آزاد خیال ادیب یہاں وہاں سب جگہ معتوب ہیں

Print Friendly, PDF & Email

aamir hussaini new

رحمان عباس کو گزشتہ دنوں ان کے ناول "نخلستان کی تلاش میں ” مبینہ طور پہ محبت کے دو مناظر پہ فحاشی کے الزام کو عدالت نے بے بنیاد قرار دیکر بری کردیا۔”نخلستان کی تلاش ” ان کا پہلا ناول تھا جو کہ 2004ء میں فحاشی کے الزام کی زد میں آیا تھا۔اور گیارہ سال یہ مقدمہ چلتا رہا اور پھر کہیں جاکے ہمارے محبوب ناول نگار کو اس الزام سے مکتی مل گئی۔
ادیب اور دانشور جو آزاد خیال ہوں اور روشن خیالی کے علمبردار ہوں ان کے لئے پاکستان ، ہندوستان اور بنگلہ دیش کہیں بھی حالات مثالی نہیں ہیں۔پاکستان اور بنگلہ دیش میں اگر اسلام پسند ( زیادہ تر دیوبندی اور سلفی و جماعتی ریڈیکل عناصر اور ان کا حامی اردو پرنٹ و الیکٹرانک میڈیا ) روشن خیال دانشوروں اور ادیبوں کے تعاقب میں ہیں تو بھارت میں ہندؤ فاشسٹ اور پھر اسلامسٹ فاشسٹ ادیبوں ، دانشوروں کے تعاقب میں ہیں۔ڈیلی مرر ممبئی میں شرمین حکیم نے اس حوالے سے لکھے اپنے مضمون میں لکھا ہے: رحمان عباس کو 11 سال تک چلنے والے اس مقدمے میں بالکل بے جا گھسیٹا گیا۔اور 11 سال بعد اس مقدمہ کا خاتمہ اس وقت ہوا جب اس مقدمے کی مدعیہ نے عدالت میں آکر یہ گواہی دی کہ اسے رحمان عباس کے ناول میں کوئی بھی چیز فحاشی والی نظر نہیں آئی ہے۔
اصل میں اس خاتون نے جو کہ اس وقت ٹین ایج تھی عباس رحمان کے ناول ” نخلستان کی تلاش میں ” کے دو حصّوں ” کو قابل اعتراض ٹھہرایا تھا جس میں اس ناول کا کردار جمال خیالات میں اپنی گرل فرینڈ کے ساتھ پیار کا منظر پیدا کرتا ہے۔لیکن گزشتہ ماہ اس خاتون نےاندھیری میٹروپولس عدالت میں مجسٹریٹ کے سامنے وٹنس باکس میں کھڑے ہوکر یہ بیان دے ڈالا کہ اسے اس کتاب میں کوئی بھی شئے قابل اعتراض نظر نہ آئی اور یہ سب ایک غلط فہمی کا نتیجہ تھا ۔اس پہ عدالت نے رحمان عباس اور ان کے دو ساتھیوں کو مقدمے سے بری کردیا۔
رحمان عباس جن کی عمر 40 سال ہے انہوں نے ڈیلی مرر ممبئی کی شرمین حکیم سے گفتگو کرتے ہوئے کہا: میں اس لڑکی کو اس کی سادہ لوحی کی وجہ سے معاف کرسکتا ہوں لیکن لبرل اردو لکھاریوں کے خلاف 2005ء ميں اس ناول کے خلاف ایف آئی آر کٹنے کے بعد جو جنگ شروع کی گئی اس سے میں ابتک سہما ہوا اور ڈرا ہوا ہوں۔
عباس نے یاد کیا:
"میں نے اپنے ناولوں میں عمومی طور پہ بے باکی اور جرآت کے ساتھ مذہب کے وجود اور خدا کے تصور پہ جو سوالات اٹھائے ہیں مہینوں میرے ناول اور میرے خلاف سرسامی مہم بنیادپرستوں اور اردواخبارات نے ممبئی کے اندر چلائی۔ایسا ادیب جو موجودہ بی جے پی رجیم کے دور میں اختلاف پہ مبنی خیالات کے خلاف عدم برداشت کے مظاہر کے بڑھنے پہ ساہیتہ اکادمی ایوارڈ واپس کرنے والوں میں شامل تھا۔”
ہندوستانی پینل کوڈ کے سیکشن 292 کے تحت اس پہ جو الزام عائد کیا گیا وہی کم ذلت آمیز نہ تھا کہ رحمان عباس کو ساؤتھ ممبئی انسٹی ٹیوٹ سے بھی نکال دیا گیا جہاں پہ وہ اردو پڑھاتے تھے۔انجمن اسلام الانہ جونئیر کالج نے ان کو بنیادپرستوں کے کہنے پہ ملازمت سے فارغ کردیا جنھوں نے اس کالج کی مینجمنٹ پہ دباؤ ڈالا کہ رحمان عباس کو اسلام تعلیمات کا احترام نہ کرنے پہ کالج سے نکال دے۔
رحمان عباس کہتے ہیں : ” وہ ذلت کے ایک اور نئے گڑھے میں گرگئے تھے جب انہوں نے یہ کیا کہ میرے روزگار پہ حملہ کیا۔لیکن یہ ایک ادیب کا سفر ہے۔اور اس سے اگر میں نے کوئی سبق سیکھا تو وہ یہ تھا کہ چیزوں کو نیچے نہیں گرنے دینا۔”
ان کے ساتھ المیہ یہ ہوا کہ جوگیشوری کالج میں اردو ڈیپارٹمنٹ کے سربراہ پروفیسر کلیم ضیاء جوکہ آزاد خیال لبرل دانشور ہیں اپنی ایک قدامت پرست خیالات کی مالک 19 سالہ شاگرد لڑکی کو رحمان عباس کے ناول ” نخلستان کی تلاش ” کی ایک کاپی پڑھنے کے لئے دی۔اس میں اس لڑکی نے ایک پورشن قابل اعتراض پایا۔اور 17 مارچ ،2005ء کو اس لڑکی نے پرفیسر کلیم ضیاءکے خلاف ایک شکائت درج کرائی ۔جون 28،2005ء کو اس الزام میں رحمان عباس کو بھی گرفتار کرلیا گیا جبکہ علی الصبح پانچ بجکر پنتالیس منٹ پہ پولیس نے ان کے گھر پہ دستک دی اور رحمان عباس کو گرفتار کرلیا۔رحمان عباس نے ایک پوری رات آرتھر روڈ جیل ممبئی میں گزاری اور اگلے دن ان کی ضمانت ہوسکی ۔ان کا ناول خزانہ پبلیکشنز ممبئی سے چھپا تھا تو اس کے مالک ناشر کو بھی گرفتار کرلیا گیا۔
رحمان عباس ہندوستان میں اردو میڈیا اور اپنی مسلم برادری کے کچھ حلقوں کے لبرل ازم کی طرف انتہائی سخت گیر مؤقف اور پوزیشن کے سخت ناقد ہیں۔انہوں نے ڈیلی مرر کی مذکورہ سٹاف رپورٹر شرمین حکیم کو ہی انٹرویو دیتے ہوئے کہا ،
"انگریزی ناول نگاروں کے برعکس ایک اردو ناول نگار ہوتے ہوئے خود کو بچائے رکھنا انتہائی مشکل ہے۔اردو میڈیا بہت آرتھوڈوکس ہے اور اس کی وجہ اس میڈیا سے جڑے لوگوں کی خاص ٹائپ ہے۔وہ مذہبی جنونیت کو فروغ دیتے ہیں۔انتہاپسندانہ نظریات مسلط کرتے ہیں۔اور یہی اردو میں لبرل ازم کے زوال کو لیکر آنے والے ہیں۔
رحمان عباس کا کہنا ہے
” اردو ادب صاف صاف انتہائی لبرل ہے۔اور اس نے ہمیشہ آزادی اظہار ، سیکولر ازم اور سوال اٹھانے کی روح کو فروغ دیا ہے۔اردو کے ادیب اب بھی اپنے مقام کے لئے لڑرہے ہیں۔لیکن اچھی چیز یہ ہے کہ ہمارے پاس اپنے کاز کے تحفظ کی صلاحیت موجود ہے۔”
رحمان عباس کا ناول ” نخلستان کی تلاش "بابری مسجد کو گرائے جانے کے فوری بعد بننے والے منظر نامے nakhlistan ki awazمیں لکھا گیا ناول ہے۔اس ناول کی کہانی ایک ایسے تعلیم یافتہ مسلم نوجوان جمال کے گرد گھومتی ہے جو کہ نفرت سے بھری دائیں بازو کی سیاست کے ابھار کے دنوں میں جو نئی صدی میں سامنے آتی ہے یہ سمجھتا ہے کہ اس کی ثقافتی شناخت کو چھپایا جارہا ہے اور اس کا انکار ہورہا ہے تو وہ کشمیر میں برسرپیکار ایک عسکریت پسند تنظیم میں شمولیت اختیار کرلیتا ہے۔
مابعد 1992ء ممبئی بم دھماکوں کے بعد تاریخی تناظر میں جمال کی بڑھتی ہوئی بےگانگی اس کو ایک نئی شناخت بنانے کی جانب لیکر جاتی ہے اور یہی عمل آحرکار اس کا ایک المناک انجام لیکر آتی ہے۔
اس ناول میں جب جمال کا انجام قریب ہوتا ہے تو وہ خیالوں ميں ہی اپنی محبوبہ کے ساتھ اچھے وقت بتانے کا تصور کرتا ہے اور اس کے ساتھ وصل کی گھڑیاں گزارتا ہے۔اور ایک دوسرا منظر دونوں عاشق و معشوق کے درمیان ہونے والی تصوراتی گفتگو ہے ۔ان دونوں حصوّں کو جوگیشوری کالج ممبئی کی طالبہ لڑکی نے قابل اعتراض اور فحاشی پہ مبنی گردان کر پہلے پروفیسر کلیم ضیاء کے خلاف شکائت درج کرائی اور پھر مصنف رحمان عباس اور ناشر دونوں بھی اس مقدمے میں دھرلئے گئے۔
رحمان عباس نے انڈین کلچر فورم کو تازہ ترین انٹرویو میں ایک سوال کے جواب میں کہا:
“ اوبسینٹی ۔فحاشی /گندا ، ناپاک ،بے شرمی (سے جڑی جنس ) کا تصور ہندوستانی تہذیب اور فکر میں کبھی موجود نہیں رہا۔یہ تو غیر ملکی عقیدوں کی ضمنی پیداوار۔بائی پروڈکٹ ہے جنھوں نے گزشتہ چند صدیوں میں ہندوستان پہ حملہ کیا اور یہاں حکمرانی کی ۔مغلیہ دور تک ہماری پینٹنگ اور آرٹ کی دیگر اشکال نے نیوڈیٹی ۔برہنگی /عریانی ، محبت اور جنسیت کو ایک الوہی شعور کے تجربے کو طور پہ رچایا اور منایا ہے۔برٹش حکمرانون نے مذہب کے بہت زیادہ اثر اور دباؤ کے تحت ہندوستانی سوسائٹی پہ اوبسینٹی ۔فحاشی کے تصور کو مسلط کیا۔دلچسپ بات یہ ہے کہ برطانیہ نے ایک صدی پہلے اپنے آئین سے سیکشن 292 کو نکال دیا تھا لیکن ہمارے آئین میں یہ اب بھی موجود ہے۔”
اردو میڈیا کے بنیاد پرست کردار بارے رحمان عباس نے مذکورہ بالا انٹرویو میں کہا:rehman abbas
اردو پرنٹ میڈیا کا بڑا حصّہ ہندوستان میں غلط ہاتھوں میں ہے اور آج بھی یہ اتنا ہی آرتھوڈوکس ہے جتنا یہ ایک صدی پہلے تھا۔بلکہ حقیقت میں یہ اب اور زیادہ عدم برداشت کا شکار ہوچکا ہے۔اور اس کی وجہ افغانستان اور مڈل ایسٹ ممالک میں فاشسٹوں کا ابھار ہے۔ہمارا زمانہ ایسا ہے جب کچھ اردو اخبارات مذہب کے انتہائی تنگ نظر ورژن کا استعمال کررہے ہیں تاکہ اپنے قاری کو مشتعل کرسکیں کہ وہ قانون اپنے ہاتھ میں لے لے خاص طور پہ جب بلاسفیمی کے الزامات سے اس کا تعلق ہو۔”
ہندوستانی اردو پرنٹ میڈیا کی ہی یہ حالت نہیں ہے بلکہ پاکستانی اردو پرنٹ میڈیا ہی نہیں بلکہ اردو الیکٹرانک میڈیا کا ایک بڑا سیکشن مذہبی جنونیت ، عدم برداشت اور بنیاد پرستی کو فروغ دے رہا ہے۔بلکہ یہاں تو اردو پرنٹ و الیکٹرانک میڈیا کا ایک سیکشن تکفیری اور اوروہابی نظریات رکھنے والے مولویوں کو ماڈریٹ اور اعتدال پسند بناکر دکھاتا ہے۔جیسے مولوی طاہر اشرفی اور محمد احمد لدھیانوی کا کیس ہے۔اور یہاں اردو پرنٹ و الیکٹرانک میڈیا کی اشتعال انگیزی سے لوگوں نے قانون ہاتھ میں لیا ہے۔جیسے سابق گورنر سلمان تاثیر ، شہباز بھٹی سابق وفاقی وزیر اور قندیل بلوچ کا قتل ہے۔
رحمان عباس نے اس انٹرویو میں اردو ادب کے بارے میں بات کرتے ہوئے کہا :
اردو زبان اور اس میں لکھنے والے ادیب ترقی پسند ہیں ایسے ہی جیسے وہ برصغیر ہندوستان کے اندر کے ترقی پسند تحریک کے جڑپکڑنے کے دنوں میں تھے۔یا حقیقت میں وہ ایسے ہی ترقی پسند ہیں جیسے وہ میر و غالب کے زمانے میں تھے۔
مجھے لگتا ہے کہ خود ہندوستان میں اردو ادیبوں اور ان کے ادب بارے بات کرتے ہوئے رحمان عباس ذرا مبالغے کا شکار ہوگئے ہیں۔کیونکہ وہاں پہ اردو ادب میں شمس الرحمان فاروقی اور انہی کے قبیل کے ادیبوں کا ایک حلقہ ایسا بھی ہے جو ادب ميں بنیاد پرستی اور عدم برداشت پہ مبنی خیالات کے جواز کو فراہم کرنے کی جانب مائل نظر آتا ہے۔اور خود رحمان عباس نے اپنے مقدمے کے دوران جن ادیبوں کی حمایت کا زکر کیا ان میں شمس الرحمان فاروقی اور ان کے حلقے کے لوگوں کا ذکر نہیں ہے۔جبکہ پاکستان میں اردو ادب پہ خزاں کا موسم غالب ہے۔یہاں پہ بانو قدسیہ ، ممتاز مفتی ، اشفاق احمد ، قدرت اللہ شہاب اور نسیم حجازی کی روایت لیکر چلنے والی عمیرہ احمد سمیت کئی ایک ناموں کی اجارہ داری ہے جو کہ آرتھوڈوکس خیالات کو لوگوں میں پاپولرکر کے اپنے نام نہاد ادب سے بنانے میں مصروف ہیں۔مستنصر حسین تارڑ جیسے بھی ” اے زوال آخرشب ” اور ‘ قلعہ جنگی ‘ جیسے ناول لکھ کر آرتھوڈوکس اور مذہبی جنونیت کو ہی پروان چڑھانے میں مصروف ہیں۔لیکن ایک بات ضرور ہے کہ رحمان عباس اور کمیلشور جیسوں نے ہندوستان میں ” نخلستان کی تلاش ” ” کتنے پاکستان” اور خدا کے سائے میں آنکھ مچولی ” اور ” ایک ممنوعہ محبت کی کہانی "جیسے ناول لکھ کر اردو ادب میں عصر حاضر کا جو آشوب تحریر کیا ہے اس سے ان کے معاصر اردو ادیبوں کا دامن خالی ہی نظر آتا ہے۔اگرچہ اس کمی کو کسی حد تک محمد حنیف ، ندیم اسلم جیسے انگریزی میں لکھنے والوں نے پورا کرنے کی کوشش کی ہے۔لیکن حیرت انگیز طور پہ ابھی تک نہ تو آکسفورڈ پریس نے اور نہ ہی کسی اور اردو ناشر نے ان کے کسی ناول کا اردو میں ترجمہ شایع کرنے کی کوشش کی ہے۔بلکہ میں تو یہ کہوں گا کہ اردو پرنٹ و الیکٹرانک میڈیا کا بڑا حصّہ پاکستان میں آرتھوڈوکسی کی قید میں تو ہے ساتھ ساتھ اردو ادب بھی اسی آرتھوڈوکسی کے چنگل میں پھنسا نظر آتا ہے۔لیکن سوشل میڈیا پہ پھر بھی صورت حال بہتر ہے۔ڈان نیوز ڈاٹ کوم ، بی بی سی اردو ، وائس آف امریکہ اردو کے ساتھ ساتھ ساتھ ایل یو بی پی ڈاٹ نیٹ ، دنیا پاکستان ڈاٹ کوم ، حال احوال ڈاٹ کوم ، قلم کار  ڈاٹ پی کے(qalamkar.pk) ، ہم سب ، نیا زمانہ وغیرہ اچھی اردو ویب سائٹ ہیں جو ترقی پسندی ، آزاد خیالی کو فروغ دے رہی ہیں۔اگرچہ سوشل میڈیا پہ آرتھوڈوکس بھی اسی طاقت اور شدت سے سرگرم ہیں۔
مضمون میں مدد درج ذیل ویب سائٹس سے لی گئی ہے
انڈیا کلچرل فورم
ممبئی مرر

Views All Time
Views All Time
550
Views Today
Views Today
1
یہ بھی پڑھئے:   ہاسٹل کی نیند

One thought on “آزاد خیال ادیب یہاں وہاں سب جگہ معتوب ہیں

  • 21/08/2016 at 6:44 شام
    Permalink

    نہایت عمدہ آرٹیکل ۔ انتہائی اہم موضوع، یہ بات درست ہے ہمارے ہاں ادیب آزاد خیال ہونے سے ڈرتا ہے اور زیادہ تر دانشوروں کی زندگی کے آخری دن بھی ایک عام بزرگ کی طرح اللہ اللہ کرتے ہی گزرتے ہیں۔ ہمارے ہاں ادبی ملاؤں کی بھی بھرمار ہے اور اقدار کے تحفظ کے نام پر اپنے ذرا سا بھی کھل کر لکھنے پر ادیبوں کے لتے لیے جاتے ہیں۔ بہت سے ادیب ڈر کے مارے وہ لکھتے ہی نہیں جو کچھ وہ سوچتے ہیں اور کتنے ہی نئے لوگوں کو وہ لکھنے سے روک دیا جاتا ہے جو کہ اپنے آپ میں کسی بھی طرح غیر روایتی ہوتاہے یا لکھنے والا کسی بھی نئے نکتہ نظر سے سوال اٹھانے کی طرف مائل ہوتا ہے۔ اس صورتحال کو بدلنا چاہیے، ہر حال میں بدلنا چاہیے۔ خیالی اور مثالی قدروں کا تحفظ چے معنی دارد؟ جن پر کبھی عمل ہوا نہیں سوائے اس کے کہ ان اقدار کے نام پر ہر کوئی اپنا الو سیدھا کرتا آیا ہے۔ کم سے کم ادیب تو اس حوالے سے ایک دوسرے کی مدد کریں۔

    Reply

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

%d bloggers like this: