Skip to Content

Qalamkar | قلم کار

جہالت، ظلم اور ناانصافی کے خلاف برسرپیکار

نسلِ انسانی اور تہذیب کا آغاز-جاوید سرور

by فروری 4, 2017 تاریخ, صفحہ اول
نسلِ انسانی اور تہذیب کا آغاز-جاوید سرور
Print Friendly, PDF & Email

عالمی ادارہ آثار قدیمہ کی کھنڈرات کی کھدائی کے دوران جو باقیات حاصل ہوئیں ان کی بنا پر کی گئی تحقیق کے مطابق، انسانی نسل کا تعلق انسانیت سے قبل کی نسل سے جا ملتا ہے، جسے “ہومینڈ” یعنی اعلیٰ حیوانوں میں سے انسان نما کا کوئی وجود سمجھا جاتا ہے، جو 40 لاکھ سال پہلے مشرقی افریقہ میں پایا جاتا تھا۔ ہومینڈ اور بن مانس نما دوسرے حیوانوں میں ایک اہم فرق یہ تھا کہ ہومینڈ اپنے دونوں پاؤں پر سیدھا کھڑا ہوسکتا تھااور اس کے دونوں بازو اور ہاتھ دیگر کاموں کے لئے آزاد رہتے تھے۔ انسان وہ جانور بن گیا جو ہاتھ میں پکڑے ہوئے آلات کو استعمال کرنے کی سکت رکھتا تھا۔ جدید انسان “ہومو سیپٹنز” وہ جانور ہے جس کی بڑی کھوپڑی ہومونائیڈک نسل سے تعلق ظاہر کرتی ہے۔ وہ ایک لاکھ سال پہلے افریقہ میں پایا جاتا تھا۔ آخری برف کا عہد، جو 75 ہزار سال قبل شروع ہوا تھا ، شروع میں اس کی آبادی گرم موسم کے علاقوں تک محدود تھی۔ بعض گروہ سرد علاقوں، شمال میں یورپ کی طرف، پھر جنوبی ایشیاء کے راستے آسٹریلیا تک جا پہنچے۔ دور دراز کے علاقوں میں پہنچنے والوں میں بیشتر لوگ امریکی انڈینز کے آباؤ اجداد تھے، جنہوں نے الاسکا اور سوبیا کے درمیان زمینی پل کا سفر طے کیا اندازے کے مطابق یہ واقعہ 2500 قبل مسیح کا ہے، لیکن زیادہ امکان10000 ہزار سال قبل مسیح کا ہے (اس امر کے شواہد موجود ہیں کہ انسانی ترقی کی رفتار چالیس ہزار سال پہلے تیز ہونے لگی) آرٹ کے اولین نمونوں کا تعلق اسی عہد سے ہے جب آج کے جدید انسان نے آبنائے بیہرنگ عبور کی اور مغربی نصف کرے میں پہنچا۔ ماہرین کا خیال ہے کہ کوئی ستر ہزار سال پہلے سائبیریا کو الاسکا سے ملانے والا برفانی پل بنا جو اب سے کوئی دس ہزار سال پہلے تک موجود تھا ۔ سماجی اور جنیاتی مواد سے پتہ چلتا ہے انسان پہلے پہل مغربی نصف کرے میں اسی راستے سے پہنچا تھا ۔

برف کا آخری دور 12000 سال قبل مسیح سے 10000 ہزار سال قبل مسیح کا ہے، ایک محتاط اندازے کے مطابق اس وقت دنیا کی آبادی تقریباً 40 لاکھ نفوس پر مشتمل تھی (اس تعداد میں کافی تضاد کا امکان ہے کیونکہ اس وقت ذرائع ابلاغ، مواصلات اور سماجی روابط بہت قلیل تھے اور انسانوں کا آپسی رابطہ آسان نہ تھا) اور (6) بر اعظموں پر مشتمل تھی۔

سب سے پرانے انسانی معاشروں میں لوگ خاندانوں کی صورت میں تقسیم تھے۔ شکار کرتے، مچھلیاں پکڑتے اور دوسرے طریقوں سے خوراک اکٹھی کرتے تھے۔ جانوروں کی کھال اور ان کے بالوں سے اپنے لباس تیار کرتے، پتھروں کو تراش کر نوکیلے اور کارآمد آلات بناتے ۔ پتھر کے زمانے کے آخری دنوں میں ایک انقلاب رونما ہوا، جو برف کے زمانے کے جانے کی وجہ سے ہوا اس انقلابی زمانے میں کاشتکاری کا ہنر متعارف ہوا، سوت کاتنے اور بننے کا عمل شروع ہوا، مٹی کے برتن، تیرکمان بنانے اور جانوروں سے کام لینے کا سلسلہ شروع ہوا، کاشتکاری کے فن میں مزید بہتری آنے کی وجہ سے خوراک کی پیداوار اور فراہمی میں اضافہ ہوا ، اور فارغ وقت دوسرے فنون کو جاننے کے لئے استعمال کیا جانے لگا۔ چھ ہزار سال پہلے پتھر کے آلات کی جگہ تانبے کے آلات نے لے لی۔ تانبے اور ٹین کو ملا کر کالتی بنائی گئی جو زیادہ لچک دار دھات ہوتی ہے۔ لوہے کو پگھلانے کا ہنر تین ہزار سال قبل مسیح سے پہلے شروع ہوا۔ اب خوراک چونکہ زمین سے پیدا ہورہی تھی اس لئے لوگوں نے مل جل کر رہنا شروع کردیا جس سے آبادی گھنی ہوتی گئی ۔

تاریخ دانوں میں یہ موضوع زیر بحث ہے کہ زمین پر زراعت کسی ایک جگہ شروع ہوئی یا بہت سے مقامات پر ہوئی۔ آثار قدیمہ کے ماہرین نے شام کے شمال میں ایوموریہ کے مقام پر یہ دریافت کیا کہ تقریباً نو ہزار پانچ سو سال پہلے یہاں اچانک ایک تبدیلی رونما ہوئی تھی۔ زمین کی گہرائی میں کھودتے ہوئے انہوں نے یہ دیکھا کہ مٹی کا رنگ بادامی سے کالا ہوگیا تھا جس میں کسی پودے کے ٹکڑے شامل تھے۔ جس سے یہ اشارہ ملتا تھا کہ اس سے پہلے کی بستی پر کاشتکاری کرنے والا گاؤں تعمیر ہوا تھا۔ اس سے یہ بھی شواہد ملتے ہیں کہ وہاں کے باشندے جو سرد موسم کے پھر سے شروع ہونے کے بعد یہاں آئے تھے، انہیں اچانک مختلف نوعیت کے مقامی پودوں کا علم ہوگیا تھا جو کہ مشرق وسطی میں پھیل گئے تھے۔ بعض لوگوں کا یہ قیاس ہے کہ زراعت کے بارے میں جو علم لوگوں میں تیزی سے پھیلا اس کا سبب “مواصلات کا انقلاب” تھا جو تجارت کی وجہ سے شروع ہوا۔ جنوبی ترکی میں قیت الحیوق کے مقام پر کھدائی کے دوران میں یہ انکشاف ہوا کہ یہاں ایک بستی تھی، جس کی آبادی پانچ سے دس ہزار نفوس کے درمیان تھی، یہ جگہ تجارت کا مرکز تھی۔ یہ آبادی جہاں سانڈوں کی عبادت ہوتی تھی، نو ہزار سال قبل دنیا کا پہلا شہر رہا ہوگا۔

مغربی مؤرخوں کے مطابق مصر اور میسوپوٹامیہ تہذیب کے اولین گہوارے تھے۔ تاہم یہ بھی ممکن ہے کہ ایک زیادہ نفیس قسم کا معاشرہ ہندوستان میں ابتدائی عہد میں موجود رہا ہو۔ ریگ وید میں بہت سے اشعار “سرما” کا حوالہ دیتے ہیں جب سورج نصف النہار پر تھا اور سورج کے برج حمل میں داخل ہونے کی ابتداء تھی۔ یہ حالات سات ہزار سال قبل مسیح کے فلکیات سے ملتے جلتے ہیں۔ ہڑپہ اور موہنجوڈارو کی کھدائی سے فنی طور پر ایک زیادہ ترقی یافتہ تہذیب کے باقیات ملتے ہیں، جو تین ہزار سال قبل مسیح میں پائی جاتی تھی۔ اس کے شہر باضابطہ گلیوں سے منسلک تھے، جن میں پانی کی فراہمی، نکاسی آب اور غسل خانوں کا انتظام موجود تھا۔ اس کے باشندے گندم اور جو کھاتے تھے اور کپاس سے بنے ہوئے کپڑے پہنتے تھے۔ ان کی تحریر جسے اب تک پڑھا نہیں جاسکا، غالباً دراوڑی زبان سے نکلی تھی۔ اس عہد کی مہریں یہ ثابت کرتی ہیں کہ شروع میں “شو” کی پوجا ہوتی تھی۔ آریاؤں سے پہلے کا ہندوستانی معاشرہ اپنےمولد سے پھیلنا شروع ہوا۔ یہ سندھ اور سرسوتی کی وادیوں تک پھیل گیا اور دریائے گنگا کے قریب کے علاقے بھی اس میں شامل ہوگئے۔ 1800 سے 2000 قبل مسیح کے دوران جب سرسوتی دریا خشک ہوگیا تو یہ تہذیب بھی ناپید ہوگئی۔

بشکریہ:realisticapproach.org

Views All Time
Views All Time
690
Views Today
Views Today
3
یہ بھی پڑھئے:   مستنصر حسین تارڑ ۔ چاچا جی سے بابا جی تک - شاکر حسین شاکرؔ
Previous
Next

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

*

%d bloggers like this: