اسلام اور جمہوریت۔ ایک جدید تناظر- پہلا حصہ

Print Friendly, PDF & Email

irfanانسانی زندگی کی اقدار کو دو حصوں میں تقسیم کیا جاسکتا ہے۔ ایک وہ جو ناقابلِ تغیر یا مستقل نوعیت کی ہیں اور دوسری جو تغیر پذیر ہیں۔مستقل اقدار کے لیے اسلام نظام دیتا ہے لیکن متغیر اقدار کے لیے اصول دیتا ہے، نظام نہیں دیتا۔ بہت سے فکری مسائل اس بنیادی فرق کو ملحوظ نہ رکھنے سے پیدا ہوتے ہیں کہ اسلام انسانی زندگی کی ان دو مختلف اقدار کو دو مختلف انداز میں دیکھتا اور حل کرتا ہے۔
اسلامی احکامات اورتعلیمات اپنے اطلاقات میں اقدار کے اس فرق کو ملحوظ رکھتی ہیں۔مثلاً عقائد مستقل قدر ہے۔ چنانچہ اس کی تعلیم بھی مکمل طور پر مستقل نوعیت کی ہے اس میں کوئی تغیر واقع نہیں ہوتا۔ دوسرے درجے میں عبادات کا نظام ہے جو بنیادی طور پرمستقل نوعیت کا حامل ہے لیکن تغیر پذیر انسانی زندگی سے عملاً متعلق ہونے کی وجہ سےتغیر بھی قبول کرتا ہے۔ سماجی سطح پرنکاح و طلاق کے احکام، مرد و عورت کے اختلاط کے حدود، خورونوش، وراثت اور حدود کی سزائیں مستقل نوعیت رکھتی ہیں، اور ایک نظام کی صورت میں ہمیں ملتی ہیں، تاہم ان کے اطلاق میں بھی تغیرات کا لحاظ رکھا گیا ہے، کیونکہ اطلاق تغیر پذیرحالات اور سماج پر ہو رہا ہوتا ہے۔
اس کے ہٹ کر، تمدنی مظاہر مثلاً سیاست، معیشت، ثقافت وغیرہ ، مکمل طور پر تغیر پذیر اقدار ہے اس لیے ان سے متعلق احکامات بنیادی طور پر صرف اصولی نوعیت کے ہیں ، نظام کی شکل میں نہیں ہیں۔ تمدنی معاملات میں اسلامی نظام پر اصرار سراسر تکلف ہے۔
تمدن انسان کا ذہنی اور مادی ارتقاء ہے۔ اس ارتقاء میں تمام انسانیت برابر کی شریک ہے۔ اس کی ارتقاء میں اچھے اور برے ، پسندیدہ اور ناپسندیدہ اور باہم اختلافی اقدار سب نمو پاتی اور وقت کے ساتھ اپنی افادیت کی وجہ سےترقی کرتی یا اپنی کم مائیگی کے وجہ سے مٹ کر دوسری اقدار کے لیے جگہ خالی کر جاتی ہیں۔ اس تغیر پذیر تمدن کے لیے اسلام اپنے پیروؤں کو چند اصولی احکامات دے کر باقی سب ان کے عقل اور تجرباتی فہم پر چھوڑ دیتا ہے۔ مثلاً معیشت میں لین دین میں ایمان داری اور دوسرو ں کے حقوق کا لحاظ کرنے کی آفاقی تعلیم دے کر سود ، جوا،غرر وغیرہ کو حرام قرار دے کر انسان کو بنیادی اصولی رہنمائی دے دی گئی کہ اپنے تمدن سے ارتقاء پانے والے معاشی نظاموں میں ان اصولوں کو مدّ نظر رکھ کر جو بھی معاشی قوانین اور نظام بنانے ہیں بنا لیے جائیں۔
یہی معاملہ سیاست کا ہے۔ تمدنی تغیر کی حقیقت کے پیشِ نظر یہ ضروری تھا اورنہ ہی قابلِ عمل کہ ایک بنا بنایا نظامِ سیاست مسلمانوں کو تھما دیا جاتا کہ تاقیامت اس پر عمل کیا جائے۔ اسی لیے عدل و انصاف کی آفاقی اقدار کی تاکید کے بعد، شورائیت کا اصول دے کر انہیں ہدایت کر دی گئی کہ تنازع کی صورت میں اللہ اور اس کے رسول کی طرف رجوع کریں اور اجتماعیت سے متعلق اسلامی احکامات اختیار کر یں۔
شورائیت کا اصول ہی مسلمانوں کے نظامِ حکومت کا اصل الاصول قرار پایاہے۔ اللہ کی ارشاد ہے:
وَأَمْرُهُمْ شُورَىٰ بَيْنَهُمْ(الشوری، 42:38)
اور ان کا ہر کام (جس میں بالتعیین نص نہ ہو) آپس کے مشورے سے ہوتا ہے (اشرف علی تھانوی)
چونکہ اس آیت کا حکم مطلق ہے اس لیے اس میں ہر اجتماعی معاملے میں مسلم معاشرے کے افراد کا مشورہ سے اپنے امور طے کرنا شامل ہے۔ تاہم اہلیت ہونے کے باوجود قاذف اور فاسق جو کبیرہ گناہوں میں ماخوذ ہو، سے مشورہ نہیں لیا جائے گا ۔
وَلَا تَقْبَلُوا لَهُمْ شَهَادَةً أَبَدًا وَأُولَـٰئِكَ هُمُ الْفَاسِقُونَ (النور 24:4)
اور ان کی کوئی گواہی قبول مت کرو (یہ تو دنیا میں ان کی سزا ہوئی) اور یہ لوگ (آخرت میں بھی مستحق سزا ہیں اس وجہ سے ہے کہ) فاسق ہیں۔
آیتِ شورٰی کے الفاظ پر غور کیجیئے تو فرمایا گیا ہے کہ ان کے امور مشورہ سے طے پاتے ہیں ۔ یہ نہیں کہا گیا کہ ان کےامور میں ان سے مشورہ کر لیا جائے۔ اگر یہ کہا جاتا ہے کہ ان سے مشورہ کر لیا جائے تو حتمی اختیار مشورہ لینے والے باختیار فرد یا اافرادکا قرار پاتا ہے، جیسا کہ رسول اللہ ﷺ کو فرمایا گیا تھا:
وَشَاوِرهُم فِى ٱلأَمرِ‌فَإِذَا عَزَمتَ فَتَوَكَّ عَلَى ٱللَّهِ إِنَّ ٱللَّهَ يُحِبُّ ٱلمُتَوَكِّلِينَ (ال عمران 3:159)
اور ان سے خاص خاص باتوں میں مشورہ لیتے رہا کیجئیے۔پھر جب آپ رائے پختہ کرلیں۔تو خدا تعالیٰ پر اعتماد کیجئیے بےشک الله تعالیٰ ایسے اعتماد کرنے والوں سے محبت فرماتے ہیں۔
اس میں حتمی فیصلہ کا اختیار رسول اللہ ﷺ کے پاس تھا، جو اکثریت کی رائے سے مختلف بھی ہو سکتا تھا اور مسلمانوں کے لیے واجب الاطاعت تھا۔ لیکن آیتِ شورٰی میں حکم مختلف ہے۔ یہاں یہ ہے کہ ان کے امور طے ہی مشورہ سے ہوتے ہیں، نہ کہ کسی حتمی مختار کے ذریعے۔ چونکہ رسول اللہ ﷺ کے بعد کسی کے لیے بھی معصومیت یا منجانب اللہ براہِ راست ہدایت کا دعوٰی درست نہیں ،اس لیے حتمی آمر بھی کوئی نہیں۔ ام لوگوں کے لیے اس سے بہتر کوئی ہدایت ہو نہیں سکتی کہ وہ آپس کے معاملات مشورہ سے طے کریں۔ اور اس لحاظ سے ان میں کوئی چھوٹا بڑا نہ ہو۔ مشورہ میں برابری کا اصول خود بخود موجود ہے۔مشورہ اہل ِ رائے سے لیا جائے گا یہ عقلی اصول پہلے سے طے شدہ ہے۔یوں دیکھئے تو مشورہ کرنے میں حکمران کے نصب و عزل سے لے کر مسلمانوں کی اجتماعی زندگی کا ہر پہلو شامل ہے۔
اب یہ انسانی عقل اور تمدنی حالات کا معاملہ ہے کہ لوگ مشورہ کرنے کے لیے کون سا طریقہ اپنے حالات کے مطابق اپناتے ہیں۔ اگر آبادی کم ہو جیسا کہ رسول اللہﷺ کے زمانے میں مدینہ کے قبائلی دور میں تھی تو ‘الصلوۃ الجامعہ’ کا اعلان کر کے سب کو بلا یا جا سکتا ہے، اور اگر آبادی بہت زیادہ ہو جائے تو عوام کی طرف سے ان کے منتخب نمائندوں کے ذریعے بھی مشورہ کیا جا سکتا ہے۔ اس کے لیے جدید ذرائع اختیار کیے جانا ایک بدیہی بات ہے۔
یہاں یہ طے کرلیا جانا ضروری معلوم ہوتا ہےکہ اہلِ رائے سے کیا مراد ہے۔ میرے نزدیک، حکمران کے انتخاب میں پوری قوم اہلِ رائے ہے۔ لیکن حکومتی معاملات جو انتظامیہ کے اہلکار چلاتے ہیں اورقانون سازی جو پارلیمنٹ کرتی ہے اس کے لیےمنتخب ارکان اہلِ رائے ہیں نہ کہ عوام۔ دیکھئے کہ خلفاء راشدین کی مجلسِ شورٰی میں تو اہلِ علم و رائے ہی معاملات طے کرتے تھے لیکن حضرت خلفاء کے انتخاب میں ساری کمیونٹی سے مشورہ کیا گیا۔ تاہم، فقہا کے ہاں یہ تصور بھی پایا جاتا ہے کہ وہ معاملات جن کا تعلق براہ راست عوام کے مفاد سے وابستہ ہوں، ان میں عوام سے مشورہ لیے بغیر اشراف اور سردار فیصلہ نہ کریں۔انتخابِ حکمران میں عوام کا اہلِ رائے ک ہونا بدیہی ہے۔ یہ معاملہ عقلِ عام کا ہے۔ یہ کوئی پیچدہ فنی یا قانونی معاملہ نہیں کہ عوام اس کا فیصلہ نہ کرسکیں۔ عوام کو پتا ہوتا ہے کہ کون اچھا ہے، کون برا اور کون زیادہ اچھا اور کون زیادہ برا۔ زندگی کے عام معاملات میں وہ مسلسل اپنی اس صلاحیت کا ستعمال کرتے ہیں۔ اس لیے انتخابِ حکمران میں عوام کی رائے اس کی مستحق ہے کہ تسلیم کی جائے۔ رہی یہ بات کہ انتخابات میں عوام کو مختلف ذرائع سےبے وقوف بنا لیا جاتا ہے۔ اور پراپیگنڈے کےزور پر ان سے اپنی مرضی کا انتخاب کروا لیا جا تا ہے، اس لیے مخصوص اہلیت کے افراد کواہل حل و عقد قرار دے کے ان سے فیصلہ کروایا جائے تو عرض ہے کہ مفاد پرستی کا اندیشہ تو اہلِ حل و عقد سے بھی لاحق ہے۔ کیا ہم نہیں دیکھتے کہ خودپارلیمنٹ میں کس طرح ہارس ٹریڈنگ ہوتی ہے اور مرضی کے فیصلے پر پہنچنے کے لیے کیا کیا حربے استعمال کیے جاتے ہیں۔ انسانوں کے برسوں کا تجربہ ہے کہ جب تک اقتدار کے چناؤ کے فیصلے مخصوص اہلِ حل وعقد ، جنہیں ہم اشرافیہ کے نام سے جانتے ہیں،کے پاس رہا ، انھوں نے عوام سے زیادہ اپنے مفادات کا لحاظ رکھا، عوام تو حماقت سے اپنے مفادات کے خلاف فیصلہ دیتے ہیں لیکن یہ تو پورے شعور سے بدیانتی کے مرتکب ہوتے ہیں۔ اس لیے انتخابِ حکمران کا فیصلہ عوام کو ہی کرنا چاہیے تا کہ وہ ان کے نصب و عزل کے حق کے ذریعے اپنے حقوق کا تحفظ کر سکیں۔
یہاں یہ عرض کر دوں کہ میرے نزدیک عوام میں پائی جانے والی سیاسی شعور کی کمی کی وجہ جہالت نہیں ہے۔ پاکستان کی حد تک راقم کا یہ مشاہدہ ہےکہ پڑھے لکھے اور کم پڑھے لکھے دونوں طبقات میں ہر سیاسی پارٹی کے حامی اورکٹر حامی موجود ہیں ۔ایسا نہیں کہ پڑھے لکھے لوگ کسی ایسے شعور کا مظاہرہ کرتے ہوں کہ وہ سب کسی ایک پارٹی میں شامل نہ ہوں یا سب کسی ایک پارٹی میں شامل ہوں یا سب کسی بھی پارٹی میں شامل نہ ہوں۔ان کے ہاں بھی سیاسی رائے دہی اور سیاسی پارٹیوں کی حمایت اور مخالفت کے بارے میں ویسا ہی ملاجلا رجحان ملتا ہے جیسا کہ کم پڑھے لکھے یا ان پڑھ افراد میں۔ میرے نزدیک اس کی وجہ ہمارے عوام کی طاقت و حشمت سے متاثر ہوجانے کی کمزوری ہے جو برّصغیر کے عوام میں بالعموم پائی جاتی ہے۔ تاریخ گواہ ہے کہ یہاں کی عوام نے ہربیرونی فاتح کو اس سے شکست کھا جانے کے بعد بلا امتیازِ رنگ و نسل اسے اپنا لیا، بلکہ اس کے مذہب ، زبان اور ثقافت کو بھی اپنا لیا۔ اس کی فوج میں شامل ہو کر اپنے مقامی لوگوں کے خلاف لڑتے رہے۔ایک بیرونی فاتح کو کوئی دوسرا بیرونی فاتح ہی آکر تبدیل کرتا رہا۔ اس سے استثناء صرف انگریزوں کا رہا کہ یہاں کے لوگوں نے ان کو برّصغیر سے جانے پر مجبور کردیا، مگر حقیقت یہ ہے کہ انہوں نےانگریز سرکار کی نوکری بھی خوب کی۔ سر سید سے لے کر مسلم لیگ کے قیام کے ابتدائی مقاصد تک میں ‘انگریز سے وفاداری’ کی تعلیم اور تلقین ملتی ہے۔ غرض، طاقت سے مرعوبیت کی اس کمزوری کو آسانی سے ختم نہیں کیا جاسکتا ۔ اس کے لیے عوام کو اپنے منتخب کردہ طاقتور افراد کے ہاتھوں ملنے والے نتائج کی بھٹی سے برسوں گزرنے کی ضرورت ہے۔ تب ہی ان میں وہ شعور پیدا ہوگا جس سےوہ جمہوریت کو اپنے عوامی مفادات کے لیے استعمال کرنے کے قابل ہوں گے اور اس شعور کے حصول کے لیے بھی ضروری ہے کہ جمہویت کے ذریعے تجربات کا تسلسل قائم رہے۔
(جاری ہے)

Views All Time
Views All Time
662
Views Today
Views Today
1
یہ بھی پڑھئے:   ذکر امام باقر محمد بن علی بن حسین بن علی ابن ابی طالب رضی اللہ عنھما - مستجاب حیدر

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

%d bloggers like this: