Skip to Content

Qalamkar | قلم کار

جہالت، ظلم اور ناانصافی کے خلاف برسرپیکار

ایرانی نظام سیاست اور عوامی بے چینی ۔ حصہ دوم

by فروری 2, 2018 بلاگ
ایرانی نظام سیاست اور عوامی بے چینی ۔ حصہ دوم
Print Friendly, PDF & Email

ایرانی نظام سیاست کے تعارفی سلسلے کے پہلے حصے میں ریاست کے تین اہم ستونوں مقننہ، انتظامیہ اور عدلیہ کا سرسری جائزہ پیش کیا گیا تھا۔ دوسرے حصے میں ریاست کے چوتھے ستون مسلح افواج کا تعارف پیش کیا جا رہا ہے۔

چیف آف جنرل سٹاف
سپریم لیڈر ایرانی افواج کے کمانڈر انچیف بھی ہیں اور چیف آف جنرل اسٹاف ان کے بعد سب سے بڑا عہدہ ہے۔ انقلاب سے قبل شاہ کے زمانے اور انقلاب کی کامیابی کے بعد سے روایتی طور پر ایران میں مسلح افواج ایک حساس موضوع رہا ہے۔ 1979ء کے انقلاب کے بعد سے اسلامی جمہوری ایران میں افواج دو دھڑوں میں منقسم ہیں، ایک روایتی مسلح افواج ارتش اور دوسری سپاہ پاسداران انقلاب اسلامی۔ آئینی طور پر فوج کے یہ دونوں حصے چیف آف جنرل اسٹاف کے ماتحت ہیں۔ اس کے علاوہ قانون نافذ کرنے والا اندرونی سلامتی کا ذمہ دار ادارہ بھی جنرل اسٹاف آفس کو جواب دہ ہے۔ چیف آف جنرل اسٹاف کا تقرر اور معزولی سپریم لیڈر کا اختیار ہے۔ ایران کے موجودہ چیف میجر جنرل محمد حسین باقری سیاسیات و جغرافیہ میں ڈاکٹریٹ ہیں۔ ان کا تعلق سپاہ پاسداران انقلاب کے شعبہ انٹیلی جنس سے ہے اور وہ 2016ء میں اس عہدے پر فائز ہوئے۔ 1979ء میں اس وقت انجینئرنگ کے طالب علم حسین باقری امریکی سفارت خانے پر قبضہ کرنے والے طلباء میں شامل تھے۔ ان کے بھائی حسن باقری کا شمار سپاہ پاسداران کی بنیاد رکھنے والوں میں ہوتا ہے۔ جنرل باقری سے پہلے حسن فیروزآبادی 1989ء سے 2016ء تک ایرانی افواج کے سربراہ رہے جنہوں نے میر حسین موسوی کی جگہ یہ ذمہ داری سنبھالی تھی۔ 27 سال تک افواج کی کمان کرنے والے حسن فیروزآبادی کا تعلق ارتش یا پاسداران انقلاب کی بجائے بسیجی رضا کاروں سے بتایا جاتا ہے۔ ریٹائرڈ میجر جنرل فیروزآبادی اس وقت پارلیمنٹ اور شوری نگہبان میں مصالحت کرانے کے ذمہ دار ادارے مجمع تشخیص مصلحت نظام کے رکن ہیں۔
آئینی طور پر چیف آف جنرل سٹاف کے لیے ارتش یا سپاہ پاسداران انقلاب سے کسی بھی موزوں جرنیل کو منتخب کیا جا سکتا ہے لیکن غیر تحریری طور پر ارتش کے جرنیل کا چیف بننا ممکن نہیں۔ اس کی وجہ یہ بیان کی جاتی ہے کہ فوج کے دونوں دھڑوں میں کشاکش چلتی رہتی ہے جس میں ہمیشہ پاسداران کا پلڑا بھاری ہی رہا ہے کیونکہ اسے عموما سپریم لیڈر کے ساتھ زیادہ وفادار سمجھا جاتا ہے۔ پاسداران سے تعلق رکھنے والے موجودہ چیف کے ماضی میں ارتش کے متعلق غیر مناسب تبصرے بھی ریکارڈ پر ہیں۔ اس کے علاوہ عہدہ سنبھالنے کے بعد جنرل باقری بلوچ باغیوں کے خلاف پاکستان کے اندر زمینی کاروائی کے غیرذمہ دارانہ بیان پر ہدف تنقید بنے رہے تھے۔

وزیر دفاع
ایرانی وزیر دفاع کی نامزدگی فوج میں بریگیڈیئر جنرل عہدے کے افسروں میں سے ہوتی ہے جس کی توثیق پارلیمنٹ کرتی ہے۔ ایران کے موجودہ وزیر دفاع امیر حاتمی ہیں۔ یہ پہلے وزیر ہیں جن کا تعلق ارتش سے ہے جب کہ ان سے پہلے وزراء پاسداران کے افسران تھے۔ پارلیمنٹ نے حاتمی کی توثیق 261 – 10 کے بھاری فرق سے کی ہے۔

ارتش جمہوری اسلامی
ایرانی مسلح افواج کو ارتش جمہوری اسلامی ایران پکارا جاتا ہے۔ ارتش بری فوج، فضائیہ، بحریہ اور فضائی دفاعی افواج پر مشتمل ہے۔ ارتش کے موجودہ کمانڈر میجر جنرل عبدالرحیم موسوی ہیں۔
بری فوج "نزاجا” اپنا تاریخی رشتہ ہزار برس قبل مسیح کے فارس کی گھڑسوار، فیل سوار اور پیدل لڑاکا فوج سے جوڑتی ہے۔ نزاجا اس وقت تین لاکھ سے زائد کل وقتی اہلکاروں پر مشتمل ہے۔ اس کے سربراہ بریگیڈئیر جنرل کیومرث حیدری ہیں۔
ارتش کی اہم قوت اس کی فضائیہ ہے۔ ایرانی فضائیہ اپنے لئے "تیز پروازان” کا لقب پسند کرتی ہے۔ انقلاب سے قبل فضائیہ پیشہ وارانہ صلاحیت میں بری فوج سے آگے رہی تھی اور ایران عراق جنگ میں فیصلہ کن کردار ایرانی فضائیہ نے ادا کیا لیکن بعد ازاں عالمی پابندیوں نے اس کی صلاحیتوں پر منفی اثرات مرتب کیے۔ اس وقت ایک اندازے کے مطابق ایرانی فضائیہ کے پاس تین سو سے زائد جنگی طیارے موجود ہیں۔ کچھ عرصہ قبل فضائی افواج کے سربراہ نے جنگی طیاروں کے دوبارہ ایندھن بھرے بغیر تین ہزار کلو میٹر تک مسلسل پرواز کی صلاحیت حاصل کرنے کا دعوی کیا تھا۔ فضائیہ کے موجودہ سربراہ بریگیڈئیر جنرل حسن شاہ صفی ہیں۔
ایران کے جغرافیائی محل وقوع کے باعث ایک طاقتور بحریہ کی ہمیشہ ضرورت رہی ہے۔ ایرانی بحری فوج "نداجا” اپنے لیے دریا دلان کا لقب پسند کرتی ہے۔ نداجا ایک پیشہ وارانہ تربیت یافتہ فوج ہے جس کے بیڑے میں آبدوزیں اور چھوٹے بڑے جنگی بحری جہاز شامل ہیں۔ 2007ء میں خلیج فارس میں ایرانی مفادات کی حفاظت کی بنیادی ذمہ داری نداجا سے لے کر پاسداران انقلاب کی بحری فوج کے حوالے کر دی گئیں۔ نداجا کے موجودہ سربراہ رئیر ایڈمرل حسین خانزادی ہیں۔ نداجا کے پیشہ وارانہ رویے اور صلاحیتوں کا اعتراف امریکی بحریہ بھی کر چکی ہے۔
انقلاب ایران کے بعد سے ہمیشہ ایران کو غیر ملکی فضائی حملوں کا خطرہ درپیش رہا ہے۔ 2008ء میں تیزی سے بدلتے عالمی منطرنامے کے پیش نظر فضائی دفاع کے علیحدہ اور مضبوط انتظام کی ضرورت کے تحت الگ فوج تشکیل پائی۔ اس سے پہلے یہ فضائیہ کا ہی ایک ذیلی شعبہ تھا۔ فضائی حدود کی حفاظت کے لیے فضائی دفاعی افواج زمین سے فضا میں مار کرنے والے جہاز شکن، میزائل شکن اور ٹینک شکن میزائلوں اور ریڈار سسٹم سے لیس ہے۔ اس کے یونٹ کے موجودہ سربراہ بریگیڈئیر جنرل فرزاد اسماعیلی ہیں۔

یہ بھی پڑھئے:   بڑے لوگ بڑی عادتیں - سید ثمر احمد

ارتش اور اس کی چاروں مسلح افواج کے جرنیلوں اور سربراہان کے تقرر، تبادلے، ترقی اور برخاستگی کا مکمل اختیار سپریم لیڈر کے پاس ہے۔ قابل ذکر واقعہ ہے کہ جس وقت ایرانی سیاست میں اصلاح پسندوں کی آواز بلند ہو رہی تھی، 2000ء میں ایک ریٹائرڈ افسر محمد سلیمی کو میجر جنرل کا عہدہ دے کر ارتش کا سربراہ بنا دیا گیا۔

سپاہ پاسداران انقلاب اسلامی
ایرانی عوام میں دوسری جنگ عظیم سے رضا شاہ کے دور تک ارتش کا کردار متنازع رہا ہے۔ شاہ پسندی کی بنیاد پر ایرانی انقلاب کے بعد بھی فوج کا کردار مشکوک ہی سمجھا جاتا رہا۔ انقلاب کے ثمرات کی حفاظت اور اسے اندرونی و بیرونی دشمنوں سے بچانے کے لیے سپاہ پاسداران انقلاب اسلامی کا قیام عمل میں لایا گیا جسے عام طور پر "سپاہ” پکارا جاتا ہے۔ سپاہ، ارتش کے متوازی ایک فوج ہے جس کے اپنے بری، بحری، فضائی، اسپیشل آپریشن، انٹیلی جنس اور ریزرو رضاکار یونٹ ہیں۔ سپاہ پاسداران کے موجودہ سربراہ میجر جنرل محمد علی جعفری ہیں۔ یہ سپاہ کے ان چوبیس کمانڈروں میں سے ہیں جنہوں نے اس وقت کے صدر خاتمی کو ایک خط کے ذریعے انتباہ کیا تھا کہ حکومتی اصلاحی پالیسیاں ایرانی انقلاب اور قیادت کے لیے خطرہ ہیں۔

سپاہ پاسداران کی تنظیم اور طریقہ کار میں وقت کے ساتھ تبدیلی آتی رہتی ہے اور اس کی مکمل معلومات عام نہیں کی جاتیں۔ اس وقت سپاہ کا اہم ترین حصہ اس کی اسپیشل آپریشن فورس "قدس” ہے جس کی ذمہ داریوں میں سرحدوں کی قید نہیں۔ قدس فورس کے موجودہ اہم محاذ شام، غزہ، لبنان، عراق اور افغانستان ہیں۔ عرب ممالک بحرین اور یمن کی عوامی شورشوں کی پشت پر بھی قدس فورس کا ہاتھ ہونے کا الزام لگاتے ہیں۔1998ء سے قدس فورس کے سربراہی میجر جنرل قاسم سلیمانی کر رہے ہیں۔ سپریم لیڈر نے2011ء میں جنرل سلیمانی کو میجر جنرل کے عہدے پر ترقی دی۔ اس کے علاوہ سپریم لیڈر انہیں "زندہ شہید” کا خطاب بھی دے چکے ہیں۔ یاد رہے سپاہ میں لیفٹیننٹ جنرل کا عہدہ صرف "شہید جرنیل” کو دیا جاتا ہے۔ سلیمانی کے بھائی سہراب تہران کے جیل خانہ جات کے اہم عہدیدار رہے ہیں۔ سلیمانی برادران پر امریکہ نے مختلف پابندیاں عائد کر رکھی ہیں۔

یہ بھی پڑھئے:   زینب ہے میرا نام

علاقائی سیاسی حالات میں سپاہ کا فضائی و میزائل یونٹ بھی اہمیت کا حامل ہے جس کے سربراہ بریگیڈئیر جنرل امیر علی ہیں۔ اس یونٹ کی جانب سے ہی ایرانی غاروں میں حملے کے لیے تیار میزائلوں کے ذخیرے کی ویڈیو بنائی گئی تھی جس کے اجراء کے موقع و مناسبت کو حالیہ صدارتی انتخابات مہم میں حسن روحانی نے شدید تنقید کا نشانہ بنایا تھا۔
ایرانی جغرافیے میں خلیج فارس کی اہمیت کے پیش نظر گشت و نگرانی کی بنیادی ذمہ داری سپاہ کے بحری دستوں کے پاس ہے جو تیز رفتار لڑاکا کشتیوں اور روایتی اور غیر روایتی ہتھیاروں سے مسلح ہے۔ چھاپہ مار صلاحیتوں کے لیے مشہور ان دستوں کی کئی بار امریکی بحریہ سے کشیدگی اور مڈھ بھیڑ خبروں کی زینت بنتی رہتی ہے۔ علی فدوی گذشتہ سات سال سے سپاہ کے بحری دستوں کے سالار ہیں۔ فدوی کچھ سال قبل اس وقت عالمی خبروں کی زینت بنے جب انہوں نے "منٹوں میں امریکی طیارہ بردار جہازوں کو ڈبونے کی صلاحیت” حاصل کرنے کا دعوی کیا۔
زمینی دستے افرادی قوت کے لحاظ سے سپاہ کی سب سے بڑی فوج ہیں۔ بریگیڈئیر جنرل محمد پاکپور سپاہ کی بری فوج کے سربراہ ہیں۔ اندرونی و بیرونی سلامتی اور سیاسی صورت حال میں سپاہ سب سے زیادہ اہمیت کا حامل عنصر ہے۔ ایک اطلاع کے مطابق گذشتہ دو دہائیوں میں وقفے وقفے سے ابھرنے والے عوامی احتجاج کے پیش نظر سپاہ کی کمان کی ساخت میں تبدیلیاں بھی کی گئی ہیں۔ اس وقت ایران کے ہر صوبے کے لیے سپاہ کی ایک کور جب کہ تہران کے لیے دو کور مخصوص ہیں۔

تہران میں واقع دانش گاہ امام حسین سپاہ پاسداران انقلاب اسلامی کے لیے بنیادی درس گاہ اور تربیت گاہ ہے۔ اسی کی دہائی میں قائم کیے گئے اس ادارے کے کچھ شعبے اب باقاعدہ الگ ادارے بن چکے ہیں جیسے بقیۃ اللہ میڈیکل یونیورسٹی۔ اس وقت یہ ادارے سپاہ اور ایران کے انجینئرنگ ، سائنس، ٹیکنالوجی (بالخصوص ایٹمی، میزائل اور ڈرون ٹیکنالوجی) اور طب کے شعبوں میں تحقیق، ترقی اور مطلوبہ افرادی قوت کی فراہمی کے لیے ریڑھ کی ہڈی ہیں۔ روایتی اسلحہ، غیر روایتی دفاع اور ٹیکنالوجی میں ایرانی خود انحصاری امام حسین یونیورسٹی، بقیتہ اللہ میڈیکل یونیورسٹی اور مالک اشتر یونیورسٹی برائے ٹیکنالوجی کی مرہون منت ہے۔

اندرونی سیاسی حالات اور بےچینیوں سے نمٹنے میں سپاہ کی قوت کا اہم عنصر بسیج اور اس کے رضا کار ہیں۔ اس سلسلے کےاگلے حصے میں بسیج، انصار حزب اللہ اور سپریم لیڈر کا تعارف پیش کیا جائے گا۔

ایرانی نظام سیاست اور عوامی بے چینی ۔ حصہ سوم

Views All Time
Views All Time
988
Views Today
Views Today
1
mm

مصلوب واسطی انجینئرنگ کے شعبہ سے وابستہ ہیں، بحیثیت بلاگر معاشرتی ناہمواریوں اور رویوں کے ناقد ہیں۔

Previous
Next

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

*

%d bloggers like this: