Skip to Content

Qalamkar | قلم کار

جہالت، ظلم اور ناانصافی کے خلاف برسرپیکار

چل آ اے ستمگر ہنر آزمائیں

by اگست 2, 2016 بلاگ
چل آ اے ستمگر ہنر آزمائیں
Print Friendly, PDF & Email

Tensesآج کل سوشل میڈیا پر کچھ بھی آ جائے وائرل ہونے میں دیر نہیں لگتی،خصوصاً کوئی دلچسپ سی تصویر۔ ایسی ہی ایک تصویر ایک رکشہ کی دیکھی جس پر رکشہ ڈرائیور نے اپنی انگریزی گرامر سے متعلق لکھی کتاب کا اشتہار اپنے رکشہ کے پچھلے حصے پر چسپاں کر رکھا ہے۔چونکہ یہ اپنی نوعیت کا ایک منفرد اشتہار ہے اور اشتہار بازی کا ایک منفرد انداز بھی، لہذا اس پر تبصرے بھی عجیب و غریب ہی سننے کو ملنے تھے،اشتہار دیکھ کر سب سے پہلا تاثر مذاق اڑانے کا سا ہی بنتا ہے جو شاید فطری بھی ہے۔
لیکن یہ اشتہار دیکھ کر جہاں مجھے بہت خوشی ہوئی وہاں کچھ باتیں توجہ طلب بھی ہیں۔خوشی اس بات کی کہ سب سے پہلا خیال تو مجھے یہ آیا کہ ہمارے ہاں شہروں میں بھی سرکاری اسکولوں کا یہ حال ہے کہ وہاں ان اسکولوں میں پڑھانے والے اساتذہ خود بھی اتنے ہی تعلیم یافتہ ہوتے ہیں جتنے ان اسکولوں میں پڑھنے کے لئے آنے والے بچے، کیوں کہ وہ اساتذہ بھی ایسے ہی اسکولوں سے پڑھ کر آتے ہیں۔انگریزی تو بہت دور کی بات، جو مضامین وہ پڑھاتے ہیں مثلاً اردو،سائنس،معاشرتی علوم،تاریخ ،جغرافیہ اور ریاضی ان مضامین کا علم انہیں خود بھی نہیں ہوتا۔لہذا وہ جو پڑھ کر آتے ہیں وہی آگے منتقل کر دیتے ہیں یعنی کچھ بھی نہیں۔سرکاری اسکول کی نوکری بھی وہی کرتے ہیں جو غالباً سب سے نکمے لوگ سمجھے اور کہلائے جاتے ہوں گے۔جب کہ ایک تاثر یہ بھی ہے کہ یہ سرکاری نوکری سفارش اور بعض اوقات رشوت دے کر حاصل کی جاتی ہے۔تو ایسے میں اس قسم کی ایک کتاب لکھنا بھی ایک احسن قدم ہے۔ اس اشتہار سے مجھے ایک اور خیال یہ بھی آیا کہ اس رکشہ ڈرائیور نے ایسے بہت سے لوگوں کی زندگی سہل بنانے کی نیکی کی ہے جوایف اے، بی اے تک پہنچ تو جاتے ہیں مگر صرف انگریزی کے پیپر میں فیل ہو جاتے ہیں۔صرف اسی لئے کہ ان کی بنیادی تعلیم انہی سرکاری اسکولوں کی مرہون منت ہوتی ہے۔اگر اس کتاب سے اس قسم کے طلباء کی کوئی مدد ہو سکتی ہے تو یہ رکشہ ڈرائیور تبصروں اور مذاق کا نہیں داد کا مستحق ہے کہ یہ کم از کم علم تو بانٹ رہا ہے۔ایسے لوگوں کی سرکاری سطح پر حوصلہ افزائی ہونی چاہئے اور وہ سب جو خود کو با شعور کہتے اور سمجھتے ہیں انہیں اس جیسے لوگوں کی پذیرائی کرنی چاہئے۔ دوسری بات جو میری نظر میں توجہ طلب ہے وہ یہ کہ ہم ہمیشہ یہ کیوں سمجھتے ہیں کہ پڑھ لکھ کر ڈگری لے کر ہم صرف کلرک بابو یا افسر ہی بنیں گے۔ہم ہنر سیکھنے پر زور کیوں نہیں دیتے؟ہم ہنر مندی اور ہنر مندوں کی حوصلہ افزائی کیوں نہیں کرتے؟ہمارا نظریہ ہمیشہ یہی کیوں ہوتا ہے کہ پڑھا لکھا انسان ہنر مند نہیں ہو سکتا؟آخر اس رکشہ ڈرائیور نے بھی تو پڑھ لکھ کر رکشہ چلانے کو ترجیح دی۔اگر کوئی پڑھ لکھ کر درزی،موٹر مکینک،کار پینٹر،پلمبریا الیکٹریشن بننا چاہے تو ہمیں حیرت کیوں ہوتی ہے؟کیا ہنر مندی ذلت ہے؟ نہیں نا ؟اگر غور کریں تو یہی سب کچھ اگر یونی ورسٹی کی سطح پر پڑھایا جا رہا ہو تو انجینئرنگ کہلاتا ہے۔ اگر کوئی پڑھا لکھا ہنر مند ہو گا تو اس کا کام پالشڈ ہو گا، اس کے پاس آئیڈیاز ہوں گے، اس کا کام منفرد ہو گا۔ان نوجوانوں کو جن کے پاس اعلیٰ تعلیم کے مواقع کم ہیں اگر انہیں میٹرک، ایف اے، بی اے کی تعلیم کی طرف راغب کرنے کے ساتھ ساتھ کوئی ہنر سیکھنے کی ترغیب بھی دی جائے تو یہ دہشت گرد بنانے والی فیکٹریوں سے بدرجہا بہتر اور نیک عمل ہو گا اور تخریب کے بجائے توجہ تعمیر پہ مرکوز ہو گی اور اعلیٰ تعلیم یافتہ افرادی قوت ضائع ہونے کے بجائے مثبت استعمال ہو گی۔

Views All Time
Views All Time
548
Views Today
Views Today
1
mm

ایک محنت کش خاتون ہیں۔ قسمت پر یقین رکھتی ہیں۔کتابیں پڑھنے کا شوق ہے مگر کہتی ہیں کہ انسانوں کو پڑھنا زیادہ معلوماتی، دل چسپ، سبق آموز اور باعمل ہے۔لکھنے کا آغاز قلم کار کے آغاز کے ساتھ ہوا۔ اپنی بات سادہ اور عام فہم انداز میں لکھتی ہیں۔ قلم کار ٹیم کا اہم حصہ ہیں۔

یہ بھی پڑھئے:   زنجبار کے ورثے کا تحفظ (فوٹو بلاگ)
Previous
Next

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

*

%d bloggers like this: