Skip to Content

Qalamkar | قلم کار

جہالت، ظلم اور ناانصافی کے خلاف برسرپیکار

معاہدہ عمرانی اور حکومت | جعفر عباس

by مئی 25, 2017 بلاگ
معاہدہ عمرانی اور حکومت | جعفر عباس
Print Friendly, PDF & Email

تاریخ انسانی میں تہذیب وتمدن کی شروعات ہوئی تو عمرانی معاہدے نے لوگوں اور حکومت کے درمیان تعلق کی وضاحت کی۔
معاہدہ کسی دو فریقین کے درمیان راضی نامہ ہوتا ہے جس میں اگر ایک فریق انحراف کرے تو معاہدہ باطل ہو جاتا ہے۔ معاشرہ معاہدہ کا نتیجہ ہوتا ہے۔ معاشرے میں رہنے کے لئے ہمیں مختلف قوانین اور اصولوں کی ضرورت ہوتی ہے ۔ معاشرہ حکومت کے ذریعے کنٹرول کیاجاتا ہے اور معاہدہ ایک فریم ورک فراہم کرتا ہے کہ عوام اور حکومت کی ذمہ داریاں کیا ہیں۔
عمرانی معاہدے کے تحت افراد کو تحفظ جان و مال ، تعلیم، صحت، مساوات اور انصاف ملتا ہے اور اُ س کے بدلے اُن کو اپنی کچھ آزادی گروی رکھنی پڑتی ہے۔
مختلف اوقات میں تین دانشوروں ہابس، لاک اور روسو نے معاہدہ عمرانی کانظریہ دیا ۔
تھامس ہابس (1679-1588)برطانیہ کا سماجی دانشور تھا ۔اُس کے مطابق ابتداء میں معاشرہ فطری حالت میں تھا ،حکومت موجود نہ تھی،سب لوگ برابر تھے اور جان کو ہر وقت خطرہ لگا رہتا ۔امن کے حصول کے لئے افراد نے آپس میں معاہدہ کیا اور اپنی آزادی اِس شرط پہ اقتدار اعلیٰ کے سپرد کی کہ وہ اُن کی زندگی کی حفاظت کرے گا۔ ہابس ملوکیت کا قائل تھا ۔
جان لاک (1704-1632)بھی برطانیہ کا سماجیات کا عالم تھا ۔جان لاک ، ہابس کے حالت جنگ کے نظریے کو نہیں مانتا۔اُس کے مطابق ابتدائی معاشرہ پر امن تھااور معاشرے میں مساوات تھی۔شہری حکومت کا معاہدہ اِس غرض سے کیا گیا کہ اقتدار اعلیٰ لوگوں کی املاک اور جائیداد کی حفاظت کرے۔ اُس کے مطابق حکومت کا مقصد املاک کا تحفظ ہے افراد کا نہیں۔ لاک سرمایہ دارانہ جمہوریت کاسچا نمائندہ تھا۔لاک نے بادشاہ کی اِس حیثیت کو چیلنج کیا کہ بادشاہ سے کوئی سوال نہیں کیا جا سکتا۔لاک کے مطابق افراد ٹیکس اور خدمات دیتے ہیں تو حکومت کو لازماً اِس کے بدلے لوگوں کی خواہشات اور ضرورتوں کا خیال رکھنا چاہیے۔1783ء میں امریکہ میں آزادی کی جنگ شروع ہوئی تو اعلان نامے کے ابتدائی الفاظ لاک کی کتاب سے لئے گئے اور جمہوری ریاست کا آئین بھی جان لاک کے نظریات کے تابع تھا۔
ژاں ژاک روسو(1778-1712)فرانس کا عظیم دانشور تھا۔ اُس کا قول ہے "آدمی آزاد پیدا ہوا ہے مگر ہر طرف زنجیروں میں جکڑا ہوا ہے”۔
مطلب یورپی حکمران اور ملکہ بے انصافی سے حکومت کرتے ہیں۔ اُنہوں نے اپنے طرز حکمرانی سے لوگوں کی زندگیاں اجیرن کر رکھی ہیں۔وہ کہتا ہے کہ سماج میں عام آدمی کو مساوات، بنیادی ضروریات اور تعلیم تک ہر ممکن رسائی حاصل ہو۔ تاکہ عوام طاقت کے غلط استعمال کا دفاع کر سکیں۔ افراد کو سہولیات اور اچھی تعلیم ملے تاکہ وہ معاشرے کو بہتر بنا سکیں۔روسو کی کتاب معاہدہ عمرانی 1762میں شائع ہوئی اور اتنی مقبول ہوئی کہ "انقلاب فرانس کی انجیل” کہلائی۔اُس کا موضوع شخصی آزادی ہے۔ مگر روسو کو زیادہ دلچسپی مساوات سے تھی روسو کے مطابق مساوات قائم کرنے کے سلسلے میں اگر شخصی آزادی قربان ہو جائے تو مضائقہ نہیں۔
اِس ساری بحث کا اجمالی جائزہ لیا جائے تو ہمارے آگے امن، ترقی، تحفظِ جان و مال، مساوات، انصاف، تعلیم اور بنیادی ضروریات کے لفظ آتے ہیں۔وطن عزیز میں 1973ء کے آئین کے تحت نظامِ جمہوریت رائج ہے۔ پاکستان میں بھی حکومت کسی معاہدہ عمرانی کے نتیجے میں وجود میں آئی ہے۔ حکمرانوں کے پاس حکمرانی کا اخلاقی جواز معاہدہ عمرانی کے بل پر ہے۔ عوام نے حکمرانوں کو معاہدہ عمرانی کے نتیجے میں حکومت دی ہے تو حکومت کا فرض ہے کہ عوام کو امن، ترقی، تحفظِ جان و مال، مساوات، انصاف، تعلیم اور بنیادی سہولیات فراہم کرے۔پاکستان میں کسی بھی حکومت نے معاہدہ عمرانی کے اِس بنیادی فلسفہ کو سمجھنے اور اور اِس پر عمل کرنے کی کوشش نہیں کی ہے۔ حکمرانوں کے پاس حق حکمرانی معاہدہ عمرانی کی وجہ سے ہے۔
دو فریقین میں سے ایک فریق انحراف کرے تو معاہدہ باطل ہوجاتا ہے۔اگر حکمران عوام کو بنیادی سہولیات، مساوات، تعلیم، تحفظ، انصاف فراہم نہیں کرتے تو حکمرانی کا کوئی جواز نہیں رہتا اور عوام کو پورا حق حاصل ہو جاتا ہے کہ وہ حکمرانوں کا سر عام احتساب کریں۔جب پاکستانی عوام نے معاہدہ عمرانی کے بنیادی فلسفہ کو سمجھ لیا تو بد عنوان حکمرانوں کے لئے حکومت خواب بن جائے گی اور پاکستانی عوام جن کے لئے زندگی بقول غالب:
صبح کرنا شام کا ، لانا ہے جوئے شیر کا
کی عملی تفسیر بن گئی ہے۔ اُن کی حالت بہتر بن سکتی ہے ۔ضرورت اِس امر کی ہے کہ عوام کو معاہدہ عمرانی کے حوالے سے شعور دیا جائے تاکہ عوام اِس اصول کو شناخت کریں جس کے تحت وہ حکمرانوں کو حق حکمرانی تفویض کر تے ہیں اور اپنی اور حکمرانوں کی ذمہ داریوں کو پہچانیں۔ تاکہ اچھے حکمران ہمارا مقدر بن سکیں۔

Views All Time
Views All Time
429
Views Today
Views Today
1
یہ بھی پڑھئے:   کمسن لہجوں میں بوڑھی آوازیں ہیں | مجتبیٰ حیدر شیرازی
Previous
Next

One commentcomments2

  1. شاندار تحریر۔ لیکن بلی کے گلے میں گھنٹی باندھے گا کون؟

  2. شاندار۔ جعفر عباس بزدار

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

*

%d bloggers like this: