وزیراعلیٰ پنجاب۔۔۔ لودہراں سے | عرفان اعوان

Print Friendly, PDF & Email

جمہوریت کو پٹڑی پر چڑھے نو سال مکمل ہوگئے ہیں اور دسویں سال میں داخل ہوگئی ہے۔ اس دوران ڈکٹیٹر تو نہ آیا لیکن دوبار وزرائے اعظم عدالتی فیصلوں سے گھر رخصت ہوئے۔ پہلی بار 2012 میں اس وقت کے وزیراعظم یوسف رضا گیلانی کو عدالت نے اس وقت کے صدر کے خلاف سوئس حکام کو خط نہ لکھنے پر نااہل کردیا تھا اور پانچ سال کیلئے کسی بھی قسم کے الیکشن میں حصہ لینے پر پابندی لگا دی تھی ۔ دوسری بار جولائی 2017 میں وزیراعظم نواز شریف کو اثاثے چھپانے پر عدالت نے نااہل کردیا ہے۔ یہ کوئی پہلا واقعہ نہیں ہے بلکہ اس سے پہلے این اے 162 سے تحریک انصاف کے ایم این اے رائے حسن نواز خان کوبھی پچھلے سال اسی عدالت نے اثاثے چھپانے پر نااہل کردیا تھا اور وہاں ضمنی الیکشن میں ن لیگ کے چوہدری طفیل کامیاب ہوئے ہیں۔ اس میں کوئی شک نہیں کہ ہمارے سیاست دانوں نے بیش بہا قربانیاں دی ہیں اور ڈکٹیٹر کے ہاتھوں کھیلنے کے بعد اس نتیجے پر پہنچے ہیں کہ جمہوریت ہی بہترین نظام ہے لیکن ابھی بھی ہمارے سیاست دان ذاتی مفاد ات میں پھنسے ہوئے ہیں اور جمہوریت کے ساتھ خوب مذاق کررہے ہیں جس کے نتائج بھی بھگت رہے ہیں۔ نواز شریف پر انتہائی کرپشن کے الزامات تھے اور جتنا ٹائم عدالت نے نوازشریف کو صفائی کے لئے دیا وہ بہت زیادہ تھا لیکن نواز شریف اور ان کی آل اپنے اوپر لگنے والے الزامات کو غلط ثابت نہ کرسکے بلکہ اپنے مشیروں کے غلط مشوروں کی وجہ سے دن بدن پھنستے چلے گئے اور اب عدالت نے ا ن کا کیس نیب میں چلانے کا حکم دے دیا ہے جب کہ جس ایشو پر عدالت نے نااہل قراردیا ہے وہ اتنی شدید نوعیت کا نہ تھا۔اس میں کوئی شک نہیں کہ شریف خاندان نے پاکستان کو لوٹنے میں کوئی کسر نہیں چھوڑی ہے لیکن اتنے مضبوط دلائل اور ثبوتوں کے ہوتے ہوئے اتنی چھوٹی وجہ بنا کر نااہل کرنا آنے والے دنوں میں ایک بار پھر شریف خاندان کو ہیرو بناسکتا ہے۔ مسلم لیگ ن نے اپنا نیا وزیراعظم شاہد خاقان عباسی کو بنا دیا ہے لیکن بظاہر یہ چند دن کا مہمان وزیراعظم ہے جس کے لئے سوشل میڈیا پر عام چل رہا ہے کہ یہ حلالہ وزیراعظم ہیں کیونکہ بادشاہ کی مرضی ہے وہ جو بہتر سمجھے وہی فیصلے کرے۔ پوری پارلیمنٹ میں کوئی بھی ایسا قابل اور قابل اعتماد ایم این اے نہیں ہے جس پر شریف خاندان اعتبار کرسکے۔ اس بار نہ سہی لیکن اگلے الیکشن کے بعد ن لیگ کی پوری کوشش ہوگی کہ شہباز شریف مرکز میں جائیں اور پنجاب کا تاج حمزہ کے سر پر سجے یا مرحوم غلام حیدر وائیں اور دوست محمد کھوسہ جیسا کوئی ڈمی وزیراعلیٰ سامنے لایاجائے۔ ن لیگ کی حریف جماعت تحریک انصاف کی نظر بھی مرکز سے زیادہ پنجاب پر ہے اور ان کی خواہش اور کوشش ہے کہ آنے والے الیکشن کے بعد وزیراعلیٰ تحریک انصاف کا ہو۔ ویسے تو تحریک انصاف کے پاس کافی امیدوار ہیں لیکن لودہراں کو پہچان دینے والے جہانگیر خان ترین اس سیٹ کیلئے زیادہ فیورٹ ہیں۔ جہانگیر خان ترین نے 2013 کے الیکشن میں صدیق خان بلوچ کے مقابلے میں الیکشن لڑا تھا اور بہت سخت مقابلہ کیا لیکن الیکشن صدیق بلوچ نے جیت لیا تھا جس کے بعد جہانگیر ترین نے الیکشن ٹربیونل میں ایک طویل جدوجہد کے بعد الیکشن کالعدم قرار دلوا کر دوبارہ الیکشن کرائے جس میں جہانگیر ترین بہت بڑے مارجن سے جیت گئے تھے ۔ صدیق بلوچ کی سیاست سے لاکھ اختلاف کیا جائے لیکن وہ سیاسی میدان کے ایک بڑے منجھے ہوئے کھلاڑی ہیں۔ انہوں نے کمال فن ہوشیاری سے لودہراں کی بڑی برادریوں کو اپنے ساتھ رکھا ہوا ہے اور ان کی سیاست نظریے سے کہیں دور بس ذاتی پسند نا پسند اور شخصیت پرستی پر مبنی ہے۔ جہانگیر ترین کی اعلیٰ مینیجمنٹ اور پیسے کے سامنے صدیق بلوچ کا کوئی مقابلہ نہیں بنتا تھا لیکن صدیق بلوچ نے خوب مقابلہ کیا ہے۔ صدیق بلوچ این اے 154میں ایم این اے کے لئے حادثاتی طور پر آئے تھے اور کانجو شہید گروپ اور یوسف رضاگیلانی کی حمایت سے ایم این اے بن گئے تھے ۔ این اے 154نے ہر بار نئے آنے والے امیدوار کو ویلکم کہا ہے وہ چاہے یوسف رضا گیلانی ہوں صدیق خان کانجو ہوں ، صدیق خان بلوچ ہوں یا جہانگیر خان ترین ہوں۔ صدیق خان بلوچ کا آبائی حلقہ پی پی 210 ہے جہاں سے وہ شروع سے ایم پی اے بن رہے ہیں۔ 2013 کے الیکشن میں بھی صدیق خان بلوچ این اے 154سے ایم این اے بننے کے ساتھ پی پی 210 سے ایم پی اے بھی منتخب ہوئے تھے جس پر بعد میں ان کے فرزند زبیر خان بلوچ منتخب ہوئے ۔جہانگیر ترین 2002 میں رحیم یار خان سے ایم این اے اور پھر وفاقی وزیر بنے لیکن پھر خاندانی مسائل کی وجہ سے انہوں نے این اے 154کو اپنا حلقہ کہا اور آئندہ سیاست یہاں سے کرنے کا اعلان کیا۔ اب جب جہانگیر خان ترین وزیراعلیٰ پنجاب بننے کا پلان بنا رہے ہیں تو جس حلقے سے ایم پی اے کا الیکشن لڑنے کا سوچ رہے ہیں وہ بھی صدیق بلوچ کی آبائی سیٹ ہے جہاں سے ان کا بیٹا اس وقت ایم پی اے ہے۔ اس وقت پورے لودہراں میں ساتوں صوبائی اسمبلیوں کی نشستوں کیلئے تحریک انصاف کے پاس امیدواروں کی ایک لمبی لسٹ ہے اور تمام امیدوار مقابلہ کرنے کی پوزیشن میں ہیں لیکن صرف پی پی 210 ایسا حلقہ ہے جہاں تحریک انصاف کے پاس کوئی ایسا امیدوار نہیں ہے جو صدیق بلوچ کا مقابلہ کرسکے ۔ سیاسی حلقوں میں چہ میگوئیاں عام ہیں کہ پی پی 210 سے جہانگیر ترین خود الیکشن لڑیں گے اور اس بات کا قومی امکان بھی ہے۔ پچھلے کچھ عرصے سے ایک بحث یہ بھی چل رہی ہے کہ یوسف رضا گیلانی ایک بار پھر لودہراں سے الیکشن لڑنے آرہے ہیں اور صدیق بلوچ کے گیلانی صاحب کے ساتھ انتہائی قریبی مراسم ہیں جس کی واضح مثال یہ ہے کہ 2008 کی اسمبلی میں صدیق بلوچ اپوزیشن کے بنچوں پر بیٹھے تھے لیکن یوسف رضا گیلانی نے صدیق بلوچ کو اتنے زیادہ فنڈز دئیے کہ انہوں نے پورے حلقے میں جگہ جگہ بجلی پہنچا دی۔ پیپلز پارٹی کے امیدوار اور بے نظیر شہید کے قریبی ساتھی مرزاناصر بیگ کی پارٹی سے ناراضگی کی وجہ بھی یہی تھی کہ گیلانی صاحب نے ان کو چھوڑ کر صدیق بلوچ کی حمایت کی تھی۔ اگر یوسف رضاگیلانی الیکشن کے لئے آتے ہیں تو صدیق بلوچ ان کی بھرپور سپورٹ کریں گے۔ ایک اور رائے عام ہے کہ اس بار عبدالرحمان کانجو خود جہانگیر ترین کے مقابلے میں الیکشن لڑیں گے اگر ایسا ہوا تو یہ ایک دلچسپ مقابلہ ہوگا۔ صدیق بلوچ اس لئے اس سیٹ پر کمزور دکھائی دے رہے ہیں کہ ان کے نیچے ایم پی ایز سے ان کا تعلق کچھ زیادہ اچھا نہیں ہے ۔ عامر اقبال شاہ کانجو شہید گروپ کے ساتھ کھڑے ہیں اور عبدالرحمان خان کانجو انہیں جس امیدوار کی حمایت کا کہیں گے وہ اسے سپورٹ کریں گے۔ احمد خان بلوچ اور صدیق بلوچ ایک دوسرے کو بڑے بڑے جلسوں میں عوام کے سامنے بُرا بھلا کہہ رہے ہیں اس لئے احمد خان بلوچ بھی صدیق بلوچ کی حمایت نہیں کریں۔ کچھ لوگوں کا خیال ہے کہ ہر بار دونوں خان صاحبان ووٹرز کو پکا رکھنے کیلئے ایک دوسرے کو بُرا بھلا کہتے رہتے ہیں لیکن عین وقت پر دونوں اکٹھے ہوجاتے ہیں ۔ یوں ووٹ بھی ادھر اُدھر نہیں ہوتا اور جیت کیلئے راستہ بھی ہموار ہوجاتا ہے لیکن اس بار احمد خان بلوچ کے جس بھی ساتھی سے ملاقات ہوتی ہے وہ کہتے ہیں کہ بس بہت ہوچکا ! اس بار اگر عین الیکشن کے وقت احمد خان نے ہمیں صدیق بلوچ کو ووٹ دینے کا کہا تو ہم احمد خان کو بھی ووٹ نہیں دیں گے جبکہ صدیق بلوچ کے ساتھی یہ کہتے ہیں کہ جہاں خان صاحب کہیں گے ہم ووٹ دیں گے۔ سیاست میں کچھ بھی حرف آخر نہیں ہوتا اور الیکشن کے قریب آتے ہی بہت جوڑ توڑ ہوں گے۔ پی پی211 سے مہر آباد کا سید گھرانہ انتہائی اہمیت کا حامل ہے۔ پیر نصرالدین شاہ صاحب نے یوسف رضا گیلانی کو دن میں تارے دکھادئیے تھے اسی طرح ایک بار ان کے چھوٹے بھائی اور دوبار ان کے فرزند پیر رفیع الدین شاہ ایم پی اے بن چُکے ہیں اور اس بار پیر رفیع الدین شاہ کا پی پی 211 سے الیکشن میں حصہ لینے کا پکا ارادہ ہے ۔ پی ٹی آئی اور صدیق بلوچ دونوں کی خواہش ہوگی کہ پیر رفیع الدین شاہ ان کے پینل میں آئیں کیونکہ پی پی 211 سے تو پیر رفیع الدین شاہ نے الیکشن لڑنا ہی ہے جبکہ پی پی 210 سے بھی وہ ایک ایم پی اے رہ چکے ہیں اور لودہراں کی تاریخ میں ریکارڈ ترقیاتی کام کرائے ہیں اور عوام کی خواہش بھی ہے کہ پیر صاحب اس حلقے سے الیکشن لڑیں۔ پیر رفیع الدین شاہ کے شہباز شریف اور پرویز الہیٰ سے ذاتی مراسم کسی سے ڈھکے چھپے نہیں ہیں لیکن وہ چاپلوسی کی سیاست سے کوسوں دور رہتے ہیں ۔ یہی وجہ ہے کہ پچھلے دنوں جب شہباز شریف لودہراں میں جلسہ کرنے آئے تو باربار بُلانے کے باوجود پیر صاحب نے شہباز شریف سے ملاقات نہ کی۔ اب سیاسی حلقے دعویٰ کررہے ہیں کہ عبدالرحمان کانجو اپنے گروپ کو ٹوٹنے سے بچانے کے لئے پوری کوشش کریں گے اور وہ چاہیں گے کہ وہ صدیق بلوچ کو اس بات پر قائل کریں کہ وہ پی پی 210 سے ایم پی اے کا الیکشن نہ لڑیں اور پیررفیع الدین شاہ کو پی پی 210 سے الیکشن لڑنے کی اپیل کریں اس طرح پی پی 211 سے احمد خان بلوچ اور پی پی 207 سے عامراقبال شاہ امیدوار ہوں اور صدیق بلوچ این اے 154 سے الیکشن میں حصہ لیں۔ یہ بظاہر ناممکن نظر آرہا ہے کیونکہ صدیق بلوچ کسی صورت راضی نہیں کہ وہ ایم پی اے کا حلقہ چھوڑیں اور دوسری طرف احمد خان بلوچ سے اختلافات اس نہج پر پہنچ چکے ہیں کہ واپسی کا راستہ نظر نہیں آرہا۔ اسی طرح پیر رفیع الدین شاہ اس بات پر ڈٹے ہوئے ہیں کہ اس بار چاہے جس سیٹ پر مرضی الیکشن میں حصہ لوں لیکن پی پی 211 سے ہرحال میں ایم پی اے کا الیکشن لڑوں گا۔ یوسف رضا گیلانی نے بھی ذاتی طور پر سیاسی رہنماؤں سے رابطے شروع کردئیے ہیں اور مخدوم احمدمحمود نے ایک اعلان کیا تھا کہ لودہراں میں پیپلز پارٹی کا سیکرٹیریٹ بنایا جائے۔ اس کے پیچھے بڑی وجہ جہانگیر ترین کا رحیم یار خان بار میں دوکروڑ دینا تھا جس پر مخدوم احمد محمود نے لودہراں میں اپنی ہلکی سی جھلک دکھائی جو شاید جہانگیر ترین کو یہ دکھا نا تھا کہ اگر میرے حلقے میں مداخلت کروگے تو میں بھی اپنی بوریوں کے مُنہ لودہراں کی طرف کھول دوں گا۔ جہانگیر ترین اور ان کے بیٹے علی خان ترین ضمنی الیکشن کے بعد سے حلقے میں بھرپور وقت دے رہے ہیں اور ہر کسی کی خوشی غمی میں شریک ہورہے ہیں ۔ جہانگیر ترین اپنی ذاتی حیثیت میں جتنے بھی ترقیاتی کام کرارہے ہیں وہ زیادہ تر پی پی 210 میں ہورہے ہیں اور پیر رفیع الدین شاہ نے تحریک انصاف میں شمولیت اختیار کرلی تو جہانگیر ترین کو پی پی 210 اور 211 میں بہت فائدہ ہوگا ۔ایک خبر یہ بھی عام ہے کہ نواز شریف کی نااہلی کے بعد جہانگیر ترین بھی نااہل ہوں گے کیوں کہ ان پر کیس بڑی شدید نوعیت کا ہے۔ اگر ایسا کچھ ہوا تو صدیق خان بلوچ کیلئے بہت خوشی کی خبر ہوگی کیونکہ جہانگیر خان ترین اس وقت صدیق خان بلوچ کیلئے بہت بڑا خطرہ ہیں۔ جہانگیر ترین ایم این اے کی سیٹ کیلئے بھی صدیق بلوچ کے حلقے میں آئے اور اب ایم پی اے کی سیٹ کیلئے بھی انہی کے حلقے پر نظر ہے۔آنے والا وقت بتائے گا کہ وزیراعلیٰ لودہراں سے بنتا ہے یا ابھی تخت لاہور کے نیچے ہی رہنا ہے۔

Views All Time
Views All Time
311
Views Today
Views Today
1
یہ بھی پڑھئے:   صدیقی صاحب - عامر راہداری

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

%d bloggers like this: