Skip to Content

Qalamkar | قلم کار

جہالت، ظلم اور ناانصافی کے خلاف برسرپیکار

جیئے سندھ جیئے، سندھ وارا جیئن

by اکتوبر 22, 2016 بلاگ
جیئے سندھ جیئے، سندھ وارا جیئن
Print Friendly, PDF & Email

سرمد سندھی کے بھائی احمد مغل نے جب بھی یہ سندھ کا قومی گیت گایا ہے محفل میں بیٹھے اور کھڑے ہوئے سندھی اپنے قومی جذبات کا مظاہرہ کرتے ہوئے جھومنا گانا شروع کر دیتے ہیں، ‘ جیئے سندھ جیئے، سندھ وارا جیئن، سندھی ٹوپی اجرک وارا جیئن’۔ کچھ وقت تو ہر کسی کے منہ میں بس یہی گیت سنتے ایسا لگ رہا ہے جیسے یہ گیت ہی سندھ کی موسیقی کا نمائندہ ہو اور ہر سندھی خود کو قومی دھارا میں سمیٹتا محسوس کر رہا ہو، میں بھی یہ گیت ہمیشہ گاتا رہتا ہوں، میں نے یہ گیت اس وقت بھی گُنگنایا تھا جب سندھ کے ایک شہر "سیتا” میں ایک انجان اور ذہنی توازن کھوئے ہوئے ایک مسافر کو قرآن کی بے حرمتی کے الزام تلے ڈنڈوں، جوتوں، اور اینٹوں سے اس کا سر پھاڑ کر ماردیا گیا تھا جیسے سانپ کو مارتے وقت اس کا سر کچلا جاتا ہے، جہاں ‘جیئے سندھ’ کے نعروں کے ساتھ ساتھ نعرہ تکبیر ﷲ اکبر کی آوازیں بھی سنائی دے رہی تھیں۔ میں نے یہ گیت اس وقت بھی گنگنایا تھا جب ‘ بھورو بھیل کی لاش کو مقامی وڈیرے کے اشارے پر دوٹکوں کے عوض دین بیچنے والے ملاوُں نے زمین سے نکال کر کتوں، کووں اور ِگدھوں کو انسانی لاش دعوت کے طور پر پیش کرنے کی حرکت کی تھی۔ میں تو اب بھی یہ گیت گنگنا رہا ہوں، جب سے پچھلے دو دنوں سے یہ خبر سن رہا ہوں کہ گھوٹکی میں بااثر شخصیت نے ایک اسکول کی ٹیچر سے اور اس کی بہن سمیت دوستی نہ رکھنے کے عوض زیادتی کی، اور اب دھمکیاں مل رہی ہیں کہ اگر اُستانی ہمارے ساتھ تعلقات استوار نہیں کرےگی تو اس کے چہرے پر تیزاب چھڑکا جائے گا، ڈر کی ماری بچاری اسکول ٹیچر اب ڈیوٹی پر بچیوں کو پڑھانے کے لیے بھی نہیں جاسکتی۔ میں جب بھی ‘جیئے سندھ جیئے، سندھ وارا جیئن’ گیت گنگناتا ہوں یا کسی کو گنگناتے سنتا ہوں تو اندر ہی اندر میں پگھلنے لگتا ہوں اور ایک آواز اندر سے آتی ہے۔ کون سی سندھ جیئے۔؟ وہ سندھ جو اپنی اصلی اولاد کولھی، بھیل، میگھواڑوں کو زندہ رہنے کا حق تو درکنار مرنے کے بعد دو گز زمین میں سونے کا حق بھی نہیں رکھتے، وہ سندھ جن کی عورتوں کی عزتیں رئیس، وڈیرے جاگیردار، ایم پی اے ایم این اے سے محفوظ نہیں ہیں، وہ سندھ جن کے گھر قبضہ مافیا اور کاروبار بھتہ خوروں قبضے میں ہیں، یا وہ سندھ جیئے جو عالیشان مقانوں میں رہتے ہیں، زمیں پر پیر رکھتی نہیں، جاگیروں، انڈسٹری، پارلیمنٹ، اور سرکاری محکموں کی مالک ہے۔؟ ان دانشوروں اور ادیبوں اور سیاسی رہنماؤں پر رحم کھانا چاہئے یا ان پر افسوس کرنا چاہئے، جو رات دن راگ الاپتے نہیں تھکتے کہ سندھ صوفیوں کی دھرتی ہے شاہ عبدالطیف بھٹائی کے نظریہ اور فلسفہ کو سیاسی، ادبی اور ذاتی اسٹیج تک محدود کر کے عمل اس فلسفے کے برعکس کیا جارہا ہے، عظیم انقلابی صوفی شاہ عنایت شہید کے فلسفہ ” جو کھیڑے سو کھائے” جو جوتے گا وہی کھائے گا’ کے اس انقلابی نعرے یا نظریے کو جھوک شریف کے میلے اور اس پر چادریں چڑھا کر اس کو عقیدت کے قفس میں بند کر دیا گیا ہے۔! سندھ جیئے گی، لیکن وہ سندھ اس کولھی کی ہوگی جس میں کوئی زمیندار اسے یا اس کے خاندان کو جبری کھیت مزدوری کروانے کا نہیں سوچ سکتا، کوئی منحوس ملاں اس کی لاش کو قبر سے نکالنا تو دور دفنانے کے لیے بھی ہندو مسلم کی تفریق کرنے کی جریت نہیں کرےگا، وہ سندھ اس کسان کی ہو گی جس کی زمین کا مالک وہ خود ہوگا نہ کہ جاگیردار، وہ سندھ اس مزدور اور محنت کش کی ہوگی جو اس خطے کے تمام مظلوموں سے جڑ کراستحصالی قوتوں کے خلاف جدوجہد میں شانہ بشانہ ہو کر تمام تر پیداواری صنعتی ذرائع اپنی مالکی میں لے کر ایک نئی دنیا کیے قیام کی نوید سنائے گا۔

Views All Time
Views All Time
743
Views Today
Views Today
1
یہ بھی پڑھئے:   مجھے داد نہیں داد رسی چاہیے
Previous
Next

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

*

%d bloggers like this: