مودے کا پنڈ، بے بے کی گواچی گاں اور عصر حاضر کا عوامی چوک

Print Friendly, PDF & Email

ایک تھا خوبصورت گاؤں۔پیار و امن کا گہوارا، محبت،خلوص اور ایک دوسرے کے کام آنا جیسے گاؤں کے مکینوں کے خمیر میں گندھا ہوا تھا۔ایک دفعہ کا ذکر ہے کہ گاؤں میں رہتی ایک ضعیف بیوہ عورت جسے سارا گاؤں” بے بے”کہا کرتا تھا،کی گائے گم ہوگئی۔ بیچاری بےبے اپنی "گواچی گاں”کو لے کر سخت پریشان اور بے بے کو دیکھ سارا گاؤں پریشان۔وہ کہتے ہیں نا "پنڈ وچ پسوڑی پے گئی”کے مترادف "گواچی گاں”کی گمشدگی کی خبر ایک کونے سے دوسرے کونے تک پھیل گئی اور سارے گاؤں کے مرد ڈنڈے ڈانگیں لے کر نکل کھڑے ہوئے گائے کو ڈھونڈنے۔چند ایک جذباتی نوجوان تو گھر میں پیاز آلو کاٹتی ماں کے ہاتھ سے چھریاں تک لے آئے تاکہ بوقت ضرورت چور ڈاکوؤں سے مقابلہ کرسکیں۔اور اس طوفان ظفر موج کی سرپرستی گاؤں کے "لمبردار” (چوہدری)کررہے تھے۔چند گھنٹوں کی تلاش بسیار کے بعد گائے مل گئی جوکہ رسی تڑواکر مٹر گشت کرتے کرتے گاؤں کے آخری کنارے پر واقع پانی کی کھوئی تک جاپہنچی تھی۔بے بے کی "گواچی گاں”تو مل گئی مگر ایک نیا مسئلہ کھڑا ہوگیا کہ جو جذباتی لشکر گائے کو ڈھونڈنے نکلا تھا اس میں سے چند ہی لوگ واپس لوٹے تھے بمع گائے،باقی سبھی لوگ ویسے ہی لاپتہ تھے جیسے ملنے سے پہلے گائے۔

گاؤں کا بڑا ہونے کے ناطے اب یہ ذمہ داری بھی چوہدری مودے کی تھی کہ تلاش کو گئے لوگوں تک پیغام پہنچائے کہ گائے اب گواچی نہیں رہی سو گھروں کو واپس لوٹ جائیں۔گائے تو تین گھنٹوں میں مل گئی مگر تلاش کو گئے لوگوں کو واپس بلاتے بلاتے مودے چوہدری کو صبح فجر ہوگئی۔اور اگلے دن سارا گاؤں سخت یوم تعطیل کا منظر پیش کررہا تھا کیونکہ ساری رات کے جاگے لوگ اب اوندھے منہ پڑے سورہے تھے۔بس یہی وہ دن اور لمحہ تھا جب مودے چوہدری کے دماغ نے درست اور بروقت پیغام رسانی و رابطے کے طریقوں پر غور وفکر کرنا شروع کیا اور ایسا راستہ نکالا کہ قومی تاریخ الٹ پلٹ کر رکھ دی بلکہ ادھیڑ کر رکھ دی۔مودے نے اپنے ایک ولایت سے پڑھ کر لوٹے بھانجے سے سن رکھا تھا کہ انگریز سرکار نے کارآمد رابطہ کاری کا ایک ایسا نسخہ ایجاد کیا ہے جس کے مل جانے سے مودے کی یہ پریشانی حل ہوسکتی تھی۔

بس پھر کیا تھا،چوہدری مودے نے ایک سخت اندوہناک،رنج و الم میں لتھڑی ہوئی چٹھی لکھی جس میں نامناسب رابطے کے ذرائع اور اپنی مظلومیت کی داستان کو خوب بڑھا چڑھا کر لکھا تاکہ انگریز سرکار کے دل پر کاری ضرب لگے اور وہ مودے کے درد میں تڑپ کر فورا نسخہء کیمیا عنایت کردے۔ایک تو مودے کی دیسی چالاکی اور اوپر سے گوروں کی ازلی عادت”آسانیاں  ڈھونڈ کر اپنانا اور آسانیاں تقسیم کرنا”سو دونوں کے امتزاج کا نتیجہ حسب توقعہ مثبت آیا۔اور پھر اگلے چند دنوں کے اندر اندر گاؤں کے عین بیچ میں ایک وسیع تھڑا نما چوک تعمیر کرکے قدرے اونچائی پر ایک گھنٹی لگادی گئی۔ساتھ ہی گھر گھر اطلاع کروادی گئی کہ "جب بھی گھنٹی بجنے کی آواز سنیں فوراََ چوک پر پہنچیں۔ گھنٹی بجنے کا مقصد ہوگا کہ کوئی ضروری اعلان یا ضروری بات ہے جو اہلیان علاقہ کے علم میں لانا ضروری ہے۔گاؤں کا کوئی بھی فرد بوقت ضروت،مدد ،ضروری بات یا بسلسلہ کام گھنٹی بجا کر لوگوں کو متوجہ کرسکتا ہے”۔اوائل دنوں میں چوک صحیح معنوں میں ضروری اعلانات،انتہائی کارآمد بات اور ساتھ ہی دور دراز کے رشتے داروں اور سنگی ساتھیوں سے میل ملاقات کے لئے استعمال کیا جاتا تھا۔مثبت مقصد کی وجہ سے چوک کی شہرت جنگل کی آگ کی طرح دور دراز کے علاقوں میں پھیل گئی۔لوگ دور دور سے آنے لگے اور ایک میلے کا سا سماں بندھا رہتا۔

انگریز سرکاراجازت نامے پر منظوری کی مہر لگا چکی تھی سو آہستہ آہستہ لوگوں نے اپنے اپنے علاقوں میں تھڑے نما چوک تعمیر کرلئے۔چونکہ ہر چوک پر گھنٹی بلند ترین اونچائی پر لگائی گئی تھی سو اسی گھنٹی کی بدولت ایک چوک دوسرے چوک سے جڑا ہوا تھا۔وقت کے معجزے دیکھئے کہ جو لوگ ذہنی انتشار،دور غلامی کے کاٹے یا سنے ہوئے حالات کی وجہ سے یا پھر معاشرتی احساس کمتری کے وجہ سے گوروں پر ہمیشہ گولا باری کرتے پائے جاتے تھے اب وہ بھی انگریز کے اس بھلے اقدام پر برملہ(چند ایک دل ہی دل میں) سراہتے ہیں۔کیونکہ انہوں نے دیکھا کہ چوک کی وجہ سے دوریاں قربتوں میں بدل گئیں،کام کی بات مانند ہوا گھر گھر پھیل رہی تھی،مسائل کے حل مل بیٹھ کر نکالے جارہے تھے۔یہاں تک کہ کسی بے کس کے ساتھ طاقتور کی طرف سے کی گئی ناانصافی پرسب ایک آواز ہوکر احتجاج کرتے تو قاضی وقت کو غریب کے حق میں فیصلہ دینا پڑتا۔ایک طرف چوک کا چرچہ چار سو پھیلا چلا جارہا تھا تو دوسری طرف چوہدری مودے کی واہ واہ بھی ہورہی تھی۔اور مودا صاب تعریف کے سمندروں میں مینڈک کی طرح پھدکتے پھرتے تھے،پر ساتھ ہی چوہدری صاب کو ایک فکر لاحق رہتی کہ ان کے چوک کا میلہ بھرا پرا رہے،گھنٹی ٹناٹن متواتر بجتی رہے بقیہ چوکوں کے مقابلے میں۔اسی چکر میں اپنے طعام قیام کے ڈیرے چوک پر ہی ڈال لئے مودے نے۔ذرا کبھی رونق مانند ہونے لگتی چوہدری صاب خود چڑھ دوڑتے تھڑے پر۔کھبی اپنے نئے سوٹ پر رائے مانگ کر لوگوں کو متوجہ کرتے اور مجمعے سے واہ واہ سمیٹتے تو کبھی کسی بے محل موضوع پر خود کلامی شروع کردیتے جسے لوگ خوب توجہ سے سنتے۔اور یوں رونق بحال دیکھ کر مودے صاب کا ڈھیروں خون بڑھتا رہتا۔کمال یہ ہوا کہ اب نئے نئے رواج متعارف ہونا شروع ہوگئے چوک پر۔کوئی میلوں پیدل چل کر ہاتھ میں لڈو اٹھائے آتا اور لوگوں کو بتاتا کہ میں لڈو کھانے لگا ہوں اور اس پر انتہائی کمال یہ کہ لوگ رج رج واہ واہ کرتے۔کوئی نیا جوتا پہنے نمائش کرنے لگا تو کوئی نئی دھوتی پہن کر واہ واہ کروانے آجاتا، تو کوئی بڑھی ہوئی مونچھوں کو تاؤ دے کر شوخی مارنے۔ایک دن تو حد ہی ہوگئی کہ فضلو کا اپنی بیوی سے جھگڑا ہوگیا تو چوک پر آکر رونے دھونے لگا،اول فول بک کر خوب دل کی بھڑاس نکالی۔آس پاس موجود بھیڑ فضلو کو دیکھ/سن کر دل ہی میں تمسخر اڑاتے ہوئے باآواز بلند ہائے ہائے کے نعرے لگاکر اظہار یکجہتی کا اظہار کررہی تھی۔

یہ بھی پڑھئے:   جناب وزیراعظم!ہم نے گھرجاناہے

شیدا حلوائی اب گھر گھر جاکر مٹھائی بیچنے کے بجائے چوک پر بیچنے لگا۔کاروبار کے پھلنے پھولنے کی اولین شرط یہ بھی ہوا کرتی ہے کہ بھرے پرے مقام پر کاروبار کیا جائے سو اب سودا سلف،کپڑا لتا،ہار سنگھار،کرسی میز چارپائی ہر شے چوک پر بکنے کے لئے موجود رہنے لگی۔کئی بار ایسا بھی ہوا کہ خریدار کو ایک شے کے پیسے لے کر دوسری پکڑادی گئی،مگر جس طرح گلے پڑی مصیبت اتاری نہیں جاسکتی اسی طرح چوک پر وصول ہوئی شے واپس نہیں کی جاسکتی۔پر ان سب مسائل کے باوجود کاروبار خوب عروج پر رہتے ہیں۔۔اب تو لوگوں نے جیسے تیسے کرکے اپنے گھروں میں ایسی کھڑکیا ں بنوالی ہیں جن کی مدد سے 24 گھنٹے چوک کی رونقوں کے نظارے کئے جاسکتے ہیں اور واہ واہ کرکے شامل رونق بھی رہا جاسکتا ہے۔تھڑے والے چوک کا جادو اس قدر سر چڑھ کر بولا ہے اور مسلسل بولے ہی چلا جارہا ہے کہ لوگ اپنے گھر بار،کام کاج اور معاملات زندگی سے یکسر بےگانے ہوکر چوک ہی کے ہوکر رہ گئے ہیں۔گھروں کے مکینوں کو آپس میں بات کرنے کی ضرورت اور فرصت میسر نہیں رہی اب۔۔ایسا کوئی شعبہ زندگی نہیں جس پر چوک کی کرشمہ سازی اثر انداز نہ ہوئی ہو۔اساتذہ کرام جماعت میں موجود بچوں کو چھوڑ اب کھڑکی سے لٹکے چوک میں موجود ہجوم کو گیان بانٹتے پائے جاتے ہیں۔اساتذہ کی دیکھا دیکھی طالب علم بھی چوک کی سرگرمیوں میں خوب مصروف و مگن رہنے لگے ہیں۔چند دن پہلے گاؤں کے ڈاکٹر صاحب نے اندھیر ہی کردیا کہ چوک پر مچے شور شرابے میں اس قدر مدہوش تھے کہ تھرما میٹر رفیقے(مریض) کے منہ کے بجائے ناک میں ڈال دیا۔آج کل رفیقا مسلسل یہی کہتا پایا جاتا ہے کہ "شکر اس نازک گھڑی وہ لیٹا نہیں ہوا تھا”۔

جب معاملات کی آندھی اس قدر شدید ہوکہ سبھی اس کے زیر اثر یہاں سے وہاں کٹی پتنگوں مانند آڑے اڑے پھرتے ہوں تو ایسا کیسے ممکن ہے کہ خواتین پیچھے رہ جائیں۔شریکے کو جلانا مقصود ہو یا آس پڑوس بمع انجان خواتین و حضرات کو مرغوب کرنا،منے کو چڈی پہنانے سے لے کر ہانڈی کے تیار ہونے،نیا کڑھائی والا سوٹ پہننے سے لے کر،مہندی لگانے چوڑیاں پہننے اور منہ دھونے تک ہر ہر بات کی عوامی اطلاع دینے کے لیے ہانپتی کانپتی پہنچی ہوتی ہیں چوک پر۔صبح سویرے نظیراں چوک پر آکر اطلاع دیتی ہے کہ دوستوں کے ساتھ ناشتہ کرنے جارہی ہوں فلاں جگہ۔لوگ سن کر واہ واہ،عش عش کرتے ہیں اور درحقیقت نظیراں گھر پر جھاڑو دیتے ہوئے غش کھا رہی ہوتی ہے بمع پس منظر میں گونجتے اماں کے کوسنوں کے ۔خود نمائی اور شوخی کے ایسے ایسے عظیم مظاہرے کئے جاتے ہیں کہ حاتم طائی سخت پریشان ہوچکے ہیں ان کی قبر پر متواتر پڑتی انسانی دو لتیوں سے۔سنا ہے بیزار ہوکر حاتم طائی نے عرضی دے رکھی ہے کہ انہیں قبر سے نکال کر سمندر برد کردیا جائے۔وہ دادیاں،نانیاں اور ساسیں جو فارغ وقت کو دوبدو جنگیں کرکے کاٹا کرتی تھیں اب وہ بھی اچھا خاصا مصروف و مشغول رہنے لگی ہیں چوک کے رونق میلے میں۔روزانہ بنیاد پر ہوتی دوبدو پانی پت کی جنگیں اب ماہانہ/سالانہ بنیادوں پر ہونے لگی ہیں۔جبکہ اب چوک پر 24 گھنٹے ہوائی حملے جاری رہتے ہیں،بھڑاس نکالی جاتی ہے اور کیا کہنے چوک کی کرامتوں کے مجال جو ایک بھی وار خالی جائے اور نشانہ خطا ہوا ہو۔تھڑے والے چوک نے اوباش طبیعت رکھنے والے افراد کو بھی خوب فائدہ پہنچایا ہے۔اب انہیں درس گاہوں کے باہر یا گلی محلوں میں” لور لور” دھکے نہیں کھانے پڑتے خواتین کو تاڑنے یا چھیڑنے واسطے۔یہ سہولت اب گھر بیٹھے میسر ہے ٹھرکیوں کو۔

یہ بھی پڑھئے:   اسلام کے صوتی علوم - سماع 2

چوبیس گھنٹے گھنٹے کھڑکی سے لٹکے رہتے ہیں اور اپنے مزاج کے مطابق کرتوت کرکے اپنی ٹھرک کی بیماری کو تسکین پہچاتے ہیں۔وہ بیمار جن کے بپھرے جذبات پاگل سانڈ کی طرح بے قابو ہورہے ہوتے ہیں وہ ایک قدم آگے رہتے ہوئے چوک پر آتی جاتی خواتین کا پیچھا کرتے ہیں۔موقع پاکر صبح دوپہر شام بلاناغہ سلام دعا کرتے ہیں۔ایک عرصہ جب انہیں سلام دعا کا جواب نہیں ملتا تو جھلا کر گالم گلوچ اور نازیبا کلمات پر اتر آتے ہیں۔اب ماؤں کو اپنے چاند بیٹوں کے رشتے ڈھونڈنے کے لئے گھر گھر نہیں جانا پڑتا۔چوک پر موجود کڑیاں منڈے آئے روز نئی نئی محبتوں میں مبتلا ہوکر تجرباتی بنیادوں پر ماؤں کی مدد میں ہمہ تن مصروف رہتے ہیں۔اماں ابا،دادی نانی اس قدر غرق پائے جاتے ہیں چوک میں منعقد رونق میلے میں کہ انہیں پتا ہی نہیں چلتا کہ کب ان کے پہلو میں بیٹھی ان کی معصوم گڑیا سی بیٹی کسی اجنبی کے ڈوروں میں پھنس کر اپنی معصومیت اور اپنی ناموس لٹابیٹھتی ہے، کئی بار جال اس قدر پیچیدہ ہوتا ہے کہ بابا کی گڑیا اپنی جان سے ہاتھ دھوکر اس جال کی قید سے رہائی پاتی ہے۔محبتیں ہورہی ہیں،عزتیں مٹی میں مل رہی ہیں،رشتے بن رہے ہیں،ٹوٹ رہے ہیں،پیروں فقیروں کے آستانے ویران رہنے لگے ہیں کیونکہ نزلہ،زکام سر درد بمع دیگر سنگین مسائل کے حل کے لئے دعاؤں کی درخواست بھی چوک پر کی جانے لگی ہے۔بلکہ چند ایک پیر حضرات نے اپنی دکان مستقل چوک پر منتقل کرلی ہے۔ایک اور تاریخی تبدیلی دیکھنے میں آئی ہے کہ وہ شوہر حضرات جو اپنی شرارتوں پر پردے ڈالنے میں ماہر تھے وہ بھی موقع واردات پر ایسے ایسے پکڑے گئے کہ واللہ واللہ۔

ایک دن رحیما نائی خود کو مفکر ثابت کرنے کے لئے کسی موضوع پر خود کلامی کررہا تھا۔لوگ لمحے بھر رک کر سنتے اور گذرتے جائے۔چند ایک یار لوگوں نے واہ واہ بھی کردی۔اسی اثناء میں ایک برقعہ پوش خاتون ہاتھ میں ڈوئی لئے نمودار ہوئی۔ڈوئی دیکھ کر اندازہ لگانا مشکل نا تھا کہ” آج کھانے میں کیا پکنا ہے”اس بارے عوامی اعلان کرنے آئی تھی۔رحیمے کی ٹھرک کا بیڑہ غرق کہ لاکھ روکنے کے باوجود اس کی زبان پھسل ہی گئی اور لگا اس عورت کے خوبصورت پیروں کی تعریف میں زمین آسمان ایک کرنے۔ہمارے قومی مزاج کے عین مطابق اس موضوع کے چھڑتے ہی تماش بینوں کی بھیڑ جمع ہوگئی۔لوگوں کو متوجہ پاکر رحیمے کا حوصلہ بڑھا اور وہ مزید تعریفوں کی دیوار چین تعمیر کرنے گا۔آن کی آن کیا ہوا کہ ایک جوتا ہوا میں لہراتا ہوا آیا اور سیدھا رحیمے کے منہ پر رسید ہوا۔اور فضا میں ایک نسوانی کم جلالی آواز بلند ہوئی”انی دیا اج تک گھر وچ تے تینوں میرے پیر نظر نئیں آئے،کیڑی ماں دے پلیکھے تعریفاں چاڑن ڈیا ایں”(اندھی کے آج تک گھر میں تو میرے پیر نظر نا آئے تمہیں،یہ آج کونسی ماں کے پیروں کی تعریف کررہے ہو)اور پھر ڈوئی کے اندھا دھند وار تھے اور رحیمے کی چمڑی۔دراصل وہ نقاب پوش عورت رحیمے کی بیوی تھی۔برقعے کی وجہ سے پہچان نا سکا اور رحیما نائی "کُٹا” گیا۔رحیمے کا پٹنا تو کچھ بھی نہیں ایسے ایسے ہولناک،مضحکہ خیز واقعات رونما ہوتے ہیں آئے روز چوک پر کہ قلم لکھنے سے قاصر ہے۔دوزخ کا ٹکٹ،جنت کی اعزازی سند،محب وطن/غدار وطن،اچھا انسان/برا انسان کے تمغے بھی چوک پر ہی بانٹے جاتے ہیں۔ایک طوفان بدتمیزی اکثر برپا رہتا ہے،کون کیا کہہ رہا ہے؟کون کیا سن رہا ہے؟سوائے اللہ کے شاید ہی کسی کے پلے بات پڑتی ہو۔بلاشبہ ۔کام کی بات اب بھی ہوتی ہے،سلجھے شعور رکھتے لوگ اب بھی موجود ہیں چوک پر اور بات کرتے ہیں۔بس دکھ اس بات کا ہے کہ اچھی باتیں گم ہوکر دبنا شروع ہوگئی ہیں بے جا اور فضول آوازوں کے شور میں۔مودے چوہدری کا امن و محبت والا مثالی گاؤں اور اس کا ہر گھراب اندھیروں میں ڈوبا رہتا ہے کیوں کہ لوگ اپنے اپنے گھروں سے چراغ اٹھاکر چوک پر موجود رہتے ہیں تاکہ چوک پر روشنی رہے۔قصہ شروع ہوا تھا بے بے کی گواچی گاں سے۔گائے تو مل گئی مگر اس چوک کی ہوش ربا جلووں سے ہم سب کی ایسی آنکھیں چندھیا گئیں کہ ہم سب گواچی گاں بن کر رہ گئے ہیں۔آپ سمجھ تو گئے ہونگے کہ میں کس چوک کی بات کررہی ہوں۔

Views All Time
Views All Time
155
Views Today
Views Today
4

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

%d bloggers like this: