کربلا۔۔۔ معرکۂ حق و باطل

Print Friendly, PDF & Email

aamir-hussain-shahaniیہ منظر محرم الحرام سن 61 ہجری کے ان دردناک ایام کا  ہے جہاں ظلم کی ایک نئی تاریخ رقم ہونے جارہی ہے۔ اس منظر میں بظاہر تو دو گروہ آپس میں برسر پیکار نظر آتے ہیں لیکن دونوں کی سوچ، فکر،مقصد، عقیدہ اور قوت ایمانی میں زمین و آسمان کا فرق موجود ہے۔
یہاں ایک طرف حق ہی حق ہے اور دوسری باطل ہی باطل ہے۔ یہاں ایک طرف لشکر الٰہی ہے تو دوسری طرف لشکر شیطانی ہے۔ یہاں ایک طرف سینوں میں عدل الہی کی ضوفشانی لیے انصاف کے پیکر نظر آتے ہیں تو دوسری طرف تیر و تلواریں  حمائل کیے ظلم کے ٹھیکیدار دکھائی دیتے ہیں۔
یہاں ایک طرف طہارت و پاکیزگی کی تربت سے بنی ہوئی پاک طینت ہستیاں ہیں تو دوسری طرف انسانی شکل میں موجود بد فطرت و بد طینت درندے ہیں۔ یہاں ایک طرف "جاء الحق” کا مصداق ہے تو دوسری طرف "زھق الباطل” کا نمونہ موجود ہے۔ یہاں ایک گروہ کے سینوں میں نور قرآن کی ضوفشانی ہے تو دوسرا گروہ وسواس شیطانی کی بھیانک شکل ہے۔ یہاں ایک طرف نفس مطمئنہ کا وہ شاہکار موجود ہے کہ رب کی رضا اسے جنت کی وادیوں میں پہنچانے کو بے تاب ہے تو دوسری طرف نفس امارہ کی بھینٹ چڑھے ہوئے وہ سیاہ دل انسان نما افراد ہیں جن کے نجس اجسام کو عذاب الیم کا مزہ چکھانے کے لیے دربان جہنم بے تاب ہیں۔ یہاں ایک طرف زبان رسالت کو چوس کر "علم لدنی” کا جام نوش کرنے والی ہستی موجود ہے تو دوسری طرف جہالت کے گھٹا ٹوپ اندھیروں میں ڈوبی ہوئی قوم ہے۔
یہاں ایک طرف عشق ابراہیمی کا ولولہ ہے تو دوسری طرف آتش نمرود کی تپش ہے۔ یہاں ایک طرف موسی کا ید بیضاء ہدایت کی شمعیں روشن کیے ہوئے ہے تو دوسری طرف فرعون وقت امت کو گمراہی کی دلدل میں پھینکنے کے لیے پر تول رہا ہے۔ یہاں ایک طرف صحراء جود کے وہ گوشے ہیں کہ جو اپنی جود و سخا میں اس حد تک بڑھ چکے ہیں کہ اپنا سب کچھ راہ الٰہی میں قربان کرنے کے لیے بے تاب ہیں تو دوسری طرف قارون وقت اپنے خزانوں پہ تالے لگا کر گلشن رسول کے پھولوں کو مسلنے پہ تلا ہوا ہے۔ یہاں ایک طرف جوانان جنت کا وہ سردار ہے جو اپنے جد کی امت کو جہنم میں جاتا دیکھ کر افسردہ ہے اور انھیں بار بار جنت، صراط مستقیم اور راہ خدا کی طرف بلا رہا ہے مگر دوسری طرف کے مردہ ضمیر لوگوں کے دلوں پہ اس قدر سیاہی جم چکی ہے کہ نواسۂ رسول ﷺاور امام وقت کی پکار سن کر بھی لبیک کہنے سے محروم ہیں۔
اور پھر یوں ہوا کہ ان شقی ترین لوگوں کی شقاوت نے انھیں تاریخ کے سب سے ظالمانہ اقدام کی طرف ابھارا۔  ہواء نفس کے پیرو، مردہ ضمیر لوگوں کے اعضاء متحرک ہوئے اور تند وتیز لب ولہجہ سے حق کے پیروکاروں اور الہی لشکر کے سپوتوں کو باطل کے سامنے گھٹنے ٹیکنے پر مجبور کرنے لگے۔ مگر حق کے پروردہ اور صراط مستقیم کے راہیوں کے قدموں میں ذرا بھر لغزش دیکھنے کو نہ ملی۔ جوان اور بزرگ تو اپنی جگہ یہاں تو پردۂ عصمت کی مستورات بھی کسی سے پیچھے نہ رہیں اور اپنی آنکھوں کے نور لخت جگر جوانوں کو اپنے ہاتھوں سے تیار کرکے گلشن اسلام کی آبیاری میں حصہ ڈالتی رہیں۔ اس رزمگاہ حق و باطل میں شیر خوار بچے بھی کسی سے پیچھے نہ رہے اور اپنے بڑوں کے نقش قدم پہ چلتے ہوئے راہ حق میں قرباں ہو کر حق کا ان مٹ نشاں بن گئے۔
پھر حق و باطل کے معرکہ میں پنجہ آزمائی شروع ہوئی۔ لشکر خدا کے شیر دل سپاہی اپنی جانوں کا نذرانہ پیش کرکے، اپنی گردنیں کٹا کے اپنے خون جگر سے سرزمین اسلام کو سیراب کرکے تاابد زندہ کرگئے۔
اور آخر کار 10 محرم کو ایک ایسا وقت آیا جب لشکر حق کا جرار، شانۂ رسول ﷺپہ سواری کرنے والا، زبان رسالت چوس کر پرورش پانے والا، علی و زہراء کی آنکھوں کا چین مظلوم حسین ؑ میدان کربلا میں تنہا رہ گیا۔۔۔۔۔۔۔۔
دائیں بائیں دیکھ کر اپنی ایک آواز پہ دس دس مرتبہ لبیک کہنے والوں کو بلاتا رہا مگر سب اپنی وفاداری نبھاتے اس وادی میں پہنچ چکے تھے جہاں سے واپسی ناممکن تھی۔ ہزاروں کے لشکر میں حسین ؑتنہا ہوگیا تھا۔ اپنے جگر پاشوں کے لاشے اٹھا اٹھا کر بدن تھک چکا تھا۔ اگرچہ جسم زخموں سے چور اور گلوئے اطہر پیاس سے خشک تھا مگر دل مطمئن اور زبان ذکر خدا سے ہمہ وقت تر تھی۔۔۔۔
پھر ظلم اپنی انتہا کوپہنچنے لگا اور کائنات کا شقی ترین درندہ ظلم کا خنجر اٹھائے نفس مطمئنہ کے اتم مصداق کے گلوئے اطہر پہ وار کرنے لگا اور یہ دردناک منظر ماؤں جیسی بہن اپنی آنکھوں سے دیکھتی رہی۔۔۔۔۔۔۔
یہ اس قدر پر درد منظر تھا کہ جس سے پوری کائنات میں اضطراب کی سی کیفیت پیدا ہونے لگی۔فلک پہ کالی گھٹائیں چھانے لگیں، آسمان خون کے آنسو رونے لگا، پتھروں  سے خون رسنے لگا، ملائیکہ نے آسمانوں میں اشک باری کی، حوران جنت نے سوگ منایا، سمندر کہ مچھلیاں بے چین ہوگئیں، جنات سوگوار ہوئے، چرندوپرند  بے چین ہوگئے غرض پوری کائنات میں غم مظلوم حسینؑ کی کیفیت چھا گئی۔۔۔۔۔
شاعر نے اس دردناک واقعہ کی کچھ یوں منظر کشی کی ہے۔۔۔
جب سے میں نے ہے کربلا دیکھا
حشر دنیا میں اک بپا دیکھا
جوکہ ہم شکل تھا پیمبرؐ  کا
خاک و خوں میں اسے اٹا دیکھا
جو زمانے کا ہے سخی اس کو
پانی بن میں ہے مانگتا دیکھا
ہے بدن کربلا میں محو کلام
سر کو نیزے پہ بولتا دیکھا
نیند دیکھی نہیں سکینہؑ نے
جب سے بابا کا سر کٹا دیکھا
بنت حیدرؑ بھی گھر سے باہر ہے
آسماں بھی کھڑا رہا دیکھا
حشر ہے اور کیا زمانے میں
بنت زہرا ؑکو بے ردا دیکھا
جس نے گھر کی گلی نہ دیکھی تھی
اس نے بازار شام کا دیکھا
قیدیوں کی قطار میں ہے کھڑی
جس کے در پہ نبیؐ کھڑا دیکھا
بھر گئی آنکھ آنسوؤں میں میری
جونہی منظر یہ علوی  دیکھا
(مظفر علوی)

اور میرے قارئین!
اس دلخراش واقعہ میں اہل حق کا ساتھ دینے، باطل کو ٹھکرانے، مظلوم کی حمایت کرنے اور ظالموں سے اظہار نفرت کرکے ان سفیران حق کی ذبح عظیم کی مصداق قربانی کی یاد منانا، ان پاکیزہ ہستیوں پہ ظلم کی بارش کرنے والے ظالموں اور ان کے حامیوں کے خلاف علم احتجاج بلند کرنے اور مظلوموں کے غم میں رونے،  رلانے اور غمگین رہنے کا نام "عزاداری” ہے۔
پس عزادارئ حسین ؑکسی ایک مکتبۂ فکر کی نہیں بلکہ ہر اس فرد کی آواز ہے جو ظالم سے نفرت اور مظلوم سے محبت کا دم بھرتا ہے۔ عزادارئ حسین زندہ ضمیر والوں کی پیچان ہے۔ اسی لیے کہتے ہیں کہ عزاداری یزیدیت کے منہ پہ ایک طمانچہ ہے۔

السلام علیٰ الحسین ؑوعلیٰ علی ؑابن الحسینؑ وعلیٰ اولاد الحسین ؑوعلیٰ اصحاب الحسینؑ وعلی اخوات الحسینؑ

Views All Time
Views All Time
880
Views Today
Views Today
1
یہ بھی پڑھئے:   کیا کتاب دوستی پاگل پن ہے؟ - حیدر جاوید سید

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

%d bloggers like this: