Skip to Content

Qalamkar | قلم کار

جہالت، ظلم اور ناانصافی کے خلاف برسرپیکار

الجھن (افسانہ) | کرن ناز

by مئی 18, 2017 افسانہ
الجھن (افسانہ) | کرن ناز

” ہونہہ محبت ! تم جانتی ہو محبت کیا ہوتی ہے ؟ ”
روشن نے غصے اور افسوس کی ملی جلی کیفیات سے اس کی جانب دیکھا اور پھر ایک لمحے کے توقف سے گویا ہوا۔
” محبت میں نے کی ہے سارا سے ۔ کیا تھی وہ؟ حالات کی ستائی ایک ڈرپوک سی لڑکی ۔۔۔ اور اب دیکھو اسے ۔۔۔ اس کی خود اعتمادی اور مضبوطی سے مرد بھی خوفزدہ ہوجائے ۔۔۔ اسے فیلڈ میں لایا ، آئے دن بیرون ملک ٹرپس ، مہنگے ترین کلب کی ممبر شپ ، اچھی گاڑی ، کیا نہیں ہے اس کے پاس اب ؟ "
سونیا نے سر اٹھاکر روشن کی آنکھوں میں دیکھا اور گالوں پر بہتے اپنے آنسو صاف کرنے لگی ۔
روشن اپنے چبھتے لہجے کا احساس کرتے ہوئے نرمی سے بولا ،
” دیکھو سونیا ! محبت انسان کو مضبوطی اور اعتماد بخشتی ہے ۔جو تمہیں کمزور اور تنہا کردے ، ضرورت کے وقت تمہارے ساتھ کھڑا نہ ہو وہ کچھ بھی ہوسکتا ہے مگر پیار نہیں ۔تم خوبصور ت ہو ذہین ہو سب سے بڑھ کر ایک ہمدرد اور حساس انسان ہو ، اسے تو قدر تک نہیں ہے تمہاری اور تم اسے پیار کہہ رہی ہو ۔ "
روشن کی باتیں تھیں یا ہتھوڑے جو اس کے ذہن پر برس رہے تھے ۔کبھی ایسا بھی ہوتا ہے کہ ہم سب کچھ جان کر بھی حقیقت سے نظریں چرارہے ہوتے ہیں کیونکہ سچ کا مطلب اپنی ذات کی نفی ہوتا ہے جو ہم کسی صورت برداشت نہیں کرسکتے ۔ اگر یہ مان بھی لیا جائے کہ وہ ذیشان کے لئے ایک عام سی عورت ہی ہے ، وہ کیا سوچتی ہے کیا چاہتی ہے ، اس کے سائیں کو اس سے کوئی سروکار نہیں ، تب واضح ہوتا ہے کہ شروع کی پذیرائیاں صرف وہ دانہ تھیں جو شکاری پرندوں کے لئے ڈالتا ہے ۔ اس کی انفرادیت کے گن گانا صرف اسے یہ باور کرانے کے لئے تھا کہ وہ ہی دنیا کا واحد شخص ہے جو اسے سمجھتا ہے ، ارد گرد کے سارے مرد صرف رال ٹپکاتے بھیڑئیے ہیں جنہیں صرف اس کے ماس میں دلچسپی ہے ۔
سوچ کی انہی بھول بھلیوں میں بھٹکتے ذہن میں پرانی باتیں فلیش بیک کی طرح چلنے لگیں ۔
” تم ایک سراب کے پیچھے بھاگ رہی ہو ۔ ” اس کی سینئیر شاہانہ اس کے چہرے پر نظریں گاڑے اور اس کی کیفیات سے لطف اندوز ہوتے ہوئے اسے سمجھا رہی تھی ، لیکن وہ فخر سے کہنے لگی ،
” ایسے تو نہ کہیں ، بہت پیار کرتے ہیں وہ مجھ سے ، ہاں آج کل بہت مصروف ہیں ، اس لئے میں بھی زیادہ تنگ نہیں کرتی کال میسج پر ، پھر میں خود بہت بزی رہتی ہوں ، آپ تو جانتی ہی ہیں ۔ "
” ٹھیک کہہ رہی ہوں چندا ! جن چھوٹی چھوٹی ضرورتوں اور باتوں کے لئے تم پریشان ہوتی رہتی ہو وہ اس کے بائیں ہاتھ کا کھیل ہے ، لڑکے تو ہوتے ہی ناقابل بھروسہ ہیں لیکن آج کل کے مرد بھی کچھ کم اداکار نہیں ہوتے ۔تم مجھ سے زیادہ نہیں جانتیں ۔ کیا کمی ہے تم میں ، کوئی بھی اچھا لڑکا مل جائے گا ۔مجھے اپنی بڑی بہن سمجھو یا دوست لیکن سوچنا ضرور جو کہا ہے میں نے ۔ ” ، شاہانہ نے سونیا کو اپنے تئیں قائل کرنے کی بڑی کوشش کی۔
” سونیا تم بات کرتے کرتے کہاں کھو جاتی ہو؟ ” ، روشن کی آواز نے اسے سوچوں کے بھنور سے باہر نکال پھینکا ۔
” ارے میں ایسی ہی ہوں لیکن کمزور نہیں ہوں ، بس جب کبھی کوئی مددگار نہیں پاتی تو پریشان ضرور ہوجاتی ہوں ۔ ” اس نے پھیکی سی مسکراہٹ سے جواب دیا ۔
” سب نصیب کا کھیل ہے ۔ کچھ لوگوں کو زندگی کا بوجھ اکیلے ہی اٹھانا پڑتا ہے، کچھ گزر گئی ہے باقی بھی گزر ہی جائے گی ، کیا سہاروں کی تلاش میں دربدر بھٹکنا ، جیسا چل رہا ہے چلنے دو ۔ "
اس کی جھیل سی گہری آنکھوں کے کنارے پھر زیر آب آنے لگے تھے ، اس لئے روشن مزید کچھ کہنے کا ارادہ ترک کرکے خانساماں کو چائے کا آرڈر دینے اٹھ گیا ۔

Views All Time
Views All Time
378
Views Today
Views Today
1
Previous
Next

جواب دیجئے

%d bloggers like this: