن رات ایک کرتے ہیں، اولاد کے ہر جائز نا جائز مطالبات مانتے ہیں،ماں خود گیلی چار پائی پر سو کر اولاد کو خشک جگہ پر سلاتی ہے۔ باپ دن بھر مشقت کرکے بچوں کا پیٹ پالتا ہے، خود بھوکا رہ کر اولاد کو کھلاتاہے۔
ماں اپنے منہ کا نوالہ نکال کر بچوں کو دیتی ہے اور جب یہ بچہ بڑا ہوتا ہے تو اپنے باپ کے بنائے ہوئے گھر سے اسے ہی دھکے دیکر نکال دیتا ہے۔ اس کے باوجود بھی وہ بے آسرا اور لاچار والدین اپنے بچوں کو دعائیں دیتے نہیں تھکتے۔
جہاد جہاد کی بڑھکیں مارنے والے یہ کیوں بھول جاتے ہیں کہ نبی اکرم نے ایک ایسے شخص کو جہاد پر جانے سے روک دیا تھا جسکی والدہ ضعیف تھی اور یہ فرمایا تھا کہ جاؤ اپنی والدہ کی خدمت کرو یہی تمھارا جہاد ہے.. نہ جانے یہ لوگ کونسا دین ہم پر مسلط کرنے کے در پے ہیں کہ کم سن بچوں کو اغواء کرکے یا بہلا پھسلا کر ان کے کچے ذہنوں کو واش کرکے اپنے مذموم مقاصد کیلئے استعمال کرتے ہیں اور یہ بچے جوان ہونے تک اپنی تمام ذمہ داریوں بشمول اہل وعیال کی کفالت کو بھول کر خدا کی بے گناہ مخلوق کو دھماکوں میں اڑا کر جنت جانے کی تیاری میں لگ جاتے ہیں….
ہر طرف حرص و ہوس کا بول بالا ہے۔ اگر علماء ماضی کے قصے سنانے کے بجائے اہم موضوعات مثلاً برداشت، اخلاقیات، احترام انسانیت، والدین کا احترام اور فلاح انسانیت جیسے موضوعات پر وعظ دیں تو امن قائم کرنے اور خاندانی نظام کو برباد ہو نے سے بچایا جا سکتا ہے۔
آخر میں صرف اتنا کہنا چاہتا ہوں کہ خدارااپنےوالدین کو بے آسراہونےسےبچالیجیئے ۔خدارا اپنی جنت کو سڑکوں پر دھکے کھانے سے بچالیجئے۔ انہیں آپ کے پیار کی ضرورت ہے ۔یہ وہی والد ہے جس نے آپ کو آگے لانے کیلئے خود کو پیچھے رکھا ۔خدا را سمجھ جائیے کہ جنت خودکش جیکٹ میں نہیں بلکہ ماں کے قدموں تلے ہے ۔

Views All Time
Views All Time
592
Views Today
Views Today
1
یہ بھی پڑھئے:   قلم کار ایک جذبہ، ایک جنون
Previous
Next

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

*

%d bloggers like this: