خرم پرویز اور واحد بخش بلوچ

Print Friendly, PDF & Email

rp_aamir-hussaini-new-247x300.jpgبڑے صاحب!میں کوئی مماثلت کی تلاش نہیں کررہا
کچھ سالوں سے مجھے ایسے لگنے لگا ہے جیسے میں احساس کمتری کا شکار ہوگیا ہوں بھارت کے آزاد خیال ادیب، دانشور برادری کے مقابلے ميں ۔میری بڑی خواہش ہے کہ میں بھارت کی اس آزاد خیال ،روشن خیال برادری کے سامنے کوئی ایسی بڑی مثال لاکر سامنے رکھوں کسی بہت بڑی طاقتور انحرافی ادیب /ادیبہ کی جسے میں کہہ سکوں کہ وہ ہندوستان کی "ارون دھتی رائے ” کی ٹکر کی شخصیت ہے ۔لیکن میں بار بار سخت احساس کمتری کا شکار ہوا جاتا ہوں۔یہ احساس میرے اندر اس وجہ سے بھی دوچند ہوگیا جب میں نے "سکرول ” نامی ایک ویب سائٹ پہ خبر پڑھی،”ارون دھتی رائے اور نوم چومسکی سمیت ففٹی ٹو انٹلیکچوئل دانشوروں نے جموں و کشمیر سول سوسائٹی نیٹ ورک کے کوآرڈی نیٹر خرم پرویز کی حکومت سے فوری رہائی کا مطالبہ کیا ہے۔اور اس مقصد کے لئے اپنے دستخطوں سے ایک خط مودی سرکار کو بھیجا ہے۔خرم پرویز کو دہلی ائرپورٹ پہ حکام نے روکا اور بعد ازاں پولیس نے اپنی تحویل میں لے لیا۔وہ اقوام متحدہ کی کونسل برائے انسانی حقوق کے اجلاس میں شریک ہونے جنیوا جانا چاہتے تھے۔52 ادیبوں کی اس فہرست میں چند ایک مسلمان دانشور ، اور ایک دو مغربی دانشور ہیں باقی سب ہندؤ خاندانی پس منظر رکھنے والے ادیب و دانشور اور چند ایک وکیل شامل ہیں۔52 ادیبوں اور دانشوروں میں نارتھ اور ساؤتھ ہندوستان کی نمائندگی موجود ہے اور سب کا ایک ہی مطالبہ ہے کہ "خرم پرویز ” کو فی الفور رہا کیا جائے۔
یہ خبر پڑھ کر میرے ذہن میں فوری طور پہ بلوچ دانشور ، ادیب واحد بخش بلوچ آگئے جن کو پراسرار طور پہ غائب ہوئے آج دوماہ ہونے والے ہیں۔وہ 26 جولائی 2016ء کو اندرون سندھ سے کراچی ایک بس میں آرہے تھے جب کراچی کے نزدیک ان کی بس سے ان کو نامعلوم مسلح افراد نے گن پوائنٹ پہ اغواء کرلیا ۔اور آج 19ستمبر 2016ء ہے۔یعنی ان کو غائب ہوئے 54 دن ہونے کو آئے ہیں اور ان کا تاحال پتہ نہیں لگایا جاسکا۔واحد بخش بلوچ ایک بلوچ ادبی رسالے لبزنک ادب کے ایڈیٹر ہیں اور وہ سعید ہاشمی ریفرنس لائبریری لیاری کراچی کے انچارج بھی ہیں۔میں نے آج تک 50 تو کیا اس کے نصف پاکستان کے چاروں صوبے ، گلگت بلتستان اور پاکستان کے زیر انتظام کشمیر کے دانشور ، ادیب ، اساتذہ کی جانب سے ایسا کوئی خط جاری ہوتا نہیں دیکھا جس میں "پروفیسر واحد بخش بلوچ ” کی بازیابی کا مطالبہ کیا گیا ہو اور اس کے نیچے ان ادیبوں ، دانشوروں کے دستخط موجود ہوں۔کاش ایسا کوئی خط میرے سامنے ہوتا اور اس میں زیادہ تر ادیب و دانشور بالائی پنجاب سے تعلق رکھنے والے ہوتے تو میرے پاس کم از کم اپنے بھارتی دوستوں کو یہ بتانے کا جواز ہوتا کہ ہمارے ہاں بھی ادیب ، دانشور بلوچستان کے ایک پروفیسر واحد بخش بلوچ کی زبردستی گمشدگی پہ خاموش نہیں رہے اور انہوں نے بھی حکومت کو ایک خط لکھا ہے ۔لیکن ایسا کوئی خط سامنے نہیں آیا۔
یہ پہلی مرتبہ نہیں ہوا ہے۔واحد بخش بلوچ لیاری میں جس "سعید ہاشمی ریفرنس لائبریری ” کے انچارج تھے ،وہ پروفیسر صباء دشتیاری شہید نے قائم کی تھی ۔یہ پروفیسر بھی قتل کردئے گئے اور انگلیاں ریاستی اداروں کی جانب اٹھ رہی ہیں۔لیکن پروفیسر صباء دشتیاری کی شہادت کے وقت بھی ادیبوں اور دانشوروں کی جانب سے کوئی اجتماعی اقدام اٹھتے میں نے نہیں دیکھا۔پروفیسر صباء دشتیاری ہندوستانی آزاد خیال دانشور ڈاکٹر ایم ایم کلبرگی سے کسی بھی طرح سے کم نہ تھے۔ہندوستان میں 2014ء میں جون کے مہینے میں پروفیسر ایم ایم کلبرگی قتل ہوئے تھے اور اس وقت سے ہی ہندوستانی ادیب ، دانشور ، سیاسی ، سماجی اور طبعی سائنس کے ماہرین نے احتجاج کرنا شروع کردیا تھا اور ایسے میں کئی کھلے خط سامنے آئے اور جب ہندوستان کے اندر مذہبی و نسلی بنیادوں پہ تشدد میں اضافہ ہی ہوتا چلا گیا تو وہاں ادیب ، دانشور ، سیاسی سماجی علوم کے ماہرین اور سائنس دانوں نے حکومت سے ملے اعزازات اور ایوارڈ واپس کرنا شروع کردئے اور اکتوبر 2015ء کے آتے آتے وہاں حکومتی ایوارڈ واپس کرنے والوں کی تعداد 100 سے تجاوز کرگئی ۔ہندوستانی شاعر اور ادیبوں نے ایک قدم اور آگے بڑھایا کہ انھوں نے ہندوستان کی سب سے بڑی اکادمی ادبیات ” ساہیتہ اکادمی ” کو وارننگ دی کہ وہ ہندوستان میں بڑھتے ہوئے مذہبی و نسلی تشدد کی صاف صاف لفظوں میں مذمت کرے اور "ہندؤ فاشزم ” بارے پالیسی بیان جاری کرے۔لیکن ایسا نہ ہوا تو 33 کے قریب ہندوستانی شاعروں اور ادیبوں نے ہندوستانی ادب کا سب سے بڑا ایوارڈ ” ساہیتہ اکادمی ایوارڈ ” واپس کردیا۔حکومتی ایوارڈ واپس کرنے میں ہریانہ کے اندر "اخلاق احمد ” کی فیملی سے ہوئے مبینہ کانڈھ اور اخلاق احمد کی گائے کے گوشت کھانے کے الزام میں ہونے والی موت کا سبب بھی شامل تھا۔
لیکن پاکستان کے بڑے نامور شاعروں ، ادیبوں اور سماجی و سائنسی علوم کے بڑے بڑے ناموں کی ہندوستانی ادیبوں اور دانشوروں کے مقابلے میں جب روش دیکھتا ہوں تو بڑی مایوس کن صورت حال سامنے آتی ہے۔مجھے دائیں بازو کے ادیبوں ، شاعروں ، صحافیوں اور سماجی، طبعی علوم کے ماہرین سے تو کبھی توقع نہیں رہی کہ وہ ہندوستانی ادیبوں ، شاعروں اور دانشوروں جیسی ہمت دکھائیں گے۔لیکن یہاں حکومتی ایوارڈ یافتہ لبرل ، ترقی پسند شاعروں ، ادیبوں ، کالم نگاروں ، اینکر پرسنز اور سماجی و طبعی علوم کے ماہرین نے کسی جرات اور ہمت کا مظاہرہ نہ کیا۔انتظار حسین (مرحوم کئی پرآشوب واقعات کے وقت زندہ و سلامت تھے )، مسعود اشعر،وجاہت مسعود ، مستنصر حسین تارڑ ،محسن رضا سمیت کئی بڑے نام ہیں جن کو ماضی قریب اور حال میں حکومتی ایوارڈ ملے اور اگر کسی کو اس سال اگست کی 14 تاریخ کو حکومت سے ایوارڑ اور اعزازات وصول کرنے والوں کے نام معلوم کرنے ہوں تو وہ پی آئی ڈی کے اس لنک کا وزٹ کرسکتا ہے :
http://www.pid.gov.pk/?p=24357
ایک سو بتیس افراد کو ایوارڈ دئے گئے جن میں کئی بڑے ادیب ، شاعر ، دانشور ، کالم نگار ، سائنس دان اور سماجی علوم کے اساتذہ شامل ہیں ۔پاکستان پیپلزپارٹی کے 5 سالہ دور میں بھی ایک لمبی فہرست ہے دانشوروں کی جن کو حکومتی ایوارڈ دئے گئے اور اعزازات سے نوازا گیا۔یہ دونوں ادوار جن کو ہم 2008ء سے لیکر 2016ء تک محدود کرسکتے ہیں ۔ان دونوں ادوار میں ایک طرف تو بڑے پیمانے پہ شیعہ ، ہزارہ شیعہ کی نسل کشی کی گئی ، کرسچن بستیوں کو جلایا گیا۔احمدیوں کا قتل اور ان کی عبادت گاہوں پہ حملے ہوئے۔بلوچ قوم کے نوجوانوں ، ادیبوں ، دانشوروں ، سیاسی کارکنوں ،انسانی حقوق کے سرگرم کارکنوں کو غائب کیا جانے لگا۔مسخ شدہ لاشیں ملنا شروع ہوگئیں ۔سابق گورنر سلمان تاثیر ، سابق وفاقی وزیر شہباز بھٹی مذہبی جنونیوں کے ہاتھ قتل ہوئے۔پروفیسر شکیل اوج ، پروفیسر یاسر وحید کی ٹارگٹ کلنگ ہوئی ، پروفیسر سبط جعفر ہلاک ہوئے ۔اے پی ایس پشاور ، گلشن اقبال پارک ، چارسدہ یونیورسٹی جیسے بڑے سانحے ہوئے۔اس بقر عید پہ مہمند ایجنسی میں خودکش حملہ ہوا۔مذہبی جنونیت اور نسلی بنیادوں پہ صفائی کا سلسلہ ہماری آنکھوں کے سامنے ہوا۔یہ دورانیہ 8 سالوں پہ محیط بنتا ہے اور ان آٹھ سالوں میں اگر ہم یہ فرض کریں کہ ایک ہزار کے قریب ادیب ، دانشور ، سائنس دان ، سماجی علوم کے ماہرین کو حکومتی ایوارڈ ملیں ہوں تو کیا کسی ایک ادیب نے بھی ایوارڈ واپس کیا ؟جواب نفی میں ملتا ہے تو میرے شدید احساس کمتری کی سمجھ آجانی چاہئیے۔بلکہ اعزازات اور ایوارڑ واپس کرنے کی بات تو رہنے دیں ۔سوال یہ ہے کہ یہاں حکومت کے نام ادیبوں ، دانشوروں نے کتنے خط اپنے دستخطوں سے جاری کئے ؟ کوئی ایک خط جو ” شیعہ نسل کشی ” پہ بھیجا گیا ہو؟ کوئی ایک خط جو کرسچن ، احمدی ، ہندؤ و دیگر اقلیتوں پہ ہونے والے جبر ، تشدد اور دہشت گردی کے خاتمے کے لئے لکھا گیا ہو۔ہاں واحد بخش بلوچ کی بیٹی ہانی بلوچ نے ایک خط لکھا۔ایسے خطوط فرزانہ مجید بلوچ نے لکھے ، ماما قدیر بلوچ نے لکھے ۔کچھ شیعہ تنظیموں نے لکھے۔مطلب آشوب سے گزرنے والے خود ہی اپنی آواز آٹھاتے نظر آئے۔جن بلوچ ، سندھی ، پشتون ادیبوں ، شاعروں اور سماجی علوم کے ماہرین کو اعزازات ملے انہوں نے بھی واپس نہ کئے۔اور ان کی جانب سے بھی کوئی خط حکومت ، عالمی ادبی ، سماجی علوم کی تنطیموں کو نہ لکھا گیا۔
عاصمہ جہانگیر پاکستان میں انسانی حقوق کی جدوجہد کرنے کا ایک بڑا نام ہیں۔اور بلاشبہ وہ آواز بھی اٹھارہی ہیں لیکن ابھی حال ہی میں ان کی جانب سے یہ کہہ دیا گیا کہ بلوچستان و کشمیر کے معاملات ميں فرق ہے ۔جبکہ میں نے ان کو خود کئی مرتبہ یہ کہتے ہوئے سنا کہ بلوچستان کو اسلام آباد والے ایک کالونی سمجھ کر چلاتے ہیں تو کیا نوآبادی آزاد ہوا کرتی ہے؟تو پھر وہ کس بنا پہ یہ امتیاز کرنے پہ مجبور ہوئیں؟
میری اس تنقید کا یہ مطلب نہ لیا جائے کہ پاکستان کے اندر دانشور ، لکھاری ، شاعر ، ادیب بالکل ہی آواز نہیں اٹھارہے لیکن اس تنقید کا مطلب یہ ہے کہ وہ گوشہ عافیت سے باہر نکل کر اپنے اثر و رسوخ کا ویسا استعمال نہیں کررہے جیسے پڑوسی ملک بھارت اور یہاں تک کہ بنگلہ دیش کے دانشور اور ادیب کررہے ہیں۔

Views All Time
Views All Time
432
Views Today
Views Today
1
یہ بھی پڑھئے:   سوشل میڈیا ایکٹوسٹوں کو کون اٹھا رہے ہیں اور کیوں ؟ - عامر حسینی

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

%d bloggers like this: