Skip to Content

Qalamkar | قلم کار

جہالت، ظلم اور ناانصافی کے خلاف برسرپیکار

دارشکوہ کے نام بلوچ ادیب کا خط

by دسمبر 22, 2017 بلاگ
دارشکوہ کے نام بلوچ ادیب کا خط
Print Friendly, PDF & Email

محمد دارا شکوہ!
دروت ءُ درھبات!

آپ سوچ رہے ہونگے کہ جنموں بعد یہ کون ہے جو اس عہدِ انتشاری میں مجھے یاد کر رہا ہے اور مجھ خاکسار کے نام ایک نامہ لکھ بھیج رہا ہے ۔کیا کریں، جب کبھی سوچتا ہوں تو آپ کے ساتھ وہ ناروا سلوک اور غیر انسانی واقعہ ذہن سے منہا نہیں ہو پاتا۔ جب بھی اس برعظیم کی تاریخ پر دھیان جاتا ہے تو آپ کا کردار منور ہوکر کچھ کہہ رہا ہوتا ہے کیونکہ آپ ایک انسانیت آموز طرزِ معاشرت و زندگی کو صورت پزیر کر رہے تھے لیکن اورنگ زیب نے مذہب کو اپنے سیاسی مقاصد کے لیے استعمال کیا جب آپ کو قتل کروانا چاہتا تھا تو اس کی وجہ سیاسی تھی کیونکہ آپ تخت و تاج کے لیے اُس کے مقابل جو ٹھہرے لیکن اُس نے آپ کو سیاست کے حوالے سے نہیں۔بلکہ مذہب کے حوالے سے مجرم قرار دیا اور علماء سے یہ فتویٰ لیاکہ آپ مذہب اسلام سے ہٹ گئے تھے اس لیے آپ مرتد ہوگئے تھے لہذا آپ کا بطور مرتد قتل کیا جائے۔سو آپ کو بہیمانہ طریقے سے قتل کیا گیا بلکہ ایک سوچ کو قتل کرنے کی کوشش کی گئی جس طرح بلوچی زبان کے عہدساز شاعر عطاشاد نے کہا ہے کہ
تو پہ سرانی گڑگءَ زندءِ حیالانءَ کُشئے ؟!
پہ سندگءَ داشت کنئے پُل ءَ چہ
بُو تالانی ءَ !!

دارا شکوہ!
آپ کو پتا ہے ،آپ ابھی تک لوگوں کے ذہن سے منہا ہوئے نہیں۔بلکہ آپ کی خوشبو سے انسانیت کی سانسیں معطر ہیں۔اور یہ بھی حقیقت ہے کہ اورنگ زیب کو ایک نہیں، دو طرح کی فرقہء قتال میسر آئے۔ ایک تو پاکستان بننے کے بعد ایک پوری مملکت اپنی لشکر کی صورت مل گئی اور دوسری طرف بظاہر مختلف لیکن ہندوتوا سرشت نے ہندوازم ایسے تکثیریت پسند مذہب کو گائے کے سینگوں پر رکھنے کی بدبودار ذہنیت لیے گئیو رکشک کے نام پر صفائی کرنا شروع کیا، کیا مسلم کیا ہندو، کیا دلت ،کیا عیسائی کوئی بھی اس کے ہاتھوں بچا نہیں اور اسی طرح تکفیری عناصر نے بھی یہی غیر انسانی چلن اپنائے رکھا۔اورنگ زیب اب کے تلوار کی جگہ جدید اسلحہ سے لیس آپ ( انسانیت سروپ اہلِ فکر و نظر) کو زندہ درگور کرنے کے لیے شست باندھے کھڑے ہیں اور ساتھ میں تکفیری لشکر بھی ہے، اُس وقت ایک تو ہندو کی موجودگی کا المیہ تھا لیکن اب کے تو اس طرف بیشتر کلمہ گو ہیں۔

یہ بھی پڑھئے:   جل" جیون ہے - سعد الرحمٰن ملک"

اس کے باوجود بھی ان کی پیاس نہیں بجھ رہی اور آپ کی سلسلہء درایت کے دانا و بینا عُشاق بھی کھیت ہوئے لیکن اورنگ زیب ہے کہ جانے کا نام نہیں لے رہا جبکہ عصرِ حاضر میں ان پر بیعیت کرنے والوں کی کمی بھی نہیں جوکہ اس سلسلے میں دامے درمے سُخنے نچھاور کئے جا رہے ہیں ۔البتہ آپ نے جس فکر کی آبیاری کی ہے اس پر بھی کام۔۔۔۔ آہستہ مگر ہو رہا ہے ۔وہ اب کے ہمت باندھ کے بولنے پر قادر ہوا ہی چاہتے ہیں،آپ کو تو پتا ہے کہ بہتوں میں ایسا دم خم کہاں،کہ سامنا کرسکیں ہم نے سُن رکھا ہے کہ اُن میں سے بیشتر پچھم کو بھاگنے کی تیاری میں ہیں اور بہت سے نکل گئے، تعجب اُس وقت ہوتا ہے جب یہ لوگ تقاضا بھی کرتے ہیں کہ ہمارے معاشرے میں ضرور انسانیت آموز رویوں کو دوام ملے گا لیکن میدان چھوڑ کے جانے والوں کو یہ بات زیب نہیں دیتا کہ انقلابی تبدیلی کا تقاضا بھی کرتے ہوں اور اس کے لیے ذہن سازی اور زمین ہموار کرنے سے راہِ فرار کی راہیں بھی تلاش رہی ہیں۔کبھی دُنیا کی معلوم تاریخ میں ایسا ہوا بھی ہے کہ لوگوں کو پیچھے چھوڑا بھی ہو اور ان میں معجزاتی طور پر آزادیء فکر و نظر کی بنیادیں استوار کرنے کے خواستگار بھی رہے ہوں۔؟

یہ بھی پڑھئے:   نقرئی خوابوں کے کھوٹے سِکّے

اب کیا بتاؤں، یہی سچ ہے اور حالیہ دنوں کی اہلِ نظر کے طور بھی نرالے ہیں۔لیکن آپ پریشان نہ ہوں امید پر دنیا قائم ہے،سو دیر ہے اندھیر نہیں۔
آپ اپنی خیریت ضرور لکھیئے گا کہ آپ کے ساتھیوں میں سے سرمد جی کیسے ہیں، وہ بہت یاد آتے ہیں کہ انھوں نے کس طرح اپنے دل کی بات زبان پر لانے میں شمتا دکھائی ،اپنے منصور حلاج اور قرۃ العین طاہرہ کو بھی مہروانی ندر کریں کیونکہ انھوں نے یہیں کہیں اپنی آواز کے جِلو میں ایک برتر زندگی کی معنویت منور کر رکھی ہے شاید اس وقت خود تو آپ کے ساتھ مجلس آرائی کر رہی ہونگی اور برونو کو بھی میرا سلام ضرور کہنا اگر اُن کی آواز اس سفر میں شاملِ حال نہ ہوتی تو کہاں یہ سب سوچا اور لکھا جاتا۔

آپ کا اپنا

کے بی فراق

گوادر

Views All Time
Views All Time
192
Views Today
Views Today
1
Previous
Next

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

*

%d bloggers like this: