Oops! It appears that you have disabled your Javascript. In order for you to see this page as it is meant to appear, we ask that you please re-enable your Javascript!

آدھی ادھوری جشن آزادی مبارک

Print Friendly, PDF & Email

11 اگست 2018 کو ملتان شہر میں عید قرباں پر لگائی گئی مویشی منڈی میں دو گروہوں کے بیچ جھگڑا ہوا،جھگڑا اس قدر شدید تھا کہ دو نوجوان اپنی جان کی بازی ہار گئے،جب کہ متعدد افراد کے زخمی ہونے کی اطلاعات ہیں۔ وجہ تنازعہ مویشی منڈی میں من پسند جگہ حاصل کرنا تھا۔ جیسا کہ آج کل مویشی منڈیوں میں جہاں چاروں اطراف بکنے کے لئے جانور سجا سنوار کر کھڑے کئے جاتے ہیں،وہیں ان جانوروں کے بیچ خوبرو رقاصائیں بھڑکیلے گانوں پر رقص کرتی نظر آتیں ہیں۔اس لئے دونوں گروہ چاہ رہے تھے کہ مویشی منڈی میں انہیں ایسے جگہ ملے جہاں آنے والے خریدار ان کے جانوروں اور رقص کرتی حسیناؤں سے مرغوب ہو کر سب سے پہلے انہی کی طرف کھنچے چلیں آئیں۔ ٹی وی پر یہ خبر نشر ہوئی تو دل کو اذیت ناک حد تک صدمہ ہوا۔ دو ماؤں کی گود اجڑ گئی،اور پھر
موسیقی جو کہ روح کی غذا،
راگ ملہار جس سے بارشیں برستیں ہوں،
راگ دیپک جس سے دیئے جل اٹھتے ہوں،
اس کے ساتھ یہ سلوک۔صد افسوس۔۔

ساتھ ہی مجھے بچپن میں دادی/پردادی کا سنایا ہوا وہ واقعہ یاد آ گیا جو دادی ہمیں ہر عید قرباں پر پکڑ پکڑ سنایا کرتیں تھیں کہ ڈوگر راج کے زمانے میں عید قرباں پر گائے ذبح کرنے کی پاداش میں مسلمانوں کو عبرت ناک سزاؤ ں کا نشانہ بنایا جاتا تھا۔مگر اسی ڈوگر راج میں ایک بار دادی کی دادی یا شاید پردادی کے خاندان کو ایک ہندو گھرانے نے ناصرف پناہ دے کر ان کی جان بچائی تھی بلکہ ان کے گائے ذبح کرنے کے عمل پر پردہ ڈال کر بلاتفریق مذہب انسان دوستی کا ثبوت دیا تھا۔دادی کا کہنا تھا اس زمانے میں جہاں ظلم و برریت کی داستانیں رقم ہوئیں،وہیں اپنے اردگرد انسان دوست رویوں کے مظاہرے ہوتے انہوں نے بہت بار دیکھے۔
ٹی وی پر نشر ہوئے مورخہ 11 اگست کے انسانیت سوز واقعے اور دادی کے سنائے ہوئے قصے کو سوچ سوچ کر دل اور ذہن یہ سوچنے پر مجبور ہے کہ شاید ڈوگر راج کے وہ زمانے اس لحاظ سے بہتر تھے کہ انسان کی زندگی مذہب،دولت اور انا سے زیادہ بیش قیمت تھی۔
عید کی آمد آمد ہے خیر سے،اور عید الاضحیی سنت ابراہیمی کی ادائیگی کے لئے منائی جاتی ہے۔
سرکاری اعداد شمار کے مطابق سال 2017 میں پاکستان بھر میں ایک کروڑ پانچ لاکھ جانور خرید کر قربان کئے گئے۔جن کی کل لاگت 425 ارب روپے بنتی ہے۔ان میں 26 لاکھ گائے/بیل تھے جن کی قیمت 182 ارب تھی۔
شدید پسماندگی کے اندھیروں میں ذوال پذیر ملک اور سالانہ 425 ارب کے جانور ذبح کر کے غرباء میں ایک وقت کا گوشت تقسیم کر کے باقی اپنے فریج میں زخیرہ کرنا۔ یہ کیسی سنت ابراہیمی ہے؟ حضرت ابراہیم اپنے بیٹے کو لے گئے قربان کرنے کے لئے اور جب اللہ نے ان کے جذبے کی سچائی دیکھ لی تو بیٹے کی جگہ دنبہ/بکرا بھیج دیا۔اصل امتحان یہ تھا کہ اپنی من پسند شے کو اللہ کی رضا کے مطابق دے دیا جائے۔
حضرت ابراہیم علیہ السلام کے پاس ان کی اولاد تھی اس وقت۔ اور پھر صدیوں سے لوگ اپنے مال میں جانور خرید کر ذبح کرتے چلے آئیں ہیں۔ دیکھیں اگر صرف جانور ذبح کر کے گوشت کی تقسیم اور کھانا مقصود ہوتا تو لوگ کہیں سے بھی جانور چھین چھپٹ کر لے آتے اور قربانی کرتے۔اصل مقصد اپنے ذاتی مال میں سے مستحقین کی مدد کرنا ہے۔

یہ بھی پڑھئے:   ابراہیم جویو: آخری سلام | مستجاب حیدر نقوی - قلم کار

مجھ گناہ گار کی کیا اوقات کہ اعتراض کروں۔مگر میری ناقص عقل مجھے یہ کہتی ہے کہ جب ایک طرف انسانی زندگی دو وقت کی روٹی کے لئے سسک رہی ہے، موسم کی سختیوں سے نپٹنے کے لئے نا تو مناسب لباس ہے اور نا ہی تھک کر ٹوٹے ہوئے وجود کو سونے کے لئے مناسب بستر، جہاں لوگ معمولی معمولی قابل علاج بیماریوں سے لڑتے لڑتے ایڑیاں رگڑ رگڑ کر مر جاتے ہیں کیونکہ علاج کروانے کی استطاعت نہیں رکھتے۔جہاں شرح تعلیم افسوس ناک حد تک کم ہو۔”سرکاری اعداد شمار کے مطابق 56 فیصد ہے اور مجھے ان اعداد شمار کی سچائی پر تحفظات ہیں”
"یاد رہے کہ شرح تعلیم کم ہونے کی بنیادی وجہ غربت بھی ہے”جہاں چاروں طرف غربت کی وجہ سے مصائب کے انبار ہوں، ایسی مملکت میں خدا ڈیڑھ لاکھ کے بکرے،سوا لاکھ کے اونٹ اور لاکھوں روپے کے گائے/بیل کے قربانی قبول کرے گا؟ مسلمان ہونے کے ناتے احکام الہی پر عمل کرنا اولین فرض سمجھتی ہوں مگر آج تک حاصل ہوئے اپنے علم کی بنیاد پر میں یہ بھی جانتی ہوں کہ میرا دین زندگی کی ہر مشکل کو آسانیوں میں بدلنے کا ناصرف حکم اور اجازت دیتا ہے بلکہ اس کا راستہ بھی بتاتا ہے۔ جس کی چھوٹی سی مثال یوں دی جا سکتی ہے کہ انسانی زندگی بچانا مقصود ہو تو حرام جانور”سور” کھانا بھی حلال قرار دیا گیا ہے۔

اربوں روپے کی جانور خرید کر ایک وقت کا گوشت غریب کو دے کر اور خود مہینہ بھر زخیرہ کیے گئے گوشت کو کھاتے رہ کر معاشرے میں موجود ان گنت ضرورت مندوں کی حقیقی ضرورتوں سے چشم پوشی اختیار کرتے ہوئے یہ سوچ لینا کہ سنت ابراہیمی کی ادائیگی کر دی گئی! اس سے بڑھ کر ظالمانہ اور بیوقوف سوچ کوئی اور ہو ہی نہیں سکتی۔ دیکھیں یا تو ہم ہر شعبہ زندگی میں انہیں اطوار پر چلتے رہیں جو اوائل زمانے میں تھے تو چلو بات سمجھ بھی آتی ہے۔ مثال کے طور سرکار دو جہاں حضرت محمد مصطفی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے تمام جنگیں تلوار اور نیزوں سے لڑیں، مگر اب دیکھتے ہیں کہ یہ سنت رسول تبدیل ہو چکی ہے، اب جنگ اور دفاع دونوں کے لئے جدید ترین اسلحہ استعمال ہوتا ہے۔ اور ہونا بھی چاہئے۔ نظریہ وقت اور ضرورت کے تحت تبدیلی زندگی کا لازمی جز ہے۔ بالکل اسی طرح سنت ابراہیمی کی رسم میں بھی تبدیلی کی ضرورت ہے۔

بجائے قربانی کرنے اور بمشکل ایک وقت گوشت مستحقین کو دینے کے "جسے وہ لوگ فریزر میں محفوظ تک نہیں کر سکتے کیونکہ نا تو ان کے پاس فریج ہے اور نا ہی وہ عید قرباں پر لگی ڈیپ فریزر سیل میں فریزر خرید سکتے ہیں” کیوں نا ہم انہیں مہینے بلکہ مہینوں کا راشن ڈلوادیں تاکہ ان کو اچھی خوراک نصیب ہو۔
کیوں نا ہم غریب گھرانوں کے بچوں کے تعلیمی اخراجات اٹھا کر شرح تعلیم 56 سے 90 فیصد تک لے جانے کی کوشش کریں۔ کیا برا ہے اگر ہم کسی نادار کے طبی اخراجات اٹھا کر علاج معالجے میں مدد کر دیں۔ اکثر لوگ کہتے ہیں "جی ہم دونوں کام کرتے ہیں”میرے حساب سے اس وقت ہم سب کو حسب استطاعت اپنا ایک ایک روپیہ معاشرے میں موجود مسائل کے حل اور ضرورت مندوں کی اصل ضروریات کو پورا کرنے میں خرچ کرنا چاہئے۔ ہاں اگر آپ کے ارگرد ایسا کوئی مستحق موجود نہیں جس کی ضرورت ایک پاؤ گوشت سے ہزاروں گنا بڑی ہے تو بے شک کریں قربانی لاکھوں روپے کی، اللہ قبول فرمائے۔

یہ بھی پڑھئے:   احرام میں لپٹے ابلیس -شعیب آرین

سیل سے یاد آیا اس بار عید قرباں اور یوم آزادی کی خوشیاں ایک ساتھ جلوہ گر ہو رہی ہیں۔ اسی خوشی میں طبقہ اشرافیہ کے زیر استعمال ہر ہر شے پر سیل لگی ہوئی ہے۔ جو جوڑا 20 ہزار کا تھا اب 15 ہزار میں دستیاب ہے۔ تزئین آرائش کا سامان 10 ہزار کے بجائے 9 ہزار کے رعایتی نرخوں میں بک رہا ہے۔ یہاں تک کہ فریج اور ایئر کنڈیشنر تک سیل لگی ہوئی ہے۔ اچھی بات ہے۔لیکن افسوس کا مقام ہے کہ ان تمام اشیاء میں ایسی کوئی چیز نہیں جسے غریب انسان خریدنے کا سوچ بھی سکے۔ کاش کہ یوم آزادی کی خوشی میں سیل آٹے،دال،چاول پر لگتی۔ سیل دوائیوں پر لگتی۔ کاش یہ سیل اسکول انتظامیہ کی طرف سے داخلوں پر لگائی جاتی۔ سیل کتابوں پر لگائی جاتی کہ آئیں اور اپنے بچوں کو تعلیم دلوائیں،ہم موقع اور مدد فراہم کرتے ہیں۔

جیسا کہ ترقی یافتہ ممالک میں ہوتا ہے کہ سیل مطلب ہر چیز پر سیل، تاکہ ہر طبقہ اس سے مستفید ہو سکے۔
نا تو مجھے عید الضحی پر سنت ابراہیمی ہوتے نظر آتی ہے”کیونکہ اس سنت میں ہمارا ذاتی مفاد اور نمود و نمائش میں سبقت لے جانے والا عنصر اس قدر حاوی ہو چکا ہے کہ مستحقین کی مدد کا جز مکمل فوت ہوچکا ہے”
اور نا ہی اس جشن آزادی پر مکمل آزادی کا احساس بلاشبہ آزادی ایک نعمت ہے اور ہم لوگ خوش نصیب۔ صرف ایک دن سبز ہلالی پرچم کو عزت دے کر جشن منالینے سے نا تو قربانیوں کا حق ادا ہوسکتا ہے، نا ہی شکر۔ یہ آزادی مجھے ادھوری ادھوری سی لگتی ہے۔ جس دن ہم اپنے حصے کے وہ تمام حقوق مکمل ایمانداری سے ادا کریں گے جو بحیثیت انسان ایک دوسرے کے لئے ہم پر فرض ہیں،جس دن ہم نام نہاد عقائد اور انسان دشمن رسموں سے اپنی سوچ کو نجات دلوائیں گے،اس دن یہ آزادی مکمل آزادی کہلائی جائے گی۔
میرے تمام ہم وطنوں کو آدھی ادھوری جشن آزادی مبارک۔

Views All Time
Views All Time
262
Views Today
Views Today
1

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

%d bloggers like this: