Skip to Content

Qalamkar | قلم کار

جہالت، ظلم اور ناانصافی کے خلاف برسرپیکار

پاکستان تحریک انصاف اور عمران خان | عرفان اعوان

by June 14, 2017 بلاگ
پاکستان تحریک انصاف اور عمران خان | عرفان اعوان

عمران خان نے پاکستانی سیاست میں ایک نئی روایت ڈالی اور نوجوان نسل کو براہ راست سیاست میں لے آیا حالانکہ جس وقت عمران خان سیاست میں نام پیدا کررہا تھااس وقت پاکستان کے کالجز اور یونیورسٹیز میں سیاست پر پابندی تھی اس لیئے ہم یہ نہیں کہہ سکتے کہ پی ٹی آئی نے کالج اور یونیورسٹی سے اپنے آپ کو منوایاہے بلکہ عمران خان نے کالج اور یونیورسٹی کے سٹوڈنٹ کو باہر رہ کر اپنے قریب کیااور پھر یہی لوگ اس کا ہراول دستہ بنے۔عمران خان نے نوجوانوں کو مجبور کیا کہ وہ اپنے گھر جاکر اپنے والدین کو کہیں کہ وہ پی ٹی آئی کوووٹ دیں اور پھر سب نے دیکھا کہ پی ٹی آئی نے اسی لاکھ کے قریب ووٹ حاصل کیے۔ اسی الیکشن میں عمران خان نے وعدہ کیا کہ وہ نوجوانوں کو ٹکٹ دیں گے اور اسمبلی میں لے کرجائیں گے جس پر کسی حد تک عمل بھی ہوا اور عوام نے ان نوجوانوں کو دل کھول کر ووٹ بھی دئیے۔ وقت نے پلٹا کھایا اور پی ٹی آئی دوسری بڑی جماعت بن گئی اور اب جب الیکشن کا سال شروع ہواجاتا ہے تو دھڑادھڑ پرانے سیاسی گھرانوں اور مختلف جماعتوں کے دھتکارے ہوئے سیاستدان پی ٹی آئی میں شامل ہونا شروع ہوگئے ہیں تو یہ نوجوان نسل کیلئے مقام حیرت ہے کیونکہ 2013کے الیکشن سے پہلے جب لوگ اسی طرح شامل ہونے کا کہتے تھے تو عمران خان کا جواب ہوتا تھا کہ ٹکٹ میں اپنے ورکرز سے پوچھ کردونگا لیکن اب تو شمولیت ہی ٹکٹ کے وعدوں معاہدوں پر ہورہی ہیں ۔ کیا عمران خان اپنی قوم سے مایوس ہوچکا ہے یا اپنے نوجوانوں سے یقین اُٹھ چکا ہے جو الیکٹ ایبلز کی طرف کھنچا چلاجارہا ہے۔ جب الیکٹ ایبلز کی ضرورت تھی تب ڈٹے رہے اور تمام ق لیگ نوا ز شریف سمیٹ کر لے گیا اور اب جب عام لوگوں نے دوسری بڑی جماعت بنا دیا تو گھوڑوں کی سیاست میں کود گئے۔ پچھلے دنوں پاکستان تحریک انصاف کے ایک انتہائی ذمہ دار اورپڑھے لکھے دوست کے پاس بیٹھا تھا تو انہوں نے گفتگو کے دورآن کہا کہ عمران خان کو چاہیے تھا کہ پورے پاکستان اور خاص طور پر پنجاب میں پچاس کے قریب نوجوان اور خواتین کو اپنا امیدوار بنا کر میدان میں ابھی سے اُتار دے اور ان کے الیکشن کی ذمہ داری جہانگیر ترین ، عبدالعلیم خان اور عثمان ڈار جیسے سرمایہ داروں پر ڈال دینی چاہیے ۔پھر پورا ایک سال ان نوجوانوں اور خواتین کی اپنے اپنے شعبے میں خدمات کو سوشل میڈیا اور الیکٹرانک و پرنٹ میڈیا اور جلسوں کے ذریعے عوام تک پہنچانا چاہیے ۔ پھر جب ان کے سامنے چاہے بڑے بڑے نام بھی الیکشن میں آگئے تو تحریک انصاف کے یہ امیدوار عوام کی طاقت سے تمام برجوں کو الٹا کررکھ دیں گے ۔ عمران خان تک اگر یہ تجویز پہنچ جائے تو مجھے یقین ہے کہ اس پر ضرور سوچیں گے لیکن ان کے گرد موجود انصاف پینل چونکہ روایتی سیاستدانوں پر مشتمل ہے اس لئے عمران خان کے چاہنے کے باوجود ایسی تجاویز پرعمل مشکل نہیں بلکہ ناممکن ہے۔
اب پاکستان تحریک انصاف کے نام نہاد انٹرا پارٹی الیکشن کی طرف آتے ہیں جس میں ایک طرف تو روایتی پرانے چہروں کو عمران خان کے زیرسایہ انصاف پینل کی طرف سے امیدوار نامزد کیا گیا اور دوسری طرف گمنام عام لوگوں پر مشتمل احتساب پینل میدان میں اُتارا گیا۔ اس میں کوئی شک نہیں کہ الیکشن کمیشن کی الیکشن کروانے والی شرط پوری ہوگئی لیکن وہ تبدیلی نظر نہیں آئی جس کا عمران خان ہمیشہ سے وعدہ کرتے آئے ہیں۔ اس میں بھی کوئی شک نہیں کہ یہ الیکشن صاف شفاف تھااور تما م لوگوں نے اپنی مرضی سے ووٹ دیا لیکن یہاں سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ اگر ایک ووٹر ایک میسج کے ذریعے پورے پینل کوووٹ دے رہا ہے تو وہی ووٹر تمام امیدواروں کو الگ الگ ووٹ بھی دے سکتا تھا ۔ پھر پتہ چلتا کہ کس طرح بائیس فی صد ووٹرز عمران خان کے خلاف ووٹ دیتے ہیں یا اٹھہتر فی صد شاہ محمود ، جہانگیر ترین ، عبدالعلیم خان کے حق میں ووٹ دیتے ہیں۔ عمران خان کے پینل میں یونین کونسل لیول کے امیدوار بھی اگر وائس چئیرمین اور جنرل سیکرٹری کے امیدوار ہوتے تو انہوں نے اسی طرح ووٹ لینے تھے کیونکہ پورے پینل کو ووٹ تو ایک ہی جانا تھا جبکہ دوسرے بڑے بڑے نام اگر دوسرے پینل میں ہوتے تو انہوں نے ہارجانا تھا۔ یہ الیکشن اگر پینل کی بجائے امیدوار کی بنیاد پر ہوتے تو یہ ایک بہت بڑی تبدیلی ہوتی اور اسے تاریخ میں لکھا جاتا لیکن افسوس کہ یہاں بھی ایک رسم ہی پوری کی گئی ہے اور عمران خان کے گرد قائم حصار ٹوٹنے سے بچ گیا ہے۔
عمران خان کی نیت اور کوشش پر کوئی بھی محب وطن پاکستانی شک نہیں کرسکتا لیکن عمران خان کوعین عروج پر ایک روایتی گھیرے میں پھنسا دیا گیا ہے اور وہ دن بدن مزید پھنستے چلے جارہے ہیں ۔ جب تک عمران خان کو سیاست نہیں آتی تھی وہ صحیح سمت میں اور کامیاب جارہا تھا لیکن جب سے وہ سیاسی ہوتا جارہا ہے وہ اپنی سمت بھی تبدیل کرتا نظر آرہاہے ۔ قوم کی نظریں ابھی بھی عمران خان پر جمی ہوئی ہیں اور عوام تبدیلی چاہتی ہے ۔ اس تبدیلی کیلئے عمران خان کو حصار سے باہر نکلنا ہوگا ، اپنے فیصلے خود کرنے ہونگے اور یوتھ کو یقین دلانا ہوگا کہ میری کامیابی کی ضمانت الیکٹ ایبلز کی بجائے آپ ہی ہو۔

مرتبہ پڑھا گیا
175مرتبہ پڑھا گیا
مرتبہ آج پڑھا گیا
1مرتبہ آج پڑھا گیا
Previous
Next

Leave a Reply

%d bloggers like this: