Skip to Content

Qalamkar | قلم کار

جہالت، ظلم اور ناانصافی کے خلاف برسرپیکار

عکس خوشبو ہوں، بکھرنے سے نہ روکے کوئی – خوشنود زہرا

by دسمبر 26, 2016 بلاگ
عکس خوشبو ہوں، بکھرنے سے نہ روکے کوئی – خوشنود زہرا
Print Friendly, PDF & Email

parveen-shakirعکس خوشبو ہوں، بکھرنے سے نہ روکے کوئی
اور بکھر جاؤں تو مجھ کو نہ سمیٹے کوئی
رومانیت سے بھیگتا خوشبو سا لہجہ، مہکتے الفاظ اور دھنک کے رنگوں جیسے فطری جذبات کی بات ہو تو ذہن میں پروین شاکر کی شبیہہ ابھر آتی ہے۔ جذبات کا اتنا انوکھا اور منفرد اظہار پروین شاکر سے پہلے تو کسی نے نہ کیا تھا۔ کہیں شوخی، کہیں حکایت، کہیں سادگی تو کہیں غم، اتنے رنگوں کو اشعار کی صورت میں منعکس کرنا پروین شاکر کے سوا کون کرسکتا ہے۔
قریہ جاں میں کوئی پھول کِھلانے آئے
وہ مرے دل پہ نیا زخم لگانے آئے
میرے ویران دریچوں میں بھی خوشبو جاگے
وہ مرے گھر کے در و بام سجانے آئے
24 نومبر 1952ء کو شاکر حسین زیدی کے گھر جنم لینے والی پروین شاکر نے کچھ ایسے انداز میں پرورش پائی کہ طبعیت ادب آشنا سی ہوگئی۔ اس پر مسستزاد فطرت کو محسوس کرنے اور بیان کرنے کی صلاحیت نے دو آتشہ کام کیا۔ یوں خوشبو، عکس خوشبو، ماہ تمام، انکار، خود کلامی، صد برگ اور قریہ جاں کی تکمیل ہوئی۔
بخت سے کوئی شکایت نہ افلاک سے ہے
یہی کیا کم ہے کہ نسبت مجھے اس خاک سے ہے
پروین شاکر کی شاعری کے حوالے سے ناقدین کا کہنا ہے کہ عورت اور جذبات پروین شاکر کا موضوع ہیں اور ان فطری جذبات کی عکاسی اتنی بے ساختگی سے کی ہے کہ برسوں سے اس کے مقابل کوئی اور نہ آسکا۔
کو بہ کو پھیل گئی بات شنا سائی کی
اس نے خوشبو کی طرح میری پزیرائی کی
اُس نے جلتی ہوئی پیشانی پہ جب ہاتھ رکھا
رُوح تک آگئی تاثیر مسیحائی کی
انگلش لٹریچر اور لسانیات میں ماسٹرز کرنے کے بعد بطور لیکچرار پروین شاکر نے ذمہ داری سنبھالی، اسی دوران شاعری کی صلاحیت بھی نکھرتی گئی، یوں فقط 24 برس کی عمر میں ’’خوشبو‘‘ کی اشاعت نے پروین شاکر کو عروج پر پہنچا دیا۔ پروین شاکر کو احمد ندیم قاسمی کی شفقت کا سایہ ملا، اسی لئے انہیں اپنے عمو (احمد ندیم قاسمی) سے بہت انسیت تھی۔
پروین شاکر نے چھوٹی چھوٹی خوشیوں کا احاطہ کرتے ہوئے نسوانی جذبات کو بہت عمدگی سے بیان کیا۔
حُسن کو سمجھنے کو عُمر چاہیے، جاناں!
دو گھڑی کی چاہت میں لڑکیاں نہیں کُھلتیں
اور 1976ء جب اس خوشبو کی شاعرہ کی زندگی میں ڈاکٹر نصیر علی سے شادی کے بعد نیا موڑ آیا تو پروین کی شاعری میں بھی کچھ نئے رنگ شامل ہوگئے۔
کیا کیا دکھ دل نے پائے
ننھی سی خوشی کے بدلے
ہاں کون سے غم نہ کھائے
تھوڑی سی ہنسی کے بدلے
پروین شاکر کو جب اللہ نے 1978ء میں اولاد سے نوازا تو اس خوشی کو اس منفرد انداز میں قلمبند کرنا پروین شاکر کا ہی کام ہے۔
کائنات کے خالق!
دیکھ تو مرا چہرہ
آج میرے ہونٹوں پر
کیسی مسکراہٹ ہے
آج میری آنکھوں میں
کیسی جگمگاہٹ ہے
میری مسکراہٹ سے
تجھ کو یاد کیا آیا
میری بھیگی آنکھوں میں
تجھ کو کچھ نظر آیا
اس حسیں لمحے کو
توتو جانتا ہوگا
اس سمت کی عظمت کو
تو، تو مانتا ہوگا
ہاں، ترا گماں سچ ہے
ہاں کہ آج میں نے بھی
زندگی جنم دی ہے،
پروین شاکر نے ڈاکٹر نصیر علی سے 1987ء میں راہیں جدا کرلیں اور طلاق پر یہ سلسلہ متنج ہوا۔
طلاق دے تو رہے ہو مجھے غرور و قہر کے ساتھ
مرا شباب بھی لوٹا دو میرے مہر کے ساتھ
مجھ سے بچھڑا تھا وہ پہلے ہی مگر
اب کے یہ زخم نیا ہو جیسے
کیسے کہہ دوں کہ مجھے چھوڑ دیا ہے اس نے
بات تو سچ ہے مگر بات ہے رسوائی کی
سی ایس ایس کے بعد پروین شاکر کسٹمز میں افسر تعینات ہوئیں اور شہر اقتدار میں سکونت اختیار کرلی۔
جستجو کھوئے ہوؤں کی عمر بھر کرتے رہے
چاند کے ہمراہ ہم ہر شب سفر کرتے رہے
راستوں کا علم تھا ہم کو نہ سمتوں کی خبر
شہر نامعلوم کی جانب مگر کرتے رہے
اس منفرد شاعرہ نے کم عمری میں ہی شہرت اور اپنی پہچان قائم کرلی تھی، 26 دسمبر 1994 کی ایک کہر آلود صبح ٹریفک حادثے میں کومل اور نازک جذبوں کی ترجماں اپنے خالق حقیقی سے جاملی اور خوشبو کا یہ باب بند کرگئی۔
مر بھی جاؤں تو کہاں، لوگ بھلا ہی دیں گے
لفظ میرے، مرے ہونے کی گواہی دیں گے

Views All Time
Views All Time
1064
Views Today
Views Today
1
یہ بھی پڑھئے:   پروین شاکر کی مُردہ انگلیاں - مستنصر حسین تارڑ
Previous
Next

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

*

%d bloggers like this: