Skip to Content

Qalamkar | قلم کار

جہالت، ظلم اور ناانصافی کے خلاف برسرپیکار

مچھلی دینے کی بجائے پکڑنا سکھاؤ-کے بی فراق

by May 20, 2017 کالم
مچھلی دینے کی بجائے پکڑنا سکھاؤ-کے بی فراق

میرا جب بھی کبھی کوئٹہ جانا ہوا تو میرا قیام اکثر سریاب میں اپنے چند ایک دوستوں میں سے ملک ابراہیم شاہوانی اور رؤف شاہوانی کے ہاں ہوا کرتا۔ ان کے ہاں ارتباط و مہربانی دیکھتا اور اس کو محبت کے جِلو میں صورت پذیر پاتا تو یک گونا مسرت ہوتی کیونکہ مسرت ہی وہ برتر قلبی اشارہ ہے جو کہ تمام تر مادی حوالوں سے برتر ہے۔جبکہ ملتے ہوئے اچھا لگتا ویسے بھی مجھے بلوچستان اور ملک کے مختلف علاقوں کے لوگوں سے ملنا اور جگہوں کی سیر کرتے ہوئے بہیتری ساخت کا مطالعہ کرنا اچھا لگتا جس طرح پہلی بار میں نے سریاب کے دمب دیکھے اور اس بابت کچھ معلومات ہوئی۔اس سفر کی یاداشت میں ایک بڑی اہم جہت دیکھنے کو ملی ۔
جب ایک بار مجلس کرتے ہوئے یونہی باتوں باتوں میں واجہ ابراہیم شاہوانی نے مجھ سے مخاطب ہوتے ہوئے کہا کہ کے بی فراق صاحب، پتا ہے اپنے نواب صاحب (شہید نواب اکبر بگٹی) جب حیات تھے تو ہر سال اپنے لوگوں کو ایک کروڑ روپیہ بانٹتے تھے۔وہ یہ سب بتاتے ہوئے بہت خوش تھے ۔تو پھر میری طرف دیکھتے ہوئے کچھ مجھ سے سُننا چاہ رہے تھے چونکہ مجھے یہ سب پہلے پتا نہیں تھا، ان سے سُن رہا تھا۔لیکن انھوں نے میرے چہرے پر کچھ خاص تاثر نہ دیکھا تو پوچھنے لگے کہ یہ سب جو کیا جا رہا ہے آپ کو خوشی نہیں ہورہی ہے؟ اس پر مَیں نے کہا کہ نہیں ۔انھوں نے پوچھا کہ تو پھر کیسا ہونا چاہیئے؟
مَیں نے کہا کہ جس کسی بھی معاشرے یا قوم میں خیراتی،محتاجی اور ذہنی غلامی ایک رویے اور معاشرت کی صورت اختیار کرجائے تو اُس قوم یا معاشرے کے لوگوں میں کسی بھی سطح پر خوداخیتاری اور فیصلہ سازی کی صورت قطعی حوصلہ افزاء اور زندگی آموز نہیں رہے گی اور نہ ہی تخلیقی حوالے سے فعالیت دکھا پائے گی۔اس لیے میرے نزدیک ان زرِ معاونت کو دُرست طریقے سے بروئے کار لانے کی برتر صورت کچھ اس طور ہو تو بہتر رہے گی سرِ دست زندگی کے اِن شعبوں میں پہلے کام کریں جس میں
11. ایک صنعت لگائیں تاکہ لوگ سالانہ خیرات کی بجائے اپنی تخلیقی صلاحیت کو استعمال میں لا کر ہر ماہ کی پہلی تاریخ کو اپنا محنتانہ وصول کرکے سراپا خوش دکھائی دیں .
22. ایک فکر پرور تعلیمی ادارہ قائم کریں تاکہ لوگ صیحح تعلیم حاصل کرکے بہتر طور پر اپنے بارے میں باخبر اور ترقی کے برتر حوالوں سے آشنا رہیں.
33.ایک ووکیشنل ٹریننگ انسٹی ٹیوٹ اور جدید آلات پر مزین ٹیکنالوجی کے سلسلے کو رواج دیں تاکہ لوگ عصرِحاضر کی سائنس و ٹیکنالوجی کو استعمال کرنے میں قدرت حاصل کریں اور اپنے علاقے و قوم کو اس کے ثمرات سے سرفراز کریں.
44۔ صحت عامہ کے لیے ایک بڑا طبی مرکز بنائیں اور لوگوں کو بہتر طبی سہولیات فراہم کرنے کی سعی کریں.
55. اپنی تاریخ،زبان،ثقافت سے لوگوں کو منسلک کرنے کے لیے ایک بڑے کلچرل انسٹیٹیوٹ کی بنیاد رکھیں .
جس طرح زندگی بھرپور امکانات اور چیلنجز کا نام ہے تو پھر ہر سال اس میں اضافہ کرتا رہیں اور مختلف شعبہ جات کو پھیلاتے رہیں تاکہ اپنے طور پر بھی اس طرح کا کرداری حوالہ در آئے اور ریاست کے ساتھ تو چومکھی ویسے بھی جاری رہتی ہے کیونکہ ریاست کے شہری جس بھی درجے کے ہوں کچھ نہ کچھ بنیادی دعوے کا حوالہ بنتا ہے اور اس حوالے سے بڑی کمٹمنٹ کے ساتھ واضع نظر کے ساتھ کام ہوتے رہنا چاہیئے۔
یہ سب سُن کر وہ بڑے خوش دکھائی دئیے کہ اگر اس طرح ہو تو کیا کہنا۔
اس پر مَیں نے کہا کہ لیکن ایسا ہوگا نہیں مجھے نہیں لگتا وہ اس مثلث(ذہنی غلامی، خیراتی، محتاجی)کو توڑ پائیں گے اور نہ ہی اس حوالے سے کوئی برتر سطح پر پیش رفت نظر آئے گی۔کیونکہ یہ باتیں مجھ ایسا ساحل نشین سوچ رہا ہے اور ان کے موافق یہ باتیں شاید کبھی اہم نہ ہوں،ویسے بھی ہم اپنے حصے کی کمائی میں سے افتادگانِ خاک کو برتر زندگی جینے کا ہُنر سکھانے کے حوالے سے عاری لوگ ہیں ۔جنھوں نے یہ چلن اپنایا آج ان کا شمار خود مختار اور زندہ قوموں میں سے ہے۔
میرا یہ ہمیشہ سے مسئلہ رہا ہے کہ میں کسی بھی کردار کے حوالے سے جو رائے رکھتا تھا شہادت سے پہلے یا بعد میں معروضیت کے ساتھ مکالمے کا متمنی رہا ہوں کیونکہ ہمارے ہاں اکثر شخصیات کی بابت شہادت کے بعد یکسر رائے تقدس میں ملفوف رہی یا ہوجاتی ہے اور رائے زنی کرنے والا شخص کسی مجاور سے کم نہیں ہوا کرتا۔اس لیے انسانی فکر کا ارتقاء ایک طرح سے برتر ڈسکورس ہی کی صورت میں قائم ہونے میں اہم ہوا کرتا ہے اور اس سلسلے میں رد و قبول کی معنویت کو عقل کی روشنی میں دیکھنا ہی شرط ہے جبکہ کسی بھی کردار کو اجتماعی مفادات کی روشنی میں کس طرح دیکھا جاسکتا ہے اور اس کے اشاریے معاشرت کی برتر تشکیل و تعمیر کے سلسلے میں کیونکر کردار ادا کرتے ہیں اور انسانی معاشرت کو آدمیت کے جِلو میں بنیاد فراہم کرسکتے ہیں یا نہیں .سو آج کی اس بنیادی نکتے کی ناگزیت اسی طرح کے معروضات کو صورت پذیر کرنے کا ایک سلسلہ خیال لئے ہوئے ہے۔تاکہ ایک ایسا معاشرہ تشکیل دے سکیں۔جس میں ہر سطح پر برابری کے احساس کو توانا بنیاد مل سکے ۔اور مرد و زن کو یکساں ترقی کے مواقع مل سکیں۔چونکہ بلوچ معاشرہ بھی اسی بنیاد پر انسانی فکر کے ارتقاء کی روشنی میں ایک انسلاکی جہت کا حامل ہے، اس سے الگ تو نہیں

مرتبہ پڑھا گیا
107مرتبہ پڑھا گیا
مرتبہ آج پڑھا گیا
1مرتبہ آج پڑھا گیا
Previous
Next

Leave a Reply

%d bloggers like this: