Skip to Content

Qalamkar | قلم کار

جہالت، ظلم اور ناانصافی کے خلاف برسرپیکار

رمضان لوٹ سیل | خدیجہ افضل مبشرہ

رمضان لوٹ سیل | خدیجہ افضل مبشرہ

رمضان کا بابرکت مہینہ اپنے ساتھ بہت سی رحمتیں برکتیں سمیٹ کر لاتا ہے اور ہم گنہگاروں کے دامن بھر کر رخصت ہو جاتا ہے ۔ ترقی زمانہ اور جدید ٹیکنالوجی نے باقی سب چیزوں کے ساتھ ساتھ ہماری دینی اور اخلاقی اقدار کو بھی بہت متاثر کیا ہے۔ موبائل فونز کے بے جا اور بے تحاشا استعمال نے جہاں ہمارا وقت برباد کرنے میں کوئی کسر نہیں چھوڑی وہیں عبادات اور یکسوئی کا لطف بھی ہم سے چھین لیا ہے۔
پہلے سحری کے اوقات میں والدین بچوں کو جگایا کرتے تھے ، آجکل بچوں کو رمضان کے علاوہ بھی سحری تک جگائے رکھنے کا کام یہ موبائل فونز بخوبی انجام دیتے ہیں بلکہ اگر ماں کی آنکھ نہ کھلے اور کسی وجہ سے الارم نہ بجے تو یہ شب خیز اولادیں ماؤں کو جگانے کا فریضہ بھی انجام دیتی ہیں۔
اس بار بھی رمضان کی آمد کے ساتھ ہی دل سے ارادہ کیا کہ ایک ایک لمحے سے بھرپور فیوض و برکات حاصل کرنے کی سرتوڑ کوشس کرنی ہے۔ لکھنا لکھانا سب موقوف کر دینا ہے بس ساری توجہ اپنے نفس کی تربیت اور حتی الامکان عبادت کی طرف ہونی چاہئیے۔ مگر یہ بھی سچ ہے کہ موسم گرما کے روزے ، لمبا دن اور گھر کے کام کاج کے بعد عصر کے بعد تک انسان تھکاوٹ اور غنودگی سی محسوس کرنے لگتا ہے۔
اس دن بھی عصر کے بعد غنودگی چھانے لگی تو پہلے یہی سوچا کہ کچھ دیر سو لیا جائے ، پھر خیال آیا کہ سو گئی تو مغرب تک عجیب سستی چھائی رہے گی۔ وقت گزارنے کو ٹی وی آن کر لیا کہ ہو سکتا ہے رمضان کے حوالے سے کچھ اچھا دیکھنے کو مل جائے حالانکہ میں ٹی وی دیکھتی نہیں نہ ہی شوق رکھتی ہوں ۔ بس نیوز دیکھتی ہوں وہ بھی زیادہ تر ہیڈ لائینز ہی۔
مگر ہائے افسوس کہ اس دن میں نے ریموٹ اٹھا لیا۔
پھر ان گنہگار آنکھوں نے رمضان ٹرانسمیشن کے نام پر جو جو دیکھا اسے دیکھ کر یہی سوچا کہ کاش آج بھی نہ دیکھا ہوتا تو کم از کم وہ بچپن کی خوبصورت اور پاکیزہ یادیں رمضان اور رمضان ٹرانسمیشن کے حوالے سے برقرار رہتیں۔
نجانے یہ لوگ رمضان کے نام پر کون سے کاروبار سجائے بیٹھے ہیں ۔ عجیب ہڑبونگ اور ہاتھا پائی کے مناظر نظر آتے ہیں۔ یوں لگتا ہے رمضان نیکیاں کمانے کا نہیں ، بلکہ انعامات سمیٹنے کا مہینہ ہے- اور ان انعامات کے حصول کے لئیے جو غیر اخلاقی ، اور غیر مہذب حرکات اور گیمز کروائی جا رہی تھیں انہیں دیکھ کر تو جو فیلنگ ہوئی اسے شرم ، غصہ اور جانے کیا کیا کہا جا سکتا ہے۔
ایک چینل ، دوسرا ، تیسرا ، اور سارے ہی چینلز پر یہی تماشا چل رہا تھا۔ پورا سال اودھم پیل سے بھرپور مارننگ شوز اور انٹرٹینمنٹ پروگرام کرنے والے اور والیاں آج پاکستانی ڈریسنگ اور میک اپ سے لپے چہرے اورآدھے سر جو کہ ڈھانپنے کے باوجود ننگے ہی تھے اور باقی آدھے بالکل ہی ننگے سروں کے ساتھ بیک گراؤنڈ میں چلتے میوزک پر عوام الناس کے لئیے موبائل فون سے لیکر گاڑیاں تک بانٹتے نظر آئے۔
بالکل یوں لگا جیسے کوئی سیل لگی ہو، رمضان لوٹ سیل ۔سیل تو رمضان میں اللہ تعالی بھی لگاتے ہیں برکتوں کی ، رحمتوں کی ، مغفرت کی۔ مگر یوں لگتا ہے کہ جیسے ہمیں اب اس سب کی ضرورت نہیں رہی ۔ ہمیں تو دنیاوی مال سے مطلب ہے، سوداچاہے کسی بھی قیمت پر کرنا پڑے۔
ایک پل کے لئیے تو بازار کا وہ منظر یاد آگیا جب دکاندار باہر اپنا سامان سجائے ہر گزرتے راہگیر کو کچھ بیچنے کی کوشس میں اونچی اونچی آوازیں لگاتے ہیں۔
مجھے یہ بھی کچھ ایسا ہی منظر لگ رہا تھا۔ اخلاق کے بدلے میں موبائل لے لو ، مائیکرو ویو اوون لے لو ، تمیز تہذیب کے بدلے موٹر بائیک لے لو ، شرم حیا کے بدلے گاڑی لے لو وغیرہ وغیرہ۔
اور جب بات آئے سونے کی تو دکاندار تو دور کی بات ، وہاں موجود خواتین کو اپنا مسلمان ہونا تو کیا یاد رہتا ، اپنا خاتون ہونا بھی بھول گیا تھا جیسے۔
کیا کیا جائے کہ آوے کا آوا ہی بگڑا ہوا ہے۔
چینل کے مالکان کو ریٹنگ اور آمدن سے غرض ہے اور حصہ لینے والوں کو انعامات سے۔ یہ رمضان کا نام تو بس یونہی لٹکا رکھا ہے جیسے کوئی حرام کے پیسے سے عالیشان محل بنا کر اوپر “ماشاء اللہ” لکھ دے۔
پیمرا بھی لگتا ہے سحری میں لسی پی کر سو گیا ہے۔
دین کا تو مذاق بنا کر رکھ دیا ہے ۔ سب سے زیادہ تعجب مجھے ان نامی گرامی ہستیوں پہ ہوا جو دین کا علم رکھنے والے ہیں ، عالم ہیں اور ان پروگرامز کا حصہ بن کر یونہی چپ بیٹھے رہتے ہیں جیسے یہ سب رمضان کا عین حصہ ہو۔ ان رمضان ٹرانسمیشنز نے سب سے زیادہ نقصان ناظرین کا کیا ہے ۔ جو سحر و افطار ہی سے با برکت اور دعاؤں کی قبولیت کے اہم لمحات ان فضول اور واہیات ٹرانسمیشنز کو دیکھنے میں ضائع کر دیتے ہیں۔
جب بات میڈیکل ایشو کی ہو تو ڈاکٹر کو بلاؤ ، پولیٹکل ایشو ہو تو سیاستدان کو بلاؤ، اور دین کی بات ہو تو انہی ناچنے گانے والوں کو شلوار قمیض واسکٹ اور خواتین کے سروں پہ برائے نام باریک دوپٹے ٹکا کر بٹھا دو۔ واہ رے واہ ۔۔
میڈیا کسی بھی ملک قوم اور کلچر کا ایک بہت اہم اور نمایاں جزو ہوتا ہے۔میڈیا کے ذریعے ہی ہم دوسرے ممالک کے کلچرز اور رسم و رواج کے بارے میں گھر بیٹھے جان سکتے ہیں ۔ اب آپ ایک پل کو یہ سوچیں کہ اگر کوئی غیر مسلم کہیں دور دراز بیٹھا مسلمانوں کے رمضان کے بارے میں جاننا چاہے اور ان ٹی وی چینلز پر آ پہنچے تو اسے رمضان کی کونسی تصویر نظر آئے گی ؟
ٹی وی اسکرین پر اچھل اچھل کر انعامات مانگتے مسلمان، مرد ہوسٹ کے ہاتھ پڑ پڑ کر ان سے گفٹ ہیمپرز چھیننے کی کوشس کرتی مسلمان خواتین ،انعامات و تحائف کی خاطر الٹی سیدھی تہذیب و اخلاق سے عاری گیمز کھیلتے لوگ ۔ یہ ہے رمضان؟ یہ ہے مسلمانوں کا روزہ ؟ یہ ہے وہ مقدس مہینہ جس کی فضیلت اور فرضیت قرآن مجید میں بہت مرتبہ بتائی گئی ہے؟ یہ ہیں وہ دین سکھانے والے لوگ جو سال کے باقی گیارہ ماہ ناچ گانے اچھل کود میں مصروف رہتے ہیں؟
یہ رمضان کا مہینہ برکتیں سمیٹنے والا ہے یا ان سستے چینلز کا کاروبار چمکانے والا ؟
دوسروں کی بات چھوڑ بھی دی جائے تو ہم اہنے بچوں اور آنے والی نسل کو کیا پیغام دے رہے ہیں رمضان کے حوالے سے؟ کیا روزہ رکھنے کا مقصد بس یہی ہے کہ دوپہر سے ہی ٹی وی کے آگے بیٹھ کر افطار کے لئیےنت نئے پکوان کی تراکیب سیکھی جائیں اور پھر دین کے نام پر دھبہ یہ نام نہاد مذہبی نشریات کا حصہ بن کر اپنا ایمان خطرے میں ڈالا جائے۔ یا گھر بیٹھ کر ان پروگرامز کو دیکھ کر اپنا قیمتی اور با برکت وقت ضائع کیا جائے؟
نہ بچوں کی تربیت پر دھیان نہ قرآن کی تعلیم و تلاوت کا خیال ۔ نہ ذکر اذکار کی فرصت نہ نفس پر قابو پانے کا خیال ۔۔۔
آپ اور میں ان ٹرانسمیشنز کا حصہ ہیں نہ ہی انہیں بند کر سکتے ہیں۔۔ ہم صرف ایک کام کر سکتے ہیں کہ ایسے پروگرامز کا بائیکاٹ کریں۔ جب ناظرین دیکھنا بند کر دیں گے تو بننا بھی بند ہو جائیں گے ۔ جیسے ظالم سہنے والا بھی ظالم ہوتا ہے ایسے ہی برائی کو دیکھنا اور کچھ اسے روکنے کے لییے بھی نہ کرنا بھی اسے ترویج دینے کے برابر ہی ہے۔ حکومت اور پیمرا سے درخواست ہے کہ خدارا رمضان کے تقدس کے واسطے اس لچرپن اور بیہودگی پر پابندی عائد کی جائے۔
اللہ سے دعا ہے کہ اس دین کو ان فتنوں اور فتنہ انگیزوں کے شر سے محفوظ رکھے – آمین

مرتبہ پڑھا گیا
218مرتبہ پڑھا گیا
مرتبہ آج پڑھا گیا
2مرتبہ آج پڑھا گیا
Previous
Next

Leave a Reply

%d bloggers like this: