لاہور انڈر ورلڈ ، عابد باکسر ، شہباز شریف اور نئی تھیوری

Print Friendly, PDF & Email

عابد باکسر کی گرفتاری نے لاہور انڈر ورلڈ کی دنیا میں تہلکہ مچا دیا ہے ۔ دبئی کو محفوظ پناہ گاہ سمجھنے والے انڈر ورلڈ کے اراکین کیلئے اب دبئی میں رہنا کسی خطرے سے خالی نہیں ہے ، کیونکہ اب مختلف انٹیلی جنس ایجنسیوں کی رپورٹس کے بعد ان افراد کے خلاف گھیرا تنگ کرنے کا حتمی فیصلہ بھی کر لیا گیا ہے ۔ انڈر ورلڈ میں عابد باکسر اور طیفی بٹ کے مابین چلنے والی چپقلش نے پچھلے 11 سالوں سے عجیب و غریب اودھم مچایا ہوا ہے ۔ دونوں کے مابین اختلافات 2007 میں پیدا ہوئے تھے اور پھر ٹیپوں ٹرکاں والا پر ایوان عدل کے قریب حملے میں عابد باکسر کو بھی نامزد کیا گیا تھا۔اصل کہانی مون لائٹ سینما سے شروع ہوئی جس نے کئی زندوں کو مردوں کی صف میں شامل کیا ۔

یہاں بیگم نورین شریف کا کردار بھی اہم ہے جو امریکا میں رہائش پذیر ہیں۔ موصوفہ عابد باکسر کے خلاف ایک سے زائد کیسز میں مدعی ہیں ، اب اگر عابد باکسر کو ملک لایا جاتا ہے تو پھر بیگم نورین شریف کی پاکستان آمد کا راستہ ہموار ہو جائے گا۔
عابد باکسر کو لینے کیلئے پنجاب پولیس کے اعلی افسران دبئی کا رخ کریں گے

لیکن ایک چیز طے ہے کہ اب لاہور کی انڈر ورلڈ کے خلاف شکنجہ کسا جا رہا ہے اور اس کیلئے دبئی کو اب نشانے پر رکھ لیا گیا ہے۔
دوسری جانب مجاہد بھٹی جو کہ کالو شاہ پوریا کا چھوٹا بھائی ہے، وہ بھی دبئی میں ہی رہائش پذیر ہے ، کالو شاہ پوریا کا کزن فہیم شاہ پوریا بھی دبئی میں ہی رہائش پذیر ہے۔
ندیم خان اور علی رضا شیرازی جو کہ ٹیپو ٹرکاں والا کے قتل کیس میں مفرور ہیں ،ذرائع انکشاف کر رہے ہیں کہ وہ بھی اس وقت دبئی میں موجود ہیں۔
بھولا سنیارا گجر اور ہمایوں گجر کسی دور میں لاہور انڈر ورلڈ کے بڑے نام تھے جو پولیس مقابلے میں مارے گئے تھے۔
اب ایک بار پھر پولیس اور انڈر ورلڈ ڈان ایک دوسرے کے سامنے ہوں گے ، لیکن اس بار مقابلہ بہت سخت لگ رہا ہے ۔ اس بار ایسا نہیں ہوگا کہ آپریشن کرنے والے ہی خود انڈر ورلڈ کا حصہ بن جائیں۔

اب ذرا عابد باکسر کی کہانی سنیں ، تحقیق اور ملنے والی معلومات اس جانب اشارہ کرتی ہیں کہ عابد باکسر نے شہباز شریف کے کہنے پر درجنوں جعلی پولیس مقابلے کیے اور میاں صاحب کے مخالفین کو اِس جہان سے اُس جہان پہنچایا۔
لیکن یہ بڑے لوگوں کی فطرت ہوتی ہے کہ جب وہ کسی کردار کا بھرپور استعمال کر لیتے ہیں تو پھر اس کو ختم کرانے کا فیصلہ کرتے ہیں کیونکہ اگر وہ کردار زندہ رہتا ہے تو پھر ان کیلئے خطرہ موجود رہتا ہے۔
پس درجنوں قتل اور زمینوں پر قبضے کے بعد چھوٹے میاں صاحب نے عابد باکسر سے جان چھڑانے کا حتمی فیصلہ کیا اس کیلئے ایک خودساختہ جے آئی ٹی بھی بنوائی۔ یہ 1999 کی بات ہے ، جب عابد باکسر کو پولیس مقابلے میں پار کرنے کا حتمی فیصلہ کرلیا گیا تو اس سے اگلے ہی دن مشرف مارشل لاء لگا دیتا ہے اور درجنوں بےگناہ لوگوں کے خون سے ہاتھ رنگنے والے اس شخص کو تقدیر بچا لیتی ہے۔

یہ بھی پڑھئے:   آزاد خیالی

پھر ایک نیا دور شروع ہوتا ہے ۔عابد باکسر کی قربتیں اس وقت کے فوجی افسران سے بڑھ جاتی ہیں خاص کر کے گورنر پنجاب خالد مقبول کا تو دست راست بن جاتا ہے اور پھر قبضوں سمیت من مانیوں کا ایک نہ ختم ہونے والا سلسلہ شروع ہو جاتا ہے ۔

عابد باکسر نے کون کون سے کارہائے نمایاں سرانجام دیئے لاہور کے بااثر حلقے خوب جانتے ہیں ، اس دوران عابد باکسر لاہور کے تھیٹروں پر کام کرنے والے اداکاروں اور ڈانسروں سے بھی تعلق بنتا ہے جس نے بعد میں اور کئی کہانیوں کو جنم دیا۔2008 میں دوبارہ شہباز شریف پنجاب کی وزیراعلیٰ کی کرسی پر بیٹھتے ہیں اور ایک بار پھر عابد باکسر کو ختم کرانے کی سوچتے ہیں ۔ اس وقت تک عابد باکسر اور لاہور انڈر ورلڈ کا تعلق کافی مضبوط ہو چکا ہوتا ہے۔

اسی عرصہ میں بریگیڈیر شریف کی بیوی کی ملکیت میں ایک سینما ہتھیانے کے چکر میں عابد باکسر اس کی بیوی کی جان لیتا ہے ، اس وقت اہم سرکاری عہدوں پر کام کرنے والے افسران کے مطابق بریگیڈئیر شریف ضیاءالحق کا قریبی دوست تھا اور کراچی کا مارشل لاء ایڈمنسٹریٹر رہا اور 80 کی دہائی میں اس کی بیوی کے سیونگ اکاونٹس میں اتنی زیادہ رقم تھی کہ اس وقت اتنی رقم کا سیونگ اکاونٹ میں ہونا بڑی بات سمجھا جاتا تھا۔

نذر محمد چوہان بتاتے ہیں کہ بریگیڈیر شریف کے بیٹے کو مریدکے کے قریب ہمراہ بیوی بچوں کے مار دیا اور بریگیڈئر کی بیوی کو عابد باکسر اور اس کے ماموں نے قتل کرکے اس کے صحن میں دفن کر دیا ، جب کہ بریگیڈئر شریف پہلے ہی فوت ہو چکے تھے۔
شہباز شریف کو اس معاملے کا علم ہوا تو اس نے سکھیرا کے ذمے لگایا جو اس وقت ڈی آئی جی انویسٹی گیشن تھا۔ موصوف بعد میں آئی جی پنجاب کے عہدے پر براجمان رہے۔
پھر سکھیرا نے عابد باکسر کے ماموں کو جو جیل میں تھا برف کی سلوں میں دھنسا کر مارا۔ اور وہ ایک بہت بڑی رقم شہباز شریف ، سکھیرا اور اس کی ٹیم کو مل گئی۔

یہ بھی پڑھئے:   ہمارے بچوں‌کا بچپن تو نہ چھینو

آگے چلتے ہیں جب ماموں کے ساتھ یہ ہوا تو پھر عابد باکسر بھاگ گیا اور دبئی جا کر پناہ لی اور لاہور کی انڈر ورلڈ میں اہم کردار ادا کرنے لگا۔

جیسے کہ میں پہلے لکھ چکا ہوں کہ کسی دور میں انڈر ورلڈ ڈان طیفی بٹ اور عابد باکسر کا تعلق مضبوط رہا لیکن پھر ایک دوسرے کے خلاف ہو گئے ، جب کہ ٹیپوں ٹرکاں والا اور عابد باکسر کی آپس میں نہیں بنتی تھی۔

دبئی جانے کے بعد بھی عابد باکسر لاہور کے معاملات میں سرگرم رہا اور وہ یہ کام علی باکسر کے ذریعے کرواتا رہا۔
اب عابد باکسر دبئی سے گرفتار ہوا تو مختلف قسم کی چہ مگوئیاں جنم لے رہی ہیں کہ کہیں 1999 کے بعد جن لوگوں سے عابد باکسر نے ہاتھ ملایا تھا اور ان کے فرنٹ لائن کے طور پر کام کیا تھا کہیں انہوں نے پھر تو اس پر ہاتھ نہیں رکھ لیا ؟اور کیا اسے کچھ یقین دہانیاں کرائی گئی ہیں کہ اسے محفوظ رکھا جائے گا اگر وہ شہباز شریف کے احکامات ، پولیس مقابلوں اور ناجائز قبضوں پر اپنے لب کھول دے ، اور ذرائع بتا رہے ہیں کہ اس تھیوری پر انڈر ورلڈ لاہور کی ایک بڑی تعداد یقین کر رہی ہے؟

کل دفتر خارجہ کے ایک اہم افسر کے آفس میں بیٹھا تھا وہ بتا رہے تھے کہ میں گورنمنٹ کالج لاہور میں پڑھتا تھا جب عابد باکسر نے وہاں داخلہ لیا عابد باکسر کوئی بہترین طالب علم نہیں تھا اسے باکسنگ کے کوٹے پر داخلہ ملا تھا ، اور اس کے ہاتھ بہت بڑے بڑے تھے جیسے کوئی چھج ہوتا ہے باقی انہوں نے جو کچھ بتایا وہ رہنے دیں آف دی  ریکارڈ تھا

Views All Time
Views All Time
271
Views Today
Views Today
1

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

%d bloggers like this: