Skip to Content

Qalamkar | قلم کار

جہالت، ظلم اور ناانصافی کے خلاف برسرپیکار

پاکستان کے خلاف بھارت اسرائیل خفیہ گٹھ جوڑ-غلام نبی مدنی

by فروری 11, 2017 قلم کار
Print Friendly, PDF & Email

اسرائیل کے ساتھ بھارت کے تعلقات کی تاریخ طویل ہے۔ باضابطہ طور پر 1950ء میں بھارت کے وزیراعظم جواہر لال نہرونے یہ کہہ کر کہ ”اسرائیل ایک حقیقت ہے“ اسرائیل کو خودمختار ریاست تسلیم کر لیا تھا۔ لیکن عوامی دباؤ اور سیاسی مفادات کی وجہ سے باقاعدہ سفارتی تعلقات 42 سال تک خفیہ رکھے گئے۔ چنانچہ 1992ء میں بھارت نے پہلی مرتبہ اسرائیل میں سفارت خانہ کھولا، جس کے بعد مستقل سفارتی، اقتصادی اور دفاعی تعلقات بڑھنا شروع ہوئے۔ 1997ء میں اسرائیل کے ساتویں صدر عیزوایزمان پہلے اسرائیلی صدر تھے جنہوں نے بھارت کا دورہ کیا اور انڈیا کے ساتھ اسلحے کی بہت بڑی ڈیل کی۔ اس کے بعد 1999ء میں کارگل جنگ کے موقع اسرائیل نے کھل کر بھارت کی حمایت اور مدد کی، جس کا اقرار 2008ء میں اسرائیلی سفیر نے بھی کیا۔ 2000ء میں اسرائیلی نیوی نے بھارتی نیوی کے ساتھ مل کر بحیرہ عرب میں سمندری مشقیں کیں اور اسرائیل نے بھارت کو پانی کے اندر ہتھیار لے جانے والے میزائل فروخت کیے۔ 2005ء میں انڈیا نے 220 ملین ڈالر کے 50 ڈرون طیارے اسرائیل سے خریدے۔ 2007ء میں بھارت نے اسرائیل سےڈھائی بلین ڈالر کے عوض اینٹی میزائل سسٹم بھی خریدا۔2008ء میں بھارت کے فوجی سربراہان نے اسرائیل کا دورہ کیا اور مل کر جدید اسلحے کی ٹیکنالوجی حاصل کرنے پر اتفاق کیا۔ 2009ء میں اسرائیل کے چیف آف آرمی سٹاف نے پہلی مرتبہ انڈیا کا دورہ کیا اور انڈیا کے خلاف کسی بھی قسم کی جنگ میں مدد کی یقین دہانی کروائی۔ اس کے علاوہ بھارتی خفیہ ایجنسی را بھی شروع سے اسرائیلی خفیہ ایجنسی موساد کے ساتھ قریبی تعلقات رکھتی ہے۔ 1968ء میں جب را کو بنایا گیا تو اس کے پہلے ڈائریکٹر R.N Kao نے بھارتی وزیراعظم اندراگاندھی کو مشورہ دیا کہ پاکستان اور چائنا کے خلاف کام کرنے کے لیے اسرائیلی خفیہ ایجنسی موساد کے ساتھ تعلقات بنانا بہت ضروری ہے۔ 90 کی دہائی میں پاکستان نے را اور موساد کے پاکستان مخالف خفیہ تعلقات پر اس وقت آواز اٹھائی جب سیاحت کے نام پر دو اسرائیلی خفیہ ایجنسی کے اہلکار مقبوضہ کشمیر میں آئے، ان میں سے ایک کو کشمیری مسلمانوں نے مار دیا اور ایک کو اغوا کر لیا تھا۔ 1996ء میں انڈین خفیہ ایجنسی کے سابق افسر آر کے یادیو پر کرپشن کرکے پراپرٹی خریدنے کا الزام لگا، جس کی تحقیقات کے دوران پتہ چلا کہ دراصل وہ پراپرٹی انڈین خفیہ ایجنسی را نے اسرائیلی خفیہ ایجنسی موساد کے لیے خریدی تھی۔ ٹائمز آف انڈیا کے مطابق 2015ء میں جب مودی G20 کانفرنس میں شرکت کرنے ترکی گئے تو اس وقت موساد اور MI5 کے خفیہ اہلکار مودی کا تحفظ کر رہے تھے۔\r\n\r\nنریندر مودی حکومت کے آنے کے بعد سیاسی اور دفاعی سطح پر اسرائیل کے ساتھ بھارتی تعلقات میں ماضی کی بہ نسبت دوگنا اضافہ ہوا ہے۔ انڈین میڈیا کے مطابق 2006ء میں مودی اسرائیل کا وزٹ کرچکے ہیں اور اسرائیلی حکومت کے ساتھ گہرے مراسم رکھتے ہیں۔ اس کا اندازہ اس سے لگایا جاسکتا ہے کہ 2014ء میں یہودیوں کے خاص تہوار ”چانوکا“ کےموقع پر مودی نے عبرانی زبان میں نیتن یاہو کو ٹوئٹر پر مبارکباد دی، جواب میں نیتن یاہو نے ہندی میں مودی کا شکریہ بھی ادا کیا۔ اس کے علاوہ 2014ء میں مودی حکومت کی وزیر خارجہ ششماسوراج نے اسرائیل کا دورہ کیا اور اسرائیلی وزیراعظم بنیامین نیتن یاہو سےملاقات کی۔ 2014ء ہی میں بھارت کے صدر پرناب مکھرجی پہلے بھارتی صدر تھے جنہوں نے اسرائیل کا دورہ کیا۔ 2014ء ہی میں پہلی مرتبہ اسرائیلی وزیردفاع بھارت آئے۔ اسرائیل کے ساتھ سفارتی تعلقات کے بعد تین بھارتی وزرائے خارجہ سمیت کئی حکومتی اور ملٹری عہدیدار اسرائیل کا دورہ کرچکے ہیں۔ 15نومبر 2016ء کو اسرائیلی صدر ریووین رویلن چھ روزہ دورے پر بھارت پہنچے، جنہوں نے بھارت کے ساتھ دفاع، تجارت، زراعت، ٹیکنالوجی، سائبر کرائم اور انٹیلی جنس ایسے شعبوں میں باہمی تعاون کے معاہدے کیے۔ انڈین میڈیا کے مطابق اسرائیلی صدر کا یہ دورہ دراصل مودی کے آئندہ سال اسرائیل دورے کی راہ ہموار کرنے کے لیے ہے۔\r\n\r\nبھارت اسرائیل دوستی کا اندازہ اس سے بھی لگایا جاسکتاہے کہ بھارت دنیا میں سب سے زیادہ اسلحہ اسرائیل ہی سے خریدتا ہے. 2014ء میں مودی حکومت نے 525 ملین ڈالر کے صرف میزائل اسرائیل سے خریدے۔ دونوں ملکوں کی دوطرفہ تجارت 1992ء میں 200 ملین ڈالر سے شروع ہوئی تھی جو اس وقت 5 بلین ڈالر ز تک بڑھ گئی ہے۔ اس کے علاوہ سیاحت اور تعلیم کے نام پر بھی دونوں ملکوں میں بہت زیادہ قرابت ہے۔ حالیہ دورے میں اسرائیلی صدر ریووین ویلن نے کہا کہ اسرائیل میں پڑھنے والے غیرملکی طلبہ میں سے 10 فیصد بھارتی طلبہ ہیں اور بہت سے اسرائیلی کالجوں اور یونیورسٹیوں میں مطالعہ بھارت کو بطور مضمون پڑھایا جا رہا ہے۔ ٹائمز آف اسرائیل کی رپورٹ کے مطابق 40 ہزار اسرائیلی ریٹائرڈ فوجی سالانہ انڈیا کا وزٹ کرتے ہیں جبکہ 2015ء میں انڈیا سے43439 لوگ سیاحت کے نام پر اسرائیل گئے۔\r\n\r\nاسرائیل کے ساتھ انڈیا کی قربتوں کی اس مختصر داستان کے بعد ایک نظر دونوں کے مشترکہ اہداف پر بھی ڈال لی جائے تو اس دوستی کی گہرائی مزید کھل کر سامنے آجائی گی۔برطانیہ نے اسرائیل کو مسلمانوں کی زمین فلسطین پر قبضہ کروا کے بنوایا، دوسری طرف ہندوستان میں مسلمانوں کی ساڑھے آٹھ سوسالہ حکومت ختم کر کے برطانیہ ہی نے بھارت کو ایک الگ ملک بنوایا۔ دونوں کے الگ الگ ملک بننے میں نوماہ کا وقفہ ہے۔ اسرائیل کو امریکہ کا بچہ کہا جاتا ہے، جو آج بھی اسرائیل کو یومیہ 10.2ملین ڈالر فوجی امداد دیتا ہے، جبکہ آئندہ دس سالوں میں 38 بلین ڈالر کی امداد اس کے علاوہ دے گا۔ دوسری طرف اسرائیل کی طرح بھارت کی طرف بھی امریکہ کا جھکاؤ بہت زیادہ ہے۔ چنانچہ جارج بش نے کہا تھا کہ انڈیا جمہوریت کی بہترین مثال ہے، یہ بہت پرہیزگار ہے۔ جون 2002ء میں بھارت اسرائیل اور امریکی حکام نے 16 خفیے اجلاس کیے جس میں پینٹا گون، موساد، ایف بی آئی، سی آئی اے اور را شامل تھے۔ نیز پاکستان کے ایٹمی دھماکوں کے وقت امریکہ ہی تھا جس نے بھارت کے کہنے پر پاکستان پر سخت ترین دباؤ ڈالا اور بدلے میں بہت کچھ دینے کا کہا۔ چائنا اور پاکستان کو کمزور کرنے کے لیے امریکہ ہمیشہ بھارت کے ساتھ مل کر پاکستان مخالف منصوبے بناتا رہا ہے۔ بنگلہ دیش کی علیحدگی میں بھی بھارت کے ساتھ مل کر امریکہ نے پاکستان کو کمزور کیا۔ اسی طرح اسرائیل فلسطینی مظلوم مسلمانوں پر پچھلے ستر سالوں سے ظلم کر رہا ہے، دوسری طرف بھارت بھی ستر سالوں سے کشمیری مسلمانوں پر ظلم کے پہاڑ توڑ رہا ہے۔ دونوں میں ایک اور مشترکہ پہلو یہ ہے کہ یہ دونوں پاکستان کے مخالف ہیں۔ اس کا اندازہ 1999ء میں کارگل جنگ میں اسرائیل کی انڈیا کی مدد اور پوکھران میں انڈیا کے ایٹمی دھماکوں پر انڈیا کا ساتھ دینے اور را اور موساد کے تعلقات سے لگایا جاسکتا ہے۔ جنرل ضیاء الحق کے دور میں اسرائیل اور بھارت مل کر کہوٹہ پر حملہ کرنا چاہتے تھے مگر سازش پکڑی گئی تھی اور اسرائیل کو سخت پیغام دیے جانے کی وجہ سے اس پر عمل نہیں ہو سکا تھا.\r\n\r\nپاکستان مخالف بھارت اسرائیل کا یہ گٹھ جوڑ اور پھر مودی حکومت کے آنے کے بعد اس اتحاد میں پختگی اور اضافہ پاکستان کو بہت کچھ سوچنے پر مجبور کر رہا ہے۔ ایک طرف بھارت پاکستان کے خلاف اسرائیل کے ساتھ قربتیں بڑھا رہا ہے، دوسری طرف سی پیک کے خلاف بھارت امریکہ، اسرائیل، افغانستان اور ایران کے ساتھ مل کر لابنگ کر رہا ہے۔کشمیر میں چار ماہ سے جاری بھارتی جارحیت، ایل او سی پر بھارتی بزدلانہ کارروائیاں، پاکستانی سمندری حدود کی خلاف ورزی، بلوچستان میں بدامنی پھیلانے کے لیے منصوبہ سازی اور گواد کے مقابلے میں چاہ بہارپورٹ میں 500 ملین سے زائد کی سرمایہ کاری کا مقصد صرف پاکستان کو کمزور کرنا ہے۔ اسرائیل کی طرح ایران کے ساتھ بھارتی قربت کا اندازہ اس سے لگایا جاسکتا ہے کہ 2003ء میں ایران نے بھارت کے ساتھ یہ معاہدہ کیا کہ اگر پاکستان یا کوئی دوسرا ملک بھارت کے ساتھ جنگ کرے گا تو ایران اس کے ساتھ مل کر لڑے گا۔پاکستان مخالف بھارتی گٹھ جوڑ سے نمٹنے اور سی پیک کو کامیاب بنانے کے لیے ضروری ہے کہ پاکستان اپنے تعلقات کو چائنا، روس اور اسلامی ملکوں ترکی، خلیجی ممالک بالخصوص سعودی عرب اور یورپی ممالک کے ساتھ مضبوط کرے اور تجارتی، اقتصادی اور دفاعی تعاون کو فروغ دے۔

Views All Time
Views All Time
298
Views Today
Views Today
1
یہ بھی پڑھئے:   کتھارسس - کرن ناز
Previous
Next

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

*

%d bloggers like this: