آؤ قید ہو جاؤ

Print Friendly, PDF & Email

laiba zainabجس ملک میں مسلسل شبِ برات رہے اور دھماکوں سے فضاء گونج جائے وہاں ہمیں گھروں میں رہنے کی تلقین کی جاتی رہی ہے اور اب بھی ایسا ہی ہو رہا ہے۔جن لوگوں کو ان کی زندگی میں حقوق دینا تو دور اس حوالے سے بات کرنا بھی گناہ سمجھا جاتا رہا وہاں اب اُنہیں خراجِ تحسین پیش کرنے میں ہر کوئی آگے آگے ہے۔ایک ماں نے کہا کہ آپ لوگ ہمیں کہتے ہیں کہ خوش ہوں آپ کے لختِ جگر کو شہادت نصیب ہوئی ہے۔بس کوئی ایسی ماں لا دیں جو میرے بیٹے کے حصے کی شہادت اپنے بچوں کو دے دے اور مجھے میرا بیٹا واپس لا دے کیونکہ گھر سے وه پیسے کمانے نکلا تھا دھماکے میں شہادت نہیں۔ بچپن میں ہم لوگ سڑکوں پر کھیلا کرتے تھے۔کبھی برف پانی کھیلتے ہوئے سب سے بڑی پریشانی اپنے ساتھیوں کو چھڑانے کی ہوتی تھی اور کبھی صرف اتنی فکر کہ سائیکل ریس میں کوئی آگے نا نکل جائے۔بھری دوپہر میں اسٹاپو کھیلنے کا لطف ہی اپنا تھا اور رات کی تاریکی میں چھپن چھپائی کا تو کوئی نعم البدل ہی نہیں۔مگر یہ سب میرے بچپن کی باتیں ہیں۔اب بچوں کو یہ سب میسر نہیں کیونکہ کوئی بھی اپنے جگر کے ٹکڑے کا اغوا نہیں چاہتا۔ہر طرف افراتفری ہے، مساجد میں اعلان ہو رہے ہیں،سوشل میڈیا پر والدین کو کہا جا رہا ہے کہ بچوں کو گھر سے باہر نا نکلنے دیں کیونکہ آپکی اور آپ کے بچوں کی حفاظت کے ذمہ دار آپ خود ہی ہیں۔ گھر سے نکلتے کسی اور کام سے ہیں اور واپسی یا تو تابوت میں ہوتی ہے یا ہوتی ہی نہیں ہے۔ٹکڑوں میں لاشیں ملتی ہیں یا بچوں کی لاشیں ان کے اعضاء کے بغیر والدین کے حوالے کر دی جاتی ہیں کہ کرو اب ماتم ساری زندگی آخر ہم نے اِسے پیدا کرنے کی غلطی کی ہی کیوں تھی کہ اب ساری زندگی ملال رہے گا حفاظت نا کر سکنے کا۔کبھی را کے ملوث ہونے کا لا لولی پوپ مل جاتا ہے اور کبھی جنت کی نویدیں سنا کر دل کو بہلانے کا سامان کیا جاتا ہے۔مگر حقیقت میں جن لوگوں کو اس سب سے گزرنا پڑ رہا ہوتا ہے ان کے دل میں کیا طوفان ہے یہ کوئی نہیں جانتا۔دو چار دن سب آواز اُٹھاتے ہیں اور پھر ایسی خاموشی چھاتی ہے کہ دھماکا ہی سنائی دیتا ہے۔ حکومتی عہدیداران ہوں یا افواجِ پاکستان کے بڑے سب ہمیں یہی سناتے ہیں کہ یہ کوئی سیریس ایشو نہیں ہے کیونکہ دہشتگردوں کی کمر توڑ دی گئی ہے۔اور وه ٹوٹی کمروں والے ہمیں توڑ پھوڑ کر خوب مزے میں ہیں۔ ارے صاف صاف کیوں نہیں کہتے کہ جیو یا مرو ہماری بلا سے ہم روز روز کی بک بک نہیں سن سکتے کہ حفاظت تماری ذمہ داری ہے ہماری نہیں۔ بڑے شوق سے آزادی منانے والو زندگی چاہتے ہو تو سب اپنے اپنے گھروں میں آؤ قید ہو جاؤ۔۔۔

Views All Time
Views All Time
1143
Views Today
Views Today
1
یہ بھی پڑھئے:   امتِ مسلمہ کا مجرم کون؟

One thought on “آؤ قید ہو جاؤ

  • 23/08/2016 at 2:50 صبح
    Permalink

    Sis apny jo likha hy wo thek hy ya batin har koi krta hy wo log b krty hy jo a b c ne parh sakhty hy ap koi aisa hal batwo koi aise suggestion jo es problem ko hal kr sakhy.

    Reply

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

%d bloggers like this: