Skip to Content

Qalamkar | قلم کار

جہالت، ظلم اور ناانصافی کے خلاف برسرپیکار

دُختر مشرق بے نظیر بھٹوکا جنم دن | عرفان اعوان

by جون 21, 2017 بلاگ
دُختر مشرق بے نظیر بھٹوکا جنم دن | عرفان اعوان
Print Friendly, PDF & Email

21جون 1953کو ذوالفقار علی بھٹو اور نصرت بھٹو کے گھر اللہ تعالیٰ نے بے نظیر کی شکل میں رحمت بھیجی ۔ بھٹو کے گھر یہ پہلی اولاد تھی اس لئے ماں باپ کی لاڈلی ٹھہری ۔بے نظیر نے ہارورڈ یونیورسٹی اور آکسفورڈ یونیورسٹی سے اپنی تعلیم مکمل کی اور ایشیاء کی پہلی خاتون کی حیثیت سے آکسفورڈ یونین کی صدارت سنبھالی۔ اسی دوران ذوالفقار علی بھٹو نے پیپلز پارٹی کی بنیاد رکھ چھوڑی تھی ۔ بے نظیر بھٹو چونکہ بچپن سے ہی اپنے والد کے قریب تھیں اس لئے سیاست کے اسرارورموز بھی بھٹو صاحب مسلسل اپنی بیٹی کو بتا رہے تھے۔ بے نظیر بھٹو نے تعلیم کے دوران اپنا مضمون بھی سیاسیات ہی رکھا اور ابھی یونیورسٹی سے فارغ ہوئی تھیں کہ پیپلز پارٹی نے پاکستان میں حکومت بنالی لیکن اس عوامی حکومت کو اس وقت کی اسٹیبلشمنٹ ،مُلا اور غیرجمہوری لوگوں نے کام نہ کرنے دیا اور بھٹو صاحب جیسے عظیم لیڈر کے وژن اور ذہانت سے پاکستانی قوم اس طرح مستفید نہ ہوسکی جس طرح پیپلز پارٹی کا پلان اور نظریہ تھا۔ بے نظیر بھٹو اس دوران مسلسل اپنے والد کے شانہ بشانہ تھیں اور جب آمرِ وقت نے عظیم لیڈر کو جیل میں ڈالا تو بے نظیر بھٹو اپنی والدہ بیگم نصرت بھٹو کے ساتھ ساتھ رہیں اور جیل میں والد صاحب سے ملاقاتوں کے دوران ملکی حالات اور سیاست پر ہی بات کرتی رہیں اور بھٹو صاحب نے بھی جانچ لیا تھا کہ میری صرف یہی بیٹی میرے نظریے کو آگے لے کر جاسکتی ہے۔ پھر وہ وقت آن پہنچا جو کسی بھی اولاد کیلئے مشکل ہوتا ہے جب اس کا والد اس جہان سے کوچ کرجائے لیکن یہاں بے نظیر کا امتحان شروع ہوا کہ بھٹو صاحب طبعی موت مرنے کی بجائے عدالتی اور آمرانہ قتل کا شکار ہوگئے۔بھٹو صاحب کی شہادت کے بعد محترمہ نصرت بھٹو نے پارٹی کی باگ دوڑ سنبھال لی لیکن کچھ عرصے بعد قیادت بے نظیر نے خود سنبھالی اور اپنے باپ اور جمہوریت کے قاتل کے خلاف کھڑی ہوگئی ۔ یہ پیپلز پارٹی پر مشکل ترین وقت تھا جب چُن چُن کر لوگوں کو کوڑے مارے جارہے تھے اور جیلیں بھری جارہی تھی ۔ اس دوران محترمہ نے اپنے کارکنوں سے کہا بھی کہ اپنی شناخت چُھپا لولیکن نظریاتی ورکر ز نے اپنے آپ کو آمر کے سامنے جھکایا نہیں۔ بے نظیر بھٹو 1984میں لندن چلی گئیں اور یہ قیام 1988تک رہا ۔1988کے الیکشن میں پیپلز پارٹی نے اپنی حکومت بنائی اورمحترمہ دنیائے اسلام کی پہلی منتخب وزیراعظم بن کر سامنے آئیں۔7اگست1990کو پیپلز پارٹی کی حکومت ختم کردی گئی اور اس وقت کے صدر نے اسمبلیاں توڑ دی۔1990کے الیکشن میں اسٹیبلیشمنٹ نے ایک بار اپنا ہاتھ دکھایا اور نواز شریف کو کروڑوں روپے دیکر اور ہر طریقے سے مدد کرکے وزیراعظم بنوا دیا اور ایک طرح سے پیپلز پارٹی نے جمہوریت کیلئے جو جدوجہد شروع کی تھی اسے نواز شریف نے دفن کردیا اور یہی وہ دور تھا جب خواجہ آصف اور شیخ رشید جیسے شاہ کے وفاداروں نے طوفان بدتمیزی شروع کیا اور محترمہ نصرت بھٹو اور بے نظیر بھٹو کے خلاف ہرطرح کی ننگی گفتگو کی اور نواز شریف اپنے جلسوں میں بے ہودگی کی سب حدیں پارکرتے رہے لیکن بے نظیر نے تمام تر گالی گلوچ اور فحش گوئی کو نہ صرف برداشت کیا بلکہ جمہوریت کے استحکام کیلئے ڈٹی رہیں اور پھر 1993میں ایک بار پھر تمام قوتوں کو شکست دے کر حکومت بنانے میں کامیاب ہوگئیں لیکن اس بار بھی ضیاء الحق کے روحانی شاگرد نواز شریف نے سازشوں کا جال بچھائے رکھا اور بے نظیر کی حکومت کی برطرفی سے کچھ دن پہلے چار نامور صحافیوں جن میں حامدمیر بھی شامل تھا ، انہیں مری بلوایا اور کہا کہ میری حکومت آرہی ہے اور آپ لوگ پہلے 90روز میرے خلاف کچھ نہ لکھنا جس پر صحافی حیران ہوئے کہ جناب حکومت تو پیپلز پارٹی کی ہے جس پر وہاں موجود چوہدری نثار طنزیہ انداز میں مسکرائے اور پھر کچھ ہی دنوں بعد بی بی کے بھائی مرتضیٰ کو ان کے گھر کے سامنے دن کے اجالے میں شہید کردیا گیا اور پھر تھوڑے ہی دنوں بعد پیپلزپارٹی کے اپنے صدر جن کی ڈوریاں نواز شریف کے ہاتھ میں تھی ، نے اسمبلیاں توڑ دی اور یوں 1996میں بی بی کی حکومت ختم ہوگئی۔اس کے بعد ایک اور آ مر نے اپنے ہی پیدا کئے ہوئے جمہورے کی حکومت برطرف کردی اور نواز شریف ایک معاہدے کے تحت سعودی عرب چلے گئے اسی دوران بے نظیر اور ان کے خاوند جو نواز شریف کے دور سے ہی جھوٹے کیسز کاسامنا کررہے تھے،ان پر مزید مصیبتیں ڈال دی گئیں اور ان پر زور ڈالا گیا کہ آمرکی حکومت کو مان لیں اور کیس ختم کروالیں لیکن بے نظیر ثابت قدم رہیں اور ڈٹ کر مقابلہ کیا۔ اس وقت بے نظیر بھٹو کے بچے چھوٹے تھے اور زرداری صاحب جیل میں تھے تو بچوں کی پڑھائی اور پارٹی کو منظم رکھنے کیلئے بے نظیر بھٹو لندن منتقل ہوگئیں اور مسلسل اس کوشش میں رہیں کہ کسی طرح پاکستان کو آمر سے چھڑائیں اس کیلئے انہوں نے نوازشریف کی ساری خطائیں معاف کی اور انہیں پاکستان واپس لانے کیلئے جدوجہد تیز کردی۔ یہ وہ وقت تھا جب نواز شریف روزانہ گھنٹوں بے نظیر بھٹو اور ان کی ٹیم کے پاس بیٹھتے اور جمہوریت کا سبق لیتے تھے جبکہ شہبازشریف عمران خان کی رہائی کیلئے جمائما خان کے ساتھ مل کر احتجاج کرتے تھے۔بے نظیر بھٹو کے وژن اور کوشش سے پاکستان میں ایک بار پھر جمہوریت کی راہ ہموار ہوئی اور انہوں نے آمر کو سیاسی چال میں لاکر ہمیشہ ہمیشہ کیلئے پاکستان کو آمریت سے پاک کردیا لیکن یہ کوئی آسان نہ تھا اس کیلئے بے نظیر بھٹو کو اپنی جان کی قربانی دینی پڑی ۔ آج جمہوریت کے چیمپئین بننے والے نام نہاد سیاستدان پہلے دن سے آج تک جمہوری بچے ہی بنے ہوئے ہیں اور پیپلز پارٹی کے علاوہ کسی کو توفیق نہ ہوئی کہ ملک میں اصل جمہوریت کو لانے کیلئے کچھ کرسکیں۔بی بی شہید کا یہ قول تاریخ میں سنہری حروف میں لکھا جائے گاکہ جمہوریت بہترین انتقام ہےاور انہوں نے اپنی جان کی قربانی دے کر یہ ثابت کردیا کہ پیپلز پارٹی شہیدوں کی جماعت ہے اور پاکستان کے لئے اپنی جان کی پرواہ بھی نہیں کرتے ۔ آج پورے پاکستان میں بے نظیر بھٹو کا جنم دن منایاجاہا ہے اور جمہوریت پر یقین رکھنے والے لوگ اس عزم کا اعادہ کریں گے کہ وہ پاکستان میں جمہوریت کے استحکام کیلئے ہر آمر اور آمر انہ سوچ کے خلاف ڈٹ جائیں گے اسی میں ملک و قوم کی بہتری ہے۔ میرے لئے آج دوہری خوشی کا دن ہے کہ آج کے دن پاکستان کی عظیم لیڈر کے جنم دن کے ساتھ ساتھ میری بیٹی حاجرہ محمدکا بھی تیسرا جنم دن ہے اور میری دلی خواہش ہے کہ میری بیٹی بھی دُختر مشرق بے نظیر بھٹو کی طرح حالات سے مقابلہ کرنے والی ایک دلیر اور ملک کی خدمت کرنے والی عظیم بیٹی بنے۔آمین

Views All Time
Views All Time
553
Views Today
Views Today
1
یہ بھی پڑھئے:   شہید بے نظیر بھٹو بنام نواز شریف
Previous
Next

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

*

%d bloggers like this: