Skip to Content

Qalamkar | قلم کار

جہالت، ظلم اور ناانصافی کے خلاف برسرپیکار

کشمیریوں کی جدوجہدِ آزادی کسی مذہب یا عقیدے کی نشاطِ ثانیہ کی تحریک نہیں

by جولائی 13, 2016 کالم
کشمیریوں کی جدوجہدِ آزادی کسی مذہب یا عقیدے کی نشاطِ ثانیہ کی تحریک نہیں
Print Friendly, PDF & Email

Haider Javed Syedکچھ اور لکھنا چاہتا تھا۔ ایک خواہش تھی کہ کشمیر کے تنازعہ پر لکھا جائے۔ جنت نظیر کشمیر جہاں مقبول بٹ کی شہادت کے بعد سے بپھرے کشمیریوں نے تحریکِ آزادی کو اپنے لہو سے سینچا۔ ڈیڑھ لاکھ کے قریب کشمیری مرد و زن 1984ء سے 2016ء تک اپنے لہو کا غسل لئے قبرستانوں میں جا سوئے۔پاکستان میں میڈیا کا ایک حصہ کشمیریوں کی اس تحریکِ آزادی کو الحاقِ پاکستان کی تحریک قرار دیتے نہیں تھکتا۔ خواب بیچنے پر کوئی پابندی ہے کیا؟ دانش اور تاریخ پر لٹھ برداروں اور میڈیا مینجروں کے حملوں نے ایسی ہاہا کاری مچا رکھی ہے کہ کان پڑی آواز سنائی نہیں دیتی۔کوئی سننا چاہے تو خود پاکستان کے زیرِ انتظام کشمیر میں ناراض لوگوں کی آوازیں بلند ہو رہی ہیں۔ بہت ادب کے ساتھ اگر یہ کہوں کہ پاکستان کی موجودہ حکمران جماعت مسلم لیگ (ن) اپنی پرائیویٹ ملیشیا کے ذریعے آزاد کشمیر میں اسی سوچ پر عمل پیرا ہے جس پر بھارتی کشمیر میں بھارتی سیکیورٹی فورسز، تو بہت سارے لوگ ناراض ہوں گے۔ مگر کیا محض لوگوں کی ناراضگی کے ڈر سے سچ نہ بولا جائے؟ ہم ایسے لوگ جب یہ سوال اٹھاتے ہیں کہ کشمیریوں کی جدوجہدِ آزادی کی لفظی حمایت میں مصروف پاکستان کے حکمران طبقات، پاکستان ایسے کثیر القومی ملک میں آباد قومیتوں کو بنیادی حقوق دینے اور ان کے وسائل پر ان کا حق تسلیم کرنے پر کیوں آمادہ نہیں ہوتے تو یک قومی نظریئے کے بہت سارے حمامی فتوؤں کی چاند ماری شروع کر دیتے ہیں۔سوال بہت سادہ ہے وہ یہ کہ قومی شناخت اور بنیادی حقوق کا مطالبہ غداری کیسے ہوا؟ معاف کیجئے گا تاریخ و سیاسیات کے ہم ایسے طالب علم کشمیریوں کی جدوجہد آزادی کی حمایت کرتے وقت پاکستانی ریاست کے مؤقف کی مالا جپنے سے انکاری ہیں۔ وجہ صاف ہے۔ جو ریاست اپنے شہریوں کو مساوی حقوق نہ دے پائے، گلے کاٹنے اور پھٹنے والے جانور خود پالتی ہو وہ کشمیریوں کی تحریکِ آزادی کی نبض شناس نہیں ہو سکتی۔ پاکستانی میڈیا کا ایک بڑا حصہ اور ریاست جس حزب المجاہدین نامی تنظیم کو پال رہے ہیں اس کے اپنے سربراہ کے بچے پاکستان کے تعلیمی اداروں سے اعلیٰ تعلیم حاصل کرکے غمِ روزگار کے میدان میں ہیں۔ جہاد کے میدان میں نہیں۔ پوچھ لیجئے سید صلاح الدین سے اس کے فرزندان کہاں ہیں؟
تنازعہ کشمیر کا مؤثر ترین حل فقط ایک ہے۔ وہ یہ کہ بھارت اور پاکستان دونوں اپنے اپنے زیرِ تسلط کشمیری علاقوں سے نکل جائیں۔ کشمیریوں کو اپنی مرضی کے ساتھ آزادانہ طور پر اپنے مستقبل کا فیصلہ کرنے دیں۔ بھارت کی طرح اسلام آباد بھی جانتا ہے کہ آزاد فضا میں کشمیریوں کا فیصلہ کیا ہوگا۔ بھارتی سفاکیت، درندگی اور کشمیریوں کے لہو سے ہاتھ رنگنے کی تاریخ تنازعہ کشمیر جتنی ہی پرانی ہے۔ دیگر مفادات تو ہیں بھارت ان آبی وسائل سے محروم ہونے کے لئے تیار نہیں جو اس کے توانائی کے منصوبوں کے لئے اہمیت رکھتے ہیں۔ پاکستان فقط الحاق کے اس نعرہ پر کھڑا ہے جو بقول اس کے کشمیریوں کی مسلم آبادی کے دل کی آواز ہے۔ کیا کشمیریوں کا واحد نمائندہ سید علی گیلانی ہے؟ بالکل نہیں ۔ علی گیلانی ایک طرح کی فکر کے نمائندے ہیں۔ اور دوسری فہم کا نمائندہ یٰسین ملک ہے۔ ہمیں تیسرا راستہ (ہم سے مراد پاکستان ہے) اختیار کرنا ہوگا۔ عام کشمیری کی خواہش کا احترام۔ لیکن ہماری حالت یہ ہے کہ پاکستانی ریاست کے گندے انڈے آزاد کشمیر کی سیاست میں اچھالتے پھرتے ہیں۔ ہم کشمیریوں کی جدوجہد آزادی سے واقعتاََ مخلص ہیں تو پھر کسی تاخیر کے بغیر آزاد کشمیر میں پاکستانی سیاسی جماعتوں کے ایڈیشنوں پر پابندی لگائیے۔ یہ غلطی کس سے سرزد ہوئی ، پہل کس نے کی اس پر بحث اٹھانے کا وقت نہیں۔ غلطی سدھارنے کا وقت ہے۔ سدھار لیجیئے تاکہ کچھ عرصہ بعد آزاد کشمیر کی ریاستی اسمبلی کے جو انتخابات ہونے ہیں ان میں پاکستانی حکمرانوں اور بالادست سیاسی اشرافیہ کا عمل دخل نہ ہو۔ لیکن اگر آپ ایسا نہیں کرتے تو ان انتخابات کے نتائج اور مقبوضہ کشمیر کی اسمبلی کے انتخابی نتائج میں رتی برابر فرق نہیں ہوگا۔ اس دوسرے تنازعہ کا حل بھی پاکستان کو نکالنا ہے جو گلگت بلتستان کی صورت میں موجود تھے۔ اور کشمیریوں کی نئی نسل اس صورتحال سے ناراض ہے۔ کیا اس تاریخی صداقت سے انکار کیا جاسکتا ہے کہ گلگت بلتستان کشمیری ریاست کا حصہ تھا؟ کیا محض پاک چین دوستی کے لئے کشمیریوں کو ناراض کر دینا درست ہو گا؟ میرا جواب ایک طالب علم کے طور پر نفی میں ہے۔ مگر ان اہلِ دانش و سیاست کی رائے کا احترام ہے جو کہتے ہیں کہ آزاد ماحول میں غیر جانبدار اتھارٹی کی نگرانی میں گلگت و بلتستان میں ریفرینڈم کروا لیجیئے کہ لوگ کیا چاہتے ہیں۔ اس خواہش کا اظہار کرنے والوں کی خدمت میں عرض کیا کیا اگر پاکستان کے کسی حصے میں ایسے ریفرینڈم کا مطالبہ ہو تو وہ درست ہو گا؟ جواب کی بجائے طرح دے گئے۔ سو حضور! یہ اتنی آسان اور سادہ بات نہیں۔ پوری ریاست متنازعہ علاقہ ہے۔ پھر جو حق آپ گلگت بلتستان کے لئے الگ سے مانگ رہے ہیں وہ مقبوضہ کشمیر کے جموں والے اضلاع کو دیں گے جہاں کی آبادی کا تناسب تبدیل ہو چکا ؟
خیالِ واثق یہ ہے کہ وقت آگیا ہے کہ تنازعہ کشمیر اپنا کھیل کھیلنے کی بجائے کشمیریوں کی رائے کا احترام کیا جائے۔ یہ ثابت کرنے کا پروپیگنڈا کہ فلاں تنظیم حریت پسندی کی بڑی نمائندہ ہے اب بند ہونا چاہیے۔ جماعتِ اسلامی برانڈ کے ایک جہادی میجر مست گل اور لشکرِ طیبہ کے ذریعے کشمیریوں کے عقائد درست کروانے کے نتائج ہمارے سامنے ہیں۔ حضور! یہ قومی آزادی کی تحریک ہے کسی مذہب و عقیدے کی نشاطِ ثانیہ کی تحریک نہیں۔ کشمیریوں کی جدوجہدِ آزادی کی منافقت بھری حمایت سے بہتر ہے کہ خاموش رہا جائے۔ یا پھر کھل کر ان سارے اقدامات کو واپس لیا جائے جس سے منفی تاثر پیدا ہوا۔ آزاد کشمیر میں پاکستانی سیاسی جماعتوں کے ایڈیشنوں کا خاتمہ۔ اور کشمیریوں کی سیاسی سرگرمیوں کے لئے محفوظ ماحول کی فراہمی۔ ان دونوں کاموں سے صرفِ نظر کر کے رسوائی کے سوا کچھ نہیں ملے گا۔ دوسری بات یہ ہے کہ خود ہمیں بھی اپنی تاریخ پر ایک طائرانہ نگاہ ڈال لینی چاہیے۔ اس عظیم سیاستدان اور حکمران کا نام لوگوں کو بتانا چاہیے جس نے کہا تھا میں چند پہاڑیوں کے لئے حیدرآباد اور جونا گڑھ سے دستبردار کیوں ہو جاؤں۔ کیا ہم میں حوصلہ ہے کہ ہم یہ اعتراف کر لیں کہ اگر بٹوارے کے بعد کے ابتدائی برسوں میں ہم نے ہندو اکثریتی آبادیوں والی ریاست حیدرآباد دکن اور جونا گڑھ کے لولی پاپ سے جی بہلانے کی بجائے پوری توانائی اور اخلاص کے ساتھ کشمیریوں کا مقدمہ لڑا ہوتا تا نتائج مختلف ہوتے؟ یک قومی نظریہ جسے تحمل سے دوسروں کی بات نہ سننے دیتا ہو وہ آزادی کے بعد پہلے بھارتی وزیرِ داخلہ پٹیل کی سوانح عمری پڑھ لے۔ البتہ پڑھے طالب علم کے طور پر۔ ورنہ وہ اسی جھوٹ کا لالی پاپ چوستا رہے گا کہ ہندو مسلم فسادات کی بنیاد ہندوؤں اور سکھوں نے رکھی تھی۔
مکرر عرض ہے کشمیریوں کی قومی آزادی کی جنگ اور جدوجہد کو مذہب کا تڑکہ لگانے کی بجائے ان کی قومی شناخت کی روشنی میں دیکھنے کی ضرورت ہے۔ ڈیڑھ لاکھ مرد و زن کشمیریوں نے اپنی آزادی کے لئے قربان کیے ہیں کسی نوآبادیاتی ریاست کا حصہ بننے کے لئے نہیں۔ زندہ انسانی ضمیر پر واجب ہے کہ دیگر مظلوم قوموں کے ساتھ کشمیریوں کی جدوجہدِ آزادی کی حمایت کرے۔ دو طرفہ مفادات کا چورن بہت بیچ چکے۔ ہمیں تاریخ سے سبق سیکھنا ہو گا۔ بھارت کی ریاستی دہشت گردی کی مذمت لازم ہے مگر حضور اپنے لچھن بھی دیکھ لیجیئے۔ مجھ سے طالب علم یہ سمجھتے ہیں کہ اگر کشمیر کا مقدمہ کشمیریوں کی آرزوؤں کے مطابق لڑا گیا ہوتا تو عالمی برادری بھارت کے جھانسے میں نہ آتی۔ یہ ایک خطہ زمین کا ایک ملک سے دوسرے ملک کو منتقل کرانے کا معاملہ نہیں۔ کروڑوں کشمیریوں کی عزت نفس، آزادی اور قومی شناخت کا سوال ہے۔ ہم اگر آج پرانے مؤقف کی مالا جپتے رہنے کی بجائے حقیقت پسندی کا مظاہرہ کریں گے تو شان میں کمی نہیں آئے گی۔ کیا آپ نے غور کیا کہ پچھلے چند افسوس ناک واقعات کے بعد ہونے والے احتجاجی مظاہروں میں داعش کے جھنڈے بھی لہرائے گئے۔ آنکھیں بند نہ کیجیئے۔ صاف سیدھی بات اور پالیسی بنانے کی ضرورت ہے۔ کشمیر کے اصل مالک کشمیری ہیں بھارت یا پاکستان نہیں۔کشمیریوں کو ہی حق ہے وہ اپنے مستقبل کا فیصلہ کریں۔ باہر سے کسی کو اپنا فیصلہ مسلط کرنے کا حق نہیں۔ ہم نیک و بد حضور کو سمجھائے دیتے ہیں۔ حرف آخر یہ ہے کہ کسی خاص تنظیم اور شخص کے پلڑے میں وزن ڈالنے کی بجائے پاکستان کشمیری عوام کی اجتماعی دانش اور جدوجہد کی حمایت کرے۔ ویسے الحاق کی مالا جپنے والے حزب المجاہدین کے سربراہ سید صلاح الدین کے خیالات سے استفادہ فرما لیں۔ وہ ایک نہیں کئی بار کہہ چکے اپنے مستقبل کا فیصلہ کرنے کا حق صرف کشمیری عوام کو ہے۔ یہی ہم عرض کر رہے ہیں۔مظلوموں کی حمایت ہمارا انسانی فریضہ ہے مگر اس فریضے کو مفادات کی جنگ میں بدلنے سے اجتناب ہی ہمارے حق میں بہتر ثابت ہو گا۔

Views All Time
Views All Time
836
Views Today
Views Today
1
یہ بھی پڑھئے:   دل تمہارے احوال سے بوجھل ہیں
Previous
Next

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

*

%d bloggers like this: