Skip to Content

Qalamkar | قلم کار

جہالت، ظلم اور ناانصافی کے خلاف برسرپیکار

مجھے خواب دیکھنے دو…

by جولائی 29, 2016 بلاگ
مجھے خواب دیکھنے دو…
Print Friendly, PDF & Email

zari ashrafنجم سیٹھی کی بیٹی کی رسائی باپ کی وجہ سے آسانی سے شوبز تک تھی اس لیے جو اس کی بیٹی کرے وہ حلال باقی سب حرام۔ اعجاز منگی اور نجم سیٹھی کیا جانیں کہ میرے وسیب کی کتنی ہی عورتیں دن بھر شوہر سے پٹ کے رات کو اس کی ہوس پوری کرتی ہیں ۔باپ اور بھائی سے مار کھا کے انہیں کے صدقے واری جاتی ہیں۔بچے پیدا کرنا اور بے تحاشہ خدمت کرنا اسی کام میں اپنی زندگی پوری کر جاتی ہیں۔ اور خواب کیا صرف مریم نواز اور بختاور بھٹو ہی دیکھ سکتی ہیں؟ ہم عام لوگ بھی تو خواب دیکھ سکتے ہیں۔اور قندیل آگر ایک دو سال اور زندہ رہ جاتی تو بڑے بڑے پارسائی کے دعوے دار ننگے ہو جاتےاور سب کو پتا چلتا کہ وہ کس لبادے میں کیا کر رہے ہیں ۔ابھی تو ایک کی اصلیت ہی سامنے آئی ہے۔ اور یہ جو غیرت کے نام پہ قتل کرتے ہیں اپنی پوری زندگی میں یہ غیرت کہیں نظر نہیں آئی۔عورت گاؤں اور شہر میں یکساں محنت کرتی اور گھر بار سنبھالتی نظر آئی ہے۔ تب غیرت کہاں ہوتی ہے جب شوہر روزانہ مارتا ہے ۔باپ اور بھایئوں کا بچا ہوا کھانا کھاتی ہے پھٹے پرانے کپڑے پہنتی ہے۔۔ شرم آنی چاہیے ان لوگوں کو جو قندیل پہ انگلی اٹھاتے ہیں ۔حالانکہ ہم سب کے اندر ایک قندیل موجود ہے جو موقع ملتے ہیں جاگتی ہے۔ میں اس دھرتی کی بیٹی ہوں۔ مجھے خواب دیکھنے اور ان کو پورا کرنے سے کوئی نہیں روک سکتا ۔زندگی پر میرا بھی اتنا ہی حق ہے جتنا میرے بھائی کا۔میں اس وسیب کی باسی ہوں جس کی فصل پوار پاکستان کھاتا ہے تو کیا میں صرف کھیتوں میں کام کرتے کرتے مر جاؤں؟میرا بھائی سکول جائےا ور میں اس کے حصے کا کام کروں اوراس کی واپسی پر اپنے حصے کا کھانا اسے دوں اور خود روکھی روٹی کھاؤں؟اسے رات کو دودھ کا گلاس ملے اور مجھے ٹھنڈا پانی بھی میسر نہ ہو ۔بغاوت ہو گی ایسے نظام سے، ایسے معاشرے سے ۔مجھے پتا ہے اس کا انجام بھی موت ہے اور موت بھی کتے والی۔ پر مجھے قبول ہے کیونکہ مجھے آنے والی بہت سی لڑکیوں کو زندگی کا حق بھی دینا ہے اور تعلیم کا شعور بھی ۔ ذرا ایک لمحے کو سوچئے جب میں پیدا ہوئی تو میری ماں کو اتنا ہی درد ہوا تھا جتنا میرے بھائی کو پیدا کرنے میں۔مجھے بھی اتنی ہی مشکل سے ماں نے پالا تھا جیسے بھائی کو تو پھر یہ کیسے ہو گیا کہ بھائی سکول جائے گا ،آوارہ گردی کرے گا، اچھا کھائے گا، بہترین پہنے گا اور میں سارا دن بھائی باپ اور شوہر کی خدمت کروں گی۔ مجھے بھی جینا ہے اس معاشرے میں۔ سر اٹھا کے جینا ہے۔ میں ان دانشور حضرات کو بھی نہیں مانتی جو شخصی آزادی کے دعوے کرتے ہیں اور اپنے گھروں کی عورتوں کو باندیاں بنا کے رکھتے ہیں۔کیا ساری عزت ساری غیرت میرے ایک دوپٹے میں سمٹ گئی ہے؟ کیا ان کو کوئی پوچھنے والا نہیں جو میرا سر راہ چلنا مشکل کرتے ہیں۔کہیں بازو تو کہیں کہنی مارتے ہیں ۔او ر کوئی بس نہ چلے تو آواز یں لازمی کستے ہیں۔ ہاں مجھے پتا ہے، میں جانتی ہوں اور مانتی ہوں کہ اگر میں مفتی قوی جیسی حرکت کروں گی تو جان سے جاؤں گی کیونکہ میرے وسیب میں غیرت کھلی گرم ہوا کی طرح چل رہی ہے کبھی بھی کہیں بھی کسی کو بھی لگ سکتی ہے ۔مجھے جینا ہے خواب دیکھ کر، ارمان پورے کر کے، اپنے گھر والوں کا مان بن کر، تو میری یہی التجا ہے کہ بس ۔۔مجھے خواب دیکھنے دو۔۔۔

Views All Time
Views All Time
1501
Views Today
Views Today
1
Previous
Next

One commentcomments12

  1. حامد علی زیدی

    ہائے ہائے ہائے ہائے
    آپ نے تو اس سماج کو آئینہ ہی نہیں دکھایا بلکہ اس کا مرثیہ بھی لکھ دیا ،،،

  2. عامر حسینی

    بہت جاندار تحریر ہے۔ڈومیسٹک لیبر اور عورت کے پورے کام کو کام ہی خیال نہیں کیا جاتا اور مردوں کی اکثریت اسے غیرفعال خیال کرتی ہے۔جبکہ یہ جو غیرت و عزت کے کھوکھلے معیارات ہیں ان کے پیچھے مردبالادستی کے تصورات ہی غالب ہیں ۔زری اشرف مبارکباد کی مستحق ہیں جنھوں نے اتنی بے باکی اور جرآت کے ساتھ اظہار خیال کیا۔

  3. Bht khooob
    Ma’m bht asha topic discuss kia hai.
    Aaaala hai alfaz ka chanaooo b.
    Pehly b apka aik column aya tha
    Qandeele mrti rhain gi

  4. فقیر لاہوری

    بہت اچھی تحریر ہے ڈاکٹر صاحبہ۔ اللہ کرے زورِ قلم اور زیادہ

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

*

%d bloggers like this: