Skip to Content

Qalamkar | قلم کار

جہالت، ظلم اور ناانصافی کے خلاف برسرپیکار

انعام رانا کو بھی جینے دو

by جون 20, 2016 بلاگ
انعام رانا کو بھی جینے دو
Print Friendly, PDF & Email

Aamna Ahsanسوشل میڈیا پر شاید دس سال سے ہوں ، اور اپنے آپ کو بہت خوش قسمت مانتی ہوں کہ آج تک مجھے جتنے بھی لوگ ملے سب ہی بہت اچھے تھے۔
آپ یقین کریں یا نہ کریں مگر مجھے سوشل میڈیا پر بہترین دوست ملے ہیں۔
قابل عزت اساتذہ ملے ہیں، جن سے بہت کچھ سیکھنے کو ملا۔
جب بھی کوئی سوشل میڈیا کے نقصانات پر بات کرتا ہے ، میرا ووٹ سوشل میڈیا کے فوائد کی طرف ہوتا ہے۔
مگر اس رمضان ، پیچھلے پندرہ دنوں میں جو کچھ سوشل میڈیا پر ہوا، اس کا جتنا افسوس کیا جائے کم ہے، بہت مایوسی ہوئی۔
ہوا کچھ یوں کہ اک محترمہ ،جو لکھنے لکھانے کی وجہ سے تو مشہور ہیں ہی پر ان کی وجہ شہرت ان کا بے باک اور کافی حد تک باتمیز انداز گفتگو بھی ہے ۔
خیر ان محترمہ نے کسی سے بحث مباحثہ کے دوران پیارے نبی پاک ؐ کی شان میں گستاخی کی ۔
چند افراد نے اس کمینٹ کا سکرین شوٹ لیا اور سوشل میڈیا پر جگہ جگہ لگانا شروع کردیا ، 15/20 منٹ میں جتنی آگ لگ سکتی تھی لگ گئی ۔
کیوں جھوٹ بولوں ؟وہ محترمہ میری فرینڈ لسٹ میں بھی تھی ، پر سکرین شوٹ کچھ اس قسم کا تھا کہ میں نے ان کو بلاک کردیا ۔
محترمہ نے یہ کیوں کیا ، کیا بھی یا نہیں کیا ، یہ میری تحریر کا موضوع نہیں ۔
میری تحریر کا موضوع تو اس واقعہ کے بعد پیدا ہونے والی صورتحال ہے ، جو کافی مایوس کن تھی ۔
ہوا یہ کہ سکرین شوٹ دیکھ کر جب ہر طرف ” گستاخِ رسول کی بس اک ہی سزا،سر تن سے جدا ، سر تن سے جدا ” کا نعرا لگا تو میری طرح مرے کچھ دوست بھی ان حالات سے گھبراے ، اور ان سب کا حصّہ بننے کے بجاۓ ، حالات کو ٹھنڈا کرنے کی اپنی سی کوشش کرنے لگے ۔
ان دوستوں میں اک نام انعام رانا صاحب کا بھی تھا،جناب بیرون ملک رہائش پذیر ہیں ، پیشہ سے وکیل ہیں۔اور اس مقام پر وہ کیسے پہنچے اس سے ان کے دوست خوب واقف ہیں ۔
ہماری ان سے جان پیچان ، ان کے اک شوق کی وجہ سے ہوئی ، وہ کمال کے لکھاری ہیں ، وہ مسائل بیان نہیں کرتے ، ان کا حل بیان کرتے ہیں ، ان سے اتنی زیادہ واقفیت تو نہیں، پر اک بات کا اندازہ ہوا کہ جناب بات کرنے پر یقین رکھتے ہیں ، ان کے نزدیک حالات کو مکالمہ کے ذریعہ بہتر کیا جا سکتا ہے ۔
اور اس عادت نے ، اس یقین نے ہی انھے مجبور کیا ، اور جس خاتون سے ان کا ہمیشہ اختلاف رہا تھا ، انہوں نے اس خاتون کو بھی معافی مانگنے کی ترغیب دی ، اور خود بھی اک سٹیٹس اپ ڈیٹ کیا کہ براے کرم اس آگ کو ہوا نہ دیں ، دھمکیاں دینے کے بجاے ان خاتون کو معافی مانگنے کی ترغیب دیں ۔
یقین مانیے ، میں گواہ ہوں رانا صاحب نے اتنا ہی کہا تھا ، اور اگلے دن اک صاحب نے انھے ، انکو والدین ، یہاں تک کے انکی بیگم کو بھی گالیوں سے نوازا ہوا تھا ۔ انکا قصور کیا تھا میں بتا چکی ہوں ۔
رانا صاحب بھلے انسان ہیں پر کوئی اپنے گھر والوں کے لئے یا اپنی ذات کے لئے بھی ایسے الفاظ کیوں سنے ؟
انعام رانا صاحب نے وہی کیا جو انکی جگہ اگر میں ہوتی کرتی۔
انہوں نے ان صاحب کو اپنی فرینڈ لسٹ سے ہٹایا اور دوستوں سے بھی ایسا کرنے کو کہا ، کوئی بھی ذی شعور انسان یہی کرتا ، پر ہماری قسمت ہم پاکستانی ہیں اور یہاں سوال کرنا ، مختلف راے رکھنا گناہ کبیرہ ہے ۔
کل فیس بک پر اک پیج نے انکی اک دوست کے ساتھ تصویر لگا دی ، اور نیچے جو کچھ لکھا ، وہ شاید میں یہاں لکھنے کی ہمت نہ کر پاؤں ۔
رانا صاحب کو پل میں قادیانی ثابت کر دیا گیا اور اتنا ہی نہیں ، ان کے دہشت گرد ہونے کا سرٹیفکیٹ بھی دیا گیا ۔
نبی ؐ پاک کی گستاخی حقیقت میں بہت بڑا گناہ ہیں،پر کیا کسی کو معافی کی ترغیب دینا بھی گناہ ہے؟یہ professional jealousy ہے یا کردار کشی کی کوشش،بہت ہی بھیانک ہے ۔
ہم سب اپنی غلطیوں کی معافی کی امید کرتے ہیں ، پھر دوسروں کی غلطی کے وقت جج کیوں بن جاتے ہیں ؟
انعام رانا صاحب کا قصور صرف یہ ہے کہ وہ نبی ؐ سے محبت کے صرف دعوے ہی نہیں کرتے بلکہ عملی طور پر انکی پیروی کرنا چاہتے ہیں ۔انکا قصور یہ ہے کہ وہ ، "جیواور جینے دو ” کا نعرہ بلند کرتے ہیں ۔رانا صاحب کو یاد ہے کہ نبی ؐ نے تو اپنے اوپر کوڑا پھیکنے والی کو معاف کیا تھا تو آج اس نبی ؐ کی محبت کے دعوے میں کسی کا سر تن سے جدا کیسے کیا جا سکتا ہے ۔
نبی پاک ؐ نے فرمایا ، تم میں سب سے بہتر وہ ہے ، جس کا اخلاق سب سے بہتر ہے ۔
یہ کیسی محبت ہے کہ محبوب کی کسی اک بات کو بھی نہ مانا جائے اور اس سے محبت کے دعوے میں لوگ قتل کیے جائے ؟
قرآن کا حوالہ دے بغیر یہاں بات نہیں ہوتی ، لیکن اسی قرآن میں موجود آیات پر عمل صفر ۔
اللّه پاک نے قرآن میں فرمایا ، بلا وجہ زمین میں فساد نہ پھیلاتے پھرو ۔
اللّه پاک نے فرمایا ، میں حد سے بڑھنے والوں کو ناپسند کرتا ہوں ۔
اللّه پاک نے فرمایا ، تفرقہ نہ پھیلاؤں ۔
نبی پاک ؐ کے نام پر قتل کے شوقین بتایے ، اوپر کہی کس بات پر آپ نے عمل کیا ؟
کس نے حق دیا آپ کو کیا آپ فیصلہ کرے کوئی کافر ہے یا مسلمان ؟
کس نے آپ کو حق دیا کہ جو لوگ جینا چاہتے ہیں اور جینے دینا چاہتے ہیں انکو بہتان سے نوازے ؟
خدا راہ مذہب کے نام پر اپنی دلی خواھشات کو پورا کرنا بند کرے ۔
جو لوگ دین کو آسان کرنے کی کوشش میں ہیں انکے راہ کی رکاوٹ نہ بنے ۔
خداراہ جئے اور جینے دیجئے ،،،،

Views All Time
Views All Time
728
Views Today
Views Today
1
Previous
Next

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

*

%d bloggers like this: