عورت! شرق و غرب کے بیچ ٹمٹماتا تارا

Print Friendly, PDF & Email

محنت کش عورتوں کی جدوجہد کی ایک طویل تاریخ ہے اگر ہم صرف امریکا پر ہی نظر ڈالیں تو ہمیں 8 مارچ 1857 میں نیویارک میں ٹیکسٹائل ملز کی خواتین کی جانب سے اپنے ساتھ ہونے والے امتیازی سلوک کے خلاف احتجاج نظر آتا ہے ۔1908 میں امریکی محنت کش خواتین نے حقوق نہ ملنے،کام کی زیادتی اور دیگر امتیازی سلوک کے خلاف پہلی بارسیاسی ومعاشی مطالبات کرتے ہوئے اپنا دن منایا۔اس کے بعد 1909 میں امریکی محنت کش خواتین نے پہلی بار 28 فروری کو خواتین کا دن منایا ۔1910 میں محنت کش خواتین کے دن کو عالمی طور پر بنانے کی راہ ڈنمارک کی انقلابی تنظیم سوشلسٹ انٹرنیشنل نے ہموار کی۔ 8 مارچ کو پہلی بار یہ دن ڈنمارک جرمنی اور اسڑیا میں منایا گیاجس میں خواتین کو ووٹ کے حق،سیاست میں شمولیت،کام کے اوقات کم اور تنخواہوں میں اضافے کا مطالبہ کیا گیا۔19011میں نیویارک کی ایک فیکٹری میں ناقص حالاتِ کار اور حفاظتی اقدامات نہ ہونے کے سبب آگ لگنے کا سانحہ پیش آیا جس میں 146محنت کش خواتین جھلس کر شہید ہو گئیں اس کے بعد کہیں جا کر وہاں اس حوالے سے کچھ اقدامات ممکن ہو سکے ۔

عورتوں کے حقوق کے حوالے سے ایک انقلابی تبدیلی 1917 کا عظیم اکتوبر سوشلسٹ انقلاب تھا جس کے نتیجے میں خواتین کو پہلی مرتبہ ووٹ کا حق،طلاق کا حق اور زچگی کی چھٹیوں کے ساتھ مردوں کے برابر اجرت کا حق ملا۔ اسی طرح چین ،کوریا ، ویتنام،کیوبا اور مشرقی یورپ کے سوشلسٹ انقلابات کے نتیجے میں عورتوں کی زندگیوں میں بنیادی تبدیلیاں رونما ہوئیں ۔اسی 1978 کے ثور انقلاب نے افغانستان میں خواتین کو ان کا مقام دلانے میں بڑا اہم کردار ادا کیا ہے۔اس انقلاب نے افغانستان میں خواتین پر ہونے والے والے ظلم،زبردستی کی شادی،کم عمری کی شادی پر پابندی عائد کی اور عورت کے لئے برابر کی تعلیم اور کام کا حق دیا۔پاکستان پر نظر ڈالیں تو یہاں کامریڈ طاہرہ مظہر علی خان کی قیادت میں 8 مارچ 1948 کو خواتین نے پہلی بار اپنے حق کیلئے اواز بلند کرتے ہوئے یہ دن منایا۔تاریخ کے اوراق کو پلٹا جائے تو یہ بات واضح ہو جاتی ہے کہ خواتین نے اپنے حق کے لیے جدوجہد کی۔

البتہ پدر سری سماج کی تاریخ میں عورت کو فتنہ اور فساد کی جڑ سمجھا جاتا رہااور آج بھی عورت اور مرد کے درمیان آقا اور غلام کا رشتہ قائم ہے۔عورت کا استحصال کبھی رسم و رواج کی بنا پر کبھی مذہب کے نام پر اورکبھی عزت کے نام پر ہوتا اآرہا ہے۔عورت کو فیصلہ سازی سے دور رکھنا آپس کے جھگڑوں میں ونی بنانا،وٹہ سٹہ اور رسم و رواج کی اڑ میں اس کے حقیقی حق سے دور رکھنا عام سی بات ہے۔

دوسری جانب مذہبی پیشواؤں نے عمومی طور پر عورت کو گناہ کا گھر کہا ہے اور پدر سری سماج کے دانشوروں نے بھی عورتوں کا استحصال کرنے میں کوئی کسر نہیں چھوڑی۔

یہ بھی پڑھئے:   ہنسو تو رنگ ہو چہرے کا

سرسید احمد خان فرماتے ہیں کہ میں نہیں چاہتا تم عورتیں مقدس کتاب چھوڑ دو جو کہ تمہاری نانی دادی پڑھتی آئی ہیں۔اور میں ضروری نہیں سمجھتا کہ تم عورتیں اس زمانے کی مروجہ کتابیں پڑھو۔میں نہیں سمجھتا کہ امریکہ یا افریقہ کا جغرافیہ یا الجبرا پڑھنا عورتوں کے لیے ضروری ہے یا اسکا کوئی فائدہ ہے۔ اسی طرح ارسطو کا قول ہے کہ خدایا تیرا شکر ہے تو نے مجھے عورت نہیں پیدا کیا۔

لیکن حقیقی معنوں میں عورت ہر روپ میں عظیم تر ثابت ہوتی ہے۔وہ محنت اورمحبت کا ازلی استعارہ ہے۔یہ عورت ہی تھی جس نے زراعت کی طرح ڈالی وہ مادی ترقی کے اولین معماروں میں سے ہے، وہ امن کی روشنی ہے اور امید کی کرن ہے۔ وہ انسان ہے اس کا ایک وجود ہے وہ کسی کی عزت غیرت اور ملکیت نہیں ہے وہ کسی کی غلام اور باندی نہیں ہے بلکہ کامریڈ تھامس سنکارا کے الفاظ میں عورت آدھے آسمان کی مالک ہے۔

لیکن آج طبقاتی شعور سے لیس عورت برملا کہتی ہے کہ تم ہمیں کمزور اور بیچاری نہ سمجھو تم ہمیں کٹھ پتلی سمجھ کر اپنی انگلیوں پر نچوانے کے خواب دیکھنا چھوڑ دوہم ہر مشکل سے لڑ سکتی ہیں۔فرسودہ رسم و رواج کی زنجیریں جو تم نے ہمارے پیروں میں باندھ رکھی ہیں ہم ان کو توڑ سکتی ہیں تم ہمارے کردار پر تہمت لگا کر کم تر ثابت کرنے کی ناکام کوشش نہ کرو تم نے ہمیشہ شک ہی کیا ہے کبھی اعتماد بھی کرنا سیکھ لو۔

تم نے اسے اونچی آواز میں بولنے اور قہقہہ لگانے سے روکا ہے کبھی غور کرنا اس کی ہنسی سے فضا گونجتی ہے تم نے اسے سر ڈھانپ کر چار دیواری کی زینت بنایا ہے کبھی سوچنا وہ پہاڑوں کی چوٹیاں سر کر سکتی ہے وہ ہواؤں میں جہاز اڑا سکتی ہے تم نے اسے پسند کی شادی پر قتل ہی کیا ہے کبھی تکلیف میں گلے لگانا تمہارے سب آنسو اپنے سینے میں اتار لے گی۔ تم نے اس کے خواب دیکھنے پر پابندی لگائی ہے کیوں کہ وہ اپنے حقوق لینے کے خواب دیکھتی ہے وہ اپنے فیصلے کرنے کے خواب دیکھتی ہے ہاں ہاں وہی خواب دیکھتی ہے جن کو تم اس کی آنکھوں میں مرتے دیکھنا چاہتے ہو ۔

صاحب، تم نے اس میں ایک نازک جسم اور خوبصورت اداؤں کے علاوہ دیکھا ہی کیا ہے؟ تم نے اسے اپنی تفریح کا سامان اور جسم تک آزادی کے سوا اسے سوچا ہی کیا ہے ؟

تم نے اسے اتنا بزدل سمجھا ہے کہ وہ چھپکلی سے ڈرتی ہے لیکن موقع دو تو وہ دشمنوں سے لڑنے کے لیے کھڑی ہو سکتی ہے تم پر آنے والی گولی خود اپنے سینے پر کھا سکتی ہے۔جب وہ ایک کامیاب کھلاڑی بنتی ہے تو تم فحاشی کا بوجھ اس کے کندھوں پر لاد دیتے ہو اس کے چلنے اور دوڑنے کو تم عریانی کہتے ہو کیوں کہ تم نے اسے ایک جنس کے سوا کچھ سمجھا ہی نہیں۔سمجھو بھی کیسے کیوں کہ تم نے اسے ونی کے توڑ پر پیش کر کے سماج میں مثال قائم کی ہے۔

یہ بھی پڑھئے:   تیسری عورت

تم اسے سانس لینے اور بولنے کی آزادی دو تو وہ سامنے والے کو ناکوں چنے چبوا سکتی ہے تم اسے ناقص العقل سمجھنا چھوڑو تو ،تم اس کی پیدائش پر غم زدہ ہونا چھوڑو تو اسے برابری دے سکو۔تم اسے کوکھ میں مرنے کے خواب دیکھنا چھوڑو تو اس سے محبت بھی کر سکو تم اسے محبّت سے دیکھو تو وہ ویرانوں کو آباد کر دے گی ،بہاروں میں گل کھلا دے گی ،جہنم کو جنت بنا ڈے گی ،تم اسے بوجھ سمجھنا چھوڑو تو وہ تمہارا سہارا بنے گی لیکن تم تو چاہتے ہو اس کے سب خواب اور خواہشیں اس کی آنکھوں میں مر جائیں ، اسے ٹوٹتا دیکھ کر سینے سے نہیں لگاو گے کیوں کہ یہ تمہاری مردانگی پر کاری ضرب ہے اس اس کی تربیت تعلیم کی فکر نہ کرو کیوں کہ تم نے اس کی شادی کی ذمہ داری اپنے سر لے رکھی ہے اور تمھیں دولہا ڈھونڈنے کا فرض نبھانا ہے اور تم نے شادی کر کے اس کا گھر بسانے کے سوا کوئی خواب ہی نہیں دیکھا ۔تم اسے ٹیڑھی پسلی سے پیدا ہونے والے تصور سے نکلو تو اپنی عقل کے پردے کھولو۔۔پھر سونے پر سہاگہ اسلامی نظریاتی کونسل نے ہلکا پھلکا تشدد کی اجازت دے کر تمہارا سینہ اور چوڑا کر دیا۔

تم نے اسے کمزور مجبور لاچار اور بیچاری اور بوجھ کے سوا سمجھا ہی نہیں کیونکہ تم نے خود ایک وحشی نظام میں پرورش پائی ہے جہاں جاگیر دار سرمایہ دار اور قبائلی نظام نے تمھیں یہی سکھایا ہے۔خواتین اور مردوں کو گھریلو مسائل میں الجھنا بھی سرمایہ دار کی ایک چال ہے ۔

،آئیے، خواتین کے حقوق کی جنگ کے لئے عہد کریں ایسے نظام کی جڑیں اکھاڑ پھینکنے کا وعدہ کرتے ہوئے اس طبقاتی جدوجہد کو تیز کریں جس نے ہر قسم کے استحصال پر قائم کریں بنیادیں ڈھا کر ایک غیر طبقاتی سماج کی بنیاد قائم کرنی ہے ۔

Views All Time
Views All Time
336
Views Today
Views Today
1

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

%d bloggers like this: