ابھی زندہ ہوں تو جی لینے دو

Print Friendly, PDF & Email

Umme Rubabچند روز قبل اپنی ایک دوست سے ملنے اس کے گھر گئی،سوچا ملاقات اور گپ شپ بھی ہو جائے گی اور اس کی والدہ کی خیریت بھی دریافت کر لوں گی جو شوگر کی مریض بھی ہیں اور اپنی بیماری کے باعث کافی کمزور ہو گئی ہیں۔دوران گفتگو میری دوست کا چھوٹا بھائی گھر میں داخل ہوا ،اسے دیکھتے ہی میری دوست نے پوچھا امی کے لئے شوگر فری بسکٹ لے آئے ہو نا؟ سوال سنتے ہی بھائی نے کہا اف باجی آپ کو پتہ ہے نا کہ وہ بسکٹ بڑے اسٹور سے ملتے ہیں اور وہاں جانے کے لئے پیٹرول خرچ ہوتا ہے۔اس پر میری دوست نے کہا ہاں ہاں کیوں نہیں، پیٹرول پر تو پیسے خرچ ہوتے ہیں ، ماں تو تمہیں مفت میں گھر سے ہی مل گئی تھی۔

یہ جملہ اس وقت تو طنزیہ یا مزاحیہ لگا لیکن مجھے سوچنے پر مجبور کر گیا کہ واقعی ایسا ہی ہوتا ہے جب اولاد جوان ہو جاتی ہے تو کبھی یہ نہیں سوچتی کہ جو کچھ والدین نے ہمارے لئے کیا اس کا حساب کتاب کتنی بار ہم سے کیا؟ آپ خود جب عملی زندگی میں داخل ہوتے ہیں ،خود کمانا شروع کرتے ہیں تو آٹے دال کا بھاؤ معلوم ہو جاتا ہے۔اس وقت یاد نہیں رہتا کہ یہی والدین تھے جنہوں نے نہ جانے اپنی کتنی ضرورتوں اور خواہشوں کو روک کر ہمیں تعلیم،لباس، آسائش مہیا کی ہو گی۔ماں اور باپ دونوں نے نہ جانے کتنی بار گھر کی جائز ضرورتوں کو روک کر،اپنا پیٹ کاٹ کرہمارے تعلیمی اخراجات پورے کئے ہوں گیاور ہماری ہر چھوٹی سے چھوٹی ضرورت کا خیال رکھا ہو گا لیکن ہم سے ان سب چیزوں کا کوئی حساب کتاب کبھی نہیں کیا۔

نہ صرف یہ کہ جب ہم عملی زندگی میں داخل ہوتے ہیں تو ہمارا وقت قیمتی ہو جاتا ہے اتنا قیمتی کہ والدین کو دینے کے لئے بھی نہیں بچتا۔مانا کہ آج کل زمانہ بہت مصروف ہو گیا ہے مگر اکثر نوبت یہاں تک آ جاتی ہے کہ والدین ایک بات ایک سے زیادہ بار پوچھ لیں یا کو ئی کام کرنے کی تاکید بار بار کریں تو ہم کس قدر الجھ کر جواب دیتے ہیں،یہ سوچے بغیر کہ یہ وہی والدین ہیں جنہوں نے ہمیں بولنا،چلنا پھرنا سکھایا اور اس وقت نہ انہوں نے ہمیں کبھی جھڑکا نہ ان کے ماتھے پر کوئی بل آیا۔

چند ماہ قبل ایک ہندوستانی فلم دیکھنے کا اتفاق ہواجس کا ایک ڈائیلاگ مجھے بہت پسند آیا کہ ’’ ایک ایج کے بعد پیرنٹس خود سے زندہ نہیں رہ سکتے انہیں زندہ رکھنا پڑتا ہے اور یہ ذمے داری ان کے بچوں کی ہوتی ہے ‘‘۔ اور یہ سچ ہے کہ ان کی زندگی میں سب سے بڑا زہر تنہائی کا گھل جاتا ہے، خصوصاً ماں کی زندگی میں ، جب وہ بچوں کو پال پوس کر، پڑھا لکھا کر، بیاہ کر اپنے تمام فرائض سے سبک دوش ہو جاتی ہے مگر اسے تمام عمر اپنے حقوق کا خیال نہیں آتا۔یعنی وہ ہستی جو تمام عمر ہماری ضرورتوں کا خیال رکھتی رہی، ہم نے اس کی ضرورتوں کا خیال رکھنا تو کجا اس بارے میں سوچنے یا پوچھنے کی زحمت بھی گوارا نہیں کی ہوتی کہ اس کی کیا ضرورتیں ہیں ؟اسے کیا پسند ہے؟اسے ذاتی طور پر کن باتوں اور چیزوں سے خوشی حاصل ہوتی ہے؟والدین کے فرائض تو مرتے دم تک پورے نہیں ہوتے مگران کے حقوق کا خیال رکھنا ہم پر بھی فرض ہے۔ اگر کوئی بات کوئی چیز انہیں پریشان کرتی ہے ، ناگوار گزرتی ہے تو ہمیں چاہئیے کہ اس سے گریز کریں کہ اس عمر میں بیشتر والدین کو بلڈ پریشر، شوگر، بصارت یا سماعت کے مسئلے اور بیماریاں لاحق ہو جاتی ہیں اور پریشانی کی صورت میں ان کے بڑھنے اور ان کی زندگی کو خطرہ لاحق ہونے کا امکان بھی بڑھ جاتا ہے۔ان کی باتوں اور غصے کو در گذر کریں جیسا کہ وہ آپ کی غلطیوں اور کوتاہیوں کو کرتے آئے ہیں۔انہیں زیادہ سے زیادہ جینے کا حق دیں۔

والدین شجر سایہ دار ہوتے ہیں ۔اس شجر کی حفاظت کریں ۔جب تک ان کی زندگی ہے۔ ان کی عنایتیں، مہربانیاں، محبتیں ہمیشہ یاد رکھیں ، جتنا پیار اور توجہ والدین نے آپ کو دی،آپ کا فرض ہے کہ آپ اسے لوٹائیں کہ یہ ان کا حق ہے۔ بس یہ یاد رکھئیے کہ اولاد کو تمام عمر والدین کی ضرورت ہوتی ہے، والدین کو بچوں کی ضرورت آخری عمر میں ہوتی ہے۔ جب آپ والدین بنیں گے تو ان تمام مراحل سے آپ بھی گذریں گے۔ دنیا ایک فانی سرائے ہے، یہاں کسی کو سدا زندہ نہیں رہنا، زندگی کا اختتام ہی ہر شخص کا انجام ہے، بقول شاعر موت سے کس کو رستگاری ہے۔

انا للہ و انا الیہ راجعون

Views All Time
Views All Time
770
Views Today
Views Today
1
mm

ایک محنت کش خاتون ہیں۔ قسمت پر یقین رکھتی ہیں۔کتابیں پڑھنے کا شوق ہے مگر کہتی ہیں کہ انسانوں کو پڑھنا زیادہ معلوماتی، دل چسپ، سبق آموز اور باعمل ہے۔لکھنے کا آغاز قلم کار کے آغاز کے ساتھ ہوا۔ اپنی بات سادہ اور عام فہم انداز میں لکھتی ہیں۔ قلم کار ٹیم کا اہم حصہ ہیں۔

یہ بھی پڑھئے:   میں کیا لکھوں..?-ذیشان حیدر نقوی
mm

امِ رباب

ایک محنت کش خاتون ہیں۔ قسمت پر یقین رکھتی ہیں۔کتابیں پڑھنے کا شوق ہے مگر کہتی ہیں کہ انسانوں کو پڑھنا زیادہ معلوماتی، دل چسپ، سبق آموز اور باعمل ہے۔لکھنے کا آغاز قلم کار کے آغاز کے ساتھ ہوا۔ اپنی بات سادہ اور عام فہم انداز میں لکھتی ہیں۔ قلم کار ٹیم کا اہم حصہ ہیں۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

%d bloggers like this: