Oops! It appears that you have disabled your Javascript. In order for you to see this page as it is meant to appear, we ask that you please re-enable your Javascript!

حکایاتِ سعدی – خوشنود زہرا

Print Friendly, PDF & Email

گذشتہ دنوں فارسی زبان کے صوفی شاعر شیخ سعدی شیرازی کی مشہور تصنیف ’’ گلستان ِ سعدی‘‘ کا اردو ترجمہ پڑھنے کا اتفاق ہوا، گلستان کا موضوع اخلاقیات ہے، لیکن شیخ سعدی نے نصیحت کا جو انداز اپنایا ہے وہ نہایت منفرد ہے، سوچا ان حکایات میں سے چند ایک قارئین کی خدمت میں پیش کی جائیں جو صدیاں گزرنے کے بعد بھی ہمارے معاشرے کی عکاسی کرتی نظر آتی ہیں۔

مشغولی معزولی سے بہتر ہے

ایک معزول شُدہ وزیر اپنے عہدہ ِ وزارت سے ہٹنے کے بعد درویشوں کے حلقے میں آ کر شامل ہوگیا۔ درویشوں کی زندگی چونکہ اپنے ہی طور طریقے کی ہوتی ہے، اس لئے معزول شدہ وزیر کو ماحول اور صحبت بے حد پسند آئی، ان فقیروں اور درویشوں میں وہ اب اور ہی طرح سے فیوض و برکات سے بہرہ یاب ہونے لگا، دراصل وزیر ایک دانا اور عقل مند شخص تھا، منتظم، بادشاہ کو جلد ہی اس کی کمی کا احساس ہونے لگا۔ بادشاہ نے چند دنوں کے بعد اس وزیر کو دوبارہ وزارت کا عہدہ ِ جلیلہ عطا کرنے کا عندیہ دیا۔ چونکہ اس حالت میں حلقہ درویشاں میں وہ بڑے سکون میں تھا اور اسے اطمینانِ قلب حاصل ہوچکا تھا۔ اس نے کہا، بادشاہ ذی وقار! میری معزولی میری مشغولی سے ہزار درجے بہتر ہے۔

مقصد: اس حکایت کا مقصد اور مدعا یہ ہے کہ ہر حکمران اور بادشاہ کے لئے ضروری ہے کہ وہ مملکت کے اہم اور کلیدی عہدے ان افراد کے سپرد کردے جو مناصب اور عہدوں کے بھوکے نہ ہوں۔

خاموش رہنا نعمت ہے

میں نے ایک دوست کو بتایا کہ خاموش رہنے کی عادت کو میں نے اس لئے اختیار کر رکھا ہے کیونکہ اکثر اوقات بھلی بری باتیں کرنے کا اتفاق ہوتا رہتا ہے اور یہ بھی کہ دشمنوں کی نظر صرف برائی پر پڑتی ہے، اس پر کہا گیا کہ اے برادر ! وہی دشمن بہتر ہے کہ، جو نیکی نہ دیکھے۔

مقصد: اس حکایت کا منشا یہ ہے کہ اکثر حالات میں خاموش رہنا ہی بہتر اور مناسب ہوتا ہے۔

بزرگوں کے ساتھ بہتر سلوک کرنا

ایک بار دروِ جہالت اور جوانی میں، میں نے اپنی ماں کو ڈانٹ دیا تھا، اس پر وہ آزاردہ ہو کر ایک کونے میں بیٹھ کر رو رہی تھی، اور ساتھ ہی ساتھ یوں بھی کہہ رہی تھی، کہ شاید تو وہ بچپن کا زمانہ بھول گیا کہ اب سختی کررہا ہے۔

مقصد: اس حکایت کا مقصد یہ ہے کہ بوڑھوں کے ساتھ سخت کلامی کرکے ان کا دل رنجیدہ نہیں کرنا چاہئیے۔ بوڑھوں کے ساتھ ہمیشہ اچھا اور بہتر سلوک کرنا چاہئیے۔

بد اصل، بد اصل ہی رہتا ہے

کسی وزیر کا بیٹا کُند ذہن اور کم فہم تھا، اس کو ایک دانش مند شخص کے پاس بھیجا گیا، تا کہ اس کی تربیت ہوسکے اور پھر شاید وہ عقل حاصل کرسکے۔ ایک وقت تک اس کی تعلیم ہوتی رہی لیکن اس کا اس برخودار پر اثر نہ ہوا، اور پھر اس بچے کو اس کے والد کے پاس بھیج دیا گیا کہ یہ تو عقل مند نہیں ہوتا، بلکہ اس نے مجھے دیوانہ کردیا ہے۔

مقصد: اس حکایت کا مقصد یہ ہے کہ اگر طبیعت میں صلاحیت نہ ہو تو ہر طرح کی پند ونصیحت اورتربیت رائیگاں جاتی ہے۔

نسب کے بجائے اعمال

میں نے ایک اعرابی کو دیکھا کہ وہ اپنے برخودار سے کہہ رہا تھا کہ ’’ اے بیٹے! تم سے قیامت کے دن یہ پوچھا جائے گا کہ تم نے کیا کیا؟ یہ نہیں پوچھا جائے گا کہ تمہارا نسب کیا ہے، یعنی تجھ سے پوچھا جائے گا تیرے اعمال اور ہنر کیا ہیں یہ نہیں دریافت کیا جائے گا کہ تیرا باپ کون ہے۔

مقصد: اس حکایت کا مقصد یہ ہے کہ نسلی شرافت پر تکیہ کر کے انسان کو ذاتی شرافت سے محروم نہیں رہنا چاہئیے۔

رعایا سے انصاف کرنا عبادت ہے

ایک بے انصاف بادشاہ نے ایک بار کسی پارسا بزرگ سے پوچھا کہ کون سی اور کس وقت کی عبادت سب سے افضل تر ہوتی ہے۔ اس کے جواب میں اس پارسا بزرگ نے فرمایا، ’’تیرے لئے دوپہر کے وقت کا سونا ہی بہتر ہے، تاکہ اس وقت خلق ِ خدا کو تو ستا نہ سکے اور وہ تیرے آزار سے محفوظ رہے‘‘

 

یہ بھی پڑھئے:   ابھی اور تماشے ہوں گے میرے حضور! | حیدر جاوید سید

 

Views All Time
Views All Time
440
Views Today
Views Today
1

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

%d bloggers like this: