Skip to Content

Qalamkar | قلم کار

جہالت، ظلم اور ناانصافی کے خلاف برسرپیکار

ایک ریشنل ڈبیٹ کا فقدان

by جون 25, 2016 بلاگ
ایک ریشنل ڈبیٹ کا فقدان
Print Friendly, PDF & Email

Rehan Naqviجہاں کسی بھی معاشرے کے علمی معیار کو سمجھنا ہو تو وہاں کے لوگوں کی ابحاث اور اس کے درجات کو دیکھنا ضروری ہے ، اب آپ تازہ اس حمزہ علی عباسی کے واقعے کو ذہن میں رکھیں ـــ برونو (Bruno) نے ایک بنیادی سوال مغرب میں اٹھایا تین سو سے زائد سال گزر گئے ، کوپرانیکس اپنا سیاروں کا ماڈل پیش کرچکا تھا برونو بھی اسی کی طرح متجسس انسان بلکہ متشدد تجسس رکھنے والا تھا ، برونو نے دن رات آسمان کو دیکھا ، ان اجسام کی حرکت کو سمجھنے کی کوشش کی اور برملا اپنے نظریات کا اظہار کرنے لگا ، چرچ نے برونو کو جیل میں ڈال دیا لیکن برونو لاغر ہوکر ملک چھوڑنے کے باوجود اپنے تجسس کو ختم نہیں کرسکا ، برونو نے خواب میں بالکل ایسا ہی تصور دیکھا جس میں سورج کے گرد زمین گھوم رہی ہے اور تمام سیارے بھی اسکے گرد گھوم رہے ہیں ، اور صرف یہی نہیں سورج کے علاوہ بھی چمکنے والے ستاروں کا بھی ایسا ہی نظام ہے ” برونو اس جیسے نظریات کا پرچار آکسفورڈ کے خطاب میں بھی کرتا رہا وہاں بھی اسکو شدید گالیاں پڑیں اور وہاں سے بھی یہ بھاگ آیا ــــ اور واپس آکر پھر ان یونانی فلسفیوں کی کتابیں پڑھنے لگا اس نظریے کی ترویج کرنے لگا آخر کار کیا ہوا ؟ برونو کو اسکی کتابوں سمیت جلا دیا گیا ــ برونو بالکل ٹھیک تھا برونو نے ایک سوال اٹھایا تھا ، یہ مغرب کے متشدد دور کا حال تھا جہاں سوال اٹھانا جرم تھا لیکن آج آج وہ یہاں کیسے پہنچے انہوں نے انکو مجبوراً جگہ دینی پڑی ، برونو تو شہیدِ سائنس کا خطاب پاگیا ، لیکن تحقیق اور سچائی نے اپنا راستہ کھول دیا ــ اب وہاں کس قسم کے سوال اٹھتے ہیں ؟ وہاں ان سوالوں کے جواب دیے جاتے ہیں ؟ کس طرح منطقی ابحاث کو فروغ ملتا ہے ــ اب حمزہ علی عباس نے کوئی کٹھن سوال نہیں اٹھایا تھا اگر اس پر علمی ماحول پر بحث ہوجاتی تو کیا قباحت تھی ، میرا کہنا ہے سوال تو یہ بھی اٹھائے کوئی خدا کیا ہے ؟ واقعی ہے ؟ کہاں ہے ؟ کیا علم و قدرت ؟ کیا حقیقت کیا مطلقیت ؟ کیا وحی اور کیا مذاہب کا ارتقاء ـــ بات یہ ہے یہ سوال نا کریں تو ہمیں تو عامر لیاقت کی فنکاریاں ہی ہیں یا وہ مارننگ شو دن رات ناچ کود ، کتنے مذہب پر سائنس پر ، اقتصادیات ، نفسیات پر پروگرام آرہے ہیں ؟ یا تو ہم بھارت کو برا کہتے ہیں دوسری طرف نیشنل جیو گرافک کے تراجم بھی انہی کے ڈالتے ہیں ہمیں تو علم کا ٹی وی سے حصہ بھی بھارت سے مل رہا ہے اور مزے کی بات حمزہ علی عباس کا میں انتہا کا نقاد رہا ہوں اسکی کافی پوسٹس پر میں جواب بھی دیا کرتا تھا ، اور ہمارے ہیں ہر چیز کو جسٹیفائی کرنے کا ایک بڑا مسلہ ہے وہ تو ریٹنگز کے لیے کر رہا ہے وہ فنکار ہے یا کچھ بھی، اس سے فقط سوال غلط ہوجائے گا ؟ کبھی نہیں ہوگا ــ اسکو منطق کی زبان میں Ad hominem کہتے ہیں کہ آرگیومنٹ کی بجائے انسان کے کردار کو ہٹ کرنا ــ

Views All Time
Views All Time
440
Views Today
Views Today
1
یہ بھی پڑھئے:   امتِ مسلمہ کا مجرم کون؟
Previous
Next

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

*

%d bloggers like this: