ایرانی نظام سیاست اور عوامی بے چینی ۔ حصہ سوم

Print Friendly, PDF & Email

ایرانی نظام سیاست کے تعارفی سلسلے کے پہلےاور دوسرے حصے میں ریاست کے اہم ستونوں مقننہ، انتظامیہ، عدلیہ اور فوج کے نظام کا تعارف پیش کیا گیا تھا۔ تیسرے حصے میں ایرانی نظام میں بسیج اور سپریم لیڈر کا کردار پیش کیا جا رہا ہے۔

بسیج

ایرانی سپاہ پاسداران کی عوامی قوت اور نفوذ کا اصل سرچشمہ ایک رضاکار نیم تربیت یافتہ فوج ہے جسے سازمان بسیج مستضعفین یا مختصرا بسیج کے نام سے جانا جاتا ہے۔ 1979 کے امریکی سفارتخانے پر حملے میں بھی بسیجی فکر کو ذمہ دار قرار دیا گیا ہے۔شہنشاہی نظام کے خلاف جدوجہد اور ایران عراق جنگ میں بسیج نے بےسروسامانی کی حالت میں قربانیوں کی ان گنت مثالیں قائم کیں۔ اس کے بعد بسیج ایرانی منظرنامے پر  90 کی دہائی کے آخر میں دوبارہ اہم کردار کے طور پرنمودار ہوئی جب سیاسی منظرنامے پر عوامی مظاہروں کی شکل میں انقلابی حکومت کے لئے خطرے کی گھنٹی بجی۔بعد ازاں اگلی ایک دہائی بسیج کو ایک نئے کردار کے لئے تیار کیا جاتا رہا جو 2009 کے صدارتی انتخاب کے بعد پھوٹ پڑنے والی بدامنی کی لہر  پر قابو پانے میں ایرانی انقلابی اشرافیہ کے کام آیا۔ اس وقت بسیجی رضاکاروں کی تعداد لاکھوں میں بتائی جاتی ہے جو زندگی کے مختلف شعبوں سے وابستہ اور انقلابی حکومت کے وفادار ہیں۔ یہ رضاکار کسی بھی سیاسی بےچینی کی صورت میں انٹیلی جنس، رد فساد اور جوابی مظاہروں و اجتماعات کے انعقاد کے لئے استعمال ہوتے ہیں۔بسیج کے موجودہ سربراہ بریگیڈیر جنرل غلام حسین غیب پرور ہیں۔

سپریم لیڈر

یہ ایران میں سب سے طاقتور عہدہ سمجھا جاتا ہے۔ ایرانی آئین کے آرٹیکل 57 کی رو سے مقننہ، انتظامیہ اور عدلیہ پابند ہیں کہ مطلق ولایت امر کے زیر نگرانی اپنے امور انجام دیں۔ اسلامی جمہوریہ ایران کے اولین سپریم لیڈر آیت اللہ روح اللہ موسوی خمینی نے ایک دور اندیش انقلابی رہنما کی طرح اپنے انتقال سے پہلے ایک 25 رکنی کمیٹی بنائی جسے ذمہ داری سونپی گئی کہ اگلے رہبر کے انتخاب اور مستقبل کے سیاسی منطرنامے کے لئے آئین میں ضروری ترامیم کریں۔ اس اقدام سے قبل وہ اپنے نائب آیت اللہ منتظری کو عہدے سے برطرف کر چکے تھے۔ اس کے بعد آئین میں مختلف ترامیم تجویز کی گئیں جنہیں اگست 1989 میں ایک عوامی ریفرینڈم میں منظوری کے بعد نافذ کر دیا گیا۔ ان ترامیم کے نفاذ سے قبل ہی سید روح اللہ موسوی خمینی کے انتقال کے بعد مجلس خبرگان رہبری سید علی خامنہ ای کو رہبر منتخب کر چکی تھی۔ ان ترامیم میں سب سے اہم آرٹیکل 107 تھا جس میں رہبر یا ولی فقیہ کے لئے "مرجع” ہونے کی لازمی شرط کو "مجتہد” سے بدل دیا گیا۔ اس تبدیلی کا فرق واضح کرنے کے لئے یہ بتانا کافی ہے کہ اثناء عشری دنیائے تشیع میں مراجع بمشکل دسیوں جبکہ مجتہد سینکڑوں کی تعداد میں ہوتے ہیں۔ اس معاملے پر ایران کے فقہی و علمی حلقوں میں آج بھی تحفظات موجود ہیں۔ اس کے علاوہ اسی آرٹیکل میں ایک رہبر کی بجائے تین یا پانچ مراجع پر مشتمل مجلس شوری رہبری کے انتخاب اختیاری امکان بھی ختم کر دیا گیا۔  ایرانی مزاحمتی شخصیات کا ماننا ہے کہ یہ ترامیم موجودہ سپریم لیڈر سید علی خامنہ ای کے انتخاب کی راہ ہموار کرنے کے لئے متعارف کروائی گئیں۔

ایرانی حزب مخالف کے الزامات کو تقویت جنوری 2018 کے عوامی مظاہروں کے موقع پر "لیک” ہونے والی ایک ویڈیو سے بھی ملتی ہے۔ مجلس خبرگان رہبری کے جون 1989 کے ہنگامی اجلاس کی ویڈیو کا متنازعہ حصہ سرکاری طور پر کبھی جاری نہیں کیا گیا۔ اجلاس کی مکمل ویڈیو میں اس وقت کے صدر سید علی خامنہ ای مجلس خبرگان رہبری کے ارکان سے خطاب میں اپنی نامزدگی کو رد کرتے ہوئے کہتے ہیں کہ ایسے اسلامی معاشرے کی حالت پر خون کے آنسو رونے چاہئیں جہاں رہبریت کے لئے ان کے نام پر غور کیا جائے کیونکہ وہ آئینی و قانونی طور پر اس عہدے کے اہل نہیں جس سے حاضرین بھی بخوبی آگاہ ہیں اور اس معاملے میں کافی سنجیدہ مسائل درپیش ہیں۔ خبرگان کے ارکان سے ان کا کہنا تھا کہ شرعی لحاظ سے آپ میں سے کئی افراد میرے فیصلوں کو رہبر کے احکام تسلیم نہیں کریں گے تو یہ کس طرز کی رہبری ہو گی۔ اس اجلاس میں سب سے اہم موڑ تب آیا جب آیت اللہ علی اکبر ہاشمی رفسنجانی ارکان کو بتاتے ہیں کہ شبستری نے طاہری سے سنا جن کا کہنا ہے کہ آغا خمینی نے خامنہ ای کے متعلق کچھ فرمایا ہے، اگر آپ چاہتے ہیں تو میں بتاتا ہوں ورنہ ہمارے پاس گواہ بھی موجود ہیں۔ انہوں نے مزید بتایا کہ ہم نے امام (خمینی) سے دریافت کیا کہ ابھی مملکت کے لئے آپ کا کوئی مناسب متبادل نظر نہیں آ رہا تو انہوں نے فرمایا کہ آپ کے پاس آغا خامنہ ای ہیں۔ بعد ازاں آیت اللہ ہاشمی رفسنجانی یہ کہتے ہوئے بحث کے خاتمے اور ووٹنگ کا اعلان کرتے ہیں کہ سیدعلی خامنہ ای کی رہبریت، جو عوامی ریفرینڈم کے انعقاد تک کے لئے عارضی انتظام ہے، کی تائید کرنے والے ارکان کھڑے ہو جائیں۔ اس معاملے میں دلچسپ پہلو یہ ہے کہ سرکاری طور پر مجلس خبرگان رہبری کے سربراہ آیت اللہ علی مشکینی تھے لیکن کاروائی ہاشمی رفسنجانی چلاتے نظر آئے۔ سید علی خامنہ ای کے منصب رہبر پر فائز ہونے کے بعد ہاشمی رفسنجانی اگست 1989 کے انتخاب میں 94 فیصد ووٹ حاصل کر کے بھاری اکثریت سے صدر منتخب ہوئے۔ اس انتخاب میں حصہ لینے کے لئے 79 امیدواروں میں سے فقط دو ہی شوری نگہبان کی منظوری حاصل کر پائے تھے۔

یہ بھی پڑھئے:   انصاف"ریجیکٹڈ" | شاہد عباس کاظمی

ترمیم شدہ ایرانی آئین کے آرٹیکل 107 کی رو سے دستیاب امیدواروں میں سے درست رہبر کا انتخاب ایرانی عوام کے ووٹوں سے منتخب مجلس خبرگان رہبری کی ذمہ داری ہے۔ امیدواروں کے لئے ضروری ہے کہ وہ مجتہد ہونے کے ساتھ موجودہ دور کے مسائل کا علم اور انتظامی قابلیت رکھتے ہوں اور اگر مطلوبہ معیار پر ایک سے زیادہ امیدوار پورے اترتے ہوں تو زیادہ سیاسی قابلیت کے امیدوار کو ترجیح دی جائے گی۔ آئین کی رو سے رہبر کو عہدے سے ہٹانے کا اختیار بھی مجلس خبرگان رہبری کو ہی حاصل ہے جس کے لئے ضروری ہے کہ رہبر مطلوبہ قابلیت کھو چکا ہو یا مجلس کے علم میں آئے کہ انتخاب کے وقت موجودہ رہبر کسی ایک یا زیادہ مطلوبہ صفات سے محروم تھا۔

اسلامی جمہوری ایران کے آئین کی رو سے رہبر کو کلیدی عہدیداوں کی تعیناتی اور برطرفی کا اختیار حاصل ہے جن میں شوری نگہبان کے فقہاء، عدلیہ کے سربراہ، سرکاری نشریاتی اداروں کے سربراہ، چیف آف جنرل سٹاف، سپاہ پاسداران کے سربراہ اور سول و مسلح افواج کے سربراہان شامل ہیں۔ اس کے علاوہ غیرتحریری اور بالواسطہ طور پر  رہبر ہر کلیدی عہدیدار کو برطرف کر سکتے ہیں، اس کی ایک مثال 2009 میں سامنے آئی جب اس وقت کے صدر محمود احمدی نزاد کو رہبر نے ان کے نائب اسفندیار رحیم مشایی کی برطرفی کا "مشورہ” دیا۔ معمولی مزاحمت کے بعد احمدی نزاد کو اس مشورے پر بالآخر عمل کرنا پڑا۔ اس کے بعد 2013 کے صدارتی انتخاب میں رحیم مشایی کے کاغذات شوری نگہبان نے مسترد کر دئے اور ان دنوں وہ ایران کی انقلابی عدالت میں رہبر کی توہین اور نفرت پھیلانے کے الزامات کا دفاع کر رہے ہیں۔ اس کے علاوہ حزب اختلاف کے رہنماؤں مہدی کروبی، میر حسین موسوی اور موسوی کی زوجہ زہرا راہ نورد کی گزشتہ سات سال سے بغیر کسی مقدمے کے مسلسل نظربندی بھی سپریم لیڈر کی طاقت کی مثال ہے کہ صدر حسن روحانی اپنے انتخابی منشور میں شامل سیاسی قیدیوں کی رہائی کا وعدہ ابھی تک پورا نہیں کر پائے۔

یہ بھی پڑھئے:   ایرانی نظام سیاست اور عوامی بے چینی ۔ حصہ دوم

اسلامی جمہوری ایران کے رہبر معیشت پر بھی بالواسطہ تسلط رکھتے ہیں۔ اس سلسلے میں سب سے اہم کھلاڑی بنیاد مستضعفین فاؤنڈیشن ہے جسے ٹیکس سمیت مختلف قانونی معاملات میں استثناء حاصل ہے۔ اس فاؤنڈیشن کے مختلف معاملات سے سپاہ پاسداران کا بالواسطہ اور بلاواسطہ تعلق ہے اور اسے داخلی و خارجی انقلابی منصوبوں اور تحاریک کیلئے زر کی فراہمی کا اہم ذریعہ سمجھا جاتا ہے۔ اس وقت یہ ادارہ اربوں ڈالر کی جائیداد اور اداروں کا مالک ہے۔ مختلف جرائم میں ملوث افراد کی جائیدادیں ضبطگی کے بعد اکثر اسی ادارے کے سپرد کی جاتی ہیں۔ اس معاملے میں ایرانی آئین کے آرٹیکل 49 میں جائیداد کی ضبطگی کا پیمانہ اس قدر وسیع بیان کیا گیا ہے کہ حزب مخالف اکثر اس کے غلط اور سیاسی مخالفین کو دباؤ میں لانے کے لئے بدنیتی سے استعمال کا الزام عائد کرتی رہتی ہے۔ اس قانون کے استعمال کے لئے عموما انقلابی اور شرعی عدالتیں استعمال کی جاتی ہیں۔ اتنے زرخیز مالی معاملات میں ایران مخالف مغربی ذرائع ابلاغ دفتر رہبریت اور ان کے خانوادے پر مختلف شکوک کا اظہار کرتے رہے ہیں جن کی آزاد ذرائع سے تصدیق نہیں ہو سکی۔

اسلامی جمہوری ایران میں رہبر کا عہدہ جسے احتراما رہبر معظم بھی پکارا جاتا ہے وسیع اختیارات کا مالک ہے بلکہ اکثر معاملات میں اسے حرف آخر سمجھا جاتا ہے۔ جہاں اختیارات کے اس ارتکاز نے مملکت کو مختلف بیرونی سازشوں سے محفوظ رکھنے میں مضبوط ترین کردار ادا کیا وہیں ایک متسلط جمہوریت نے ردعمل میں اندرونی خرابیوں کو بھی جنم دیا۔ شاید یہی وجہ ہے کہ اگست 1989 سے اب تک انتیس سال میں آنے والے چاروں صدور (مدت کے دوران یا تکمیل کے بعد) رہبر مخالف سیاسی محاذ کا حصہ نظر آتے ہیں۔

مضامین کے اس سلسلے کے آخری حصے میں ایرانی معاشرے میں بے چینی اور وقتا فوقتا پھوٹ پڑنے والے مظاہروں کا نظام اور متذکرہ وجوہات کی روشنی میں مختصر احاطہ کیا جائے گا۔

Views All Time
Views All Time
766
Views Today
Views Today
2
mm

مصلوب واسطی انجینئرنگ کے شعبہ سے وابستہ ہیں، بحیثیت بلاگر معاشرتی ناہمواریوں اور رویوں کے ناقد ہیں۔

mm

مصلوب واسطی

مصلوب واسطی انجینئرنگ کے شعبہ سے وابستہ ہیں، بحیثیت بلاگر معاشرتی ناہمواریوں اور رویوں کے ناقد ہیں۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

%d bloggers like this: