صاحبہء معراجِ صبرو اطاعت سیدہ خدیجہؑ

Print Friendly, PDF & Email

waqar hashmiاللہ رب العزت نے عورت کے اوصاف میں سے ایک وصف ’ صبر و اطاعت ’ ایسا رکھا ہے جو اُسے ممتاز کرتا ہے ،تاریخِ انسانی کے ساتھ ساتھ صبر و اطاعت بھی اپنے ارتقاء کی منازل طے کرتا ہوا اپنے اوجِ کمال کی طرف بڑھتا چلا گیا ۔
صبر و اطاعت جنابِ حاجرہؑ تک پہنچا ، اللہ اللہ ۔۔۔ جنابِ حاجرہؑ نے صبر و اطاعت کو کیا زینت بخشی ، پھر کچھ اور آگے بڑھے تو جنابِ آسیہؑ تک پہنچا تو حد نظر سے بھی آگے آسماں کی بلندیاں چھونے لگا، پھر جنابِ مریمؑ نے صبر و اطاعت کی وہ مثال قائم کی کہ قرآن میں اللہ رب العزت بھی مدح سرا نظر آیا۔
اور پھر سیدہ خدیجہؑ تک پہنچا جنہوں نے صبر و اطاعت کو اوجِ کمال تک پہنچا دیا ،صبرو اطاعت کی معراج ٹھہریں ۔
اسی لئے تو خود اللہ ذوالجلال نے جنابؐ خدیجہؑ کے لئے سلام بھیجا ، اور جنابِ خدیجہ علیہ سلام ٹھہریں۔
روایت میں نقل ہوا کہ جبرائیلؑ رسول اللہ ﷺ کے پاس آئے اورعرض کی کہ یا رسول اللہﷺ خدیجہؑ آپ کے پاس آئیں تو آپ ان کو سلام کہئے گا اللہ کی طرف سے اور ان کوخوشخبری دیجئے جنت میں ایک ایسے گھر کی جو کہ خوالدار موتی بنا ہوا ہے، نہ اس میں کوئی غل ہے نہ تکلیف ۔
حوالہ: صحیح مسلم، جلد 6، حدیث 6673 تا 6676
اُس وقت کی عرب کی ایک رئیس ترین اور باوقار خاتون ، جن کی دولت و ثروت کے چرچے سارے عرب میں مشہور تھے، جن کا حسب و نسب مثالی ، جن کا گھرانہ ایک علمی گھرانہ اور اس زمانہ کے مذاہب پر جن کی گہری نظر ہو،اور جزیرہ عرب کے رئیس لوگ ان سے شادی کے خواہش مند ہوں ، لیکن وہ شادی کے لئے یتیمِ عبداللہؑ جنابِ محمدِ مصطفیٰﷺ کا انتخاب کرتی ہیں،اپنے خاندان کی باقی عورتوں کے طعنے سہتی ہیں، شان و شوکت کی زندگی چھوڑ کر شعبِ ابی طالب کی سختیاں سہتی ہیں،ذرا سوچا جائے تو یہ ایک امیر ، عالمہ ، خود مختار ،رئیسہ خاتون کے لئے آسان نہ تھا،لیکن رسول اللہﷺ کی اطاعت اور اسلام کی سر بلندی کے لئے اپنا سب کچھ قربان کر دیتی ہیں۔ وہ رسول اللہﷺ کی اُس دور میں حامی ،مددگار، غمخواربنتی ہیں جب سارا عرب ان کے مخالف تھا،اور پنا سارا مال ،اپنی ساری دولت ، دینِ اسلام کی سربلندی کے لئے وقف کر دیتی ہیں، رسول اللہﷺ سے شادی کا جب فیصلہ کیا تو کچھ لوگوں نے رسول اللہﷺ کی سادگی کا ذکر کیا تو جنابِ خدیجہؑ نے ایک شعر ارشاد فرمایا ،جس کا ترجمہ کچھ یوں ہے کہ:
” اگر ان کے پاس مال و دولت کم ہے تو کیا، میرے پاس تو دولت ہے، دولت تو اُن (محمدﷺ) کے مقابلے میں کچھ نہیں ،سوائے ایسے جیسے (کٹا ہوا) ناخن ”
اگر کوئی پوچھے کہ جنابِ خدیجہؑ کا مال کا مصرف کیا تھا، وہ کہاں خرچ ہوا، تو چاہے آپ روایات پر تحقیق کر کے دیکھ لیں آپ کو اندازہ ہو گا کہ وہ دولت اُن آٹھ جگہوں پر ہی خرچ ہوئی جس کا اللہ رب العزت نے قرآنِ کریم میں ایک مقام پر ذکر کیا ،
” یہ صدقات تو صرف فقیروں ، مساکین اور صدقات کے کام کرنے والوں کے لیے ہیں اور ان کے لیے جن کی تالیف قلب مقصود ہو اور غلاموں کی آزادی اور قرضداروں اور اللہ کی راہ میں اور مسافروں کے لیے ہیں ، یہ اللہ کی طرف سے ایک مقرر حکم ہے اور اللہ خوب جاننے والا، حکمت والا ہے۔ ”
حوالہ: قرآنِ کریم ،سورہ توبہ، آیت نمبر 60
کہیں کوئی مقروض تھا تو اُس کا قرض ادا ہوا، کہیں کوئی حاجت مند تھا تو اُس کی حاجت پوری ہوئی، کہیں کوئی کوئی یتیم ،مسکین یا بیوہ ہے تو اُس کی مدد کی گئی، بھوکوں کو کھانا مہیا کیا گیا، کہ یہ لوگ حسنِ سلوک ، اخلاق اور اس ایثار سے متاثر ہوں اور دینِ اسلام کا پیغام سن لیں۔
اور بلاشبہ قرآن کریم میں بہت سے مقامات پر اللہ تعالیٰ نے جہاد بالمال اور جہاد بالسیف کو برابری کا درجہ دیا ہے،جیسا کہ ایک جگہ ارشاد فرمایا:
” بغیر کسی معذوری کے گھر میں بیٹھنے والے مومنین اور راہ خدا میں جان و مال سے جہاد کرنے والے یکساں نہیں ہو سکتے، اللہ نے بیٹھے رہنے والوں کے مقابلے میں جان و مال سے جہاد کرنے والوں کا درجہ زیادہ رکھا ہے، گو اللہ نے سب کے لیے نیک وعدہ فرمایا ہے، مگر بیٹھنے والوں کی نسبت جہاد کرنے والوں کو اجر عظیم کی فضیلت بخشی ہے۔ ”
حوالہ: قرآنِ کریم ، سورہ النساء ،آیت 95
اسکے علاوہ سورہ صف ،آیت 11، سورہ توبہ آیات ، 44، 81 ،88 اور انکے علاوہ اور بھی آیات آپ کو اس موضوع پر ملیں گی،
شاید یہی وجہ ہے کہ سرکارِ دوعالم محمدِ مصطفیٰﷺ نے یہ کہا کہ جو علامہ ماہقانی، صاحبِ رجال ، کتاب تنقیح المقال ،جلد3،باب فصل النساء،صفحہ 77 پر نقل کرتے ہیں اور کہتے ہیں کہ یہ حدیث، متواترہ ہے کہ :
‘‘ اسلا م قائم نہیں ہوا لیکن خدیجہؑ کے مال سے اور علیؑ کی تلوار سے ”

Views All Time
Views All Time
458
Views Today
Views Today
1
یہ بھی پڑھئے:   رمضان کی آمد آمد ہے

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

%d bloggers like this: