Skip to Content

Qalamkar | قلم کار

جہالت، ظلم اور ناانصافی کے خلاف برسرپیکار

تکلیف ہے کہ بڑھتی جا رہی ہے – اقراء شریف

by اپریل 16, 2017 بلاگ
تکلیف ہے کہ بڑھتی جا رہی ہے – اقراء شریف
Print Friendly, PDF & Email

تکلیف ہے کہ بڑھتی جا رہی ہے ظلم ہے کے کم ہونے کا نام نہیں لے رہا ، اذیت ہے کے سینہ تانے کھڑی ہے ۔دکھ ہے کہ ہر دن ایک انوکھے انداز میں زندگی تباہ کیے جا رہا ہے۔ بربریت نے سب حدیں پار کر دی ہیں۔

آج مشعل کی موت کو تیسرا دن آ پہنچا ہے ہر دل رکھنے والے انسان کے دل میں غم کی ایسی کیفیت ہے جو روح کو تار تار کیے جا رہی ہے اور کرب کا ایسا طوفان ہے کہ سانس لینا بھی مشکل لگ رہا ہے دل اچاٹ ہے آنکھیں بھری ہیں درد کو الفاظ کی شکل دینا مشکل ہی نہیں نا ممکن بھی لگ رہا ہے ۔

بد قسمتی سے میں ایسے درندہ نما سماج کا حصہ ہوں جہاں جو جب چاہے لاشوں کو ،پامال کر دے خون نا حق پانی کی طرح بہا دے جہاں ناموس کے جھوٹے رکھوالے لاشوں پر پتھر برسانے کو اپنے ایمان کا حصہ سمجھیں جہاں بے جرم ستم کرنے والے ماؤں کی گواد اجاڑ دیں ، جہاں ظلم جبر کے متوالے بوڑھے باپ کو خون کے آنسو رلائے جہاں جھوٹے وحشی قاتل بہنوں سے ان کے پیاروں کو چھین لیں جہاں سفاک بھیڑئیے ملک کے مہکتے گلستان کو بے رنگ کر دیں ، جہاں سچ بولنے پر انسانوں کو کاٹا جاتا ہو جہاں ہر وقت زاہد ملا کا خوف سر پر منڈلاتا ہے جہاں اخلاقیات نے دم توڑا ہے جہاں انسانیت بربریت کی دہلیز پر کھڑی ہے،جہاں ملک کے مستقبل کو بے دردی سے مارا جاتا ہے، جہاں جھوٹی گستاخی کی سزا سسک سسک کے مرنا ہے جہاں حکومت اور ریاست بے گناہوں کو سزا دینے کی بجائے آنکھیں موند لیتے ہیں جہاں تعلیمی اور شعوری درسگاہوں میں ماؤں کے لخت جگر کو سینکڑوں لوگوں کے سامنے مار مار کر مار دیا جائے،

جہاں انسان زندگی کی آخری سانسیں لے رہا ہو تو پاس لوگ ویڈیو بنانے میں مصروف ہوں جہاں 600 لوگوں میں ایک جلتا چراغ تڑپ تڑپ کر بجھ جائے ، جہاں ملک کے مشعل گل ہو جایں ،

مشعل کی ماں کے الفاظ

میں نے اس کے ہاتھ چومے تو انگلیاں ٹوٹی ہوئیں تھیں

میرے سینے کو چھلنی کیے جا رہے ہیں میں نے ان الفاظ کو محسوس کیا ہے لیکن اس ماں نے ان کو سہا ہے اس ماں پر کیا کیا نہ گزرا ہو گا جس کی نسل کو ہی لوٹ لیا گیا اس باپ پر کیا گزر رہی ہو گی جب وہ اپنے پیارے بیٹے کے بیگناہ ہونے کا ثبوت دے رہا ہو گا ،

مشعل کا قصور یہ تھا وہ اس پسماندہ سماج کی خوش حالی کے خواب دیکھتا تھا ،ظلم نا انصافی کے خلاف جدوجہد کرتا تھا نہیں مانتا تھا وہ ظلم کے ضابطوں کو نہیں کرتا تھا وہ حمایت غداروں کی مکاروں کی عہدیداروں کی ،

ہر دن ایک نیا طوفان جو ٹوٹ رہا ہے آیئے اس کے خلاف کھڑے ہو جائیں، امن کی جنگ لڑیں ۔سسکتی بلکتی ماؤں کے دکھوں کا مداوا کریں ایک ایسے نظام کی تشکیل کے لئے عملی جدوجہد کریں جہاں امن ہو، خوشی ہو، سکون ہو، آزادی ہو، استحصال ظلم بربریت سے ہمیشہ کے لئے چھٹکارا مل جائے،

ورنہ اگلی باری میری اور آپ کی ہو گی سب مشعال بجھ جائیں گے سب قندیلیں گل ہو جائیں گی۔

 

Views All Time
Views All Time
834
Views Today
Views Today
1
یہ بھی پڑھئے:   محبت فلرٹ اور عزتوں کی بربادی - افضال احمد
Previous
Next

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

*

%d bloggers like this: