اسلام آباد میں تشدد سے کئی صحافی زخمی، خطرات کے باوجود کام جاری رکھنے کے لئے ادارہ جاتی دباو

Print Friendly, PDF & Email

اسلام آباد میں فیض آباد کے مقام پر جاری تحریک لبیک اور اتحادی مذہبی جماعتوں کے دھرنے میں شرکاء کے تشدد سے کئی صحافی زخمی ہو گئے ہیں۔ مظاہرین نے جلتی ہوئی گاڑیوں کی تصویر بنانے پر موبائل فون اور کیمرے توڑ دئے جبکہ صحافتی کارکنوں کو گھیرے میں لے کر تشدد بھی کیا گیا۔ پیمرا کے حکم پر نیوز چینلز کی نشریات بند رہیں لیکن متبادل ذرائع سے ناظرین کو باخبر رکھنے کے لئے کارکنوں نے کام جاری رکھا۔

حملوں کے دوران نجی ٹی وی چینل سماء نیوز کی ڈی ایس این جی وین سے کیمرے اور قیمتی سامان لوٹ کر اسے نذر آتش کر دیا گیا۔ اس خطرناک صورت حال میں صحافتی تنظیمیں حسب معمول بیان جاری کرنے تک محدود رہیں جبکہ پولیس بھی بےبسی کے باعث مدد کرنے کے قابل نہ تھی۔ حالات زیادہ خراب ہونے کے بعد میڈیا اداروں نے قیمتی گاڑیوں اور سامان کو فساد زدہ علاقے سے نکال لیا جبکہ صحافی اور کیمرہ مین حالات معمول پر آنے تک بے یار و مددگار موبائل فون سے تازہ ترین خبریں اور تصویریں اپنے اداروں کو پہنچانے پر مجبور رہے۔

Views All Time
Views All Time
338
Views Today
Views Today
2
یہ بھی پڑھئے:   اسلام آباد میں حالات سنبھالنے کے لئے فوج کی ۱۱۱ بریگیڈ طلب

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

%d bloggers like this: