Skip to Content

Qalamkar | قلم کار

جہالت، ظلم اور ناانصافی کے خلاف برسرپیکار

اسلام میں اعداد کا حیرت انگیز استعمال-عظیم الرحمن عثمانی

اسلام میں اعداد کا حیرت انگیز استعمال-عظیم الرحمن عثمانی
Print Friendly, PDF & Email

یہ امر حتمی تو نہیں ہے مگر دین اسلام کا عمومی جائزہ لیں تو کچھ اعداد ایسے ہیں جواپنے مقام و مماثلت کے اعتبار سے جائزہ لینے والے کو حیرت میں مبتلا کر دیتے ہیں. انہی میں سے ایک عدد چار ہے. ہم جانتے ہیں کہ الله نے لاتعداد فرشتوں کو پیدا فرمایا ہے لیکن ان میں سے چار کو خصوصی شہرت و مقام دے دیا. یعنی جبرئیل، میکائیل، اسرافیل اور عزرائیل. ہم جانتے ہیں کہ الله رب العزت نے ہر دور میں رسول بھیجے لیکن ان میں سے چار کو خصوصی مقام مل گیا یعنی ابراہیم، موسیٰ، عیسیٰ اور محمّد (الہے سلام اجمعین). ہم واقف ہیں کہ بیشمار صحائف نازل کیے گئے مگر چار کی حتمی شناخت قایم رکھی گئی یعنی تورات، انجیل، زبور اور قرآن. ایک لاکھ سے زائد صحابہ میں سے چار کو امّت میں خاص مقام حاصل ہوا یعنی ابوبکر، عمر، عثمان اور علی (رضی الله اجمعین). مسالک بہت سے بنے مگر عام شہرت اکثریت میں چار کو حاصل ہوئی یعنی حنفی، شافعی، حنبلی اور مالکی. بارہ میں سے چار مہینے فضیلت والے کہلاے یعنی رجب، شعبان، رمضان اور محرم. یہ احساس ہوتا ہے کہ شائد رب العزت کثیر تعداد میں سے چار کا خصوصی انتخاب کرلیتے ہیں. واللہ عالم.

ایک اور عدد چالیس کا ہے. رسول اکرم (ص) کو چالیس برس میں نبوت دی گئی. سورہ بقرہ کی آیت ٥١ کے مطابق موسیٰ الہے سلام کو تورات کے احکام وادی سینا میں چالیس رات کی مدت میں عطا کیے گئے. قرآن میں سوره احقاف کی آیت ١٥ میں واضح اشارہ دیا گیا ہے کہ انسانی ذہن کی مکمل بلوغت کی عمر چالیس برس ہے. سورہ مائدہ کی ٢٦ آیت میں بنی اسرائیل کو چالیس برس کے لئے دربدر ہونے کی سزا سنائی گئی. یوں محسوس ہوتا ہے کہ چالیس کا عدد کسی بھی خاص تربیت کی تکمیل کا دورانیہ بیان کرتا ہے. اسی کا لحاظ کر کے چلّے کی اصطلاح رائج ہوئی ہے.

اسی طرح سات کے عدد کا جائزہ لیں تو قرآن کے بیان کے مطابق سات آسمان ہیں، سات زمینوں کی جانب بھی اشارہ ہے. حج میں کعبہ کے گرد سات طواف کیے جاتے ہیں. صفا اور مروا کے سات چکر مکمل کیے جاتے ہیں. حدیث میں گناہ کبیرہ سات بیان کیے گئے ہیں ، سات جہنم کے دروازے ہیں، سات کنکریاں شیطان کو حج میں ماری جاتی ہیں، عید کی تکبیریں بھی سات ہیں. یہ احساس ہوتا ہے کہ سات کا عدد بیک وقت کثرت اور تکمیل کی طرف اشارہ کرتا ہے. یہی سات کا عدد جب کسی دوسرے عدد سے ملتا ہے تو اس کے ایک معنی کثیر تعداد کے نکلتے ہیں. سات اور تین کو ملا کر تہتر فرقوں کا ذکر آیا ہے کہ امّت مسلمہ آخری وقتوں تک تہتر ٧٣ (سات اور تین) فرقوں میں بٹ جائے گی. یعنی بہت سے فرقے. سات اور دو کو جوڑ کر دیکھیے تو ٧٢ حوروں کی جو حدیث ہے وہ بھی شائد اسی جانب اشارہ کر رہی ہے کہ بہت سی حوریں.

ایک صحیح حدیث کے مطابق رسول پاک (ص) نے ارشاد فرمایا ہے کہ الله طاق ہے اور طاق اعداد کو پسند فرماتا ہے. شائد یہی وجہ ہے کہ ہم عمومی طور پر طاق تعداد میں وضو کرتے ہیں یعنی تین دفع ہاتھ دھونا، تین بارمنہ صاف کرنا وغیرہ. مغرب کی تین رکعات کے ذریعے ہم دن کی ادا کی ہوئی نمازوں کو طاق عدد کرتے ہیں. پھر عشاء اور قیام الیل کے بعد ایک یا تین یا پانچ رکعات ادا کی جاتی ہیں تاکہ رات کی یہ عبادت بھی طاق ہو جائے.

بات یہیں تک نہیں ہے بلکے قرآن مجید میں بھی ان اعداد کا خاص خیال رکھا گیا ہے جو اس کلام کے الہامی ہونے کی دلیل ہے. قرآن میں بتایا گیا ہے کہ حضرت عیسیٰ الہے سلام کی مثال بلکل حضرت آدم الہے سلام جیسی ہے. حیرت انگیز طور پر دونوں پیغمبروں کا ذکر پچیس پچیس بار آیا ہے. قرآن میں لفظ مرد یعنی ‘رجل’ کا ذکر چوبیس بار آیا ہے اور عورت یعنی ‘امرا’ کا ذکر بھی چوبیس بار آیا ہے. قرآن میں شیطان کا ذکر اڑسٹھ ٦٨ بار آیا ہے اور فرشتے کا ذکر بھی اڑسٹھ ٦٨ بار ہی آیا ہے. قرآن اس دنیا کی زندگی کا ایک سو پندرہ ١١٥ بار تذکرہ کرتا ہے اور آخرت کی زندگی کا بھی ایک سو پندرہ ١١٥ بار ذکر کرتا ہے. ہم میں سے ہر ایک بتا سکتا ہے کہ سال میں تین سو پینسٹھ دن ہوتے ہیں لیکن سوچنے کہ قرآن دن یعنی یوم لفظ کا استمعال پورے تین سو پینسٹھ بار کرتا ہے. قرآن پاک میں سورہ توبہ کی آخری آیات میں الله عزوجل نے صاف فرما دیا ہے کہ اس نے ہر ایک چیز عدد میں گن رکھی ہے.

واللہ عالم بصواب

Views All Time
Views All Time
800
Views Today
Views Today
3
یہ بھی پڑھئے:   ایام رمضان کی فضیلت | رانا اعجاز حسین
Previous
Next

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

*

%d bloggers like this: