Skip to Content

Qalamkar | قلم کار

جہالت، ظلم اور ناانصافی کے خلاف برسرپیکار

بجلی چوری سے اجتناب-اقراء ضیاء

by جولائی 7, 2017 حاشیے
بجلی چوری سے اجتناب-اقراء ضیاء

ملک کی ترقی کا انحصار اس سے وابستہ لوگوں سے ہے اور ترقی یافتہ مُلک وہی کہلاتا ہے جہاں جدید سہولیات کے ساتھ ساتھ زندگی کی دیگر معمولی سہولیات بھی موجود ہوں.اگر مُلکِ پاکستان کی بات کی جائے تو یہاں کے مسائل ختم ہونے کے بجائے آئے دن بڑھتے ہی چلے جا رہے ہیں. اور ہم ترقی کی دوڑ میں آگے جانے کے بجائے پیچھے جا رہے ہیں. موجودہ دور کا سب سے اہم مسئلہ بجلی کی غیر اعلانیہ لوڈشیڈنگ ہے .جس کی وجہ سے عوام بے جا مسائل سے دوچار ہے. خواہ بچے ہوں یا بڑے تمام لوگ اس مسئلے سے رہائی حاصل کرنا چاہتے ہیں. اور اس مسئلے کے حل کے لئے حکومت کی کوششیں بھی جاری ہیں. مگر میرا ماننا ہے کہ اس مسئلے کو حل کرنے کے لئے حکومت کو عوام کے تعاون کی ضرورت ہے .
تعاون سے مُراد ہے کہ اگر عوام بجلی کی بچت کرے ،بجلی چوری سے باز آجائے اور بجلی کے بِل کی مکمل ادائیگی کرے تو ممکن ہے کہ عوام کو اس مسئلے سے نجات مل جائے . آپ اس بات کا بخوبی اندازہ لگا سکتے ہیں کہ جس گھر میں 3 سے4 ائیر کنڈیشنر موجود ہوں اور گھر کی غیر ضروری بتیوں کا استعمال ہر وقت کیا جاتا ہو اور میٹر مکمل طور پر بند ہو توگورنمنٹ ہرایک شہری کے لئے متواتر بجلی کی فراہمی کیسے یقینی بنا سکتی ہے اور انہی بجلی چوروں کی وجہ سے وہ لوگ بھی بجلی کے حصول سے محروم رہتے ہیں جو بجلی کے بِل کی مُکمل ادائیگی کرتے ہوں اور بجلی کا بے جا استعمال نہ کرتے ہوں. لیکن جب بجلی کے بِل کی ادائیگی کا وقت آتا ہے تو کے ای ایس سی اور واپڈا حکام کی طرف سے 20 سے 30 ہزار بِل ماہانہ بھجوادیا جاتا ہے اوردن میں صرف 12 گھنٹے بجلی فراہم کی جاتی ہو تو یہ بِل بے قصور عوام کے لئے کسی پہاڑ کے بوجھ سے کم نہیں ہوتا.
ایک طرف عوام ہے کہ جو بجلی کی چوری سے باز نہیں آتی اور پھر حکومتِ پاکستان سے شکوہ شکایت کرتی ہے تو دوسری طرف واپڈا اور کے ای ایس سی حکام کرپشن سے باز نہیں آتے. کبھی وہ اپنی ڈیوٹی سے برعکس کام کرتے ہوئے دکھائی دیتے ہیں.تو کبھی یہی ملازمین عوام کے ساتھ بجلی چوری میں برابر کے شریک ہوتے ہیں.چونکہ ملازمین اس بات سے بخوبی واقف ہوتے ہیں کہ کہاں بجلی چوری کی جارہی ہے اور کہاں اس کے استعمال کی مکمل ادائیگی کی جارہی ہے مگر وہ انہیں روکنے کے بجائے ان کامکمل ساتھ دیتے ہوئے دکھائی دیتے ہیں. اس سے یہی مُراد ہے کہ یہ حکام صرف چند روپوں کی خاطر اپنے ایمان کو بیچ ڈالتے ہیں اور حلال روزی کمانے کے بجائے حرام کمانے کے عادی ہو جاتے ہیں.
آخرایک انسا ن چوری سے کمائی ہوئی روزی کو کتنے دن تک استعمال کر سکتا ہے؟اور وہ کتنے دن تک اس روپے کو بچائے رکھے گا؟کبھی نہ کبھی اُسے چوری کی قیمت ضرور ادا کرنی پڑے گی اور نہ جانے کیوں چوری کرنے والاانسان لالچ کی آگ میں خود کو دن بدن جلائے جا رہا ہے. دراصل وہ جانتا نہیں کہ آج جس گرمی سے خود کوبچانے کے لیے چوری کی بجلی استعمال کر رہا ہے کل کو اسے جہنم کی گرمی سے کون نجات دلائے گا؟اورآخر کیوں انسان کی زندگی کے مسائل دن بدن ختم ہونے کے بجائے بڑھتے ہی جا رہے ہیں اُسے یہ ضرور سوچنا چاہیے کہ آخر اُس سے ایسی کون سی غلطی سرزد ہوگئی ہے جس کی بدولت اُس کی مُشکلات میں اضافہ ہو رہا ہے.شاید یہ سوچنے سے ایک انسان خود کو غلط راستے پر چلنے سے بچا سکتا ہے.

Views All Time
Views All Time
312
Views Today
Views Today
1
یہ بھی پڑھئے:   چاکلیٹی ہیرو وحید مراد کی 34 ویں برسی
Previous
Next

One commentcomments

  1. Good initiative. Allah bless all of their followers

جواب دیجئے

%d bloggers like this: