شہر کوفہ کا محض ایک آدمی

Print Friendly, PDF & Email

نوٹ: اسد محمد خان کي یہ شہرہ آفاق کہانی ہے۔جس پہ محمد حمید شاہد کا تبصرہ یہاں درج کرنا ضروری ہے تاکہ قلمکار کے پڑھنے والے جان لیں کہ ہم اسد محمد خان کی اس کہانی کو یہاں دوبارہ کیوں شایع کررہے ہیں:

"میرے دھیان میں اسد محمد خاں کی ایک اور کہانی’’شہر کوفے کا محض ایک آدمی‘‘(۲۰) ہمارے وجودوں پر حرام خوری ، آلکسی اور کاہلی کی چڑھی چربی کو اپنی تیز آنچ سے پگھلا ڈالنے والے بیانیہ گونجنے لگا ہے۔ کہانی کے پہلے حصہ میں تاریخ کے وہ لمحات ہیں جنہوں نے زمرد اور یاقوت اورمشک اور عنبر کے بہتر تابوت اپنے کندھوں پر اٹھا ئے تھے ۔ بہتر آسماں شکوہ لاشوں کو سنبھالنے والے تابوت ۔ اسی حصہ میں کہانی کے راوی نے ایک ایسے آدمی کا تصور باندھنے کو کہا ہے جس نے کوفے سے امام عالی مقام کو خط لکھا تھا کہ:’’میرے ماں باپ فدا ہوں ،آپ دارالحکومت میں ورود فرمائیے ، حق کا ساتھ دینے والے آپ کے ساتھ ہیں ۔‘‘ اور وہ آدمی اپنے وجود کی پوری سچائی کے ساتھ اس بات پر ایمان بھی رکھتا تھا ، مگر خط لکھنے کے بعد گھر جا کر سو گیا۔

سویا ہوا یہ آدمی بعد میں زانو پیٹتا ہے ، گریبان چاک کرتا ہے ، روتا ہے اور اپنی نقاہت دور کرنے کے لیے خوب سیر ہوکرپھر سے سو جانے کی روش پر قائم رہتا ہے ۔ کسل مند ہو کر ڈھے جانے والا یہ کوفے کا آدمی آخر کار چیخ مار کر اپنی کسل مندی کی چادر پھاڑ دیتا ہے چھپر سہارے والی تھونی جھٹکے سے اکھاڑتا ہے ، یہ سوچے بغیر کہ اس چھپر تلے اس کی عورت اور بچے تھے اور فرات کے کنارے جا پہنچتا ہے۔ جب شمر نے گھوڑے کو مہمیز کیا تو یہ شخص اپنی ٹیڑھی میڑھی لاٹھی کے ساتھ قاتل اور مقتول کے درمیان پہنچ گیا تھا اور پھر شمر کے گھوڑے کے سموں تلے کچلا گیا ، دودھ ، پنیر،شہداور روغن زیتون اور تازہ خرمے سے پلا ہوا جسم ، جو کچلے جانے کے بعد قیمہ ہو گیا تھا گھوڑے کی لید میں سنا ہواقیمہ، جو رات بھر وہیں پڑا رہا اور جسے صبح دم چیونٹوں کی پہلی قطار نے دریافت کیا ۔ اپنے امام سے آخری لمحوں میں سچی وابستگی کا مظاہرہ کرنے والے کوفے کے اس آدمی ، جی اس زندہ جاوید آدمی کو کہانی کے دوسرے حصہ میں، کہ جہاں فلسطینوں پر ڈھائے جانے والے ستم کا ذکر ہو رہا ہے اور ان دعاؤں کا جن سے ہماری ہتھیلیا ں لبالب بھری ہوئی ہیں اور ساتھ ہی اس خوف کا جو جارح اور ظالم کے ٹینکوں کے سامنے جانے اور قیمہ قیمہ ہو جانے سے ہمیں روک دیتا ہے تو کہانی ماضی میں غوطہ لگاتی ہے اور ہمارے کسالت بھرے اور خوف کی چربی چڑھے بدنوں پر چرکے لگانے کے لیے ، کوفے کے اس ایک آدمی کو ، زندہ جاوید آدمی کو سامنے لے آتی ہے ۔ہاں ،ہمارے بدنوں پر چرکے لگانے کے لیے۔ مگر یوں ہے کہ ہم میں اتنی بھی استقامت نہیں رہی کہ چولہے میں سے جلتی لکڑی ہی کھینچ کر ظالم کے مقابل ہو سکیں ۔ کہ ہمیں تو ہمارے پنیر اور روغن زیتون اور خرمے کھا گئے ہیں، قیمہ بنا گئے ہیں اور ہمیں چیونٹوں کی پہلی قطار نے دریافت کر لیا۔”(موت اور زندگی کے جھٹپٹے میں:اسد محمد خاں کے افسانے۔محمد حمید شاہد لنک: http://hameedshahid.com/index.p…/…/10/08/asad-mohammad-khan/)

ایک ایسے آدمی کا تصور کیجیئے جس نے کوفے سے امامؓ کو خط لکھا میرے ماں باپ آپ پر فدا ہوں آپ دارالحکومت میں تشریف لایئے حق کا ساتھ دینے والے آپ کے ساتھ ہیں ۔ وہ آدمی اپنے وجود کی پوری سچائی کے ساتھ اس بات پر ایمان بھی رکھتا ہو ، لیکن خط لکھنے کے بعد وہ گھر جا کر سو گیا ۔

جب دس ہزار دنیا زادوں نے امامؓ کے مقابل صف بندی شروع کی تو یہ آدمی زیتون کے روغن میں روٹی چور چور کر کے کھا رہا تھا ۔ پاس ہی دودھ بھرے پیالے میں حلب کے خرمے بھیگے پڑے تھے ۔ شیشے کے ایک ظرف میں کوئی مشروب تھا ۔

جب اسے خبر ملی کہ اشرار آمادہ فساد ہیں تو اس آدمی نے روغن سے ستے ہوئے دونوں ہاتھ طمانیت کے ساتھ چہرے پر ملے اور بولا امامؓ حق پر ہیں اور حق غالب آنے والا ہے ۔ اس نے پھر ڈکار لی اور امامؓ کو یاد کیا ۔ان کی حمایت کے لئے اللہ سے نصرت طلب کی ۔اور دستر خوان کے برابر پڑے ہوئے تکئے پر ٹیک لگا سو گیا ۔

جب خبر آئی کہ بچوں پر پانی بند کر دیا گیا ہے تو روتے روتے اس نے ہاتھ کی ضرب سے عرق کا ظروف الٹا دیا اور کہنے لگا ” وائے افسوس ! سگ دنیا ابن زیاد نے ، اس کے کتوں نے اپنی جان کو ہلاکت میں ڈال دیا ہے “۔ اس بار وہ بہت دیر تک رویا اور کرب و انتشا میں جاگتا رہا ۔ پو پھٹنے کے قریب اسے نیند آئی ۔

یہ بھی پڑھئے:   قاسم خان ۔۔۔عجیب مانوس اجنبی تھا - رضی الدین رضی

جب اسے پتہ چلا کہ ایک پاکیزہ خصلت نوجوان بچوں اور بیماروں کے لئے پانی سے بھرا مشکیزہ لاتا تھا کہ بد خصالوں کے ہاتھوں شہید ہوا ، تو وہ اٹھ کر بیٹھ گیا ۔ اب کے اس نے ایک پہر نالہ و شیون کیا اور سینہ کوبی کی ۔ اس کی بھوک پیاس رخصت ہو گئی اور وہ سوچتا رہا کہ کچھ کرے کیونکہ ان صادقوں کے لئے اس کا دل خون کے آنسو روتا تھا ۔

اس نے اور کچھ نہیں کیا بس گڑگڑا کر دعا کی “بارالہا ! تیرے محبوب ﷺ کی آل اپنے گھروں سے نکلی ہے ۔ تو ہی ان کا حامی و ناصر ہے ۔ وہ کیونکہ اس کاوش سے تھک گیا تھا ۔ اس لئے روتے روتے اس نے کچھ دیر آرام کیا اور دیوار سے ٹکے ٹکے سو گیا ۔

جب کسی نے پکار کر کہا کہ سگ دنیا شمر ذوالجوشن نے بھیانک ارادے کے ساتھ اپنا گھوڑا امام کی طرف بڑھا دیا ہے تب ، اسی وقت وہ چیخ مار کر اٹھا ۔ تھوڑی دیر بعد وہ کھڑا ہو گیا اور اس نے عجیب کام یہ کیا کہ اپنے چھپر کو سہارنے والی تھونی جھٹکے سے اکھاڑ لی ۔ وہ اسے گرز کی مانند گردش دیتا ہوا نہر فرات کی طرف بڑھ گیا ۔اور حق تو یہ ہے کہ اس نے لمحے بھر کے لئے بھی یہ نہیں سوچا کہ اس چھپر کے نیچے اس کے بیوی بچے بیٹھے ہوئے ہیں ۔
امام ؓ کے لئے اس کی محبت بلاشبہ حد درجہ تھی ۔

وہ چھپر کی تھونی اٹھائے دوڑا چلا جا رہا تھا ۔ شریروں ، بد خصالوں اور قاتلوں کے لئے اس کی زبان پر ناملائم کلمات تھے اور کبھی کبھی وہ فحش کلامی بھی کرتا تھا کیونکہ سخت آزردہ تھا ۔لگتا تھا کہ وہ ان ہزاروں سگان دنیا کو اپنی مغلظات سے پارہ پارہ کر دے گا جو بچوں اور گواہی دینے والوں کو قتل کرنے آئے تھے ۔اس کی فحش کلامی جاری رہی پھر بند ہو گئی ۔اس لئے کہ آگے مقام ادب آ گیا تھا ۔وہ مطہر سماعتیں آگے تھیں جنہوں نے مقدس رسول ﷺ کو کلام فرماتے سنا تھا ۔

اسی لمحے اس کی وابستگی اور اس کے باطن کی سچائی نے ظہور کیا اور اس اگلے لمحے میں جب شمر نجس کا وار امامؓ پر ہوتا اور انسانی تاریخ کا سب سے بھیانک جرم سرزد ہو جاتا ، اس اگلے لمحے وہ آدمی امام ؓ اور قاتل کے درمیان کھڑا ہو گیا ۔اس نے دل دہلا دینے والا نعرہ بلند کیا اور اپنی ٹیڑھی میڑھی لاٹھی سے شمرذولجوشن پر ایسی ضرب لگائی کہ وہ نجس اپنے خود کی چوٹی سے لے کر اپنے مرکب کے زنگ آلود نعلوں تک ہل کر رہ گیا ، لیکن لکڑی ٹوٹ گئی ۔

شمر نے تب اپنے گھوڑے کو آگے بڑھایا اور اسے ، جو تاخیر سے نہتا ہی اپنے ذی حشم مہمان کی سپر بننے آیا تھا ، روندتا مسلتا ہوا اپنے آخری جرم کی طرف بڑھ گیا ۔وہ آدمی گر گیا اور دودھ ، پنیر ،شہد ، روغن زیتون اور تازہ خرموں پر پلا ہوا اس کا بدن امام پر نثار ہو گیا ۔

اور پھر وہ آخری جرم سرزد ہوا جس نے ترائی پر چمکنے والے سورج کو سیاہ کر دیا اور رات آ گئی ۔ رات کے کسی وقت بلند قامت حر بن ریاحی کے قبیلے والے آئے اور اپنے آدمی کا لاشہ اٹھا لے گئے ۔

اس کے بعد زمرد ، یاقوت اور مشک و عنبر کے بہتر تابوت لے کر تاریخ آئی اور اس نے بہتر آسمان شکوہ لاشے سنبھالے ۔ اس میں ایک سر بریدہ لاشہ صبر و رضا والے ، استقامت والے امام ؓ کا تھا جن کا قدم بلندی پر تھا ، اسی لئے انہیں بادلوں پر جگہ ملی ۔

اس کے بعد سگان دنیا کے ورثا اپنے مسخ شدہ حرام کے مردے کھینچ کر لے گئے اور میدان خالی ہو گیا ۔لیکن وہ آدمی جس کی کہانی میں سنا رہا ہوں ، وہیں پڑا رہا ۔شمر کے گھوڑے کی لید میں لت پت اس کا بھیجہ ، قیمہ اور سری پائے وہیں پڑے رہ گئے ۔ صبح سویرے جب چیونٹیوں کی پہلی قطار نے انہیں دریافت کیا ، تو آہستہ آہستہ انہیں منہدم کرنا شروع کر دیا اور یہ انہدام دیر تک جاری رہا ۔

یہ بھی پڑھئے:   غلام محمد قاصر کی شاعری اور پیراسائکالوجی

آپ ایک ایسے شخص کا تصور کریں جس نے امامؓ کو خط لکھا اور خط لکھنے کے بعد گھر جا کر سو گیا ، لیکن آخری لمحے میں اپنے باطن کی سچائی اور وابستگی کا اظہار کرتا ہے اور عجب طریقے سے مقبول بارگاہ ہو جاتا ہے ۔ ایک ایسے آدی کا تصور کریں تو وہ جیم الف ہو گا(جیم الف ۔ عربی ۔ عام آدمی) ۔جس کی کہانی میں آپ کو سنا رہا ہوں لیکن یہ تھا ماضی کا جیم الف ۔

آج کا جیم الف کو ایک چھوٹے سے کرائے کے گھر میں کچھ لکھ لکھا کر اپنے کنبے کو پال رہا ہے ۔ وہ تو چھوٹی چھوٹی سبک باتوں سے گاتی گنگناتی ، دکھ سہتی غزلیں لکھتا ہے اور انہیں چھوٹی چھوٹی اشاعتوں والے رسالوں میں چھاپ دیتا ہے ۔ وہ پکی روشنائی میں اپنا نام دیکھ کر خوش ہو جاتا ہے اور مشاعروں میں گانا بجا لیتا ہے ۔اس سے بڑے گناہ سرزدنہیں ہوئے ہیں اور نہ اس خیر کا کوئی بڑا کام کیا ہے ۔اس کا گذارہ چھوٹی موٹی نیکیوں اور ہلکے پھلکے گناہوں پر ہے ۔ میں نے سیدالشہدا کے نام نامی کے ساتھ اس شخص کے تذکرے کی جسارت اس لئے کی ہے کہ میں اس کی سچائیاں اور وابستگیاں بتانا چاہتا ہوں ۔

یہ زیادہ پرانی بات نہیں ہے ایک دفعہ اس آدمی کو ایک مشاعرے میں بلوایا گیا تو وہ میزبانوں سے یہ کہنے لگا کہ یہاں سے اللہ کا گھر بہت قریب ہے مجھے عمرہ کروا دو ۔ تمہارا زیادہ خرچہ نہیں ہو گا ۔ پھر وہ عمرہ کرنے گیا ۔ طواف کرتے ہوئے وہ بے ڈھنگے پن سے دھاڑیں مار مار کر رونے لگا ۔ آپ یہ سمجھیں ساری عمر میں اس یہی نیکی ہوئی تھی لیکن رونے کو آپ اس کی بے بسی بھی کہ سکتے ہیں ۔

جب وہ واپس آیا تو اس نے مجھے بتایا کہ کہ میں نے حرم شریف میں دنیا کے پہلے مظلوم اور مستقیم آدمی سے لے کر فلسطینیوں اور کشمیریوں کے دعا کی ۔ لیکن مجھے اپنی ذلالت اور بے بسی پر رونا بھی آیا کہ اگر میں کربلا کے سن ہجری میں ہوتا تو اپنے گھر میں پڑا کُڑھتا رہتا اور یقینا مجھ میں اتنی استقامت بھی نہ ہوتی کہ جلانے کی لکڑی کھینچ کر ہی ظالموں کے سامنے جا کر کھڑا ہو جاتا ۔

اس نے کہا دیکھ لو ، میں یاسر عرفات کے سن ہجری میں ہوں اور گالیاں بکنے اور دعائیں مانگنے کے سوا کچھ اور نہیں کر سکتا ۔میں کسی جارح ٹینک کے سامنے کھڑا ہونے کی ہمت نہیں کر سکتا ۔ مجھے گڑگڑاتی ہوئی لوہے کی اس پٹی سے خوف آتا ہے جو لمحہ بھر میں قیمہ بنا دیتی ہے ۔ لیکن میں ضمیر اس گڑگڑاتی آواز سے بھی قیمہ ہو جاتا ہوں جو ہم سے اکثر کو اندر سے سنائی دیتی ہے ۔

اس نے آخری بات مجھ سے یہ بھی کہی ، بھائی میرے ! میں بھی ، تم بھی اور ہم سب اصل میں اپنی اپنی مصلحت اور منافقت کے کوفے میں آباد ہیں اور حق کے لئے جنگ کرنے والے کسی وجود سے آنکھیں نہیں ملا سکتے چاہے وہ استقامت کی سب سے بڑی علامت حسین ؓ ہوں یا موجودہ تاریخ کے فلسطینی اور کشمیری ۔

یہ سن کر میں اس کا شانہ قلم سے چھوتا ہوں ۔ یہ بھی نائٹ بنانے کی ایک رسم ہے ۔ پہلے اس موقع پر قلم کی جگہ تلوار استعمال ہوتی تھی ۔ تو میں اسے مایوسی اور بے بسی کا نائٹ مقرر کرتا ہوں اور اسے کہتا ہوں ” پیارے جیم الف ! ہمیں پنیر ، روغن زیتون اور خرمے کھا گئے ہیں ۔ اب تم بھی گھر جاو اور کھانا کھا کر آرام کرو ۔

(اسد محمد خان کی مذکورہ بالا کہانی ان کے مجموعہ ‘برج خموشاں’ طبع 1990ء اور پھر ان کے کہانیوں کے مجموعے ‘ کہانیاں جو لکھیں’ طبع 2006ء اکادمی بازیافت کراچی میں شامل ہے۔)

Views All Time
Views All Time
494
Views Today
Views Today
1

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

%d bloggers like this: