Oops! It appears that you have disabled your Javascript. In order for you to see this page as it is meant to appear, we ask that you please re-enable your Javascript!

توہینِ عدالت کیا ہے؟

Print Friendly, PDF & Email

اصل توہینِ عدالت کیا ہے؟ عام تاثر یہی ہے کہ عدلیہ کیخلاف نازیبا کلمات ادا کرنا توہینِ عدالت کے زمرے میں آتا ہے مگر حال میں ہونے والے چند واقعات کے بعد معلوم ہوا کہ دراصل توہینِ عدالت کسے کہا جاتا ہے۔ جب متشدد مذہبی گروہوں کے سربرہان کے معزز جج صاحبان کیخلاف نازیبا بیانات جاری ہوئے تو سمجھا جا رہا تھا کہ عدالت اس پر ردِ عمل دے گی اور ان کیخلاف توہینِ عدالت کے کیس دائر کیے جائیں گے مگر لوگوں کے سارے اندازے غلط ثابت ہوئے اور عدالت کی طرف سے کوئی اقدام سامنے نہیں آیا۔

سابقہ سینیٹر سید فیصل رضا عابدی میں اپنے انٹرویوز کے دوران کچھ سوالات اٹھائے اور عدلیہ کی کارگردی پر تنقید کی مثلاََ دودھ پر سوموٹو بنتا ہے تو ہزارہ برادری لاشیں رکھ کر سڑکوں پر بیٹھی ہے، سینکڑوں دہشتگرد عدالتوں سے بری ہوگئے، کئی جیل توڑ کر بھاگ گئے، پاکستان کی اسٹیٹ کی آمدنی ہی ٹیکس ہے اگر اس پر اسٹے آرڈر دیا جائے گا تو یہ ملک دشمنی ہے، آٹھ سو ملین ڈالر ابھی تک پی ٹی سی ایل نے ادا نہیں کیے اور آپ نے اونے پونے داموں ملک کی کمیونیکیشن کمپنی فروخت کر دی، 3 جی 4 جی سروس کے پیسے ابھی تک ادا نہیں ہوئے۔ ہر بات کے بعد فیصل رضا عابدی کا سوال تھا کہ اس پر سوموٹو بنتا ہے یا نہیں بنتا؟

یہ بھی پڑھئے:   کچھ فادرز ڈے پر

ایسی تقاریر کے بعد عوام میں یہ تاثر تھا کہ غالباََ عدلیہ ان سب معاملات سے واقف نہیں ورنہ ایسا کیسے ممکن ہے کہ دودھ کی قیمتوں پر سوموٹو لینے والی عدلیہ ان بڑے بڑے مسائل پر خاموش رہے، عوام سوچ رہے تھے کہ آج کل میں ہی عدالت فیصل رضا عابدی کا شکریہ ادا کرے گی کہ انہوں نے عدالت کی توجہ ان مسائل کی طرف مبذول کروائی.

مگر عوام یہاں بھی غلط ثابت ہوئی اور فیصل رضا عابدی پر توہینِ عدالت کا مقدمہ دائر کرکے گرفتار کرلیا گیا اور وہ اب تک سلاخوں کے پیچھے ہیں۔ عوام سوچ رہی تھی کہ شاید متشدد مذہبی رہنماؤں اور فیصل رضا عابدی کے بیانات میں سے عدلیہ تک صرف فیصل رضا عابدی کے بیان ہی پہنچے ہوں ورنہ عدلیہ سے اس بات کی امید تھی کہ وہ دونوں معاملات میں توہین کے پہلو کے پیشِ نظر مذہبی رہنماؤں کو بھی قانون کے حصار میں لائے گی مگر گذشتہ دنوں انہی مذہبی رہنماؤں کی جانب سے ججز کے واجب القتل ہونے کے فتاواجات کا ذکر خود وزیرِ اعظم نے اپنی تقریر میں کیا مگر ابھی تک اس پر عدالت کی جانب سے کوئی ردِ عمل سامنے نہیں آیا جو اس بات کی نشاندہی کرتا ہے کہ اصل توہینِ عدالت یہ ہے کہ لوگوں کو سوچنے پر مجبور کیا جائے، سوال اٹھانے کی جرآت پیدا کی جائے، آنکھیں بند کرکے لبیک نہ کہا جائے! گالیاں دینا، واجب القتل کہنا، کفر کے فتوے دینا اور لوگوں کو فساد پر اکسانا کسی طور توہینِ عدالت کے زمرے میں نہیں آتا۔

Views All Time
Views All Time
121
Views Today
Views Today
2

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

%d bloggers like this: