Skip to Content

Qalamkar | قلم کار

جہالت، ظلم اور ناانصافی کے خلاف برسرپیکار

گلگت بلتستان کا نوحہ

by اگست 22, 2016 بلاگ
گلگت بلتستان کا نوحہ
Print Friendly, PDF & Email

ali zaminاگرہم لاہور والوں سے دیگر علاقوں کے باسی نفرت کرتے ہیں تو کچھ ایسا غلط نہیں کرتے۔۔۔
کیا آپ آگاہ ہیں کہ جتنا جنوبی پنجاب، اندرون سندھ، کشمیر، گلگت بلتستان، سرحد، بلوچستان کے پسماندہ علاقوں پر خرچ ہوتا ہے اس سےزیادہ صرف لاہور، کراچی اور اسلام آباد نامی تین شہروں پر خرچ ہو رہا ہے۔
احساسِ محرومی ہے جو دن بدن بڑھتا جا رہا ہے۔ ہم لاہور والوں کا قصور بھی نہیں لیکن اپنوں کی مہربانی کی وجہ سے ہمارے ہی بھائی ہمیں استحصالی طبقہ سمجھ رہے ہیں۔۔۔
بھائیو گلگت بلتستان کی بات کیجیے تو یہ پاکستان کی اس سرحد پر واقع ہے جہاں وہ دو انتہائی اہم ممالک کے سامنے سینہ سپر ہو کر پاکستان کی حفاظت کر رہا ہے۔ لیکن ہم سے انہیں سوا ئےبے رخی اور دھتکار کے آج تک کچھ نہیں مل رہا۔ یہ اگر آج ہندوستان یا چائنہ سے الحاق کا اعلان کر دیں تو آپ کی پوزیشن آسمان سے زمین پر آ جائے لیکن کسی کو ان کی قربانیوں کا احساس ہی نہیں ہے۔
آپ پاکستان کے کسی شہر سے گلگت بلتستان بذریعہ سڑک جانا چاہیں تو آپ محفوظ نہیں۔ راستے میں کوہستان آتا ہے جہاں طالبانی غنڈوں اور ملّوں کا راج ہے جو بس روک کے نام پوچھ کے گلے کاٹ دیتے ہیں۔ ٹرین ہے نہیں ایک ہی محفوظ ذریعہِ آمد و رفت ہے وہ ہے ہوائی اور اس میں بھی عموماََ فلائیٹ کینسل ہوتی رہتی ہیں۔ نہ جانے واقعی کوئی مسئلہ ہوتا ہے یا وہاں کے لوگوں کو تنگ کرنا مقصود ہے۔
اس علاقے کے نام ایک ورلڈ ریکارڈ ہے کہ سب سے زیادہ عرصے تک بنا کسی آئین کے رہنے والا علاقہ ہے۔ ان کے علاقے میں ترقی ہو نہیں رہی سڑکیں بن نہیں رہیں، کوئی انڈسٹری نہیں لگی۔ تعلیم میں وہ پاکستان بھر میں آگے ہیں تو بے روزگاری میں بھی ویسے ہی آگے ہیں۔ جنتِ عرضی ہے مگر سیاحت کے شعبے کی طرف کوئی توجہ نہیں۔ اور تو اور اس علاقے کی نمائندگی قومی اسمبلی میں بھی نہیں۔ ایک نوحہ ہے جو اس علاقے سے متعلق ہے کیا کیا کہا جائے۔
خدارا ابھی بھی ہوش کہ ناخن لیجیے۔ وہاں نوجوان نسل اپنے بڑوں سے پاکستان کے ساتھ الحاق کے فیصلے سے متعلق پوچھتی ہے اور ان کے پاس کچھ جواب نہیں۔ اس وقت سے ڈریں جب اس نسل کے سینوں میں پکتا لاوا ابل جائے اور آپ سقوطِ ڈھاکہ کے بعد خدا نخواستہ۔
اسی لیے گزارش کی ہے لوگ اگر آپ سے نفرت کرتے ہیں تو کچھ ایسا غلط بھی نہیں کرتے۔ لوگوں کی نفرت کو انہیں جینے کا حق دے کر بدلئے ۔ اگر انہیں ملک میں اپنے ساتھ رکھنا ہے تو انہیں برابر کا شہری مانئیے اور برابر کی سہولیات دیجیے۔ اس کے علاوہ کوئی اس مسئلہ کا حل نہیں ہے۔

Views All Time
Views All Time
1168
Views Today
Views Today
1
یہ بھی پڑھئے:   ذرا چھپا کے کھلونے دکان میں رکھنا!
Previous
Next

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

*

%d bloggers like this: