اسلام اور جمہوریت۔ ایک جدید تناظر – دوسرا حصہ

Print Friendly, PDF & Email

irfanواپس شورائیت کی طرف آتے ہیں۔جب مشورہ ہو گا تو دو صورتیں سامنے آتی ہیں: یا تو سب لوگ ایک رائے پر اتفاق کر لیں گے؛ یا ان میں باہم اختلاف ہو جائے گا۔ اختلاف کی صورت میں اس کے سوا چارہ نہیں ہوتا کہ اکثریت کی رائے پر فیصلہ دے دیا جائے۔ کیونکہ جس طرح یہ گمان موجود ہے کہ اکثریت خطا کر سکتی ہے اسی طرح بلکہ اس سے زیادہ یہ خدشہ اقلیت کے بارے میں بھی موجود ہوتا ہے۔ اس لیے بہتر ہے کہ زیادہ کی مخالفت کی بجائے اکثریت کی رائے پر فیصلہ دے دیا جائے۔ رہی یہ بات کہ اکثریت ، اقلیت پر اپنی دھونس اور آمریت نہ جما لے تو اس کے لیے انسانی ضمیر اور قانون اور انصاف کے تقاضوں کو ہی اپیل کیا جاسکتا ہے۔ حکومتی پالیسوں پر تنقید کا حق شورائیت کے جزوِ لاینفک ہے۔ خلفاء نے اس حق کے تحفظ و ترویج کی عمدہ مثالیں قائم کی ہیں۔
یہ اسلام کے اصول کی روشنی میں نظامِ سیاست کا بنیادی خاکہ ہے، جو یقینا ہمارے ہاں مروجہ جمہوریت (DEMOCRACY)سے بہت پہلوؤں سےمماثلت رکھتا ہے، انسانی سیاسی تمدن کا ارتقاء اسلام کے مطمحِ نظر کے قریب آتا جا رہا ہے۔ تاہم، چونکہ مسلمان جمہوریت سے اس وقت متعارف ہوئے جب وہ زوال کا شکار ہوئے اس لیے وہ اس خود اعتمادی ، ذہانت اور تنقید سے اس کو وصول نہ کر سکے جو جمہوریت کو اسلامی اصولِ سیاست سے مکمل طور پرہم آہنگ کرنے کے لیے ضروری تھی۔ نیز صدیوں موروثی بادشاہت بنامِ خلافت کے تحت رہتے ہوئے وہ سیاسی تنقیدی صلاحیت کو پروان بھی نہ چڑھا سکے تھے۔ اس لئے وہ اگر سیاسی نظام پر تنقید کرنا بھی چاہتے تو نہ کر پاتے۔ چنانچہ ان میں تین طرح کے رجحان سامنے آئے ایک وہ جنہوں نے جمہوریت کو من وعن قبول کر لیا ۔یہ ذہنی طور پر شکست خوردہ تھے ۔ اور دوسرے وہ جنہوں نے اسے بالکلیہ کافرانہ نظام کہہ کر رد کر دیا ۔ یہ بھی شکست خوردہ نفسیات کا ردعمل تھا۔ تیسرے وہ جنہوں نے اسے کسی حد تک اسلامی اصولِ سیاست سے ہم آہنگ کرنے کی کوشش کی، جیسا کہ پاکستان، جہاں مقتدرِ اعلیٰ عوام کی بجائے اللہ کو تسلیم کیا گیا جس کی اطاعت میں اقتدار عوام کے نمائندوں کے ہاتھ میں امانت ہے۔
لیکن راقم یہ سمجھتا ہے کہ درحقیقت جمہوریت میں طاقت کا سرچشمہ عوام ہی ہوتےہیں۔ چاہے یہ جمہوریت’ اسلامی’ ہی کیوں نہ ہو اور چاہے اقتدارِ اعلی عوام کی بجائے اللہ کو قرار دیا گیا ہو۔ پاکستان میں اگرمقتدرِ اعلیٰ اللہ کو مانا گیا ہے اور یہ تسلیم کیا گیا ہے کہ کوئی قانون قرآن و سنت کے خلاف نہیں بنے گا تو اسی لیے کہ عوام کی اکثریت اس کی حمایتی تھی۔اگر کل خدا نخواستہ عوام کی اکثریت اسلام کے خلاف یا اس کے کسی حکم کے خلاف کھڑی ہوجائے تو حقیقت یہ ہے کہ بات تو اسی کی چلے گی۔ بھلا ایسی عوام پر اسلام کے نفاذ کے لیے زبردستی کی بھی کیسے جا سکتی ہے جو اس کو ماننے کو تیا ر نہ ہو۔ سید احمد شہید نے بھی یہ کوشش کی تھی ۔ نتیجہ یہ ہوا کہ شریعت سے متوحش پختون قبائل کے عمائدین نےسید صاحب کے تمام عمال کو ایک ہی رات میں تہ تیغ کردیا۔ سید صاحب اور ان کے رفقاء کو ان لوگوں کی مخبری کی وجہ سے سکھ فوج کے ہاتھوں جامِ شہادت نوش کرنا پڑا۔ غرض جو لوگ جمہوریت سے اسلامی اجتماعی احکامات کا نفاذ چاہتے ہیں انہیں چاہیے عوام کو ان کے اس فریضہ کا احساس دلائیں کے اسلام کے اجتماعی احکامات کا اختیار کر نا ان کا دینی فریضہ ہے اور اپنے حکمرانوں ، چاہے وہ مسلم ہوں یا غیر مسلم ، سے پر امن طریقے سے مطالبہ کریں کہ ان کو ان کے دینی اجتماعی احکامات پر عمل کرنے کے لیے مطلوبہ سہولیات فراہم کریں۔
جدید قومی ریاستوں میں، جہاں مسلم اور غیر مسلم ایک مخلوط معاشرے میں رہتے ہیں، حکمرانوں کے انتخاب میں دینی تفریق کا اصول نامناسب ہے۔ اسی طرح جداگانہ انتخابات کا طریقہ بھی غیر ضروری ہے۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ مسلمانوں پر صرف یہ فرض ہے کہ وہ جب بھی اقتدار میں آئیں، خواہ مطلق حیثیت سے یا مخلوط حکومت میں، تو مسلم معاشرے کے مسلم افراد پر اسلام کے اجتماعی احکامات کا نفاذ کردیں۔ رہے غیر مسلم، چاہے اقلیت میں ہو ں یا اکثریت میں ، وہ ملکی قوانین میں تو برابر کی حیثیت کے حامل ہوں گے لیکن ان پر ان کے مذھبی قوانین کا اطلاق ان کے کثرتِ رائے سے کیا جائے گا۔
بعض اہل، علم کے نزدیک ،جمہوریت میں امیدوارِ حکومت کا اپنے لیے حقِ حکومت طلب کرنا اسلام کے سیاسی مزاج سے ہم اہنگ نہیں ۔ رسول اللہ ﷺ کا ارشاد مبارک ہے:
«لَا تَسْأَلِ الْإِمَارَةَ فَإِنَّكَ إِنْ أُعْطِيتَهَا، عَنْ مَسْأَلَةٍ، وُكِلْتَ إِلَيْهَا، وَإِنْ أُعْطِيتَهَا مِنْ غَيْرِ مَسْأَلَةٍ، أُعِنْتَ عَلَيْهَا، فَإِذَا حَلَفْتَ عَلَى يَمِينٍ، فَرَأَيْتَ غَيْرَهَا خَيْرًا مِنْهَا، فَكَفِّرْ عَنْ يَمِينِكَ، وَأْتِ الَّذِي هُوَ خَيْرٌ» (سنن الدارمی جزء 2، ص 1513، حدیث ،2391، ناشر دار المغني للنشر والتوزيع، المملكة العربية السعودية)
تم خود سے امارت مت طلب کرو، اگر تمھیں یہ طلب کرنےسے ملی تو تمہیں اس کے حوالے کر دیا جائے گا۔ اور اگر بغیر طلب کے مل گئی تو تمہاری مدد کی جائے گی۔تو جب تم امارت کا حلف اٹھانے لگو تو تم دیکھو کہ کوئی اور تم سے بہتر ہے تو حلف اٹھانے سے رک جاؤ، اور امارت اس کے حوالے کر دو جو تم سےبہتر ہے۔
اس پر بعض دیگر اہلِ علم کا تبصرہ یہ ہے کہ رسول اللہ کا یہ فرمان مخصوص افراد کے حالات کے تناظر میں تھا اور آپ نے ان کو عہدہ کی طلب سے منع فرمایا ۔ اس کو کلیہ بنانے سے معاشرتی امور کا چلنا ممکن ہی نہیں۔ نوکریوں کے لیے درخواستین دینا بھی تو اسی زمرے میں آتا ہے۔ تاہم اس کا ایک جواب یہ ہو سکتا ہے کہ حکومت جیسے حساس معاملے میں رسول اللہ ﷺ نے شاید معیار زیادہ سخت رکھا ہوا تھا کہ عہدہ اسی کو دیا جائے جو اس کی طلب نہ رکھتا ہو، تاکہ اس سے عہدے کے لالچ میں ظلم و زیادتی کا اندیشہ کم ہو۔ اس اصول پر کسی صورت آج بھی عمل کرنا چاہیے۔اب یہ مسلم علماء اور سماجی اور عمرانی علوم کے ماہرین کی ذمہ داری ہے کہ وہ انتخابات کا مطلوبہ نظام سوچیں اور متعارف کروائیں، تاکہ جب مسلمان اہلِ حل و عقد قائدانہ کردار ادا کرسکنے کےقابل ہوں جائیں گے تو اس کو عملی جامہ پہنا سکیں۔یہ سچ ہے کہ خود حکمرانی کا حق طلب کرنے والے کے بارے میں یہ گمان زیادہ ہوتا ہے کہ وہ اقتدار کا غلط استعمال کرے گا ، لیکن مغربی ممالک کے عوام کی اپنے حکمرانوں کے بارے میں پائی جانے والی حساسیت سے اس کا علاج بڑی حد تک کر لیا گیا ہے۔ان کے سیاسی قائدین کو یہ معلوم ہوتا ہے کہ سخت اور بے لاگ احتساب کے نتیجے میں ان کی معمولی لغزش ان کے سیاسی کیرئیر کا خاتمہ کر سکتی ہے، اور وہ سزا سے بچ نہیں سکتے تو وہ حتی الامکان بدیانتی سے اپنا دامن بچا کر چلتے ہیں۔ بدیانتی سے نہ صرف ان کا سیاسی کیرییر ختم ہو جاتا ہے بلکہ ان کا سماجی مقاطعہ بھی ہوجاتا ہے، ان کا اپنے خاندان تک سے تعلق ختم ہوجاتا ہے ۔ بدیانتی کے ایسے اکادکا واقعات کے نتیجے میں ان کے بعض افراد نے تو خود کشی تک کر لی تھی۔
راقم الحروف کے مطابق اس مسئلے کا ایک ممکنہ حل یہ ہوسکتا ہے کہ الیکشن کمیشن جیسے بااختیار ادارہ کی طرف سے حکمرانی کے مختلف درجات: صدر، وزیر، ناظم وغیرہ کے لیے افراد کی نامزدگی کا مشورہ بھی عوام سے لیا جائے۔یعنی امید وار خود کو نامزد نہ کرے بلکہ یہ نامزدگی بھی عوام کی طرف سے آئے۔ اس سلسلے میں الیکٹرانک اور سوشل میڈیا کا سہارا لیا جاسکتا ہے۔ نامزدگی کے بعدامید واروں کو کڑے معیار کے مطابق پرکھا جائے اور اس کے بعدانتخابات کرو ا لیے جائیں۔ حکومت کے مناصب کی تنخواہ اوسط دجے کی ہوں تاکہ حرص کا عنصر ختم کیا جا سکے۔
اگرچہ کوئی بھی طریقہ مکمل طور پر لالچ، تعصبات، اور سازشوں سے محفوظ نہیں ہو سکتا مگر ایک طریقہ دوسرے سے نسبتاً بہتر ہوسکتا ہے۔

Views All Time
Views All Time
355
Views Today
Views Today
1
یہ بھی پڑھئے:   شریکۃ الحسینؑ و ام المصائبؑ کا کوفہ میں دیا گیا خطبہ

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

%d bloggers like this: