Skip to Content

Qalamkar | قلم کار

جہالت، ظلم اور ناانصافی کے خلاف برسرپیکار

ماں اور انا

by اکتوبر 15, 2016 افسانہ
ماں اور انا
Print Friendly, PDF & Email

iqra-shareefجولائی کی تپتی دوپہر تھی ، سورج جیسے سوا نیزے پر آگیا تھا گرمی اور حبس سے انسان کیا جانور بھی پناہ مانگ رہے تھے ،ہسپتال مریضوں سے کھچا کھچ بھرا ہواتھا ، زنانہ وارڈ کے کونے والے بیڈ پر نازیہ اپنی بیمار ماں کے پاس بیٹھی عجب سوچوں میں گم تھی وہ سخت مایوس تھی ماں کو موذی مرض لاحق تھا علاج کے لئے پیسے نہ تھے . نازک جسم والی دھان پان سی نازیہ کے کندھے اتنے طاقتور نہ تھے کہ ماں کی دوائیوں اور اخراجات کا بار اٹھا سکیں وہ جانتی تھی کہ رشتہ داروں میں سے بھی کوئی مدد دینے کو تیار نہیں ہوگا اسے بچپن کے دن رہ رہ کے یاد آ رہے تھےجب باپ کا سایہ اس کے سر پر چھاوٗں کئے ہوئے تھا اُسے یاد تھا کہ باپ کے ہوتے وہ کسی بھی خواہش کا اظہار کرتی تو آنکھ جھپکنے سے پہلے اس کی ہر خواہش پوری کر دی جاتی مگر آج اس کی ایک ہی خواہش تھی کہ باپ کے بعد کسی طرح ماں کی چھاؤں نصیب رہے وہ جوانی کے بیسویں سال میں تھی گھر میں نازیہ کے علاوہ کوئی ایسا نہ تھا جو ماں کی تیمارداری کر سکے دو بھائی تھے لیکن ابھی بہت چھوٹے تھے ۔یہ ایک سرکاری ہسپتال تھا جس میں اس کی ماں زیر علاج تھی یہاں علاج سے زیادہ دھکے اور دھتکاریں تھیں وہ بڑ بڑائی ” کاش ! میرے پاس بھی دولت ہوتی اور میں بھی ماں کا علاج کسی مہنگے پرائیویٹ ہسپتال سے کروا سکتی ۔” اُسے لگا کہ جیسے اس کی بڑبراہٹ ماں کے کانوں تک جا پہنچی ہے جبھی تو ماں نے اسے آواز دی تھی وہ اٹھی اور ماں کے قریب آگئی ماں بولی ۔”نازیہ بیٹا ! کس سے باتیں کر رہی تھی ۔؟ اور یہ پنکھا ہوا کیوں نہیں دے رہا ۔؟”
”امی کیونکہ یہ سرکاری ہسپتال ہے یہاں پنکھا کیا ہر چیز بس نام کی ہی ہے سب کچھ اللہ کے آسرے پر چلتا ہے ۔”
نازیہ اپنی بات مکمل بھی نہ کر پائی تھی کہ سٹاف نرس وارڈ میں داخل ہوئی اس کے کانوں میں ہینڈ فری لگی تھی اور وہ فون پر کسی سے ہنس ہنس کے باتیں کرتی چلی آ رہی تھی شاید کسی ینگ ڈاکٹر سے وہ فون پر سر ! سر! بھی کہہ رہی تھی اور اس کے چہرے کے تاثرات یہ بھی بتا رہے تھے کہ یہ عام نہیں کوئی ”خاص ”کال ہے پھر اس نے فون پر مخصوص ” سوری ” کہا اور کالر کو انتظار کی گھڑیوں پر لگا کر مریضوں کی طرف بڑھی اسی ہنس ہنس کے باتیں کرنے والی نرس کا لہجہ یکدم سخت اور کرخت ہو چکا تھا ایسا کرخت کہ کچھ مریض اپنا آدھا مرض بھول ہی گئے تھوڑی ہی دیر میں وہ نازیہ کے بیڈ پر آ پہنچی اور بولی۔ ” جو دوا ڈاکٹر نے لکھ کر دی تھی وہ سٹور سے لے آئی ہو ۔؟” نازیہ جیسے نرس کے سوال کو ٹالنا چاہتی تھی ، وہ بولی ۔” سسٹر یہ پنکھا ہوا نہیں دے رہا ۔” اس سے پہلے کہ نازیہ مزید کچھ کہہ پاتی نرس اگلے بیڈ کی طرف بڑھ گئی نازیہ اٹھی اور نرس کے پاس گئی اوردھیمے لہجے میں بولی۔ ” سسٹر !پلیز میری ماں کو کسی اور بیڈ پر شفٹ کر دیں یہاں بہت گرمی ہے پنکھے کی ہوا بالکل نہیں ہے یہ سننا تھا کہ نرس غصے سے بھڑک اٹھی "ہاں ہاں تم کو اور تمہاری ماں کو بہت گرمی لگ رہی ہے تو جاؤ پھرلے جاؤاپنی ماں کو کسی ایرکنڈیشنڈ ہسپتال میں یہاں کیوں مار رہی ہو اسے ؟ توبہ ! کتنے نخرے آتے ہیں تم لوگوں کو شکر کرو تمہیں بیڈ ملا ہوا ہے باہر جا کے دیکھو لوگ اپنے مریضوں کو برآمدوں اور راہداریوں میں لئے بیٹھے ہیں”. نرس کا رویہ صاف بتا رہا تھا کہ اس کے اندر انسانیت مر چکی ہے اس کے الفاظ نازیہ کی روح کو کرچی کرچی کر رہے تھے وہ اپنے آنسوؤں کو ضبط کر کے واپس ماں کی طرف لوٹی ۔” نازیہ بیٹا ! کیوں نرس کے منہ لگ رہی ہو دفع کرو اب ٹھیک ہے پنکھا ۔”ماں ماتھے کا پسینہ صاف کرتے ہوے بولی …
نازیہ کچھ بولے بغیر دوائی کی پرچی لئے باہر کو چل پڑی .نرس کے الفاظ ابھی تک اس کے کانوں میں گونج رہے تھے وہ تلخی سے نرس کے رویہ پر بڑ بڑا رہی تھی ۔” آخر ان لوگوں کو ترس کیوں نہیں آتا احساس نام کی کوئی بھی چیز ان کو یہ سوچنے پر مجبور کیوں نہیں کرتی کہ انسانیت سے ہمدردی ہی حاصل زندگی ہے ۔ کاش ! باپ جوانی میں ہی نہ مر جاتے کاش ! ان کے رشتہ دار باپ کے کاروبار اور جائیداد پر قبضہ نہ کر لیتے وہ یہی سب سوچتی اور خود سے لڑتی جھگڑتی آنسو پونچھتی میڈیکل سٹور پر جا پہنچی اس نے کاوٗنٹر پر کھڑے شخص کی طرف دوائی کی پرچی بڑھائی مگر اس شخص نے پرچی پکڑتے ھوۓ اس کے ہاتھ کو بھی چھو لیا اور للچائی ہوئے لہجے میں بولا ۔”ساری دوا لینی ہے ۔؟؟” نازیہ نے دبی ہوئی آواز میں کہا ۔” جی سار ی. کاؤنٹر پر موجود شخص نے ساتھ کھڑے لڑکے کی طرف پرچی بڑھائی اور فلمی ڈائیلاگ کے سے انداز میں بولا ۔”دوا نکال کے لاؤ نازک حسینہ کے لئے ۔” اور خود مسلسل نازیہ کو گھورنے لگا اس کی ہوس زدہ نظریں نازیہ کے بدن کو چیرتی پھاڑتی جا رہی تھیں نازیہ کو یوں لگا جیسے وہ شخص آنکھوں ہی آنکھوں میں اسے عریاں کر دے گا اور اندر تک سب دیکھ لے گا شدید گرمی کے باعث نازیہ سخت پسینے میں شرابور تھی ہلکی لان کے ڈریس میں پسینے کی نمی اتر چکی تھی وہ جانتی تھی کہ اس کا گیلا جسم ایک ہوس زدہ جانور نما مرد کے اوسان کس قدر خطا کر رہا ہوگا اس کا نرم و نازک چہرہ دھوپ نے سرخ گلابی کر دیا تھا وہ گھبرائی ہوئی دوپٹہ ٹھیک کرتے ہوۓ بولی ۔”کتنی دیر لگے گی ۔؟؟”
”تھوڑی دیر ہی بس۔۔۔آپ بیٹھ جائیں ” وہ بولا…….
نازیہ خود کو سمیٹتی اور دوپٹہ سنبھالتی ہوئی کرسی کی طرف بڑھی ۔
”آپ کچھ پریشان لگ رہی ہیں ".مرد ہمدردانہ لہجہ جتاتے ہوئےپھر سے گویا ہوا ۔
” جی کچھ پریشان ہوں، ماں سخت بیمار ہے اور علاج کی کوئی خاص سہولت بھی اس ہسپتال میں موجود نہیں ، اتنے پیسے بھی نہیں ہیں کہ کسی پرائیویٹ ہسپتال میں لے جاوٗں۔” اس سے پہلے کہ وہ مزید کچھ کہتی ، لڑکا دوا لے کر آ گیا ۔
نازیہ نے دوا کے لئے ہاتھ بڑھایا اور پیسے پوچھے ،مرد آہستگی سے بولا ۔” دوا لے جاؤ پیسوں کی ضرورت نہیں اور ہاں رات کو آنا تب تک سٹور پر رش کم ہو جائے گا آرام سے بات ہو سکے گی آپ کی ماں کے لئے کچھ کرتے ہیں کسی اچھے ہسپتال اور فری علاج کا بندوبست ہو جائے گا ۔ نازیہ میڈکل سٹور سے باہر آ چکی تھی وہ چلتے چلتے سوچ رہی تھی کہ ہو سکتا ہے جو اندازہ اس نے سٹور مالک کے بارے لگایا وہ غلط ہو ۔ ” میَں تو بس ہر مرد کو بھیڑیا تصور کر لیتی ہوں ۔” وہ بڑبڑائی ” یقینا وہ غلط آدمی نہیں ہے ، لڑکیوں کو گھورنا تو ہر مرد کی گھٹی میں شامل ہے ، ہو سکتا ہے وہ واقعی اس کی ماں کے علاج کے لئے مدد گار ثابت ہو جائے ۔۔ لیکن اس نے میرے ہاتھ کو کیسے ٹھرکیوں کی طرح چھوا تھا اس کے ذہن میں سوال ابھرا مگر اس نے سوال کا ابھرنے سے پہلے ہی گلہ دبا دیا ارے نہیں نہیں اس کا ہاتھ سہواََ اس کے ہاتھ پر آ گیا تھا ابھی دنیا اتنی بھی بے حس نہیں ہوئی ابھی کیسے کیسے اچھے انسانوں سے بھری ہوئی ہے یہ دنیا لوگوں میں ابھی بھی انسانیت کااحساس باقی ہے ان سب سوالوں کی کشمکش اس کے ذہن میں تھی کہ وہ وارڈ میں آ پہنچی ۔اسے دیکھتے ہی ماں بولی ۔ ”نازیہ بیٹا ! کہاں اتنی دیر لگا دی ۔؟۔۔۔ ”جی امی ! میڈیکل سٹور پر بہت رش تھا دوا لیتے ہوئے وقت لگ گیا ۔”

دن بھر پوری آب وتاب سے چمکتا ہوا سورج اب دھیرے دھیرے ڈھلنے لگا تھا روشنی مدھم پڑ رہی تھی پرند ے گھروں کو لوٹ رہے تھے اور نازیہ وارڈ کی کھڑکی سے ڈوبتے سورج کا منظر دیکھتے ہوئے اس ہمدرد مرد کے بارے سوچ رہی تھی کہ اس کی مدد سے شاید ماں کو کچھ دن کی زندگی مل جائے کوئی اچھا ہسپتال اور مفت علاج نصیب ہو جائے اسے اپنے بابا کی باتیں یاد آ رہی تھیں وہ اسے بتایا کرتے تھے کہ ترقی یافتہ دنیا میں سب کو علاج تعلیم سب فری میں ملتی ہے. ریاستیں اپنے شہریوں کی سب بنیادی ضروریات خود پورا کرتی ہیں۔۔اچانک اسے خیال آیا کہ اس نے اس رحم دل مرد کا شکریہ بھی ادا نہیں کیا وہ سوچتا ہو گا عجیب لڑکی ہے جو شکریہ کے لئے بھی منہ نہ کھول سکی خیر ! جب دوبارہ دوا لینے سٹور پر جاؤں گی تو شکریہ ضرور ادا کروں گی ۔” اس نے خود کو تسلی دی ، اتنے میں سٹاف نرس پھر سے وارڈ میں داخل ہوئی اور مزید دوا لانے کو کہا۔۔۔وہ پرچی اٹھائے تیز تیز چلتی سٹور پر جا پہنچی دوا دیتے ہوئے وہ شخص بولا ۔” بارہ بجے کے بعد آنا ، تب تک سٹور کی کلوزنگ ہونے والی ہوتی ، تمہاری ماں کے علاج کا بندوبست ہو گیا ہے۔” وہ کچھ بولے بغیر ہلکی سی مسکراہٹ پاس کر سکی اور واپس چل دی دل میں عجیب و غریب خیالات جنم لے رہے تھے کہ اس نے کیا بندوبست کیا ہو گا ۔؟پھر اس نے خود کو تسلی دی ۔ یہ میڈیکل سٹور کا مالک ہے کئی ڈاکٹروں اور مخیر حضرات سے اس کے ذاتی تعلقات ہونگے ، ہو سکتا ہے اس نے کسی بڑے شخص سے بات کی ہو اور وہ میری ماں کے علاج کے لئے مان گیا ہو ۔ وہ مجبور تھی ماں کا علاج کروانا تھا وہ سوچ رہی تھی کہ اگر ماں کی سانسیں بچ جائیں تو وہ اور اس کے دونوں بھائی اس سماج میں محفوظ رہیں گے ورنہ سب کچھ بکھر جائے گا ۔
وارڈ کی دیوار پر لگے گھڑیال کی ٹک ٹک رات کا ایک بجا رہی تھی ہر طرف گھپ اندھیرے کا راج تھا سرکاری ہسپتال اس قابل نہیں تھا کہ رات کی روشنیوں کا پورا بندوبست کر سکے صبح سے آگ برساتے سورج کے ڈوبتے ہی تیز ہوا چل پڑی تھی جس سے موسم کافی بہتر ہو گیا تھا مگر اب آسمان پر بادل چھا چکے تھے ۔ بادلوں کی گھن گرج اور تیز ہوا کے باعث گرمی کا احساس باقی نہ رہا تھا .وارڈ میں موجود مریضوں میں سے اکثر سو چکے تھے نازیہ کی ماں بھی دوا لے کر غنودگی اور نشے کی کیفیت میں تھی اب نازیہ وارڈ سے باہر نکل آئی تھی آسمانی بجلی بڑے زور سے کڑکی اور ساتھ ہی ہسپتال کی ساری بتی گل ہو گئی . بارش کی تیز بوچھاڑ نے نازیہ کا استقبال کیا مگر اس سے پہلے کہ وہ بارش میں پوری بھیگ جاتی وہ میڈیکل سٹور میں داخل ہو چکی تھی ۔
” اوہو ! تم تو ساری بھیگ گئی ہو آؤ آؤبیٹھو ! ۔۔۔ نہیں بلکہ اندر آ جاؤ یہ لڑکا خود ہی سٹور کلوز کرکے چلا جائے گا ۔” یہ کہتا ہوا سٹور مالک سٹور سے ملحق ایک کمرے کی جانب چل پڑا اور نازیہ چپ چاپ اس کے پیچھے ہو لی ۔۔ یہ ایک چھوٹا سا کمرہ تھا جس میں ایک بیڈ اور دو کرسیاں تھیں سٹور مالک نے چھوٹے فریج سے ٹھنڈی کوک نکالی اور دو گلاسوں میں بھر کے ایک گلاس نازیہ کے سامنے رکھ دیا ۔” پہلے چپ چاپ ڈرنک لو پھر بات کرتے ہیں ۔” سٹور مالک نے شفقت بھری نظر سے نازیہ کی طرف دیکھا اور گلاس نازیہ کے منہ کے سامنے کر دیا نازیہ تو جیسے صدیوں کی پیاسی تھی اس نے سٹور مالک کے ہاتھ سے گلاس پکڑا اور غٹا غٹ پیتی چلی گئی نازیہ کو کوک ہلکی سی ترش لگ رہی تھی کچھ کڑواہٹ کا احساس ہو رہا تھا مگر اسے تو شائد اپنی پیاس بجھانا تھی سٹور مالک دروازے کو لاک لگاتا بولا۔ ” کیا ہوا ہے تمہاری ماں کو ؟؟؟”
نازیہ سسکاری بھرتی بولی ۔” ان کو کینسر ہے ڈاکٹر کہتے ہیں کہ ابھی کینسر کی ابتدائی سٹیج ہے اچھا علاج ممکن ہو تو ماں بچ سکتی ہے ۔” یہ کہتی ہوئی نازیہ پھوٹ پھوٹ کر رونا شروع ہو گئی اور ہاتھ باندھ کر سٹور مالک کے سامنے کھڑی ہو گئی وہ گڑ گڑا رہی تھی ۔” خدا کے لئے میری ماں کے مناسب علاج کا کوئی بندوبست کر دیجئیے ہم بہت غریب ہیں ماں کے علاوہ دنیا میں ہمارا کوئی سہارا نہیں ۔” سٹور مالک نے نازیہ کے بندھے ہاتھ پکڑ کر چوم لئے تھے وہ شائد نشے کی حالت میں تھا اس نے نازیہ کے ہاتھ اپنے ہونٹوں پر رکھے اور آہستہ سے بولا ۔” تم اتنی خوبصورت ریشمی بدن والی پری جیسی لڑکی ہو میں تیری ماں کا علاج کراوں گا ۔”
اب نازیہ کو سمجھ آ گئی تھی کہ وہ انسان نہیں بھیڑیا ہے وہ ایک مجبور لڑکی کو ماں کے علاج کا جھانسہ دے کر اپنی ہوس پوری کرنا چاہتا ہے مگر اب شاید وقت نازیہ کے ہاتھوں سے نکل چکا تھا وہ ڈگمگا رہی تھی اس کا دماغ سُن ہو رہا تھا کوک میں شائد کوئی ایسی نشہ آور دوا شامل تھی جو نازیہ کو بے بس کئے جا رہی تھی وہ نیم غنودگی کی حالت میں جا پہنچی تھی باہر پھر زور کی بجلی کڑکی جس نے نہ صرف نازیہ کو دہلا کے رکھ دیا تھا بلکہ اس کا دماغ بھی کچھ دیر کے لئے جاگ گیا تھا اس نے سٹور مالک سے خود کو چھڑوانے کی آخری کوشش کی تھی مگر سٹور مالک پوری سفاکیت سے نرم و نازک نازیہ کو اپنی بانہوں میں جکڑ چکا تھا سٹور مالک نے ہاتھ بڑھا کر کمرے کی یو پی ایس لائٹ آف کر دی تھی ایک مدھم روشنی جلتی رہ گئی تھی نازیہ شدید غنودگی میں اتر رہی تھی اسے صرف اتنا گمان ہو رہا تھا کہ سٹور مالک اسے بانہوں میں اٹھائے بیڈ پر لٹا رہا ہے اس کے جسم کے نازک حصوں کو سہلا رہا ہے نازیہ کوسٹور مالک کی سانسوں کی ہلکی ہلکی آواز سنائی دے رہی تھی اور اس کے پسینے کی بدبو محسوس ہو رہی تھی وہ ہلکے ہلکے بول رہا تھا .معصوم چڑیا اب میں پوری رات تیرے مر مریں بدن سے کھیلوں گا تجھے ڈبل نشہ ہوگا مجھے اندازہ تھا تو ضرور آئے گی بے بی ! میں صبح وہ سب دوائیاں تجھے دوں گا جو ڈاکٹر تیری ماں کے لئے لکھ کے دے گا پریشان نہیں ہونا سہانے باغ کی تتلی ، یہ کہتے ہوئے سٹور مالک کا ہاتھ نازیہ کے جسم پہ گردش کررہاتھا نازیہ ہاتھ پاؤں چلانے کی ناکام کوشش کر رہی تھی لیکن غنودگی کے باعث اس کا ہاتھ نہیں اٹھ رہا تھا اس کا دماغ بالکل سو گیا تھا۔
فجر کی اذان نے نازیہ کا نشہ اتارنے میں کچھ مدد کی ۔۔ وہ ہڑ بڑا کر اٹھ بیٹھی لیکن اس کے بدن میں ٹیسیں اٹھ رہی تھیں سٹور مالک بھی سویا خراٹے لے رہا تھا نازیہ کا بدن اس کا ساتھ نہیں دے رہا تھا وہ جلدی سے اٹھ کر وارڈ کی طرف چل پڑی اسے یوں لگ رہا تھا کہ جیسے وہ کسی بھیانک خواب سے بیدار ہوئی ہو. یکایک اسے جیسے ہوش آ گیا وہ بڑبرائی ۔۔” مجھے ماں کے علاج کے لئے دوائیوں کی ضرورت تھی اور اسے اپنی ہوس پوری کرنے کے لئے مجھ جیسی لڑکی کی………….. ۔” وہ ہر خیال کو جھٹلاتی تیزی سے وارڈ میں داخل ہوئی لیکن دروازے پر ہی خاکروب نے اسے گھیر لیا تھا ۔۔ وہ کہہ رہا تھا ۔۔” بی بی جی !! رات آپ کی امی فوت ہوگئی تھیں ہم نے آپ کو بہت ڈھونڈا آپ کی امی کی ڈیڈ باڈی مردہ خانے کے دروازے پر رکھ دی ہے کیونکہ ڈیڈ باڈی کو وارڈ میں رکھنے کی اجازت نہیں ۔”
نازیہ یہ سنتے ہی دھڑام گر گئی تھی وہ بےہوش ہونے کے قریب تھی لیکن ساتھ ہی اس کے ذہن میں عجب خیال کوندا وہ بڑبڑا رہی تھی ۔۔” آج گھر میں دو لاشیں جائیں گی ایک ماں کی اور دوسری میری انا کی۔۔”وہ یہ سوچتی ہوئی بےہوش ہوگئی تھی کہ ایک سرکاری ہسپتال اس کی ماں اور اس کی اناٗ دونوں کو نگل گیا ۔۔۔

Views All Time
Views All Time
643
Views Today
Views Today
3
یہ بھی پڑھئے:   دیمک
Previous
Next

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

*

%d bloggers like this: