یہ عورت اب محکوم نہیں – اقراء شریف

Print Friendly, PDF & Email

8مارچ 1857 میں امریکہ نیو یارک میں ٹیکسٹائل مل میں خواتین نے اپنے ساتھ ہونے والے امتیازی سلوک کے خلاف احتجاج کیا ۔8 مارچ 1908 کواس کمپنی میں حقوق نہ ملنے کام کی زیادتی اور دیگر امتیازی سلوک کے خلاف ریلی نکالی گئی کاٹن فیکٹری کے مالکین نے خواتین یونین اور رائےعامہ سے بچنے کے لئے خواتین کو فیکٹری کے اندر بند کر کے آگ لگا دی اور نہ معلوم وجہ کا پرچار کیا اس دن 150 خواتین ہلاک ہوئیں ۔اور اس جدوجہد کے نتیجہ میں خواتین کو کسی حد تک حقوق مل گئے۔
اس سے پہلے ووٹ سرکاری جاب اور دیگر کئی سہولیات سے عورت محروم تھی 1913 کو یہ دن خواتین کے عالمی دن کے طور پر پوری دنیا میں منایا جانے لگا ۔۔
1033 سال کے اس عرصہ میں کوئی بھی تنظیم کوئی بھی ادارہ کوئی بھی حکومت عورت کو وہ حقوق نہ دلا سکی جس کی وہ حقدار ہے ۔ ہاں البتہ بہت سارے شعبوں میں عورت کی نمائندگی ضرور ہو گئی ۔ اس نے مرد کے شانہ بہ شانہ کام کیا لیکن وہ حقوق نہ مل سکے جو مرد کو حاصل ہیں ۔
معاشرہ کوئی بھی ہو کتنا ہی ترقی یافتہ کتنا ہی با شعور ہو ۔عورت آج کمزور مجبور محروم ڈری اور سہمی ہوئی ہے ۔

وہ ہر میدان میں مرد سے کم تر رہی ہر جگہ اس کی نسوانیت آڑے آئی وہ مرد بن کر بھی مرد نہ بن سکی وہ اپنا اصل کردار بھول گئی یا بھلوا دی گئی ۔
ہمارے معاشرے کا المیہ یہ ہے کے یہاں غیرت کے نام پرعورت کے قتل کا بازار گرم ہے ۔ اگر عورت کوئی غلطی کرتی ہے تو اس کو اپنی بے عزتی کا سبب گردانا جاتا ہے اور اسے قتل کرنے سے بھی دریغ نہیں کیا جاتا لیکن اگر مرد یہ غلطی کرے تو جھوٹی سچی گواہی بنا کر اسے بچا لیا جاتا ہے ہمارا دوہرا معیار زندگی کے ہر پہلو میں سامنے آتا ہے ۔ مرد کی غیرت صرف عورت کی عزت پر ہی جاگتی ہے یا پھر مرد کی اپنی تو عزت ہوتی ہی نہیں ۔
اگر دیکھا جائے تو ہر سال ہزاروں عورتیں سینکڑوں بچیاں جنسی تشدد کا نشانہ بنتی ہیں جن میں زیادہ تر کی تو عزت کا مسئلہ سمجھ کر رپورٹ ہی درج نہیں کروائی جاتی جن چند ایک کی کروا بھی دی جائے تو خاص عمل درامد نہیں کیا جاتا۔ پاکستان میں پنجاب اور سندھ کے بیشتر علاقوں میں جائداد بچانے کی خاطر لڑکیوں کی قرآن سے شادی کر دی جاتی ہے ۔ مختلف رسم و رواج کے نام پر خواتین کے استحصال کا سلسلہ جاری ہے ۔ کبھی جہیز کم لانے پر جھگڑا کیا جاتا ہے تو کبھی ذہنی اور جسمانی تشدد کا نشانہ بنا یا جاتا ہے کبھی تیزاب ڈال دیا جاتا ہے تو کبھی آگ لگا کر جلا دیا جاتا ہے ۔۔۔

جنہیں رنگولی سے نفرت ہے، جن کا لباس سفید اور کرتوت سیاہ ہیں۔ جو کہتے ہیں کہ عورت فاحشہ ہے ہر جگہ فتنہ اسی عورت نے پھیلایا۔
قلوپطرہ کی مثال لائیں یا ازابیلا کی ، گناہ پہ اکساتی ہے، اداؤں سے دل لبھاتی ہے ، جذباتی ہے، جلدی غصہ کر جاتی ہے۔
یعنی عورت اتنی طاقتور ہے کہ جنت سے نکلوا دے، جو شکوہ نکالنے والے سے تھا ، وہ بھی عورت پہ ڈال دیا۔
ایسا ہے صاحبانِ عقل و دانش کہ عورت جذباتی ہے تو رشتے نبھاتی ہے، جذباتی نہ ہوتی تو کیا کسی سے روز تھپڑ کھا کر رات اسی کی پہلو نشین ہوتی؟جہاں چھوڑ کے جا سکتی تھی وہاں اولاد کو پاﺅں کی زنجیر کیوں بنا لیتی ہے؟ اور اگر چلی جائے تو آپ نے خبر ہی لگانی ہے پانچ بچوں کی ماں آشنا کے ساتھ فرار۔پانچ بچوں کا باپ کیوں آشنا کے ساتھ فرار نہیں ہوتا؟

یہ بھی کیا جذباتیت ہوئی کہ کاری کی جائے تو بھی محبت کرنا نہیں چھوڑتی؟ کیوں بھول جاتے ہیں وہ کچے گھڑے کہ دریا پار ہماری جذباتیت نے ہی کرائے اور آپ دوسرے کنارے پہ منتظر ہی رہے۔کہیں مردوں کے جھگڑے میں ونی دی جائے تو بھی چل پڑتی ہے، کہیں قرآن سے بیاہی جائے تو بھی زندہ رہتی ہے۔
کتنی عورتیں ہیں جو غیرت کے نام پہ جلدی غصے میں آئیں گی اور مرد کو قتل کر ڈالیں گی؟ کتنی عورتیں ہیں جو اپنی جذباتیت میں آ کر تیزاب پھینکنے کے الزام میں گرفتار ہیں ؟ کہاں ہم نے بولی لگائی اور آپ کا جسم بیچا؟ کہاں نوچا ہم نے آپ کو؟ دکھائیں وہ وحشت کے نشان جسے سرخی پاوڈر تلے چھپائے پھرتے ہیں؟
کتنی ہی عورتیں ہیں جو آئے روز دست درازیوں پہ چپ رہتی ہیں؟ اگر یہ بول پڑیں تو سوچا ہے کتنی دستاریں اچھالی جائیں گی؟ وہ اسکرین شاٹ جو آپ دوسروں کو دکھا کے اتراتے ہیں تب غیرت کہاں مر جاتی ہے؟ وہ عورت جس کے ساتھ آپ رات گزار سکتے ہیں دنیا کے سامنے اسے اپنانے سے کیوں شرماتے ہیں ؟
انکار کا حق آپ کے پاس ہی کیوں ہے؟ اگر ہم کہیں کہ ہم کوئی ڈھور نہیں کہ گلے میں مستقل رسیاں ڈالے رہیں تو ہم بے حیا، نظریاتی کونسل والے خلع کا حق بھی آپ کی مرضی سے عطا کریں۔

اگر ہماری جسمانی ساخت مختلف ہے تو پھر ہمارے کرنے کے کام بھی مختلف ہیں؟
پھر تو مسئلہ ہی حل ہو گیا نا۔ عورت کمائے، گھر سنبھالے، ساتھ بچہ بھی پیدا کرے تو مطلب یہ کہ حرافہ آپ سے آگے نکل گئی کہ کفالت کا بوجھ سر پہ اٹھائے۔ بچہ پیدا کرنا ایسا کام ہے جس کا درد آپ کے ظرف میں نہیں تھا تو قدرت نے آپ کو نہیں نوازا۔ ورنہ یقین مانیں انتہائی بدمزہ کام ہے اپنی جان پہ کھیل کر آپ جیسوں کی نسل کو آگے بڑھانا۔لیکن وہ پھر بھی کرتی ہے کہ جذباتی جو ٹھہری۔
جذبات کا ایسا ارزاں مول بھی کہاں ہوتا ہو گا جو آپ کے بازار میں ہے۔
زن مرید ہونا گالی سے بھی بدتر ہے اور بیوی کو غلام سمجھنا ، مار پیٹ کرنا مردانگی کی روشن ترین مثال ہے۔ایک بل پاس ہوا ہے تو ایسا طوفانِ بدتمیزی اٹھا دیا کہ خدا کی پناہ۔ ارے رکو!
ابھی کونسا عملدرآمد ہو گیا کہ بہت سے قانون پہلے ہی سڑ رہے ہیں، استعمال نہ ہوئے۔
آپ کی بدتہذیبی پہ کیا گلہ کرنا کہ "ہمارے لہو سے تر ہے قبائے خواجہ”  آپ تو بے ردا کرنے والے ہیں۔ کسی نے ایان علی پر حاملہ ہونے کا الزام لگانے والے پوچھا کہ اس نے کذب سے کام کیوں لیا؟ کیا کوئی اب پوچھے گا کہ شرمین عبید پر تہمت تراشنے والے کے پاس کیا ثبوت ہے ؟ آپ اتنا کچھ سہہ سکتے تو عورت ہوتے۔

ہماری پائل کی چھنکار آپ کو چبھتی ہے، ہماری ہنسی کی کھنک آپ کی سماعتوں پہ گراں گزرتی ہے، ہماری چوڑیوں کی چھن چھن آپ کو راغب کرنے کی کوشش ہے، ہماری خوشبو سے آپ کا نفس بے قابو ہوتا ہے، ہماری زلفِ پریشاں سنوارنے کو آپ کی انگلیاں بے چین رہتی ہیں،ہماری آنکھوں کی مستی آپ کو ستاتی ہے، ہمارے ہونٹوں کی ہنسی تکلیف دیتی ہے، ہمارے قہقہے کی آواز آپ کا دل جلاتی ہے۔ ہمارے ہاتھ میں کتاب ہو تو آپ کتاب کے دشمن ہیں۔ ہم قلم اٹھائیں تو آپ چاہتے ہیں بس آپ ہی کا قصیدہ لکھا جائے، ہم اگربات کریں تو آپ کے حق میں کریں، صاحب بات یہ ہے کہ آپ چاہتے ہیں سانس لینے کے لیے بھی آپ سے اجازت لی جائے۔
ہم بد تہذیب، ہم بے حیا، ہم فاحشہ ، ہم بدکار تم پہ بات آئے تو خطاکار ، سیاہ کار ، بے کار
ہم روشنی ہیں جو تمہاری آنکھوں کو چبھ رہی ہے اور تاریکی مٹا رہی ہے۔ ہم سراپا محبت ہیں کہ جو دروازے تم نہیں کھول سکتے، وہ ہم نے کھولے۔ ہم اعلی ظرف ہیں کہ اختلاف پہ تمہیں گولی نہیں مارتے۔

۔ خواتین کے ساتھ امتیازی سلوک اس قدر بڑھ گیا ہے کے یہ اب روٹین کی باتیں لگتی ہیں ۔ان حالات میں کچھ خواتین اپنے حقوق کے لئے لڑرہی ہیں اور یہ ان خاموش ظلم سہتی خواتین کی بھی آواز بن رہی ہیں جن کو اونچی آواز میں بولنے کی بھی اجازت نہیں وہ خاموش احتجاج دل میں لئے چپ چاپ زندگی کی گاڑی کو کھینچ رہی ہیں ۔
آئیے ان خواتین کی آواز بنیں ۔
یہ عورت اب محکوم نہیں
ہمت سے محروم نہیں
تا راج ہوئیں اندھی رسمیں
جب ہم تھیں اوروں کے بس میں
ہم مان ہیں دھرتی ماتا کی
اوتار ہیں پیغمبر داتا کی۔ ہم اوروں کی جاگیر نہیں
اب پیروں میں زنجیر نہیں
اب جبر کا ہم پر راج نہیں
ہم بے بس اور محتاج نہیں
جو رستم شیر جیالے ہیں
جو غیرت ہمت والے ہیں
جو دھرتی کے رکھوالے ہیں
سب اپنی گود کے پالے ہیں

Views All Time
Views All Time
934
Views Today
Views Today
1
یہ بھی پڑھئے:   میسجز سے ملتی خوشخبریاں اور نقصانات

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

%d bloggers like this: