Skip to Content

Qalamkar | قلم کار

جہالت، ظلم اور ناانصافی کے خلاف برسرپیکار

کیا ہم آزاد ہیں | خطیب احمد

by اگست 14, 2017 حاشیے
کیا ہم آزاد ہیں | خطیب احمد

ہمارا ملک جو کہ 14 اگست 1947ء کو دنیا کے نقشے پر ابھرا، قائداعظم، علامہ اقبال، لیاقت علی خان، سرسید احمد خان جیسے بہت سے عظیم رہنماوں اور ہمارے بزرگوں کی دی گئی قربانیوں اور انتھک کوششوں کا نتیجہ ہے۔ آزاد سے مراد ہوتا ہے خودمختار لیکن مجھے افسوس کے ساتھ کہنا پڑ رہا ہے کہ ہماری خودمختاری آج بھی جاگيرداروں ، وڈیروں، بااثر طاقتوروں ،جابروں اور بےحس حُکمرانوں کے تابع ہے۔ اب سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ جو ملک 1947ء میں ہمارے حوالے کیا گیا تھا، کیا آج یہ وہی پاکستان ہے؟ کیا اس آزاد مملکت میں عدل، انصاف، اُخوت، مساوات اور مذہبی رواداری کے سُنہرے اصولوں پر عمل کیا جاتا ہے؟ ملک کے بااثر طبقے کی ترقی کا یہ عالم ہے کہ ان کی دولت دن دوگنی رات چوگنی کر رہی ہے۔ ترقی کا مرکز اگر یہی رہا تو ہم کیسے کہہ سکتے کہ یہ وہی پاکستان ہے۔ عوامی شعور کا یہ عالم ہے کہ اکثر نوجوانوں کے نزدیک آزادی کا مطلب فقط ماٹر سائیکلوں سے سائلنسر نکال کر شور وغُل کرنے تک محدود ہے۔ جس ہرے پرچم کی سربلندی کی ہم بات کرتے اکثر یہی کاغذی جھنڈیوں کی صورت میں پیروں تلے بے حرمت ہو رہا ہوتا ہے اور کوئی اٹھانے کی زحمت نہیں کرتا۔ تو کیا ہم کہہ سکتے ہیں کہ یہ وہی پاکستان ہے؟ صرف گاڑیوں اور موٹر سائیکلوں پہ پرچم سجا لینا ہی محب وطن ہونے کا ثبوت نہیں بلکہ ہمیں وطن عزیز کے لئے عملی طور پر کچھ کر کےبھی دکھانا ہو گا۔ یہ وطن واقعی ہمارا ہے تو ہم نے اسے سنوارنا ہےاور ہم نے ہی اسے اندھیروں سے نکالنا ہے۔ سب کو مل کر جدوجہد کرنی ہو گی بالخصوص ہمیں ملک سے کرپشن جیسے ناسور کا خاتمہ کرنا ہو گا۔ تو آئیے عہد کریں کہ ہم ایسا پاکستان بنانے کے لئے جدوجہد کریں گے کہ جس میں دہشت گردی، ٹارگٹ کلنگ، بھتہ خوری، عورتوں اور اقلیتوں کے حقوق کی پامالی نہ ہو، جہاں غریب کو اس کا حق ملے اور جہاں مزدور کو اس کا پسینہ خشک ہونے سے پہلے اس کی اجرت ملے۔

Views All Time
Views All Time
227
Views Today
Views Today
1
Previous
Next

جواب دیجئے

%d bloggers like this: