Skip to Content

Qalamkar | قلم کار

جہالت، ظلم اور ناانصافی کے خلاف برسرپیکار

فرار کب تک؟-خورشید ندیم

فرار کب تک؟-خورشید ندیم
Print Friendly, PDF & Email
انی سر سے گزر چکا۔ حقائق تلخ ہیں لیکن اب سامنا کیے بغیر چارہ نہیں۔
دہشت گردی کے تین اسباب ظاہر و باہر ہیں۔ ایک دین کی وہ تعبیر جو اس وقت غالب ہے اور کم و بیش تمام مذہبی سیاسی جماعتیں جسے قبول کرتی ہیں، یہ الگ بات کہ کھل کر اعتراف نہ کریں۔ دوسرا قومی سلامتی کا وہ بیانیہ جو مذہب سے وابستہ ہے۔ تیسرا علاقائی سیاست جس میں دہشت گردی کو بطور ہتھیار استعمال کیا جا رہا ہے۔ تینوں اسباب کو سمجھے اور ان کا تدارک کیے بغیر اصلاح کا کوئی امکان نہیں۔
آ ج دین کی غالب تعبیر یہی ہے کہ اسلام سیاسی غلبے کے لیے آیا ہے اور اس کی جدوجہد مطالباتِ دین میں سے ہے۔ ایک عالمی خلافت کا قیام مسلمانوں کا دینی فریضہ ہے۔ دنیا دو حصوں میں منقسم ہے۔ حزب اﷲ یعنی وہ مسلمان جو اس غلبے کے لیے متحرک ہیں۔ دوسرے حزب الشیطان۔ یہ وہ ہیں جو اسلام کو نہیں مانتے یا وہ مسلمان جو ان سے تعلقات رکھتے ہیں۔ قومی ریاست کا وجود اور موجودہ سرحدیں استعمار کی دَین ہیں‘ بطور مسلمان ہم جنہیں قبول کرنے کے پابند نہیں۔ ہم قربِ قیامت کے دور سے گزر رہے ہیں جس کے بارے میں پیش گوئیاں موجود ہیں کہ اس دور میں کفر اور اسلام کے مابین فیصلہ کن معرکہ برپا ہونا ہے۔ دنیا میں اس کے لیے صف بندی ہو رہی ہے۔ پاکستان کو اس معرکے میں مرکزی کردار ادا کرنا ہے۔ اسی وجہ سے قدرت نے پاکستان کو ایٹمی قوت بنایا ہے۔
دین کی یہ تعبیر زبان اور قلم سے پیش کی جاتی ہے۔ ہمارا میڈیا اس کی اشاعت و ترویج کرتا ہے۔ اس کے ماننے والے پاکستان میں اکثریت میں ہیں۔ ریاست نے اس کا کوئی متبادل بیانیہ مرتب نہیںکیا۔ وہ اس باب میں شدید ابہام کا شکار ہے۔ ریاست نہ تو اس بیانیے کی اشاعت کو روک سکی ہے اور نہ ہی اس کی غلطی واضح کر سکی ہے۔ پاکستان میں مذہبی سیاست کے علمبردار فی الجملہ اسی تعبیر کو مانتے ہیں۔
دوسرا سبب قومی سلامتی کا بیانیہ ہے جو مذہبی ہے۔ پاکستان ایک قومی ریاست ہے جس میں مسلمانوں کی اکثریت ہے۔ ہم نے اس قومی ریاست کی سلامتی کے لیے جو بیانیہ ترتیب دیا‘ اس کی بنیاد مذہب میں ہے۔ اس قومی ریاست کے دفاع کو ہم جہاد کہتے ہیں۔ اس کے لیے اگر کوئی رضاکارانہ جدوجہد کرتا ہے تو ریاست اس کی تحسین اور تائید کرتی ہے۔ ریاست نے اس بات کو نظر انداز کیا کہ مذہب ایک عالمگیر وحدت کا نام ہے جو روحانی اساسات رکھتا ہے۔ مذہب کو اگر ایک ایسی قومی ریاست کے دفاع کے لیے استعمال کیا جائے جس کی متعین سرحدیں ہیں تو اس سے تضاد واقع ہو گا۔ قومی سلامتی کے دفاع کے لیے وہی بیانیہ اختیار کیا جا سکتا ہے جو اس کی سرحدوں میں مقید رہ سکے۔ مذہب یہ نہیں کہتا کہ صرف پاکستان کا دفاع کیا جائے اور افغانستان کا نہیں۔ کیا افغانستان مسلمانوں کا ملک نہیں ہے؟ جو آدمی مذہبی بنیادوں پر پاکستان کا دفاع کرتا ہے، اسے افغانستان کے دفاع سے کیسے روکا جا سکتا ہے؟ افسوس کہ ریاست نے تجربات کے باوجود اس پہلو کو نظر انداز کیا۔ ریاست کا دفاعی بیانیہ تا دمِ تحریر مذہب پر کھڑا ہے۔
تیسرا سبب علاقائی مفادات ہیں۔ افغانستان کے ساتھ ہمارے تعلقات کشیدہ ہیں۔ افغانستان کا الزام ہے کہ پاکستان کی سرزمین پر وہ لوگ موجود ہیں جو افغانستان میں دہشت گردی کے واقعات میں ملوث ہیں۔ اب دکھائی یہ دیتا ہے کہ جواباً افغانستان ان عناصر کے لیے پناہ گاہ بن چکا جو پاکستان میں دہشت گردی کے واقعات میں ملوث ہیں۔ دونوں ریاستیں، یہ تاثر ملتا ہے کہ قومی مفاد کے نام پر عوام کے جان و مال سے بے نیاز ہو رہی ہیں۔
ان اسباب پر اگر اتفاق رائے ہو تو حل تلاش کرنا آسان ہو جاتا ہے۔ پہلے سبب کا حل یہ ہے کہ منظم طریقے سے دین کی اس تعبیر کی غلطی کو واضح کیا جائے۔ ریاست اس باب میں اپنی ذمہ داری پوری کرے۔ نیشنل ایکشن پلان کے تحت، سب سے پہلے اس تعبیر کی اصلاح کو ہدف بنانا چاہیے تھا۔ اب تک ایسا نہیں ہو سکا۔ ریاست کے ذمہ داران ابھی تک ابہام کا شکار ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ ان دہشت گردوں کو سہولت کار میسر ہیں۔ ریاست نے دہشت گردوں کو ہدف بنایا لیکن ان اسباب کو نہیں۔
مذہبی سیاست کے علمبرداروںکو بھی اپنا نقطۂ نظر واضح کرنا ہو گا۔ انہیں بتانا ہو گا کہ کیا اس تعبیرِ دین کو وہ درست مانتے ہیں؟ اگر نہیں تو ان کا جوابی بیانیہ کیا ہے؟ میرے نزدیک اب لازم ہے کہ یہ جماعتیں اس باب میں اپنا موقف دو اور دو چار کی طرح قوم کے سامنے پیش کریں اور بتائیں کہ وہ داعش یا عسکری تنظیموں سے کیسے مختلف ہیں؟ ان کا اختلاف اگر ہے تو یہ نظری ہے یا حکمتِ عملی کا؟
دوسرا سبب بھی لازم ہے کہ نیشنل ایکشن پلان کا حصہ بنے۔ اگر قومی سلامتی کا وہی بیانیہ باقی رہنا ہے جس کی بنیاد مذہب پر ہے تو پھر عسکری تنظیموں کا راستہ نہیں روکا جا سکتا۔ عسکری تنظیمیں جب بن جاتی ہیں تو ان کی سرگرمیوں کو محدود رکھنا ممکن نہیں رہتا۔ پاکستان کی گزشتہ چالیس سالہ تاریخ اس کی شہادت ہے۔ لازم ہے کہ قومی سلامتی کے بیانیے میں عسکری ذمہ داری فوج اور ریاست کے پاس ہو۔ اس کے علاوہ کسی کو یہ حق نہ ہو کہ وہ دفاعِ پاکستان کے نام پر ہتھیار اٹھائے۔ اس کی ایک فرع یہ ہے کہ کسی سیاسی یا مذہبی جماعت کو یہ حق نہ ہو کہ وہ دفاع پاکستان کے باب میں ایسی پالیسی کو فروغ دے جو ریاست کی حکمت عملی سے متصادم ہو۔ پاکستان کی سلامتی کے لیے اب ناگزیر ہے کہ اسے قومی سلامتی کے خود ساختہ محافظوں سے نجات دلائی جائے۔
تیسرے سبب کے خاتمے کے لیے اب ناگزیر ہے کہ افغانستان کے ساتھ دو اور دو چار کی طرح بات کی جائے۔ دسمبر 2014ء کے حادثے کے بعد جنرل راحیل شریف افغانستان گئے تھے۔ بعد کے واقعات سے اندازہ ہوتا ہے کہ عدم اعتماد کی فضا ختم نہیں ہو سکی۔ اب ناگزیر ہے کہ افغانستان اور پاکستان یہ طے کریں کہ وہ ایک دوسرے کے خلاف اپنی سرزمین استعمال نہیں ہونے دیں گے۔ اس کے ساتھ یہ بھی لازم ہو گیا ہے کہ مجرموں کے باہمی تبادلے کا معاہدہ کیا جائے۔ محض فہرست دینے سے بات نہیں بنے گی۔ جواباً وہ ایک فہرست ہمیں تھما دیں گے۔
2017ء پاکستان کے لیے فیصلہ کن ہے۔ پاکستان کی معیشت ایک نئے دور میں داخل ہو چکی۔ ساری دنیا اعتراف کر رہی ہے کہ اب مستقبل پاکستان کا ہے۔ بھارت میں موجود تمام امکانات کو کھنگالا جا چکا ۔ اب دنیا کی نظرپاکستان پر ہے۔ اس مرحلے پر دہشت گردی ایک بار پھر پاکستان کے مفاد کے در پے ہے۔ اگر قومی سلامتی مطلوب ہے تو لازم ہے کہ قومی سلامتی کا نیا بیانیہ ترتیب دیا جائے۔ اس کے لیے ان تین اسباب کو ہدف بنائے بغیر کو ئی راستہ نہیں۔ ریاست کو اب منفعلانہ کے بجائے فاعلانہ کردار ادا کرنا ہو گا۔
بشکریہ: روزنامہ دنیا
Views All Time
Views All Time
365
Views Today
Views Today
2
یہ بھی پڑھئے:   عیدالفطراورہماری غذائیں
Previous
Next

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

*

%d bloggers like this: