ہار جیت کا کھیل – محمد اسلام تبسم

Print Friendly, PDF & Email

islam-tabassumہار اور جیت ایک دوسرے کی ضِد ضرور ہیں مگر ایک دوسرے سے الگ بالکل نہیں،دونوں ایک ہی سکے کے دو رُخ ہیں اور ندی کے دو کناروں کی طرح ساتھ ساتھ چلتے ہیں۔جس طرح خوشبو کے بغیر پھول کی کوئی حیثیت نہیں ایسے ہی بغیر ہار کے جیت کا تصّور بھی ناممکن ہے ۔زندگی میں ہار اور جیت سے ہر انسان کا واسطہ پڑتا ہے ،دنیا میں شاید ہی کوئی شخص ایسا ہو گا جس نے کبھی ہار نہ دیکھی ہو ،اور مسلسل جیتتا ہی چلا آیا ہو۔تاریخ کے اوراق اِس بات کے گواہ ہیں کہ بڑے بڑے ظالم اور جابر حکمرانوں کو جب میدانِ جنگ میں فتح ہوتی تو وہ ہنستے بستے شہروں کو آگ لگا کر اپنی فتح کا جشن منایا کرتے تھے لیکن اُن کے مرنے کے بعد اُن کا نام لینے والا بھی کوئی نہ رہا۔اپنے دور میں ظلِ الٰہی،عالم پنا اورعالی جناب کہلانے والے آج آنجہانی اور بدنصیب کہلاتے ہیں ۔میرے خیال میں ہار اور جیت دکھ سکھ کی طرح انسان کے ساتھی ہیں اس لئے انسان کو اپنی جیت پر غرور نہیں کرنا چاہئے اور نہ ہی اپنی ہار کا سوگ منانا چاہئے۔ جیت انسان کو خود غرض اور مغرور بنا د یتی ہے ،جیتنے والا خود کو اور ہی دنیاکا مخلوق تصّورکرتا ہے،اُس کی یہ خواہش ہوتی ہے کہ سب اُس کا احترام کریں اور اُسے سر آنکھوں پر بِیٹھائیں ۔جب کہ ہارنے والے کو کچھ سُجھائی نہیں دیتا، وہ کبھی خود کو اور کبھی دوسروں کو اپنی ہار کا ذمہ دار ٹھہراتا ہے۔ہارنے والے کا کوئی پُرسانِ حال نہیں ہوتا۔اُس کے اپنے بھی اُس کا ساتھ چھوڑ جاتے ہیں۔وہ بالکل اکیلا رہ جاتا ہے ۔جو شخص اپنی ہار پر ہمت نہیں ہارتاکامیابی اُسی کے قدم چومتی ہے۔
ہار اور جیت موسم کی طرح آتے جاتے رہتے ہیں ۔جس طرح بہار کی آمد پر ہر طرف پھول ہی پھول کھِل اُٹھتے ہیں اور ہر چہرہ مسرور دِکھائی دیتا ہے بالکل ایسے ہی جیت انسان کی زندگی میں ڈھیروں خوشیاں لاتی ہے جب کہ ہارخزاں کی صورت ہماری زندگی میں آکر ہمیں اُداس کر جاتی ہے۔آپ نے دیکھا ہو گا کہ خزاں کے آنے پر ہرطرف عجیب سی اُداسی چھا جاتی ہے،درختوں کے پتے جھڑنے لگتے ہیں اور سناٹے کا یہ عالم ہوتا ہے کہ ہوا کی سسکی بھی صاف سنائی دیتی ہے۔لیکن کچھ ہی عرصہ بعد موسم بدلتا ہے اوردرختوں کی ٹہنی سے ننھی ننھی کونپلیں بغاوت کی صورت پھوٹتی ہیں،دیکھتے ہی دیکھتے بغاوت انقلاب میں بدلتی ہے اور خزاں کسی ہارے ہوئے مطلق العنان حکمران کی طرح رات کی تاریکی میں غائب ہو جاتی ہے۔بہار کے آتے ہی پرندے خوشی کے گیت گاتے ہیں اور مرجھائے ہوئے چہرے پھر سے کھِل اُٹھتے ہیں ۔
انسان کی یہ بڑی بدنصیبی ہے کہ وہ صرف جیت کو ہی اپنی خوش نصیبی سمجھتا ہے۔وہ یہ سمجھتا ہے کہ جیت ہی سب کچھ ہے اس لئے وہ ہرصورت جیتنا چاہتا ہے،اور بعض دفعہ وہ ایک چھوٹی سی جیت کی خاطر اپنا سب کچھ ہار بیٹھتا ہے۔کچھ لوگ ایسے بھی ہیں جوجیت کی خاطر جھوٹ اور فریب کاسہارا لیتے ہیں،ایسے لوگ مقابلہ تو جیت جاتے ہیں لیکن لوگوں کے دل نہیں جیت پاتے،اپنی اس جیت پر وہ بظاہر خوش تو نظر آتے ہیں لیکن اُن کاضمیر مطمئن نہیں ہوتا وہ ملامت کرتا رہتا ہے جب کہ سچائی کی راہ پر چلنے والے کی ہار بھی جیت ہوتی ہے۔وہ اپنی اس ہارکے بعد لوگوں کی نظروں میں پہلے سے زیادہ معتبرہو جاتا ہے ۔
مسلسل جیت انسان میں تکبرپیدا کرتی ہے ،ایسا شخص خود کو اور ہی دنیا کا مخلوق تصّور کرتا ہے،وہ عام لوگوں میں اُٹھنا بیٹھنا پسند نہیں کرتااِس طرح وہ لوگوں سے دور ہوتا جاتا ہے اور ایک دن بالکل تنہا رہ جاتا ہے ۔وہ ایسے کندھے کی کمی شدت سے محسوس کرتا ہے جس پر سر رکھ کر رو سکے۔میں نے بہت سے جیتنے والوں کو تنہائی میں چھپ کر روتے دیکھا ہے ،کیوں کہ جیت اُس وقت بہت ہی تکلیف دہ بن جاتی ہے جب آپ کی جیت آپ کے ساتھ مل کرخوشی منانے والا کوئی نہ ہو۔مسلسل جیت کی خواہش انسان کوخود غرض بنا دیتی ہے ،اُس کا دل محبت سے خالی ہو جاتا ہے ،وہ صرف اپنے ہی بارے میں سوچتا ہے اُسے دوسروں کے دکھ سکھ سے کوئی مطلب نہیں ہوتا اسی لئے وہ رفتہ رفتہ اپنوں سے بہت دورہو تاجاتا ہے ۔
کچھ لوگ محبت کو بھی کھیل سمجھتے ہیں اور وہ اس کھیل ہر صورت جیتنا چاہتے ہیں ،وہ نہیں جانتے کہ محبت جیت نہیں ہار کا نام ہے اس میں خود کو ہارنا پڑتا ہے، یہ وہ کھیل ہے جس میں جیت ہوتی ہی نہیں صرف ہار ہی ہار ہے۔دنیا کے تمام نظام ایک جمع ایک دو کے اصول پر چلتے ہیں جبکہ محبت میں ایک جمع ایک دو نہیں بلکہ صفر آتا ہے۔محبت کا دوسرا نام اپنی ذات کی نفی ہے۔یہ کچھ لینے نہیں بلکہ سب کچھ دینے کا نام ہے۔ جو ایسا نہیں کرتے وہ محبت جیسے لطیف جذبے سے محروم رہتے ہیں۔اب تک دنیامیں جتنی بھی محبت کی داستانیں لکھی گئی ہیں اُن سب میں ایک قدر مشترک ہے ،اور وہ ہے ہار۔سسی نے محبت کی بازی جیتنے کے لئے خود کو صحرا کے حوالے کر دیا اور سوہنی نے خود کو چناب کی لہروں کے حوالے کرکے محبت کی بازی جیت لی۔
بچپن میں ہم عمر لڑکوں کے ساتھ کھیلتے ہوئے میں اکثر ہار جاتا تھا ،ہارنے کے بعد میری عجیب کیفیت ہوجایاکرتی ، کبھی مجھے خود پر اور کبھی جیتنے والے پر بے حد غصہ آتااور میں گالیاں دینے لگتا ،میری یہ حالت دیکھ کراکثر دوست مجھ پر ہنستے اور میرا مذاق اُڑاتے ۔ کافی عرصہ تک میری یہی کفیت رہی ،پھر ایک روزمجھ پر یہ بات منکشف ہوئی کہ زندگی صرف جیت ہی نہیں ہار کا نام بھی ہے،اگر میری ہار کسی کے جیت کا سبب بنتی ہے اور اُس کے چہرے ہر مسکراہٹ بکھیرتی ہے تو مجھے رنجیدہ ہونے کی بجائے خوش ہونا چاہئے،بس یہی سوچ کر میں اپنی ہار سے لطف اندوز ہونے لگا ،میں سب سے پہلے جیتنے والے کو گلے لگا کر مبارکباد دیتا اِس طرح میرا توکچھ نہ بگڑتا البتہ جیتنے والے کی جیت مشکوک ہو جاتی۔ انسان کی زندگی میں بعض دفعہ ایسے لمحے بھی آتے ہیں جب اُسے اپنی ہار پر فتح کاجشن منانا پڑتا ہے کیوں کہ اُسے مات دینے والے کوئی نہیں اُس کے اپنے ہوتے ہیں۔

Views All Time
Views All Time
879
Views Today
Views Today
4
یہ بھی پڑھئے:   بھارتی جھوٹ کا طلسم-ایمان ملک

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

%d bloggers like this: