آؤ مستقبل سے کھیلیں

Print Friendly, PDF & Email

 laiba-zainabبہاؤ الدین زکریہ یونیورسٹی ملتان سے ماس کمیونیکیشن میں بی ایس کا آخری پرچہ ابھی رہتا تھا جب شدت سے یہ خیال ستانے لگا کہ اس کے بعد ایم فل کرنا چاہیئے۔ریسرچ اور تھیسس کی جانب زیادہ رجحان نا ہونے کے باعث ارادہ تھا کہ "پروفیشنل ٹریک” کا انتخاب کیا جائے تاکہ پروڈکشن اور ڈائریکشن کی ڈگری مل جائے۔ خیر سے معلوم ہوا کہ سرکاری یونیورسٹیز میں صرف پنجاب یونیورسٹی میں ہی یہ کورس کروایا جا رہا ہے اور نجی یونیورسٹی میں یہ سعادت یونیورسٹی آف سینٹرل پنجاب کو نصیب ہوئی ہے مگر وہاں کی ٹیوشن فیس ہی ایک لاکھ بیس ہزار ہے ایک سمیسٹر کی اور وہ میری چادر سے بہت باہر نکل کر پاؤں پھیلانے والی بات تھی۔بس دل میں ایڈمیشن کی خواہش لیئے لاہور کا رُخ کر لیا۔ ایڈمیشن فارم میں ٹرانسکرپٹ، این او سی اور ایکویلنس سرٹیفکیٹ مانگا گیا۔ بہاؤ الدین زکریا یونیورسٹی ملتان میں کمپری ہینسو ٹیسٹ ہی 22 اگست کو ہوا تھا میرے ڈپارٹمنٹ میں۔ اس لیئےاتنی جلدی ٹرانسکرپٹ ملنا ممکن ہی نہیں تھا۔ اللہ بھلا کرے پنجاب یونیورسٹی والوں کا کہ اُنہوں نے ایچ او ڈی کی جانب سے دیئے گئے لیٹر کی بنیاد پر ٹیسٹ میں بیٹھنے دیا۔جیسے تیسے  ٹیسٹ تو پاس کر ہی لیا اور پھر این او سی اور ٹرانسکرپٹ حاصل کرنے کا تھکا دینے والا مرحلہ شروع ہوا۔ایڑی چوٹی کا زور اور پیسے لگانے کے باوجود انٹرویو کے وقت میرے پاس صرف این او سی ہی تھا۔اس بات پرپنجاب یونیورسٹی والوں سے بھرپور عزت افزائی ہوئی۔ ایڈمیشن کے لیئے شرط رکھی گئی کہ ٹرانسکرپٹ لائیں ورنہ واپس اپنے پنڈچلی جائیں۔ایک مہینے میں ملتان سے لاہور کے تقریباً چار چکر لگانے کے بعد آخر کار پہلی لسٹ میں میرا نام آیا تو تھوڑا حوصلہ ہوا کہ اب خوابوں کی تعبیر دور نہیں۔ ستمبر 19 کو ساڑھے چار بجے لسٹ لگی جس میں فیس جمع کروانے کی آخری تاریخ 21 ستمبر درج تھی۔اگلے دن جب 20 ستمبر کو فیس چالان لینے گئی تو لسٹ سرے سےموجودہی  نہیں تھی اور انتظامیہ کی جانب سے کہا گیا کہ دو دن بعد ایک نئی لسٹ لگائیں گے۔دوبارہ یونیورسٹی کا رُخ کیا تو کوئی بھی سیدھے منہ بات کرنے کو تیار نا تھا اور یہ کہہ کر واپس بھیج دیا گیا کہ لسٹ کے بارے میں کچھ نہیں کہہ سکتے۔خوشی اور سکون کو مزید غارت کرنے کے لیئے معلوم ہوا کہ ایڈمیشن ٹیسٹ میں گھپلے کے باعث لسٹ کینسل کر دی گئی ہے۔اب نا تو انتظامیہ کا کوئی مؤقف سامنے آرہا ہے اورنا ہی ایچ ای سی سے بھلے کی اُمید ہے۔ میں یہ سوچ رہی تھی کہ آخر ایچ ای سی کی ضرورت ہی کیا ہے جب گھپلوں کی گنجائش موجود ہے؟ ایک جھٹکے میں 26 ایم فل اور 31 پی ایچ ڈی کورسس کو بند کرنے والے ایچ ای سی نے اتنا عرصہ بھنگ پی ہوئی تھی کیا؟ایچ ای سی والوں کے لئے یہ کوئی کھیل ہے کیا؟ انتہائی ڈھٹائی سے اے سی والے پرسکون کمروں میں بیٹھے اپنی جان مار کر دن رات محنت سے اس مقام کو حاصل کرنے والے طلبا کی ساری محنت پر پانی پھیر دیتے ہیں۔ خیر ان باتوں کے جواب تو اللہ جانے کب ملیں جب تک کوئی نیا کھیل نہیں ملتا آؤ مستقبل سے کھیلیں

Views All Time
Views All Time
811
Views Today
Views Today
2
یہ بھی پڑھئے:   دہشت گردی یا نظریئے کی جنگ (حصہ اول) - سخاوت حسین

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

%d bloggers like this: