Skip to Content

Qalamkar | قلم کار

جہالت، ظلم اور ناانصافی کے خلاف برسرپیکار

کیا یہ تم ہو؟

کیا یہ تم ہو؟
Print Friendly, PDF & Email

میں نے ہمیشہ ہی اس سوال کو کہ ” کیا یہ تم ہو؟” ایک بے معنی سوال تصور کیا ہے کیونکہ اس کا جواب صرف ایک ”ہاں” کے سوا کچھ اور ہو ہی نہیں سکتا۔ ایک وہ سوال جس کا جواب صرف ”ہاں ” میں دیا جائے بذاتِ خود وہ کوئی سوال ہو ہی نہیں سکتا۔
ذرا سوچئے کہ ایک عورت اندھیرے میں اپنے گھر کے دروازے پر کھڑے اپنے شوہر سے پوچھتی ہے کہ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔” کیا یہ تم ہو؟” وہ عورت اسے دیکھ تو سکتی نہیں اور نہ ہی اس کی آواز پہچان سکتی ہے اور محض یہ سوال اس لیے پوچھتی ہے کیونکہ اسے خدشہ اور ڈر ہوتا ہے کہ شاید دروازے پر موجود، اس کا شوہر نہ ہو۔ اب اگر یہ فرد اس عورت کا شوہر نہ ہو تو بھی اندھیرے میں کھڑے شخص سے یہی سوال کریگی یعنی۔۔۔۔۔۔۔۔کیا یہ تم ہو؟ اب دروازے پر موجود یہ شخص کوئی راہ بھولا ہوا اجنبی بھی ہو سکتا ہے یا پھر کوئی بری نیت رکھنے والا فرد بھی۔ ایسی صورت میں اس سے یہ پوچھا جانا کہ ۔۔۔۔۔۔ کیا یہ تم ہو؟ بے معنی ہی تو ہے کیونکہ متعلقہ شخص کا جواب یقیناً اثباتی ہو گا یعنی کہ وہ بذاتِ خود ہی ہے لیکن اس میں دیکھیے کہ دراصل وہ تو ” وہ ” فرد ہے ہی نہیں۔ اس سوال کے اگر کوئی معنی ہو سکتے ہیں تو پھر عورت کو یوں پوچھنا چاہیے تھا کہ ۔۔۔۔۔۔کیا تم میرے شوہر ہو؟ یا پھر وہ اس سوال کو یوں بھی پوچھ سکتی تھی کہ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔کیا تم کائے ہو؟ (اگر اس کے خاوند کا نام یہی ہے تو ۔ لیکن یہ نام تو کسی دوسرے فرد کا بھی ہو سکتا ہے ۔ ہاں آپ یہ کہہ سکتے ہیں کہ پھر وہ ”کائے ” کوئی اور ہو گا اور اس عورت کے شوہر سے مختلف بھی ) یہ ممکن ہے کہ وہ اسی سے ملتا جلتا ہو جس کے بارے میں سوال کیا گیا تھا کہ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔کیا یہ تم ہو؟
کیا یہ تم ہو؟ یہ سوال اگر کوئی معنی رکھتا ہے تو پھر حقیقتاً وہ کچھ اور ہی ہونگے مثلاً ہم اپنے ہمعصروں کو محاورتاً کہہ سکتے ہیں کہ ۔۔۔۔۔۔۔۔یہ میں ہوں۔ لیکن آپ ایسا تبھی کہتے ہیں جب آپ اپنے آپکو کسی اور فاصلے پر رکھ رہے ہوں۔ پرانے محاوروں میں اسطرح کے ”فاصلے اور قربت” کو اہمیت دی جاتی تھی اور ان میں” شناخت کی برقراریت”پر زور دیا جاتا تھا۔ اور انکے بولے جانے سے متعلقہ شخص کی شناخت کا مسئلہ نہیں رہتا تھا لیکن عصر حاضر میں محاوروں کے استعمال میں ”شناخت” ظاہری عمل میں پوشیدہ ہوتی ہے اور اسی وجہ سے یہ کسی بھی وقت شک و شبہ سے دوچار ہو جاتی ہے۔ تبھی تو یہ سوال۔۔۔۔۔۔۔کیا یہ تم ہو؟ اسی طرح ہی کے معنی رکھتا ہے ۔ اس سوال کے یہ معنی بھی تو ہو سکتے ہیں کہ ”کیا حقیقتاً تم ہی ہو جو وہی کچھ کر رہے ہو جو تم ہی کو کرنا تھا” اب دیکھیے آپ جو کہہ رہے ہیں اس کے معنی کیا نکلتے ہیں۔ یہی ناں کہ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔یہ تم نہیں ہو بلکہ کوئی اور ہے جو تمہارے ذریعے عمل کر رہا ہے، باتیں کر رہا ہے؟ ہم اعتماد رکھتے ہیں کہ ہم ہی ہیں جو ہیں اور ہمارے کہنے کے معنی و مطالب وہی ہوتے ہیں جو ہم خود چاہتے ہیں کہ ہوں۔ ہم وہی کر رہے ہوتے ہیں جو ہمیں کرنا ہوتا ہے۔ میں اس بات کا کسی اور طرف سے ادراک یا تصور نہیں کر سکتا اور نہ ہی یہ سمجھ پایا ہوں کہ اس سوال کا جواب دینا اتنا مشکل کیسے ہو گیا ہے؟
آپ یقیناً اب یہ اعتراض کر سکتے ہیں کہ یہ سوال کہ ” کیا یہ تم ہو؟ ” ہرگز
کوئی سوال ہی نہیں بلکہ یہ تو ایک طرح سے محض ہانک یا ایک تعجب کا اظہار ہے۔

یہ بھی پڑھئے:   سلامتی کو خطرہ ہوا تو دشمنوں پر میزائل گرادیں گے: ایران

مثلاً اگر آپ کسی اجنبی سے ٹکرا جائیں اور اس سے پہلے کہ بڑبڑانا اور غصہ جھاڑنا شروع کر دے لیکن وہ آپ کا کوئی ایک پرانا واقف کار نکل آتا ہے تب آپ صرف یہی تو کہتے ہیں ناں کہ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ ارے۔۔۔۔۔۔۔۔۔ کیا یہ تم ہو؟ اس صورت میں تعجب کا اظہار ” بذاتِ خود ایک سوال بھی تو ہو سکتا ہے یعنی یہ کہ آپ کو خود یقین نہیں کہ یہ وہی شخص ہے جسے آپ بہت پہلے سے جانتے ہیں اور اسطرح یہ سوال ابھی تک بے تکا اور بے معنی ہے کیونکہ متعلقہ شخص اگر آپ کا جاننے والا نہیں بھی ہو گا تب بھی وہ جواب میں ”نہیں”کہے گا ۔ اب اگر آپ یقین رکھتے ہیں کہ یہ سوال پوچھنے کی اصل صورت یوں ہونی چاہیے تھی کہ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ او۔۔۔۔۔۔۔۔۔کیا یہ تم ہو؟ کیونکہ آخر۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ وہ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ وہ تو ہے ہی جسے آپ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ تم کہہ رہے ہیں۔ اسطرح مجموعی طور پر یہ کہنا غلط ہے کہ متعلقہ شخص
” وہی ” ہے جس پر آپ ”تم ” کا دعویٰ کر رہے ہیں۔ اب آپ یقین کیساتھ نہیں کہہ سکتے کہ کون، کون ہے اور ہم خود کون ہیں۔
کیا یہ تم ہو؟ اس بے معنی سوال کا جواب میں ”ہاں ” میں نہیں دیتا۔ مجھے شاید جواب میں ” نہیں ” کہنے کی ترغیب دی جائے لیکن مجھے پختہ یقین ہے کہ جب مجھ سے یہ سوال کیا جاتا ہے کہ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔کیا یہ تم ہو؟ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔تو میں کوئی اور ہوتا ہوں۔ لہٰذا میرا جواب یہی ہوتا ہے کہ شاید یا ایسا ہی لگتا ہے یا پھر اسیطرح سے ملتا جلتا کوئی اور جملہ، میرے اس جواب پر لوگ مطمئن دکھائی دیتے ہیں

یہ بھی پڑھئے:   ہنسو تو رنگ ہو چہرے کا

اور بعض اوقات تو میرے اسطرح کے جواب دینے پر وہ محفوظ ہوتے اور ہنس بھی دیتے ہیں دراصل وہ مجھ پر ہنستے ہیں کہ میں ”میں” ہوتا ہوں۔
آپ شاید سوچ رہے ہوں کہ میں اس سوال پر بہت زیادہ زور ڈال رہا ہوں حالانکہ بذاتِ خود یہ کوئی سوال ہے ہی نہیں۔ میں اس سے متفق نہیں ہوں۔ میرے خیال میں ایسا کوئی سوال ہی نہیں جو بہت زیادہ اہمیت رکھتا ہو۔ میں بذات خود جب یہ فیصلہ کر چکا کہ میں وہ شخص نہیں ہونگا جو۔۔۔۔۔۔۔۔کیا یہ تم ہو؟ سوال کا جواب”ہاں” میں دیگا تو پھر میں نے یہی سوال دوسروں سے پوچھنا شروع کر دیا۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔کیا یہ تم ہو؟ اپنی معصومیت میں اکثر و بیشتر کا جواب ”ہاں” ہوتا ہے تب میں ان پر تھوڑا ہنستا ہوں کہ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔جیسے وہ ”حقیقتاً” وہی ہوتے ہیں۔ اگر آپ کو اس کے متعلق کوئی شک نہیں تو مجھے کچھ شک ضرور ہے کہ کیا۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔تم ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔حقیقتاً ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔تم ہی ہو؟

ترجمہ: نصر ملک(ڈنمارک)

Views All Time
Views All Time
122
Views Today
Views Today
1
Previous
Next

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

*

%d bloggers like this: