Skip to Content

Qalamkar | قلم کار

جہالت، ظلم اور ناانصافی کے خلاف برسرپیکار

مسئلہ کشمیر ،بھارتی پرتشدد کارروائیاں اور انکل سام کا موقف

by اگست 22, 2016 کالم
مسئلہ کشمیر ،بھارتی پرتشدد کارروائیاں اور انکل سام کا موقف
Print Friendly, PDF & Email

Anwar Abbas Anwar newامریکہ وزارت خارجہ کی ذمہ دار اہلکار الزبتھ ٹروڈو نے کہا ہے کہ امریکا کو کشمیر میں پرتشدد کاررئیوں پر تشویش ہے اور ہم نے کشمیر پر اپنی پالیسی تبدیل نہیں کی ،انہوں نے کہا کہ امریکہ چاہتا ہے کہ مسئلہ کشمیر کے تمام فریقین مل بیٹھ کرباہمی مذاکرات کے ذریعہ دوستانہ ماحول میں اس کا حل تلاش کریں۔ ہم نے اس مسئلے کے حل کے لیے کی جانے والی کوششوں کی پہلے بھی حمایت کی ہے اور آئندہ بھی کرتے رہیں گے۔ اخباری رپورٹ کے مطابق الزبتھ ٹروڈو نے کہا کہ ہمیں کشمیر میں بھارتی فوج کی جارحیت پر تشویش ہے۔
الزبتھ ٹروڈو سے کسی نے یہ پوچھنے کی زحمت ہی نہیں کی کہ امریکا پاکستان اور بھارت کو دئیے جانے والے اس مشورہ پر خود کیوں عمل پیرا نہیں ہوتا ؟ اور کیونکر اپنے مخالفین کو اتحادیوں کے زور بازوؤں سے تباہ و برباد کرنے پر تل جاتا ہے؟الزبتھٹروڈو کو یاد دلانا چاہتا ہوں کہ اس ( امریکا) نے کبھی بھی اپنے اتحادیوں اوردوستوں کے ساتھ عہدوفا نہیں کیے اگر میں یہ کہوں کہ تو بجا نہ ہوگا کہ امریکا نے ہمیشہ اپنے دوستوں اور اتحادیوں کی پیٹھ میں چھرا ہی گھونپا ہے اور دوستوں کے دشمنوں کے سر پر دست شفقت رکھنے میں ہمیشہ پہل کی ہے مگر پاکستان جیسا دوست اور اتحادی پھر بھی امریکا امریکا کا راگ الاپتا ہے۔ ماسوائے اسرائیل سے دوستی نبھانے میں امریکا نے کبھی غفلت کا مظاہرہ نہیں کیا شائد اسکی وجہ اسرائیلیوں کا امریکا کی معیشت پر قبضہ ہے۔عرب ممالک اور پاکستان کے حکمرانوں کو جتنی جلد ممکن ہو اس بات کو اپنے بھیجے(دماغ ) میں بٹھا لینی چاہیے کیونکہ یہ ان کے اپنے مفاد میں بہتر ہوگا۔
الزبتھ ٹروڈو کی حثیت تو ایک سرکاری ملازم کی ہے اس نے تو وہی بات کہنی ہے جو اسے امریکا کے منتخب حکمران تعلیم کریں گے ایسے ہی جیسے ہمارے دفتر خارجہ، دفتر داخلہ کے ترجمان ملکی و غیر ملکی صورت حال میں بتاتے ہیں،الزبتھ ٹروڈونے سچ کہا ہے کہ امریکا نے کشمیر پر اپنی پالیسی تبدیل نہیں کی کیونکہ اسکی پالیسی یہی ہے کہ ’’ ظالم کی سرپرستی و پشت پناہی کرنا ہے اور کمزوروں اور مظلوموں کو دبانا ہے میری بات کی تصدیق فلسطین پر امریکا کی پالیسی سے ہو سکتی ہے،اگر کشمیر پر امریکا کی پالیسی مبنی برحقیقت ہے تو امریکا بتائے کہ اس نے کشمیریوں کے علاج معالجے ،انکی خوراک کے حوالے سے کیا اقدامات اٹھائے ہیں؟ کیونکہ کشمیر میں ہفتوں کے کرفیو کے نفاذ سے وہاں خوراک کی قلت پیدا ہو چکی ہے اور بھارتی فوج کے ظالمانہ تشدد سے سینکڑوں زخمی کشمیریوں کو علاج معالجے کی سہولیات فراہم نہیں کی جا رہیں امریکا کو اس کا نوٹس لینا چاہیے۔ مسلہ کشمیر کا حل کشمیریوں کو بھروسہ حاصل کیے بغیر حل نہیں ہو سکتا یہ بات بھی امریکا کو بھارت کے کانوں تک پہنچا دینی چاہیے۔
میرا سوال امریکا کے رخصت ہونے والے صدر باراک حسین اوبامہ سے ہے کہ ظالم اور مظلوم سے یکساں یارانہ کیسے رکھا جا سکتا ہے؟ صدر امریکا کے لیے ایک نیک مشورہ ہے کہ اگر وہ تاریخ میں زندہ رہنا چاہتے ہیں تو بھارتی سرکار کو نہ صرف کشمیری عوام کے خلاف برسوں سے روا رکھے جانے والے ظلم و تشدد اور بربریت کو روکنے کے لیے بھارت پر اپنی ’’چودھراہٹ‘‘ کا جادو جگانا چاہیے اور اسے اقوام متحدہ کی منظور شدہ قراردادوں کے مطابق کشمیریوں کو حق خود ارادیت دلوانے میں اپنا کردار ادا کرکے تاریخ میں اپنا اور امریکا کا نام امر کر دینا چاہیے۔
اس حوالے سے پاکستانی حکمرانوں کو بھی جرات دکھانے کی ضرورت ہے ،اسے اقوام متحدہ سمیت ہر چودھری کو آنکھ دکھانی ہوگی، عالمی فورمز جہاں اسکی بات نہ سنی جائے وہاں سے نکل جانا ہوگا، کیونکہ ہم ان چودھریوں کے ’’کامے اور کمی کمین ‘‘ تو نہیں ہیں ہم ان سے برابری کی بنیاد پر تعلقات استوار کرنے کے خواہاں اور دعویدار ہیں۔امیر جماعتہ الدعوۃ پروفیسر حافظ سعید پہلے ہی مسلم امہ سے یہ درخواست کرچکے ہیں کہ وہ اقوام متحدہ کو خیرباد کہہ دیں اور اپنی اسلامی ممالک پر مشتمل یونائیٹڈ نیشن تشکیل دی جائے کیونکہ بقول حافظ سعید موجودہ اقوام متحدہ اپنے مقاصد کے حصول میں ناکام ثابت ہوئی ہے۔امریکا کی پالیسی ویسی ہی تبدیل نہیں ہوئی جیسی ہماری حکومت کا دعوی ہے کہ اس نے کشمیر پر یوں ٹرن نہیں لیا جبکہ حقیقت سب پر واضع اور آشکار ہے ،سب جانتے ہیں کہ ہم نے گھی کے ڈبوں اور کنستروں پر تحریر’’ کشمیر پر سمجھوتہ کبھی نہیں‘‘ حذف کروادیا ہے پھر بھی کہا جاتا ہے کہ کشمیر پر یوں ٹرن نہیں لیا گیا۔
ان سطور کے کے لکھنے کے دوران خبر آئی کہ اقوام متحدہ کے سکریٹری جنرل بان کی مون نے کشمیر کے مسئلہ کے حل کے لیے بھارت اور پاکستان کے درمیان ثالث بننے پر آمادگی کا اظہار کیا ہے ’’ بان کی مون‘‘ نے وزیر اعظم نواز شریف کے نام جوابی خط میں پاکستان کی مسئلہ کشمیر کے حل کے لیے کی جانے والی کوششوں کو بھی سراہا ہے اور بھارت اور پاکستان دونوں پر زور دیا ہے کہ وہ حل طلب ایشوز کو مذکرات سے حل کریں، محترم و مکرم بان کی مون نے کشمیر میں بھارتی فورسز کے بڑھتے ہوئے تشدد پر اظہار افسوس اور تشویش کرتے ہوئے یقین دلایا ہے کہ اسے روکنے کے لیے ہر ممکن اقدامات کیے جائیں گے۔ بھلا بان کی مون سے پوچھا جائے کہ جناب عالی! کشمیر میں جاری کشمیریوں کی خون ریزی روکنے کے لیے اقدامات کرنے سے آپ کو کس نے منع کر رکھا ہے؟ نیکی کے کاموں میں تاخیر ہونے سے نیکی ضائع ہونے کا احتمال ہوتا ہے۔اسلامی کانفرنس نے بھی مسئلہ کشمیر کے حل کے لیے پاکستان کے مؤقف کی حمایت وتائید کی ہے اور کہا ہے کہ اس مسئلہ کشمیر کا حل کشمیریوں کی امنگوں اور اقوام متحدہ کی قراردادوں کے مطابق نکلنا چاہیے۔ اسلامی کانفرنس کے سیکریٹری ایاد امین مدنی نے زور دیکر کہا ہے کہ عالمی برادری اس مسئلہ پر آوازاٹھائے۔
ایک تجویز بان کی مون کے سامنے رکھ رہا ہوں کہ اگربھارت سرکار کشمیریوں کو حق خودارادیت دیدے تو بے شک اسے اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کی ممبر شپ طشتری میں رکھ کر پیش کردی جائے تو میرا نہیں خیال کہ اس تجویز سے کسی کو اعتراض ہوگا اس طرح دنیا میں امن قائم ہونے کی توقع پیدا ہوسکتی ہے، یہ خالصتاََ میری اپنی تجویز ہے اس کے پس پردہ نہ کوئی بیرونی ہاتھ ہے اور نہ کوئی اندرونی حلقے ہیں۔

Views All Time
Views All Time
285
Views Today
Views Today
1
یہ بھی پڑھئے:   مر نہ جاتے گر اعتبار ہوتا | حیدر جاوید سید
Previous
Next

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

*

%d bloggers like this: