دِل کے مہمان-خدیجہ افضل

Print Friendly, PDF & Email

رات کا تیسرا پہر تھا۔ اس نے ہاتھ بڑھا کر سائیڈ ٹیبل پہ پڑا موبائل فون اٹھایا ۔ اسکرین پر چمکتے ہندسے بتا رہے تھے کہ تہجد کا وقت ہو چکا ہے ۔ وہ روزانہ کی طرح اتنی کچی نیند میں تھی کہ الارم سے بھی پہلے جاگ گئی تھی۔
کمبل ہٹا کر وہ وضو کرنے چلی گئی۔
تہجد کےنوافل پڑھ کر ہاتھ اُٹھائے تو دماغ بھٹکنے لگا۔ کیا مانگوں ؟ میرے مالک ۔ مُجھے تو مانگنا بھی نہیں آتا ۔ تو بہتر جانتا ہے میرے رب ۔
مجھے اب بس تُو چاہئیے میرے اللّٰہ ۔ مجھے بس تیری رضا چاہئیے مولا۔
ہونٹ چپ تھے مگر بہتے آنسو بول رہے تھے۔
پتہ نہیں کتنے دنوں سے یہی ہوتا آیا تھا۔ مگر اس کے اندر کی بے چینی ختم نہیں ہو رہی تھی ۔ سکون نہیں تھا کہیں بھی۔
اور اگلے روز وہ مس زینب کے سامنے بیٹھی تھی ۔ آنسو آنکھوں سے بہنے کو بے تاب تھے۔
” وہ اور میں کبھی ایک نہیں ہو سکتے ۔ میں یہ بات بہت اچھی طرح جانتی ہوں۔ اسےرابطہ کرنے سے بھی منع کر دیا ہے میں نے۔ مگر یہ بے چینی کیوں ہے پھر "
مس زینب نے اپنا ہاتھ نرمی سے اس کے ہاتھ پر رکھا تھا ۔
"میں بس اللّٰہ سے اللّٰہ کو مانگتی ہوں ۔ مگر وہ مجھے کیوں نہیں ملتا۔ کیوں نہیں آتا وہ میرے دل میں”
وہ بے بسی سی بچوں کی طرح پھوٹ پھوٹ کر رو پڑی تھی ۔
مس زینب نے ہولے سے اس کا ہاتھ دبایا ۔ کچھ دیر اسے رونے دیا ۔پھر جب بولیں تو عائزہ کو حیرت سی ہوئی ۔
” تم نے بتایا تھا کہ گھر میں بہت کام ہے آجکل ، اب کیا صورتحال ہے؟”
عائزہ کو ان کا سوال موقعے کے لحاظ سے نا مناسب تو لگا مگر جواب دینا بھی ضروری تھا۔
"جی وہ ماموں کی فیملی آ رہی ہے کینیڈا سے بہت سال بعد۔ امی کا تو بس نہیں چلتا کہ گھر ہی نیا خرید لیں۔
پینٹ مرمت ، صفائی دُھلائی ، راشن کا انتظام ، بس سارا دن یونہی گُزر جاتا ہے”
لیکن اتنا اہتمام کیوں؟ کچھ روز ہی تو رہیں گے تمہارے ماموں ۔ پھر واپس ہی تو جانا ہے انہیں
مس زینب نے ایک اور سوال کیا
وہ تو ہے،لیکن وہ ہیں بھی تو خاص مہمان ۔ کوئی آس پاس کے ہوتے تو پھر بھی اتنا تردد نا کرنا پڑتا۔ عائزہ نے نارمل لہجے میں جواب دیا ۔
مس زینب کے چہرے پہ جاندار مُسکراہٹ آئی تھی ۔ وہ اس کی آنکھوں میں جھانکتی ہوئی گویا ہوئیں
خاص مہمان ؟ کون ؟ تمہارے ماموں ؟ جو چند روز کے لیئے آ رہے ہیں ۔ اور ان کے لئے سارا گھر چمکایا جا رہا ہے
اور تم تو اللّٰہ کو اپنے دل میں بلا رہی ہو، اس کے لئے کیا اہتمام کیا تمُ نے؟
عائزہ حیرت سے ان کو دیکھ رہی تھی ۔
دیکھو عائزہ ، جب دنیاوی چند روزہ مہمان کے لیئے اتنی تیاری کی جاتی ہے تو اس کائنات کے مالک کے لئے بھی تو کچھ اہتمام کرو۔
وہ کیسے آئیں اس دل میں جس میں کسی نا محرم کی محبت موجود ہو۔۔وہ کیسے آئیں اس دل میں جہاں اسے بلانے والا بلاتا تو ہے مگر اس کے استقبال کے لیئے کوئی تیاری نہیں کرتا ۔ اللّٰہ تعالیٰ نے یہ دِل اپنے رہنے کے لیئے بنایا تھا۔ مگر جب ہم اس میں غیر اللّٰہ کو بسا لیتے ہیں تو پھر اللّٰہ اس دل میں نہیں آتا۔ وہ دل اُس کے شایانِ شان نہیں رہتا۔ جب تک تم اپنا دل پاک نہیں کرو گی تب تک اللّٰہ تعالیٰ نہیں آئے گا وہاں۔ مس زینب کا دھیما لہجہ اس کے دل پر اثر کر رہا تھا سیدھا۔
مگر میں کیا کروں ؟ کیسے صاف کروں اپنے دل کو؟
میں اسے سوچنا نہیں چاہتی مگر وہ میری سوچ سے نکلتا ہی نہیں ۔ عائزہ نے ڈبڈبائی آنکھوں سے نا سمجھی کے عالم میں ان کو دیکھا ۔ استغفار کی کثرت کرو ۔۔ اللّٰہ تعالی تمام گناہوں کا میل دھو دے گا دل سے۔
جب اس کا خیال آئے تو تکبیر پڑھنا شروع کر دو۔
اللّٰہ اکبر، اللّٰہ اکبر، اللّٰہ بڑاہے۔ بے شک ، ہر خیال سے ہر سوچ سے ہر محبت سے ،ہر جذبے سے۔ جب یہ سوچو گی تو باقی سب اس کے آگے چھوٹا لگنے لگے گا۔ ہر سوچ ہر، جذبہ ،ہر محبت ماند پڑ کر دبنے لگے گی اس کے آگے۔ پھر تمہارا دل صاف ہو جائے گا اور پھر یہ اس قابل ہو گا کہ اللّٰہ تعالی اس میں آ سکے
عائزہ کی آنکھوں میں ندامت کے آنسوؤں کے ساتھ امید کی چمک بھی تھی ۔۔ اس نے تشکر کے انداز میں مس زینب کو دیکھا ۔۔
آپ کا بہت شُکریہ ،آپ نے مجھے اتنی بڑی بات اتنی آسانی سے سمجھا دی ، آپ نا ہوتیں تو میں کیا کرتی ۔ سمجھ نہیں آرہا کیسے تھینک یو بولوں
میں نا ہوتی تو کوئی اور ہوتا۔ اللّٰہ تعالی جب ہمیں اپنے قریب کرنا چاہتا ہے تو ایسے ہی وسیلے بنا دیتا ہے اور شُکر اللّٰہ کی ذات کا کرو اور جب کسی کو اس حالت میں دیکھو تو یہ پیغام اسے بھی پہنچا دو، بس یہ طریقہ ہے تھینک یو کہنے کا۔
مس زینب کا لہجہ ہمیشہ کی طرح عاجزی اور نرمی سے بھرپور تھا۔
عائزہ کی آنکھوں کی چمک بتاتی تھی کہ اس نے اللّٰہ کو پانے کا راز پا لیا ہے۔
اللّٰہ تعالیٰ ہمارے دلوں کو بھی ہر اس شے اور جذبے سے پاک کر دے جو ہمارے اور اللّٰہ کے بیچ رکاوٹ بنتی ہے۔

Views All Time
Views All Time
849
Views Today
Views Today
1
یہ بھی پڑھئے:   اک اور دوزخ کا سامنا تھا - گل نوخیز اختر

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

%d bloggers like this: