جیپ اور بالٹی

Print Friendly, PDF & Email

بالٹی جیپ پر رکھی جائے گی کیونکہ پانی بھری بالٹی جیپ والوں کی بھی ضرورت ہے۔ انجن گرم ہوا تو کیا کریں گے؟فقیر راحموں خاموش ہوئے تو عرض کیا بالٹی خالی ہے اور ابھی یہ معلوم نہیں کہ جیپ میں ڈیزل و پٹرول بھی ہے کہ بیل گاڑی سے باندھ کر کھینچنا پڑے گی۔ مسکراتے ہوئے کہا‘ شاہ تم اتنے سادہ ہر گز نہیں ہو جیسا ظاہر کرتے ہو۔ سب پتہ ہے تمہیں کہ جیپ دینے والوں نے ٹینکی خالی نہیں دی۔ چودھری نثار علی خان انتخابی مہم میں پلے سے دھیلہ خرچ کرنے کو گناہ کبیرہ سمجھتے ہیں۔ لیکن فقیر جی میں نے تو چودھری نثار علی خان کی بات ہی نہیں کی۔ رسان سے کہا۔ 6 ماہ کم ساٹھ برس کا ساتھ ہے تیرے کرتوتوں سے اچھی طرح واقف ہوں یہ جو آج کل نون لیگ کی محبت کا ہلکا ہلکا بخار چڑھا ہوا ہے اس کی وجہ بھی جانتا ہوں۔

اب حیران ہونے کی باری میری تھی۔ عرض کیا نون لیگ کی محبت کا ہلکا پھلکا بخار بھلا مجھے کیوں ہوگا اس کی حالت یہ ہے کہ پانچ سال تک دونوں ہاتھوں سے سمیٹتے اور دامن مراد بھرتے مجاہدین بیچ چوراہے کے اسے چھوڑ کر بھاگ رہے ہیں۔ فقیر راحموں نے کہا شاہ جی‘ سب پہلے سے طے شدہ تھا۔ پارٹی ٹکٹ جمع کروانے کے لئے مقررہ تاریخ پر جو کھیل کھیلا گیا یہ کم و بیش 20جون کو طے ہوگیا تھا۔ یہ بھی طے ہوا تھا کہ نون لیگ کا ٹکٹ واپس کرنے والے جیپ کا انتخابی نشان لے لیں گے۔

حیرانی اس بات پر ہے کہ شہباز شریف کے علم میں یہ بات 21جون کی صبح سے تھی کہ پچھلی شب ’’آسمانوں‘‘ میں کیا صلاح مشورے ہوئے ہیں۔ فقیر راحموں کی باتوں کو دل پر نہ لیجئے آج کل وہ متوازی ولایت کے دعویدار ہیں۔ کہتے ہیں وہ جو کبھی طے ہوا تھا کہ پی پی پی‘ ق لیگ اور تحریک انصاف کی وفاق میں مخلوط حکومت بنوائی جائے گی وہ منصوبہ ترک کردیاگیا۔ اب پیپلز پارٹی کی جگہ جیپ گروپ لے گا۔ انتخابی عمل کے بعد سارے جیپ سوار ایک نئی سیاسی جماعت تشکیل دیں گے۔ کچھ مزید چاک گریباں ’’نجیب محب ملت‘‘ ان سے اور آن ملیں گے۔انتخابی عمل میں ہوتے گھٹالے اچھے ہر گز نہیں مگر کیا کریں مروجہ سیاست کے جمعہ بازار میں یہی سب ہوتا آرہا ہے۔ نظریہ مزریہ خاصے کی چیز ہوا۔ ہوا کا رخ اور منڈی کا بھاؤ اہمیت رکھتے ہیں۔ یقین نہیں آتا تو ڈیرہ اسماعیل خان کا چکر لگا کر دیکھ لیجئے جہاں پیپلز پارٹی والے ایک دوسرے کو ہاتھ پاؤں باندھ کر دریائے سندھ میں ڈبونے کی کوششوں میں مصروف ہیں۔

یہ بھی پڑھئے:   پیپلز پارٹی کا سنٹرل پنجاب کے لیے ٹکٹوں کا اعلان

دلچسپ بات یہ ہے کہ ان کوششوں میں فیصل کریم کنڈی پیش پیش ہیں۔ وہی کنڈی جو چند دن قبل بعض دفاتر کی سیاسی عمل میں مداخلت پر شاکی تھے۔ کیا نورنگ خان گنڈا پور کے خلاف وہ بھی ان دفاتر کے کھیل کا حصہ بن گئے۔ اس یقین دہانی پر کہ انہیں خطروں سے بچا لیا جائے گا؟۔ سوال اہم ہے جواب کے لئے سندھ دریا کے کنارے آباد اپنے محبوب شہر میں مقیم فقیر راحموں کے قابل احترام دوست پروفیسر ضیاء الدین ضیاء کے اس جملے میں سچائی تلاش کیجئے۔ وہ کہتے ہیں ’’ جو حالات ہیں ان میں دل چاہتا ہے کہ ووٹ ڈالنے نہ جاؤں‘‘ ۔ بات دوسری طرف نکل گئی کھینچ کے اصل موضوع کی طرف لے جاتے ہیں۔ یہ جیپ اور بالٹی کے انتخابی نشان یک دم اہمیت کیوں اختیار کرگئے؟ سوال بہت سادہ ہے لیکن جواب۔ وہ بس اتنا ہے کہ ایسا ہر الیکشن میں ہوتا ہے۔ کبھی چاند تارا تھا پھر گھڑا متعارف ہوا‘ فٹبال بھی کھیلا گیا اس بار جیپ ہے اور بالٹی۔ ظاہر ہے جیپ کی ٹینکی بھری ہوئی ہوگی اور بالٹی بھی خالی نہیں ہوسکتی۔ اصول پرستوں کے لئے تو چلو پانی بہت ہوتا ہے۔ ہائے ری اصول پرستی ہم بھی کیا سادہ لوگ ہیں چیل کے رکھنے میں ماس ڈھنڈتے ہیں۔

اگلی شام دفتر سے گھر واپس جاتے ہوئے جب راستے میں نون لیگ کے امیدوار قومی اسمبلی میاں جاوید لطیف دکھائی دئیے تو فقیر راحموں ترنم کے ساتھ گانے لگے۔ وے جیپاں والے جت جان گے‘ توں لبھداپھریں سیٹ میاں۔ (جیپوں والے جیت جائیں گے میاں تم اپنی سیٹ تلاش کرتے رہنا) کیا واقعتا ایسا ہوگا؟ یہ ایک الجھا ہوا سوال ہے جواب میں لمبی چپ بھلی ہے۔ پھڈے مول لینے کی عمر تو نہیں رہی اب البتہ حیرانی یہ ے کہ جیپ پر بیٹھ کر بالٹی سے شکار تو ممکن نہیں یہ ہوسکتا ہے کہ جیپ مخالفوں پر چڑھا دی جائے۔ ان لمحوں میں جب یہ سطور رقم کر رہا ہوں ایک پرانے دوست اعتبار علی جو نیجو نے فون کرکے دریافت کیا‘ شاہ جی یہ کیا ہو رہاہے؟ عرض کیا جو ہمیشہ سے ہوتا آرہا ہے۔ ہم کونسا برطانیہ یا فرانس میں رہتے ہیں بر صغیرکی مٹی ہی ایسی ہے نظریوں سے زیادہ مفادات عزیز ہوتے ہیں۔ جواب میں انہوں نے کہا کہ پھر یہ ملک چلے گا کیسے؟ عرض کیا جیسے چل رہا ہے۔ ایسے ہی چلتا رہے گا وجہ یہ ہے کہ اپنی ذات‘ منصب‘ ادارے اور قبیلے کے مفادات سے آگے دیکھنے والے اب دستیاب نہیں۔ حرف آخر یہ ہے کہ پیپلز پارٹی نے میرے انتخابی حلقے این اے176 سے ایک لوٹے کو گلے لگا کر ٹکٹ تھما دیا ہے۔ میجر(ر) سید تنویر حسین شاہ 2001ء میں تیرکے نشان پر جیتے اور مشرف کی محبت میں محب وطن (پیٹریاٹ) ہوگئے۔اب وہ پی پی پی کے امیدوار ہیں ایک لوٹا پی ٹی آئی کا امیدوار ہے۔ نون لیگ نے خود پسند شیخ فیاض کودوبارہ امیدوار بنا یا ہے۔ ان حالات میں فقیر راحموں کا مشورہ ہے کہ 10گھنٹوں کا سفر کرکے ووٹ ڈالنے جانے کی بجائے 25جولائی کو ٹی وی سکرین پر گھٹالے دیکھے جائیں۔

یہ بھی پڑھئے:   سچ آکھیاں بھانبڑ مچ دا اے

بشکریہ روزنامہ مشرق پشاور

Views All Time
Views All Time
368
Views Today
Views Today
1

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

%d bloggers like this: